Al-Sadat News Pakistan
معاشی زنجیریں، عوامی اذیت اور حکمرانوں کی ذمہ داری
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
CEO Al Sadat News Pakistan
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب سے ملک بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں شامل ہوا ہے، عوام کو یہ امید دلائی گئی کہ معیشت مستحکم ہوگی، ترقی آئے گی، اور عام آدمی کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔
مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ روزمرہ کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ ایک عام مزدور اور تنخواہ دار طبقہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ وہ قرضے، جو قوم کی ترقی کے نام پر لیے گئے، آخر گئے کہاں؟ اگر یہ قرض عوام کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ بدقسمتی سے عوام کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ ان وسائل سے حقیقی ترقی کے بجائے مخصوص طبقے نے فائدہ اٹھایا، جبکہ عام آدمی بدحالی کا شکار ہوتا گیا۔
معاشی دباؤ نے سماجی مسائل کو بھی خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات، بیروزگاری، اور گھریلو بحران اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہو، جب ایک نوجوان کو روزگار نہ ملے، تو معاشرے میں مایوسی اور بے بسی جنم لیتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس نظام میں امیر اور امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب مزید پستی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایسے حالات میں عوامی ردِعمل فطری ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں، آواز اٹھاتے ہیں، اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم اصل ضرورت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک سنجیدہ اور مؤثر اصلاح کی ہے۔
حکمرانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو بحال کریں۔ شفافیت، احتساب، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر کوئی بھی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ قرض لینا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مگر اس کا درست استعمال نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں اور صلاحیت بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی مفاد کو حقیقی ترجیح دی جائے، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے کو۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ:
کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو
قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے
روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں
اور سب سے بڑھ کر، عوام کو ریلیف دیا جائے
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو ایسے مخلص اور دیانتدار قائدین عطا فرمائے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کی خدمت کریں، اور پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال ریاست بنائیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں