بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

اتوار، 6 ستمبر، 2026

پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت: آئینی و انتظامی جائزہ

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ

تحریر/تجزیہ سید محمد شاہ غرشین 

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ  کی نئے صوبے بنانے کی ضرورت کے تحت آئین کے آرٹیکل 239(4( میں تبدیلی کرکے   محض چند جماعتوں کے پانچ چھ سو ممبران اسمبلی کے اقتدار کو ختم کرکے وسائل اور اختیارات عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور بلاشبہ یہ وقت کی ضرورت ہے



 اس منصوبے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جو اس ہائبرڈ نظام سے مستفید ہورہی ہے سخت مخالفت کا فیصلہ کیا ہے 

اس مخالفت کا آگر تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ وسائل ہمیشہ کی طرح ان کے پاس رہیں ان کی مرضی کے فیصلے کو۔  مسلط کیا جاتا رہے 
اگر یہ نئے صوبے بن گئے تو ان کا اقتدار پورے ملک پر سے سکڑ کر ایک دو صوبوں تک محدود ہو جائے گا اور اسی ڈر کی وجہ سے مخالفت کی جارہی ہے ۔ کیوں کہ یہ دونوں جماعتیں اپنا عوامی مینڈیٹ کھو چکی ہیں 
پاکستان کی عوام ان سے  نفرت کرتی ہے  اب ان کو ایک طرف اس منصوبے سے اپنا اقتدار خطرے میں لگ رہا ہے دوسری عمران خان کا ڈر ہے ۔ مکافات عمل ان کو اس دہرائے پر ل آیا ہے جہاں سے بچنا شاید ممکن نہیں ہے 

بالخصوص 2024 کے الیکشن چوری ڈکیٹی کرنے کے بعد جس طرح یہ ہٹ دھرمی سے اقتدار پر قابض ہوگئے ہیں اس سے ان کی اخلاقی مورالٹی اور دیانتداری کا جنازہ عوام پڑہ چکی ہے  اور  پھر بار بار مواقع ملنے باوجود یہ نہ سدھرے اور اپنی عیاشیوں اور حُکمرانی کا طریقہ نہ بدلا ملک اور قوم مسلسل قرض میں  ڈوبی ہوئی ہے بے روزگاری عروج پر ہے نوجوان مایوس ہیں  ملک میں ادارہ جاتی کرپشن عروج پر ھے عوام سسک سسک کر مر رہی ہے 
غریب اپنے بچے ذبح کر رہا ہے کیونکہ وہ انہیں روٹی نہیں دے سکتا مگر ان کی کارکردگی عوامی خدمات کے حوالے سے صفر ہے  یا مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر ہے 
آج ہم اس منصوبے کے خدو خال بلوچستان کے حوالے سے بات کریں گے خاص کر کیوں کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور سے زیادہ غریب ہے اور دہشت گردی کا شکار بھی ہے  بلوچستان کا مجوزہ نقشہ اس تقسیم کے بعد یہ ہوگا 



پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی بحث پچھلے کچھ ہفتوں سے دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حالیہ عرصے میں متعدد مواقع پر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام مؤثر طریقے سے نہیں چل پا رہا، آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، اور 79 سال بعد انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں صحافیوں کو دی گئی بریفنگز اور بعض ذرائع کی رپورٹس میں ملک کو مجموعی طور پر بتیس (32) نئے وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی ایک تفصیلی تجویز کا ذکر سامنے آیا ہے، جس کے تحت پنجاب میں دس، سندھ میں سات، خیبرپختونخوا میں سات اور بلوچستان میں آٹھ نئے صوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی 33 ہائی کورٹس اور تقریباً چالیس ہزار انتظامی آسامیوں کے خاتمے کی بات بھی کی گئی ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ ضروری وضاحت ہے کہ یہ تجویز ابھی تک کسی حتمی حکومتی فیصلے یا آئینی ترمیم کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ یہ ایک زیرِ غور خاکہ اور پریزنٹیشن ہے جس پر حکومتی و مقتدر حلقوں میں گفتگو جاری ہے، اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 کے علاوہ آرٹیکل 1، 51، 59 اور 106 میں بھی ترمیم درکار ہوگی، کیونکہ ان شقوں کا تعلق وفاقی اکائیوں کی تعریف، قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے ہے۔ دو تہائی اکثریت کے بغیر ایسی کوئی ترمیم ممکن نہیں، اور موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ اکثریت آسانی سے میسر نظر نہیں آتی۔



بلوچستان کے لیے مجوزہ تقسیم
اگر بلوچستان کی حد تک اس بحث کو دیکھا جائے تو گردش کرنے والی تجویز کے مطابق صوبے کو سات سے آٹھ چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن کی بنیاد کسی حد تک صوبے کے موجودہ ڈویژنل ڈھانچے پر رکھی گئی ہے:
نصیرآباد — جعفرآباد، جھل مگسی، کچھی، صحبت پور
سبی (سیوی) — ڈیرہ بگٹی، کوہلو، ہرنائی، زیارت
قلات — خضدار، لسبیلہ، مستونگ، سوراب
مکران — گوادر، کیچ، پنجگور
رخشان (درخشاں) — خاران، واشک، نوشکی
کوئٹہ — کوئٹہ ایسٹ، کوئٹہ ویسٹ، پشین، قلعہ عبداللہ
لورالائی — دکی، بارکھان، موسیٰ خیل
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس فہرست کا بڑا حصہ دراصل بلوچستان حکومت کے اُس انتظامی نوٹیفکیشن سے ملتا جلتا ہے جو رواں سال جولائی میں جاری کیا جا چکا ہے، جس کے تحت صوبہ 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع پر مشتمل کر دیا گیا ہے، اور کوئٹہ کو دو الگ اضلاع — کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ — میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ یعنی زمینی حقیقت میں ابھی تک جو کچھ ہوا ہے وہ ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیلِ نو ہے، نہ کہ نئے صوبوں کا قیام۔ نئے صوبے بنانا ایک الگ اور کہیں زیادہ پیچیدہ آئینی عمل ہے، جس میں ہر صوبے کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور مکمل انتظامی مشینری درکار ہوگی۔
دلائل، جو تقسیم کے حق میں دیے جا رہے ہیں
اس تجویز کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ صوبے 1970 کی دہائی کے لسانی و علاقائی خطوط پر قائم ہوئے تھے، اور نصف صدی سے زائد گزر جانے کے بعد آبادی میں اضافے، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور فیصلہ سازی کے مرکز سے دوری جیسے مسائل نے نچلی سطح پر گورننس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں ترقیاتی فنڈز کی بہتر تقسیم، تیز فیصلہ سازی اور عوام کی دہلیز تک اختیارات پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، اور بھارت، نائیجیریا و ایتھوپیا جیسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جہاں چھوٹے انتظامی یونٹس نے گورننس بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔




مخالفت اور تحفظات
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے اس بحث پر سخت ردعمل دیا ہے۔ سندھ کے وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ سمیت پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ اپنی تاریخ، شناخت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس نوعیت کے بیانات کی حساسیت کو سمجھا جانا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے تو وفاقی وزیرِ داخلہ سے استعفے کا مطالبہ بھی کر ڈالا، اور اس تجویز کو ہائبرڈ نظام کی توسیع اور آئینی دائرہ کار سے تجاوز قرار دیا۔ کئی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جس وقت قوم پہلے ہی سیاسی و معاشی طور پر دباؤ میں ہے، ایسے میں صوبوں کی مزید تقسیم اتحاد کی بجائے مزید تقسیم اور بداعتمادی کو جنم دے سکتی ہے۔ ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کا مؤقف بھی دوغلے پن کا شکار نظر آتا ہے — سندھ میں تقسیم کی مخالفت اور پنجاب میں حمایت، جس پر خود اس جماعت کے اندر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
اخراجات کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر نئے صوبے کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ (موجودہ سیشن کورٹس کی سطح بلند کر کے)، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، صوبائی اسمبلی اور مکمل بیورو کریٹک ڈھانچہ درکار ہوگا۔ اگر چہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ غیرضروری آسامیاں ختم کر کے بچت ممکن ہے، لیکن ابتدائی طور پر نئے دفاتر، عمارات اور مشینری کے قیام پر بھاری اخراجات ناگزیر ہوں گے، خصوصاً بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔
بلوچ بیلٹ اور سیکیورٹی کا سوال
بلوچستان کی حد تک سب سے حساس پہلو سیکیورٹی کا ہے۔ خضدار، قلات اور مکران پر مشتمل علاقے ایک عرصے سے شورش اور دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس مقامی سطح پر تیز رسپانس، بہتر انٹیلیجنس شیئرنگ اور مقامی آبادی کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی سرحدیں اور نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا عمل خود کئی برس لے گا، اس دوران سیکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ اور عدالتی نظام کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، اور مقامی سیاسی جماعتیں، خصوصاً بلوچ قوم پرست حلقے، اسے اپنی شناخت اور وسائل پر مرکز کے مزید کنٹرول کی کوشش کے طور پر بھی دیکھ سکتی ہیں — ایسا تاثر جو موجودہ بداعتمادی کو کم کرنے کی بجائے بڑھا سکتا ہے۔
نتیجہ
بلاشبہ آبادی میں اضافہ، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طرزِ حکمرانی کے مسائل حقیقی ہیں، اور ان پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ لیکن نئے صوبوں کا قیام کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو محض انتظامی دستاویز یا صحافیوں کو بریفنگ کے ذریعے کیا جا سکے۔ یہ ایک وسیع تر آئینی، سیاسی اور مالی عمل ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلیوں کی رضامندی، دو تہائی پارلیمانی اکثریت اور، سب سے بڑھ کر، متعلقہ آبادیوں کا اعتماد درکار ہوگا۔ 

فی الحال جو کچھ زمین پر موجود ہے وہ بلوچستان کے اندر نئے ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیلِ نو ہے، جبکہ 32 نئے صوبوں کا خاکہ تاحال ایک زیرِ بحث تجویز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ بحث کسی حقیقی آئینی پیش رفت کی صورت اختیار کرتی ہے یا سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کے بعد دیگر بہت سی تجاویز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔
اس وقت پاکستان کی حقیقی عوامی نمائندہ جماعت پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے یہ منصوبہ جس پر اسٹیبلشمنٹ کام کررہی ہے عوامی حمایت دو تہائی اکثریت کے بغیر یہ منصوبہ پائے تکمیل تک نہیں پہنچے گا اس پر مشاورت جاری ہے اگر اسٹیبلشمنٹ عمران کی شرائط مان گئی تو پی ٹی آئی یہ کام کر سکتی ہے  عمران خان وہ واحد شخصیت ہیں جس پر قوم آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی ہے اگر ان کو اقتدار ملا آئین مکمل بحال ہوا تو بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بھی قومی دھارے میں واپس آجائیں گی اور کے پی کے میں دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے کی بی وکشمیر کی عوام بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہاں بھی زندگی معمول پر سجائے گی اور فوج کے خلاف نفرت اور نا پسند دیدگی کا یہ ماحول ختم ہو جائے گا 
بین الاقوامی دنیا بھی ان کے ساتھ چلنے کا تیار ہے وہ سب کے ساتھ برابری کا تعلق چاہتے ہیں مگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو ملک وقوم کی خاطر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی سیاست میں کسی کو مائنث نہیں کیا جاسکتا بالخصوص عمران خان کو تو کسی صورت نہیں کرسکتے ہیں 
 کو اب دہشت گردی، قرض، بے روزگاری اب یہ غداری کے سرٹیفکیٹ کی تقسیم بند کی جائے ملک وقوم کی سوچیں ملکر

چلیں اب قوم تنگ اگئ ہے اس نو آبادیاتی نظام سے اور روز کی آپس کی لڑائی سے 

(یہ تحریر دستیاب رپورٹس اور بیانات کی بنیاد پر تیار کردہ تجزیہ ہے۔ چونکہ معاملہ تاحال زیرِ بحث ہے، حتمی تفصیلات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔) اس وقت متحدہ اپوزیشن ہیں اس ملک وقوم کے مسائل کا حل کر سکتی ہے 
6/9/2026 
www.alsadatnewspk.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...