Al-Sadat News Pakistan
غیر ملکی کمپنیاں کیوں جا رہی ہیں؟
حکومت کی معاشی پالیسیوں پر ایک تلخ مگر ضروری سوال
تحریر ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین سی ای او السادات نیوز پاکستان
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، زرخیز زمین اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہو سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج یہی ملک سرمایہ کاری کے میدان میں دنیا کے لیے ایک خطرناک اور غیر یقینی خطہ بنتا جا رہا ہے۔ جاپان کی معروف کمپنی مٹسوبشی کا اینگرو پولیمر سے مکمل انخلاء صرف ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر ایک خاموش عدم اعتماد ہے۔
یہ خبر دل کو اس لیے زیادہ تکلیف دیتی ہے کیونکہ مٹسوبشی کوئی چھوٹی یا وقتی کمپنی نہیں تھی۔ یہ وہ ادارہ تھا جس نے پاکستان کے صنعتی شعبے پر یقین کیا، سرمایہ لگایا، وقت دیا، روزگار پیدا کیا، مگر آخرکار اسے بھی اپنا سرمایہ سمیٹنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
حکمران طبقہ ہر روز قوم کو “معاشی استحکام” کے خواب دکھاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک سے سرمایہ بھاگ رہا ہے۔ ایک طرف نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، دوسری طرف بڑی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ایک قومی المیہ ہے۔
جب کوئی غیر ملکی کمپنی کسی ملک میں سرمایہ لگاتی ہے تو وہ صرف منافع نہیں دیکھتی بلکہ اعتماد، پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام اور معاشی تحفظ بھی دیکھتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہ سب چیزیں مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج سرمایہ کار کو یہ یقین نہیں کہ کل ڈالر کی قیمت کہاں ہوگی، درآمدی پالیسی کیا ہوگی، یا حکومت اچانک کون سا نیا ٹیکس نافذ کر دے گی۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے معیشت کو ہمیشہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ کبھی مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو سہارا دیا گیا، کبھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر اچانک مہنگائی کے طوفان کھڑے کر دیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ عوام کو سکون ملا اور نہ سرمایہ کار کو اعتماد۔
غیر ملکی کمپنیاں پاکستان سے صرف اس لیے نہیں جا رہیں کہ یہاں منافع کم ہے، بلکہ اس لیے جا رہی ہیں کہ یہاں پالیسیوں میں سنجیدگی کم ہے۔ جب ایک کمپنی اپنا منافع قانونی طور پر بھی بیرون ملک منتقل نہ کر سکے، جب بینکوں میں ڈالر دستیاب نہ ہوں، جب ہر چند ماہ بعد نئی معاشی ایمرجنسی پیدا ہو جائے تو پھر کون سرمایہ کار اپنا پیسہ اس آگ میں ڈالے گا؟
حکومت کو شاید یہ احساس نہیں کہ ایک بڑی کمپنی کے جانے سے صرف ایک ادارہ بند نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ مزدور کی تنخواہ، انجینئر کا مستقبل، دکاندار کی روزی، ٹرانسپورٹر کی آمدنی، سب کچھ اس سے جڑا ہوتا ہے۔ جب صنعت کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکمران ہر ناکامی کا الزام پچھلی حکومتوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ قوم اب صرف تقاریر نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر ملک میں واقعی معاشی استحکام آ رہا ہے تو پھر شیل، ٹیلینور، مٹسوبشی اور دیگر کمپنیاں کیوں جا رہی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت صرف قرضوں پر کھڑا ایک کمزور معاشی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ صنعتیں سکڑ رہی ہیں، کاروبار بند ہو رہے ہیں، نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں اور حکمران اب بھی اعداد و شمار کے کھیل میں مصروف ہیں۔ قوم کو بتایا جاتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے، مگر بازاروں میں خریداری ختم ہو رہی ہے۔ غریب آدمی کے لیے روٹی، بجلی، گیس اور علاج تک مشکل ہو چکا ہے۔
اگر حکومت واقعی ملک کو معاشی تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر چند بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے:
- سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کا طویل المدتی تحفظ دیا جائے۔
- ڈالر اور منافع کی منتقلی کے مسائل حل کیے جائیں۔
- ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔
- سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔
- مقامی صنعتوں کو بجلی اور گیس سستی فراہم کی جائے۔
ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان صرف قرض لینے والا ملک رہ جائے گا اور دنیا کی بڑی کمپنیاں یہاں سرمایہ لگانے کے بجائے صرف خبروں میں “پاکستان چھوڑنے” کے اعلانات کرتی نظر آئیں گی۔
قوم آج بھی محنتی ہے، نوجوان آج بھی باصلاحیت ہیں، زمین آج بھی زرخیز ہے، مگر مسئلہ صرف یہ ہے کہ حکمرانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ جب اقتدار خدمت کے بجائے مفادات کا ذریعہ بن جائے تو پھر سرمایہ بھی بھاگتا ہے اور امیدیں بھی۔
مٹسوبشی کا جانا صرف ایک کمپنی کا جانا نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر ایک خاموش مگر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جو پاکستان کی معیشت پر کاری ضرب ہے اس سے پہلے بہت ساری کمپنیاں ملک چھوڑ گئی ہیں
یہ ہے کہ ڈی ایم کی اتحادی حکومت کی کارکردگی لگتا ہے یہ ملک دیوالیہ کرکے کی دم۔لیں گے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں