بدھ، 15 جولائی، 2026

پاکستان نے افغان جنگوں سے کیا سیکھا

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ



گزشتہ شے پیوستہ

پاکستان افغانستان کی تاریخ بہت طویل تلخیوں سے بھری پڑی ہے دونوں ہمسایہ ملکوں کی قیادت ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائی بھی کرتی رہی اور برادرانہ طور پر اچھے ہمسایہ بھی رہے ہیں 
افغانستان کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان اور انڈیا کی سرزمینوں پر حملے کئیے اور حکومت بھی کرتے رہے اس وقت افغانستان غالب تھا طاقتور تھا انڈیا اور پاکستان میں اس وقت چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں 
پھر برطانیہ آیا اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تقریباً آدھی دنیا سے زائد پر قبضہ کیا مگر افغانستان پر وہ بھی قابض نہ ہو سکا 
پھر برطانیہ کا اور 14 اگست 1947 کو غروب ھوا اس نے نہ صرف انڈیا پاکستان سے بلکہ فلسطین تک سے اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا 
افغانستان میں اب ہم طالبان دور حکومت پر بات کررہے ہیں مگر طالبان کا اسلامی تشخص اور اسلامی حکومت اور جہاد کی پالیسی اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی اور چیچنیا داغستان میں روس کے خلاف لڑتے مسلمانوں کی حمایت اور جہاد میں شرکت نے مغرب کو بے چین کردیا تھا اور ان کو طالبان کی شکل میں ایک ان کو خلافت  عثمانیہ کے بعد ایک اور خلافت نظر آرہی تھی اس لئیے وہ بے چین تھے اب آگے پڑہیں 

افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہو چکی تھی، لیکن ہر انقلاب اپنے ساتھ ایک نیا امتحان بھی لے کر آتا ہے۔
اقتدار حاصل کرنا ایک مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ اقتدار کو انصاف، برداشت اور تدبر کے ساتھ چلانا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد اعلان کیا کہ اب افغانستان میں بدامنی کا دور ختم ہو جائے گا اور ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے واقعی سکون کا سانس لیا۔ برسوں بعد شاہراہوں پر سفر نسبتاً محفوظ ہوا، اغوا برائے تاوان اور مسلح گروہوں کی چیک پوسٹیں کم ہوئیں، اور ایک مرکزی نظم و ضبط قائم ہونے لگا۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے طبقے نے، جو مسلسل خانہ جنگی سے تھک چکا تھا، طالبان کو ابتدا میں امن کی علامت سمجھا۔
لیکن ہر معاشرے کی طرح افغانستان بھی صرف ایک فکر رکھنے والوں کا ملک نہیں تھا۔
وہاں مختلف قومیتیں تھیں، مختلف مسالک تھے، مختلف سیاسی نظریات تھے اور مختلف تاریخی تجربات تھے۔
اسی لیے طالبان کی حکومت کو جتنا داخلی تعاون ملا، اتنی ہی مخالفت بھی سامنے آئی۔
شمالی افغانستان میں احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، عبدالرشید دوستم اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل اتحاد نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی اتحاد بعد میں "شمالی اتحاد" کے نام سے مشہور ہوا۔
پنج شیر کی وادی ایک مرتبہ پھر مزاحمت کی علامت بن گئی۔
افغانستان کی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس ملک میں پہاڑ صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ سیاست بھی بن جاتے ہیں۔
کبھی یہی پہاڑ برطانوی فوجوں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں، کبھی سوویت یونین کے لیے، کبھی امریکی افواج کے لیے، اور کبھی ایک افغان دھڑے کے مقابل دوسرے افغان دھڑے کے لیے۔
اسی لیے بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ افغانستان کو صرف نقشے پر دیکھنے والا اسے کبھی سمجھ نہیں سکتا۔
اسے سمجھنے کے لیے اس کی وادیوں، قبائل، زبانوں، روایات اور مذہبی حساسیت کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔
طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر بھی مکمل قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے انتظار اور احتیاط کی پالیسی اختیار کی۔
اس کی کئی وجوہات تھیں۔
خواتین کی تعلیم کے بارے میں پالیسیاں، سیاسی مخالفین کے ساتھ رویہ، انسانی حقوق سے متعلق عالمی تحفظات، اور القاعدہ جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی عالمی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک اور سبق دیتی ہے۔
دنیا میں صرف طاقت کافی نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی قبولیت بھی ریاست کی طاقت کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔
ایک حکومت اپنے عوام کی حمایت سے قائم رہ سکتی ہے، لیکن عالمی نظام میں تنہائی بھی ایک بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔
اسی دوران ایک اور نام دوبارہ عالمی خبروں میں نمایاں ہونے لگا۔
اسامہ بن لادن۔
سوویت جنگ کے زمانے میں عرب دنیا سے آنے والے رضاکاروں میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے القاعدہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ سوڈان میں قیام کے بعد وہ دوبارہ افغانستان آئے، جہاں طالبان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
یہ فیصلہ بعد میں طالبان حکومت کے لیے عالمی سفارتی دباؤ کا ایک بڑا سبب بنا۔
امریکہ پہلے ہی مختلف دہشت گرد حملوں کے تناظر میں القاعدہ کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔
واشنگٹن مسلسل مطالبہ کرتا رہا کہ اسامہ بن لادن کو حوالے کیا جائے، جبکہ طالبان قیادت مختلف شرائط، مذہبی دلائل اور قانونی مؤقف پیش کرتی رہی۔
یہ اختلاف آہستہ آہستہ ایک بڑے تصادم کی بنیاد بنتا جا رہا تھا۔
مگر اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ چند برس بعد یہی مسئلہ پوری دنیا کی سیاست کا رخ بدل دے گا۔
ادھر پاکستان بھی ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا تھا۔
ایک طرف افغانستان میں طالبان حکومت تھی، جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات موجود تھے۔
دوسری طرف امریکہ پاکستان کا اہم اتحادی تھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک ایسے باریک پل پر چل رہی تھی جس کے ایک طرف علاقائی حقیقت تھی اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے تقاضے۔
یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں تھا۔
یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔
کیا کسی درمیانے درجے کی ریاست کو ہمیشہ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے؟
یا کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جب اسے صرف اپنے قومی مفاد کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنا چاہیے؟
یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں۔
ترکی، مصر، ایران، سعودی عرب اور دنیا کے کئی ممالک مختلف ادوار میں اسی آزمائش سے گزر چکے ہیں۔
ریاستیں اکثر جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے فیصلے کرتی ہیں۔
لیکن جب مفادات اور قومی وقار آمنے سامنے آ جائیں تو تاریخ کے مشکل ترین فیصلے جنم لیتے ہیں۔
نوّے کی دہائی کے اختتام تک افغانستان بظاہر ایک نئی حکومت کے زیرِ انتظام تھا، لیکن اس کے گرد عالمی دباؤ کا دائرہ مسلسل تنگ ہو رہا تھا۔
کابل کی فضا میں خاموشی تھی، مگر یہ وہ خاموشی تھی جس کے بعد آنے والے طوفان کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی۔
دنیا اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔
نیویارک کی فلک بوس عمارتیں معمول کے مطابق آباد تھیں۔
واشنگٹن اپنی عالمی حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔
اسلام آباد اپنے داخلی اور خارجی توازن میں مصروف تھا۔
اور کابل کو شاید ابھی اندازہ بھی نہیں تھا کہ تاریخ اس کے لیے ایک ایسا باب لکھنے والی ہے جس کی بازگشت صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔
11 ستمبر 2001ء ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، لیکن تاریخ کے افق پر اس کے سائے نمودار ہونا شروع ہو چکے تھے۔
(جاری ہے...)

اتوار، 12 جولائی، 2026

پاکستان نے افغانستان کی تاریخ سے کیا سبق حاصل کیا

Al-Sadat News Pakistan 
https://www.alsadatnewspk.com/

اداریہ

افغانستان عالمی قوتوں کی شطرنج کی گیم کا مرکز : کیا پاکستان نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے ؟




حصہ اول 

ایک جنگ جو کبھی ختم نہیں ہوئی


تاریخ کبھی نہیں مرتی۔ وہ صرف لباس بدلتی ہے۔ کردار بدل جاتے ہیں، نام بدل جاتے ہیں، پرچم بدل جاتے ہیں، مگر طاقت، مفاد، خوف اور اقتدار کی خواہش ویسی ہی رہتی ہے کبھی اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ، کبھی قومی سلامتی کا نام دیا جاتا ہے، اور کبھی مذہب کے مقدس جذبے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب دھواں چھٹتا ہے تو سب سے پہلے جو چیز دکھائی دیتی ہے وہ قبرستان ہوتے ہیں، یتیم بچے ہوتے ہیں، اجڑے ہوئے شہر ہوتے ہیں اور ایسی مائیں ہوتی ہیں جو برسوں تک دروازے پر نظریں جمائے اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتی رہتی ہیں
افغانستان بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ ایک ایسی سرزمین جسے قدرت نے حسن دیا، مگر جغرافیے نے آزمائش۔ یہ ملک ایشیا کے دل میں واقع ہے، لیکن شاید اسی لیے صدیوں سے عالمی طاقتوں کی نگاہ بھی اسی پر رہی سکندر اعظم آیا، منگول آئے، برطانوی سلطنت آئی، سوویت یونین آیا، پھر امریکہ آیا۔ ہر طاقت نے سمجھا کہ وہ افغانستان کو اپنے نقشے کے مطابق ڈھال لے گی، مگر افغانستان ہر بار زخمی تو ہوا، جھکا نہیں
بدقسمتی یہ رہی کہ اس پوری داستان میں پاکستان بھی ایک اہم کردار بن گیا۔ یہ کردار ہمیشہ اپنی مرضی سے تھا یا حالات نے اسے مجبور کیا، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی میں افغانستان میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کے اثرات پاکستان کے گھروں، بازاروں، معیشت، سیاست اور معاشرت تک پہنچے
یہ اداریہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ تاریخ کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں کا حساب نہیں کرتیں، تاریخ ان کا حساب ضرور کرتی ہے
1979ء کا سال صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ کابل کی کمیونسٹ حکومت کی مدد کے لیے آیا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی دنیا نے اسے سرد جنگ کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا
پاکستان اس وقت جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے زیرِ انتظام تھا۔ ایک طرف مشرق میں بھارت تھا، دوسری طرف مغرب میں افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی نے اسلام آباد میں شدید تشویش پیدا کی۔ اس دور میں پاکستان کی ریاستی پالیسی یہ بنی کہ افغان مزاحمت کی حمایت کی جائے۔ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی اس حکمت عملی کی بھرپور تائید کی
اسی دور میں "افغان جہاد" کا تصور عام ہوا لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ سرحدی علاقوں میں مہاجر کیمپ قائم ہوئے,مذہبی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مختلف ممالک سے مالی امداد آنے لگی۔ دنیا بھر سے نوجوان افغانستان کا رخ کرنے لگے 
اس وقت پاکستان کے عوام کو یہی بتایا گیا کہ یہ صرف افغانستان کی جنگ نہیں بلکہ اسلام اور کمیونزم کے درمیان معرکہ ہے ہزاروں پاکستانی نوجوان بھی اس جذبے سے متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے اسے مذہبی فریضہ سمجھا، بہت سے اسے افغان بھائیوں کی مدد قرار دیتے تھے، جبکہ ریاست اسے اپنی قومی سلامتی کا تقاضا سمجھتی تھی
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ریاستیں ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، یا نظریات اکثر قومی مفادات کی زبان بن جاتے ہیں؟
یہ سوال صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی ہر بڑی طاقت کے لیے بھی ہے
امریکہ نے افغان مجاہدین کی حمایت اس لیے نہیں کی تھی کہ وہ ایک مذہبی ریاست قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کو کمزور کرنا تھا۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں صرف مذہبی مسئلہ نہیں تھیں بلکہ سلامتی، سرحد، خارجہ پالیسی اور علاقائی توازن کا معاملہ بھی تھیں
لیکن جنگوں کا ایک اصول ہوتا ہے
جنگ کبھی صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کی قیمت معاشرے بھی ادا کرتے ہیں
پاکستان نے بھی ادا کی
اس جنگ کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے ان کے لیے اپنے دروازے کھولے، جو انسانی ہمدردی کا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اتنی بڑی آبادی کی آمد نے معاشی، سماجی اور انتظامی دباؤ بھی پیدا کیا۔ سرحدی علاقوں کی معیشت بدل گئی، آبادی کا تناسب تبدیل ہوا، اور کئی نئے مسائل نے جنم لیا
اسی زمانے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر کی اصطلاح عام ہوئی ، اسلحہ پہلے بھی موجود تھا، مگر اب خودکار ہتھیار عام لوگوں کی دسترس میں آنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا

 متعدد تحقیقی رپورٹس اور تجزیہ نگار اس دور کو پاکستان میں ہیروئن کے پھیلاؤ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر مختلف اوقات میں ریاستی اداروں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرحدی جرائم کے تعلق پر بھی سوالات اٹھتے رہے، اگرچہ ان میں سے ہر الزام ثابت نہیں ہوا
لیکن ایک حقیقت بہرحال سب کے سامنے تھی۔
پاکستان بدل رہا تھا
وہ پاکستان، جس کے دیہات میں رات گئے تک دروازے کھلے رہتے تھے، آہستہ آہستہ خوف کے سائے میں آنے لگا
وہ معاشرہ، جہاں بندوق صرف ریاست یا قبائلی روایات کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہاں بندوق طاقت، سیاست اور ذاتی تحفظ کی علامت بنتی گئی
یہ تبدیلی صرف اسلحے کی نہیں تھی، سوچ کی بھی تھی
جب ایک معاشرہ کئی برس تک جنگ کے ماحول میں سانس لیتا ہے تو جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، وہ ذہنوں میں بھی اتر جاتی ہے
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا المیہ تھا
افغانستان کی سرزمین پر سوویت ٹینک ابھی پوری طرح واپس بھی نہیں لوٹے تھے کہ ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا
جنگ جیتنے کے بعد حکومت کون کرے گا؟
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب شاید کسی نے پہلے سے تیار نہیں کیا تھا
جنگ لڑنے والوں کے پاس بندوقیں تھیں، قربانیاں تھیں، جذبہ تھا، لیکن ایک متحد سیاسی منصوبہ نہیں تھابجب تک دشمن سامنے تھا، اختلافات پس منظر میں تھے جیسے ہی دشمن ہٹا، وہی اختلافات اقتدار کی جنگ میں بدلنے لگے
1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں، لیکن کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت چند سال تک برقرار رہی۔ 1992ء میں وہ حکومت بھی گر گئی اور مجاہدین کابل میں داخل ہوئے۔ دنیا نے سمجھا کہ اب افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا، مگر تاریخ نے ایک اور موڑ لے لیا
کابل، جو برسوں سوویت بمباری کا شکار رہا تھا، اب افغان دھڑوں کی باہمی لڑائی کا میدان بن گیا
ایک طرف گلبدین حکمت یار تھے، دوسری طرف برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، عبدالرشید دوستم اور دیگر کمانڈر۔ سب نے سوویت یونین کے خلاف ایک ہی مورچے میں جنگ لڑی تھی، لیکن اقتدار کے سوال نے انہیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا
افغانستان کے عام شہری کے لیے شاید اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں تھا
کل تک جو ایک ہی صف میں کھڑے تھے، آج ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے تھے
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ جیتنا آسان ہے، مگر امن جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے
کئی قومیں دشمن کو شکست دے دیتی ہیں، لیکن اپنے غرور، اختلاف اور اقتدار کی خواہش کے سامنے خود شکست کھا جاتی ہیں
افغانستان بھی اسی آزمائش سے گزر رہا تھا
کابل کی گلیاں ملبے میں بدل رہی تھیں
ہزاروں شہری مارے گئے
لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے
ریاست نام کی کوئی مؤثر قوت باقی نہ رہی
ہر علاقے میں الگ کمانڈر، الگ قانون اور الگ طاقت تھی
پاکستان اس سارے منظر کو خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا تھا
اس کے مغربی بارڈر پر ایک ایسا ملک موجود تھا جہاں حکومت تقریباً ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ رہے تھے۔ اسمگلنگ، اسلحہ، مہاجرین، غیر یقینی صورتحال اور سرحدی عدم استحکام پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنتے جا رہے تھے
اسی دوران وسط ایشیائی ریاستیں سوویت یونین سے آزاد ہو چکی تھیں۔ پاکستان کے بعض پالیسی سازوں کو محسوس ہوا کہ اگر افغانستان میں ایک مستحکم حکومت قائم ہو جائے تو پاکستان وسط ایشیا تک تجارت اور توانائی کے نئے راستے حاصل کر سکتا ہے۔

یہیں سے افغانستان کے بارے میں نئی سوچ نے جنم لیا
یہ سوچ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھی
ہر علاقائی طاقت افغانستان میں اپنے مفادات تلاش کر رہی تھی
ایران اپنے اثرورسوخ کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا
روس اپنی سابقہ شکست کے باوجود خطے سے مکمل لاتعلق نہیں ہونا چاہتا تھا
بھارت افغانستان میں اپنا سیاسی کردار بڑھانا چاہتا تھا
امریکہ، اگرچہ سوویت انخلا کے بعد نسبتاً پیچھے ہٹ گیا تھا، مگر اس کی نظریں بھی خطے پر موجود تھیں
یوں افغانستان ایک بار پھر افغانوں سے زیادہ دوسروں کی دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا تھا
اسی پس منظر میں جنوبی افغانستان کے مدارس سے ایک نئی تحریک ابھری
یہ نوجوان زیادہ تر انہی برسوں کی جنگ کے ماحول میں پلے بڑھے تھے

ان کا نعرہ تھا:
بدامنی ختم کرو، اسلحہ بردار گروہوں کا خاتمہ کرو اور اسلامی نظام نافذ کرو۔
اسی تحریک کو دنیا نے بعد میں طالبان کے نام سے جانا
تحریک کے روحِ رواں ملا محمد عمر تھے
ان کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ وہ میڈیا سے دور رہتے تھے، عوامی اجتماعات میں کم نظر آتے تھے اور ان کی شخصیت کے گرد ایک پراسرار فضا قائم رہی۔ اسی وجہ سے ان کے بارے میں حقیقت اور روایت اکثر ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں
طالبان نے اپنی ابتدا قندھار سے کی
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے چند مقامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی، جن پر عوام کے ساتھ ظلم اور بدامنی پھیلانے کے الزامات تھے۔ اس اقدام نے انہیں مقامی سطح پر مقبولیت دی
اس کے بعد ان کی پیش قدمی حیرت انگیز رفتار سے شروع ہوئی
بہت سے علاقوں میں انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن کئی مقامات پر مقامی کمانڈروں نے لڑائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، جبکہ بعض ان کے ساتھ شامل بھی ہو گئے
چند ہی برسوں میں افغانستان کا بڑا حصہ طالبان کے زیرِ انتظام آ گیا
1996ء میں کابل پر طالبان کا قبضہ ہو گیا
دنیا حیران تھی
وہ قوتیں جو برسوں کی خانہ جنگی ختم نہ کر سکیں، ایک نئی تحریک نے مختصر عرصے میں ملک کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا
طالبان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے افغانستان کو بدامنی، لوٹ مار اور جنگجو سرداروں سے نجات دلائی
ان کے ناقدین کہتے تھے کہ انہوں نے سخت طرزِ حکمرانی، خواتین کے حقوق پر پابندیوں اور سیاسی آزادیوں کی کمی کو فروغ دیا
یہ اختلاف آج بھی موجود ہے
لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں
طالبان کے ظہور نے نہ صرف افغانستان بلکہ
 پورے خطے کی سیاست کا رخ بدل دیا
پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے چند ممالک میں جگہ بنائی
اس فیصلے کو پاکستان نے اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھا، جبکہ ناقدین نے اسے ایک خطرناک سفارتی حکمت عملی قرار دیا
یہیں سے پاکستان اور افغانستان کی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوئی، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے گئے
اور شاید یہیں سے ایک نئی عالمی کشمکش کے بیج بھی بوئے جا رہے تھے، جس کے آثار اس وقت بہت کم لوگوں کو دکھائی دے رہے تھے
لیکن تاریخ خاموشی سے اپنا اگلا باب لکھ رہی تھی۔

جاری ہے آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں 

www.alsadatnewspk.com 



بدھ، 8 جولائی، 2026

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan 



کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟

بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟

تحریر سید محمد شاہ غرشین 




میں آفس میں بیٹھے سوچ رہا تھا کہ کیا خوبصورت وقت تھا کہ جب ہم لورالائی کینٹ کی کینٹین پر جاکر جلیبی کھاتے تھے صاف ستھرا ماحول تھا فوج کے جوان ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھے باہمی اعتماد اور احترام تھا تحفظ کا احساس تھا 
پھر کوئٹہ چلتن مارکیٹ جانا شاپنگ کرنا وہاں خوبصورت مناظر پارک دیکھ کر سارے دن کی تھکاوٹ اتر جاتی تھی وہ چائے کا ایک کہ سموسے ڈپریشن کا علاج تھے 
آج کیا ہوگیا ہے میرے محافظ خود غیر محفوظ ہوگئے ہیں بڑی بڑی دیواروں نے حصار کھڑے کر دیئے ہیں 
آج ہمارے پالیسی سازوں سے یہی ایک سوال کے کہ آخر کیا غلط ہوا ہے آپ سے کہ آج وطن عزیز قوم اور آپ خود محفوظ نہیں ہیں ؟
اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو امن واپس نہیں آئے گا 
آخر کیا ھوگیا ہے کہ آج عوام آپ کے ساتھ نہیں ہے ؟
آخر کیوں آج آپ نے دیواروں کے اس حصار میں عوام سے خود کو دور کر لیا ہے ؟
 ہمارے انٹلیجنس ایجنسی دشمن کے لہروں کے دوش پر قائم وار کو پکڑ لیتے ہیں مگر  مگر اپنی قوم کے درمیان فاصلے کی وجہ ان کو نظر نہیں آرہی ؟
جب تک آپ اس قوم کو پہلے کی طرح عزت اور تحفظ اور حقوق نہیں دیں گے یہ فاصلے کم نہیں ہونگے یہ اعتماد بحال نہیں ہو گا 
طاقت کے استعمال سے پرہیز کریں یہی مسائل کی جڑ ہے آئین کو بحال کیا جائے ہر ادارہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرے جو کام جسکا ہے وہی کرے آئین کی بحالی عدلیہ کی آزادی عوامی خدمت میرٹ کی بحالی ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر ریاست امن قائم کر سکتی ہے 

پاکستان کے آئین کی پہلی ذمہ داری ریاست پر یہ عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ لیکن آج جب ہم بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا ریاست اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟

اگر معصوم بچے بارودی مواد کا نشانہ بن رہے ہوں، اگر دہشت گرد دیہات پر حملے کر رہے ہوں، اگر پولیس چوکیوں پر یلغار ہو رہی ہو، اگر شاہراہیں غیر محفوظ ہوں، اگر کاروبار تباہ ہو رہا ہو اور عام شہری خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں، تو محض مذمتی بیانات عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

بلوچستان کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ ایک طرف دہشت گرد تنظیمیں حملے کرتی ہیں، دوسری طرف عام شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ نہ جانے اگلا حملہ کہاں ہوگا۔ اگر حالات ایسے مقام پر پہنچ جائیں کہ لوگ اپنے گھروں، بازاروں اور سفر میں بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں تو یہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا بحران ہے۔

اسی دوران اگر آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہوں، تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہر واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کے مطابق احتجاج کے حق کا احترام دونوں یکساں اہم ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہشت گرد آخر اتنی آزادی سے کارروائیاں کیسے کر لیتے ہیں؟ ان کے نیٹ ورک کہاں سے چل رہے ہیں؟ ان کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟ انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان ایسا مؤثر نظام کیوں قائم نہیں ہو پا رہا جو ان حملوں کو پہلے ہی ناکام بنا سکے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ بلوچستان جیسے حساس خطے میں انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی، ترقی، تعلیم، روزگار، مقامی آبادی کی شمولیت اور قانون کی یکساں عملداری کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جہاں عوام کا اعتماد کمزور ہو جائے، وہاں دشمن عناصر کو جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔

آج پاکستان کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، عوامی تحفظ، متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد، سکیورٹی نظام کی بہتری اور ریاستی اداروں کا مؤثر احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ کالم کسی ادارے یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصولی سوال اٹھاتا ہے: ریاست کی اصل طاقت کیا ہے؟ ریاست کی طاقت صرف اسلحہ یا اختیارات نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کا اعتماد ہوتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہو، جب ایک تاجر سفر سے ڈرے، جب ایک مسافر شاہراہ پر خود کو غیر محفوظ سمجھے، تو ریاست کو خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ بلوچستان کا درد بھی پاکستان کا درد ہے، خیبر پختونخوا کا غم بھی پاکستان کا غم ہے، آزاد کشمیر کے شہری بھی اسی ریاست کے شہری ہیں، سندھ اور پنجاب کے عوام بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ اگر ملک کے کسی ایک حصے میں آگ لگی ہو تو یہ سمجھ لینا کہ باقی سب محفوظ ہیں، ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔

آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ قومی سنجیدگی کی ہے۔ حکومت، پارلیمان، سکیورٹی اداروں، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا لائحۂ عمل بنانا ہوگا جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور آئین کے مطابق ہر پاکستانی کو جان و مال کا یکساں تحفظ مل سکے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک پرامن، مستحکم اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔


Headliners

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan  ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین پاکستان ایک ایسا ملک ...