بدھ، 27 مئی، 2026

تمام اہل اسلام کو عید الاضحیٰ مبارک

Al-Sadat News Pakistan 

دیوار کے اُس پار بھی عید ہے؟ 

خوشیوں اور محرومیوں کے درمیان بٹا ہوا معاشرہ



تحریر برائے: سید محمد شاہ غرشین 
السادات نیوز پاکستان
اج پاکستان میں عید الاضحی 2026 کا پہلا دن ہے اور امت مسلمہ عید کی خوشیاں منا رہی ہیں اس نسبت سے السادات 
نیوز پاکستان کی طرف سے تمام دوستوں کو اہل وطن کو اہل اسلام کو ہماری طرف سے عید کی خوشیاں مبارک
اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی ایثار کا نام ہے اور ایثار کا مطلب یہ ہے کہ اگر اپ کو ضرورت ہو تب بھی اپنی ضرورت سے صرف نظر کرتے ہوئے اپ کسی دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کریں قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی قیمتی سے قیمتی چیز بھی قربان کر دے حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو قربانی کے لیے پیش کیا
ہم نے اپنے اپ سے یہ سوال کرنا ہے کیا ہم اس سنت ابراہیمی پہ عمل کر رہے ہیں کیا ہمارے ہمسائے میں ہمارے عزیز و اقارب میں کوئی ایسے گھر انے موجود تو نہیں ہے جہاں عید قربان کا گوشت نہ پہنچا ہو یا ان کے بچے بھوکے بیٹھے ہیں 
قربانی کا مقصد یہی ہے کہ اپ اج کے دن ان کے گھر بھی گوشت پہنچائیں جو گوشت خریدنے کی توفیق نہیں رکھتے
ہماری اور اپ کی قربانی کی قبولیت کا دارومدار اس بات پہ ہے کہ ہم نے اخلاص سے نیت سے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ غربہ اور مساکین تک پہنچایا گیا دوسرا حصہ عزیز و اقارب کے غرباء مساکین تک پہنچائے ہو تیسرا 
حصہ اپ کا اور اپ کے اہل و عیال کا ہے قربانی کر کے فرج میں گوشت نہیں رکھنا بلکہ اس سے
حقداروں تک تقسیم کرنا ہے 

ایک ہی محلہ، ایک ہی فضا، ایک ہی دن 
مگر دو الگ دنیائیں۔

ایک طرف رونق ہے، قہقہے ہیں، گوشت کے تھال ہیں، مہمان ہیں، بچوں کے تحفے ہیں، خوشیوں کی چہل پہل ہے۔
اور دوسری طرف خاموشی ہے، خالی برتن ہیں، فکرمند چہرے ہیں، بھوک سے لڑتے معصوم بچے ہیں، اور ایک ماں کی بے بسی ہے جو اپنے بچوں کو تسلی تو دے سکتی ہے، مگر پیٹ بھر کھانا نہیں۔

یہ تصویر صرف ایک منظر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔

سوال یہ نہیں کہ خوشی منانا غلط ہے۔ اسلام نے عید، قربانی، مہمان نوازی اور رزق کی نعمت پر شکر ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خوشیوں کی دیوار کے اُس پار بیٹھا انسان بھی ہماری توجہ میں ہے؟

قربانی کا فلسفہ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تقویٰ، نیت اور انسانیت کا جذبہ پہنچتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت موجود ہے: دولت اور غربت کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے لاکھوں خاندانوں کے لئے بنیادی ضروریات تک مشکل بنا دی ہیں۔ پاکستان میں عید الاضحی ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ موقع ضرورت مندوں تک رزق پہنچانے اور معاشرتی یکجہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ 

بدقسمتی سے بعض اوقات ہم قربانی کے اصل پیغام سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جانور کی قیمت، جسامت، نمائش، سوشل میڈیا کی تصویریں اور دکھاوا اصل مقصد پر غالب آجاتے ہیں، جبکہ قربانی کا بنیادی سبق ایثار، عاجزی اور تقسیمِ نعمت ہے۔ 

یہ تصویر ہمیں ایک غیر آرام دہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے:

کیا ہماری دیواریں صرف اینٹوں کی ہیں، یا دلوں کی بھی؟

ہمارے اردگرد ایسے کتنے گھر ہیں جہاں بچے عید کے دن نئے کپڑوں سے زیادہ ایک وقت کے کھانے کے منتظر ہوتے ہیں؟
کتنی مائیں ہیں جو اپنی غربت کو پردے کے پیچھے چھپا کر بچوں کو امید کا سہارا دیتی ہیں؟
کتنے سفید پوش خاندان ہیں جو کسی سے مانگ نہیں سکتے، مگر ضرورت کی آگ میں جل رہے ہیں؟

اسلامی معاشرے کی خوبصورتی صرف عبادت گاہوں سے نہیں بنتی، بلکہ اس احساس سے بنتی ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی محروم تنہا نہ رہ جائے۔

اگر ہماری دسترخوان پر دس ڈشیں ہیں اور ہمارے پڑوس میں کوئی بچہ سوکھی روٹی پر گزارا کر رہا ہے، تو یہ صرف معاشی فرق نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا سوال بھی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید، قربانی اور خوشیوں کے مواقع کو محض رسم یا نمائش نہ بنائیں، بلکہ انہیں انسانیت، ہمدردی اور سماجی انصاف کے جذبے سے جوڑیں۔

شاید حقیقی خوشی تب مکمل ہوگی جب ہماری دیوار کے اُس پار بیٹھے بچوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آئے۔

کیونکہ عید صرف ہمارے گھر میں نہیں، (پورے معاشرے میں ہونی چاہیے)

منگل، 26 مئی، 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کا ناسور

Al-Sadat News Pakistan 

منظر نامہ

سید محمد شاہ غرشین

CEO Al Sadat News Pakistan



میں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا ہوں اور میری آنکھوں کے سامنے کوئٹہ کے اس چمن پھاٹک کا منظر گھوم رہا ہے، جہاں چند گھنٹے پہلے خون کی ہولی کھیلی گئی۔
میں بار بار اپنے آپ سے ایک ہی سوال پوچھ رہا ہوں کہ یاخدایا! ہم کس موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں؟ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے جوانوں کی بہادری کی قسمیں دنیا کھاتی ہے؟
اور کیا یہ وہی دھرتی ہے جہاں ماؤں کے لختِ جگر صبح گھر سے وردی پہن کر نکلتے ہیں تو شام کو ان کے جنازے گھر پہنچتے ہیں

؟
کل کوئٹہ کینٹ کے مضافات میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک بم دھماکہ نہیں تھا، وہ 31 ماؤں کی گود اجڑنے کی داستان تھی، وہ 211 خاندانوں کے عمر بھر کے معذور ہونے کا نوحہ تھا اور وہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کے دل پر لگا ہوا ایک ایسا گہرا زخم تھا جس کا خون رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب 4 فرنٹئیر فورس، 10 بلوچ رجمنٹ اور ای ایم ای سینٹر کے وہ کڑیل جوان، وہ نئے بھرتی ہونے والے معصوم عسکری ریکروٹس، جن کی تفصیل دشمن جاری کی (وہ ان تک کیسے پہنچی)
جن کی آنکھوں میں اپنے ملک کی حفاظت کے خواب تھے، اس عسکری شٹل ٹرین میں سوار ہو رہے ہوں گے، تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اگلے چند منٹوں میں سیکیورٹی کا یہ دعویٰ ایک خونی ملبے میں تبدیل ہونے والا ہے۔ ہم کب تک اپنے جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک صرف مذمتی بیانات اور افسوس کے پیغامات کے سہارے جئیں گے؟ یہ ایک ایسا لمحہء فکریہ ہے جس پر اگر آج ہم نے خون کے آنسو نہ بہائے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔


لیکن آئیے، جذبات سے ہٹ کر ذرا اس تلخ حقیقت کا سامنا کریں جو اس حملے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ اور ان کے انٹیلی جنس ونگ 'زراب' نے جو تفصیلات جاری کی ہیں، اگر ان کا صرف دس فیصد بھی سچ ہے، تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ یہ کوئی عام گوریلا حملہ نہیں تھا، یہ ایک انتہائی پیچیدہ، منظم اور گہری پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ دشمن کو یہ معلوم تھا کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور 9 نومبر کو شال ریلوے اسٹیشن کے دھماکے کے بعد پاک فوج نے اپنا سیکیورٹی پروٹوکول بدل دیا ہے۔ دشمن جانتا تھا کہ اب فوجیوں کو پبلک اسٹیشن کے بجائے رات کی تاریکی میں کینٹ کے ہائی سیکیورٹی زون کے اندر چار پانچ خصوصی بوگیوں میں سوار کیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ جعفر ایکسپریس کی روانگی سے ٹھیک آدھا گھنٹہ پہلے ایک الگ انجن اس شٹل ٹرین کو لے کر نکلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کینٹ کے اندر کی یہ انتہائی خفیہ معلومات، یہ مخصوص اوقات، اور ان بوگیوں میں سوار ہونے والی رجمنٹس کے نام ایک دہشت گرد تنظیم تک کیسے پہنچے؟


یہیں پر آ کر سیکیورٹی فورسز کا وہ 'لیپس' اور کمزوری سامنے آتی ہے جس پر بات کرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ ہماری انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ایک ایسی سنگین ناکامی ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیکیورٹی کا بنیادی اصول ہے کہ جب آپ دشمن کے خوف سے اپنا پروٹوکول بدلتے ہیں، تو اس میں 'روٹین' (Routine) پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اگر ہماری فورسز ہر روز ایک ہی طے شدہ وقت پر، ایک ہی طریقے سے اس شٹل ٹرین کو کینٹ سے نکال رہی تھیں، تو انہوں نے خود دشمن کو مشاہدے اور ریکی کا موقع دیا۔ ٹریک کے دونوں طرف بلند دیواریں بنانا یا چمن پھاٹک پر کیو آر ایف کو الرٹ کرنا اس وقت تک بے سود ہے جب تک آپ کے اپنے گھر کی معلومات باہر جا رہی ہوں۔ یہ مائی مائی کی لڑی (Information Leakage) کہاں سے جڑی ہے؟ کیا کینٹ یا ریلوے کے اندر کوئی کالی بھیڑ موجود ہے؟ یا پھر ہمارا مواصلاتی نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ دشمن اسے ہیک کر کے ہماری ایک ایک موومنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے؟ جب تک ہم اس اندرونی سوراخ کو بند نہیں کریں گے، ہم باہر کتنی ہی دیواریں کیوں نہ کھڑی کر لیں، ہمارے جوان محفوظ نہیں ہو سکتے۔


اب سوال یہ ہے کہ آنے والے وقت میں اس آگ کو کیسے روکا جائے؟ اب روایتی دفاع کا وقت ختم ہو چکا۔ سیکیورٹی اداروں کو سب سے پہلے اپنی 'انفارمیشن سیکیورٹی' کا ایک سخت آڈٹ کرنا ہوگا۔ فوجیوں کی نقل و حرکت کے طریقے اور اوقات کو اس حد تک خفیہ اور غیر متوقع (Random) بنانا ہوگا کہ خود عملے کو بھی آخری لمحات تک معلوم نہ ہو کہ اگلا قدم کیا ہے۔ دوسرا بڑا اقدام، کینٹ اور حساس تنصیبات کے اندر کام کرنے والے نچلے درجے کے سویلین عملے، قلیوں اور عارضی ملازمین کی سخت ترین سکریننگ اور کاؤنٹر انٹیلی جنس نگرانی ہے۔ دشمن اب بندوق سے زیادہ معلومات کی جنگ لڑ رہا ہے، اور اس جنگ کو جیتنے کے لیے ہمیں سگنل انٹیلی جنس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جدید تھرمل کیمروں کا نیٹ ورک بنانا ہوگا جو کینٹ سے ریلوے اسٹیشن تک کے پورے ٹریک کی 24 گھنٹے فضائی اور زمینی نگرانی کر سکیں۔


ہم ایک ایسے نازک دور سے گزر رہے ہیں جہاں دشمن ہماری بقا پر وار کر رہا ہے۔ السادات نیوز پاکستان کے پلیٹ فارم سے میں اربابِ اختیار اور سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام سے التجا کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اب جاگ جائیے۔ ان ماؤں کے آنسوؤں کو دیکھیے جن کے لختِ جگر اس مٹی کا قرض چکاتے چکاتے منوں مٹی تلے سو گئے۔ اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں موجود کمزوریوں کا گہرائی سے تجزیہ نہ کیا، اگر آج ہم نے انٹیلی جنس کے اس سوراخ کو ہمیشہ کے لیے بند نہ کیا، تو خدانخواستہ اگلا کالم مجھے کسی اور ایسے ہی سانحے پر لکھنا پڑے گا، اور اس دن ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ اس ملک اور اس کے محافظوں کا حامی و ناصر ہو۔


پیر، 25 مئی، 2026

پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت اور 28 آئینی ترمیم

Al-Sadat News Pakistan 


اداریہ: السادات نیوز پاکستان
تحریر سید محمد شاہ غرشین
سی ای او السادات نیوز

اس وقت پاکستان میں نئے صوبوں کا مجوزہ نقشہ زیر گردش ہے کیا اس نقشے پر تقسیم پر قومی اتفاق رائے موجود ہے ؟

آج کل سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پاکستان کی انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک نیا نقشہ زیرِ گردش ہے۔
اس مجوزہ منصوبے میں پاکستان کو متعدد نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے۔ السادات نیوز پاکستان سمجھتا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی بذاتِ خود ایک مثبت سوچ ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ ملکی حالات میں اس منصوبے کے عملی، معاشی اور سیاسی پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
عوامی مفاد اور انتظامی سہولت
اصولی طور پر دیکھا جائے تو چھوٹے صوبوں کا قیام عوامی مفاد کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جب دور دراز کے علاقوں، جیسے جنوبی پنجاب، ہزارہ، مکران یا دیگر پسماندہ اضلاع کو الگ صوبائی حیثیت ملتی ہے، تو گورننس کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ عوام کو اپنے چھوٹے چھوٹے جائز کاموں اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کے لیے سینکڑوں میل دور صوبائی دارالحکومتوں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔ ترقیاتی فنڈز براہِ راست مقامی سطح پر خرچ ہوتے ہیں جس سے محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ منصوبہ عوامی ریلیف کے لیے ایک بہترین خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
معاشی حقیقت:
کیا موجودہ حالات میں یہ ممکن ہے؟
خواب دیکھنا الگ بات ہے لیکن تلخ معاشی حقیقتوں سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں ملکی معیشت قرضوں کی ادائیگی اور شدید مالیاتی خسارے کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔
ایسے میں ایک درجن سے زائد نئے صوبے بنانے کا مطلب ہے: اربوں روپے کی لاگت سے نئے گورنر ہاؤسز، وزیراعلیٰ ہاؤسز، نئی صوبائی اسمبلیاں، ہائی کورٹس اور سیکرٹریٹ تعمیر کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی ایک نئی اور بھاری بھرکم فوج (چیف سیکرٹریز، آئی جیز، سیکرٹریز اور سرکاری ملازمین) کی تنخواہوں اور پنشنز کا مستقل بوجھ ملکی خزانے پر پڑے گا۔ موجودہ معاشی حالت میں جب حکومت کے پاس بنیادی ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز نہیں ہیں، اتنے بڑے انتظامی اخراجات کا بوجھ اٹھانا ملکی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہوگا۔

سیاسی اتفاقِ رائے کی ناگزیریت اور انتشار کا خطرہ
نیا صوبہ بنانا محض کاغذ پر لکیر کھینچنے کا نام نہیں ہے، اس کے لیے آئین میں دو تہائی اکثریت سے ترمیم درکار ہوتی ہے۔ السادات نیوز پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر اس قسم کی بڑی جراحی تمام سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے **ملی یکجہتی اور وسیع تر اتفاقِ رائے** کے بغیر کی گئی، تو یہ ملک کو شدید ترین سیاسی انتشار کی طرف دھکیل دے گی۔
اگر صوبوں کی تقسیم انتظامی کے بجائے لسانی، نسلی یا عصبیت کی بنیاد پر محسوس ہوئی—خصوصاً سندھ یا بلوچستان جیسے حساس صوبوں میں—تو اس سے صوبائی منافرت اور اندرونی خلفشار کی ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جسے قابو کرنا ناممکن ہوگا۔ پہلے سے موجود سیاسی پولرائزیشن (تقسیم) کے ماحول میں یہ عمل وفاق کی اکائیوں کو کمزور کر سکتا ہے۔
السادات نیوز کی تجاویز:
کیا درست ہے اور کیا غلط؟
ہماری سنجیدہ رائے میں، اس منصوبے کو جوں کا توں نافذ کرنے کے بجائے درج ذیل حکمتِ عملی اپنائی جانی چاہیے:
| کیا کرنا غلط ہوگا؟ (منفی پہلو) |
کیا کرنا درست ہوگا؟ (مثبت تجاویز) |
| جلد بازی میں نفاذ:
معاشی بحران کے دوران راتوں رات نئے صوبوں کا قیام ملکی معیشت کے لیے خودکش ثابت ہوگا۔ | **مرحلہ وار عمل:** سب سے پہلے ان علاقوں کو ہدف بنایا جائے جہاں طویل عرصے سے شدید ترین عوامی مطالبہ موجود ہے (جیسے جنوبی پنجاب)۔

| لسانی تقسیم:
صوبوں کو لسانی یا نسلی بنیادوں پر بانٹنا ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بنے گا۔
صرف انتظامی بنیاد:
صوبوں کی تقسیم کا واحد معیار صرف اور صرف انتظامی سہولت ہونا چاہیے، لسانیت نہیں۔
بیوروکریسی کا پھیلاؤ:
نئے صوبوں میں شاہانہ عمارات اور افسر شاہی پر پیسہ پانی کی طرح بہانا غلط ہوگا۔ | **لوکل گورنمنٹ سسٹم کی مضبوطی:** نئے صوبوں پر کھربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے **بلدیاتی نظام (Local Bodies)** کو فعال اور بااختیار بنایا جائے، جو کم خرچ میں عوامی مسائل حل کر سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
السادات نیوز پاکستان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا نقشہ کاغذی حد تک جتنا بھی دلکش ہو، موجودہ معاشی ناتوانی اور سیاسی کھینچا تانی کے دور میں اس کا فوری نفاذ ممکن نہیں ہے۔ حکومت اور مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ پہلے ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی بحالی پر توجہ دیں۔ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملکی مفاد میں متفقہ فیصلہ نہیں کرتیں، تب تک ایسے کسی بھی منصوبے کو چھیڑنا فائدے کے بجائے نقصان اور نئے تنازعات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
نئے تجربات کرنے کی بجائے جہاں پہلے سے نئے صوبوں کا عوامی مطالبہ ہے اسے پورا کریں
اور جہاں اندرونی انتشار ہے وہاں نئے اضلاع بنائیں اور انتظامی گرفت مضبوط کریں
ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے
عوامی رائے کا احترام کیا جائے ورنہ نہ مسائل حل ہوں گے نہ ساکھ بحال ہوگی نہ معیشت سنبھل سکے گی
نہ امن قائم ہوگا پاکستان میں دہشت گردی خالص سیاسی مسئلہ ہے بالخصوص بلوچستان میں اس کو سیاسی بنیادوں پر حل کریں
مگر غرور تکبر طاقت کی زبان سے اپنی قوم کے ساتھ بات نہیں ہوگی
احترام اعتماد بحال کرنا چاہیے کچھ کو کچھ دو کی بنیاد پر مسئلہ حل ہوگا



ہفتہ، 23 مئی، 2026

​عالمی سیاست، ٹیکنالوجی اور انسانی ازادی کا بحران

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ

Al Sadat News Pakistan
CEO Syed Mohammad Shah Gharshin 





قارئین کرام

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی جس موڑ پر پہنچ چکی ہے، وہاں تاریخ کا دھارا کسی بڑے اور گہرے طوفان کا پتا دے رہا ہے۔ ایک طرف انسانی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے وہ شاہکار ہیں جن کا تصور چند دہائیاں قبل تک ممکن نہ تھا، تو دوسری طرف اخلاقیات کا وہ قحطِ الرجال ہے جس نے پوری انسانی تہذیب کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ دنیا جب پرانے مروجہ اصولوں سے نکل کر ایک نئے عالمی نظام (New World Order) کی طرف بڑھتی ہے، تو وہ اپنے ساتھ نئے امکانات بھی لاتی ہے اور نئے خدشات بھی۔ مگر موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس بدلتی ہوئی دنیا میں طاقت، سرمائے اور ٹیکنالوجی کے بڑے مراکز تو مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، لیکن زمین پر بسنے والا عام انسان پہلے سے کہیں زیادہ بے بس، لاچار اور غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔
کیا ہم واقعی ایک زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا ہم ایک ایسے تاریک ڈیجیٹل دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں انسان صرف ایک عدد (Data Point) بن کر رہ جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا آج کے دور کے ہر سنجیدہ ذہن کی ذمہ داری ہے۔
## امریکہ کا عالمی کردار: ساکھ اور اخلاقی ذمہ داری کا بحران
جب ہم معاصر عالمی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو سپر پاور یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے قائم ہونے والے عالمی ڈھانچے میں امریکہ نے ہمیشہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا علمبردار بنا کر پیش کیا۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ امریکی نظام، اس کی تعلیمی و تحقیقی صلاحیت، اور اس کی معاشی و عسکری طاقت نے دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ لیکن کیا آج کا امریکہ اپنی اس اخلاقی ساکھ کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جو کسی بھی عالمی رہنما (Global Leader) کی اصل طاقت ہوتی ہے؟
کسی بھی سلطنت یا عالمی طاقت کا زوال محض عسکری یا معاشی کمزوری سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا آغاز اخلاقی دیوالیہ پن سے ہوتا ہے۔ جب الفاظ اور افعال میں تضاد پیدا ہو جائے، تو طاقت کا رعب تو باقی رہ سکتا ہے، مگر اس کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔ آج دنیا بھر کے پریس، تھنک ٹینکس اور دانشور حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ کیا امریکہ عالمی سطح پر انصاف کے یکساں اصول نافذ کرنے میں مخلص ہے؟ یا پھر عالمی قوانین صرف کمزور ملکوں کے لیے ہیں اور طاقتور کے مفادات کے سامنے ان کی حیثیت ردی کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں؟
## اسرائیل پالیسی اور دوہرے معیار: اقوامِ متحدہ کے وجود پر سوالیہ نشان
اس اخلاقی بحران کی سب سے بڑی اور واضح مثال مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں نظر آتی ہے۔ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسے ادارے اس لیے قائم کیے گئے تھے تاکہ دنیا کو جنگل کے قانون سے نکال کر ضابطوں کے تحت لایا جا سکے۔ مگر جب ہم غزہ اور مغربی کناروں کی گلیوں میں معصوم بچوں، خواتین اور سول آبادی پر برستی ہوئی آگ کو دیکھتے ہیں، اور اس پر عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کی غیر مشروط سیاسی اور عسکری پشت پناہی کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو انصاف کے تمام دعوے کھوکھلے نظر آنے لگتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جب بھی امن کی، جنگ بندی کی یا انسانی امداد کی کوئی قرارداد آتی ہے، تو اسے ویٹو (Veto) کی طاقت سے دبا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی انصاف کے پورے نظام کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ مغربی دنیا جو دنیا بھر میں آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہے، وہ اس انسانی المیے پر کیوں خاموش ہو جاتی ہے؟ کیا مختلف خطوں کے انسانوں کے خون کی قیمت الگ الگ ہے؟
جب قانون طاقتور کا آلہ کار بن جائے، تو عالمی اداروں کی ساکھ مٹی میں مل جاتی ہے۔ آج اقوامِ متحدہ اسی راستے پر چل پڑی ہے جس پر کبھی 'لیگ آف نیشنز' چلی تھی، اور اس کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔ یہ دوہرے معیار دنیا میں امن قائم نہیں کر رہے، بلکہ اس نفرت اور مایوسی کو جنم دے رہے ہیں جو مستقبل کی بڑی جنگوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
## بدلتی دنیا اور ابھرتے ہوئے نئے عالمی اتحاد
طبیعت کا اصول ہے کہ وہ خلا کو قبول نہیں کرتی۔ جب ایک بڑی طاقت اپنے اخلاقی اور سفارتی اثر و رسوخ کو کھونے لگتی ہے، تو دنیا کے دیگر کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں۔ آج ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ دنیا یک قطبی (Unipolar) نظام سے نکل کر کثیر قطبی (Multipolar) نظام کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ امریکہ کا وہ یکطرفہ سفارتی جادو اب دنیا پر اس طرح نہیں چل رہا جیسا نوے کی دہائی میں چلتا تھا۔
چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور عسکری طاقت، روس کا مغرب کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم، اور برکس (BRICS) جیسے نئے اتحادوں کا ابھار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا اب متبادل راستے تلاش کر رہی ہے۔ گلوبل ساؤتھ (Global South) کے ممالک، جو طویل عرصے تک مغرب کی پالیسیوں کے تابع رہے، اب اپنی آزادانہ شناخت اور معاشی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ اور ایشیا تک، ایک نئی بیداری کی لہر ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا امریکہ کا اثر و رسوخ ختم ہو رہا ہے—نہیں، امریکہ اب بھی ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مغرب بدلتی ہوئی دنیا کی اس نئی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟ یا وہ اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے دنیا کو کسی بڑے عالمی تصادم کی طرف دھکیل دے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب پرانی طاقتیں نئے ابھرتے ہوئے ستاروں کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں، تو 'تھوسیڈائیڈز ٹریپ' (Thucydides Trap) جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں، جن کا نتیجہ صرف اور صرف تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
## انسانی جذبات اور عام انسان کی بے بسی
ان تمام سیاسی بساطوں، جیو پولیٹیکل چالوں اور نقشوں پر کھینچی جانے والی لکیروں کے درمیان جو سب سے اہم عنصر نظرانداز ہو جاتا ہے، وہ ہے "انسان"۔ وہ عام انسان جس کا کسی نظریے، کسی کارپوریٹ ایجنڈے یا کسی ہتھیار ساز کمپنی کے منافع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ صرف امن سے جینا چاہتا ہے، اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے اور شام کو عزت کی روٹی گھر لانا چاہتا ہے۔
جنگیں ڈرائنگ رومز اور صدارتی محلوں میں طے ہوتی ہیں، لیکن ان کی قیمت زمین پر بسنے والے غریب انسان چکاتے ہیں۔ جب بم گرتا ہے، تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ نیچے موجود بچہ کس سیاسی نظریے کا حامل ہے۔ انسانیت (Humanity) کا سب سے بڑا درد یہی ہے کہ آج کا انسان مشینوں، پیسوں اور طاقت کی اس دوڑ میں محض ایک 'کولیشن ڈیمیج' (Collateral Damage) بن کر رہ گیا ہے۔ میڈیا کی سکرینوں پر ہلاکتوں کے اعدادوشمار چلتے ہیں—سو، ہزار، دس ہزار—لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر عدد کے پیچھے ایک پورا خاندان، ایک ادھورا خواب اور تڑپتی ہوئی زندگی ہوتی ہے۔ دنیا کا دل ان انسانی جذبات اور سسکیوں پر پگھلنے کے بجائے سرد مہری کا شکار ہو چکا ہے۔
## بگ ٹیک، مالیاتی کمپنیاں اور جدید سرمایہ داری کا تنقیدی جائزہ
اس بدلتی ہوئی دنیا کا ایک اور طاقتور رخ وہ ہے جو کسی ملک کی سرحدوں کا پابند نہیں ہے۔ یہ ہے "بگ ٹیک" (Big Tech) اور عالمی مالیاتی اداروں (Financial Giants) کا عروج۔ بل گیٹس جیسے مخیر اور فلاحی کاموں کے دعویدار ہوں، یا ایلون مسک جیسے مہم جو اور ٹیکنالوجی کے ٹائیکون جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (X) کے ذریعے عالمی بیانیے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں—ان سب کا اثر و رسوخ اب کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کی حکومتوں سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔
ہمیں اس کا جائزہ کسی سازشی نظریے (Conspiracy Theory) کے تحت نہیں، بلکہ خالص معاشی اور سماجی تناظر میں لینے کی ضرورت ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں، وال سٹریٹ کے مالیاتی ادارے اور بلیک راک یا وین گارڈ جیسے انویسٹمنٹ فنڈز دنیا کی معیشت کے رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا عروج جہاں میڈیکل اور سائنس میں انقلابی تبدیلیاں لا رہا ہے، وہاں اس نے انسان کی فکری خودمختاری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ جب چند بڑی کمپنیوں کے پاس دنیا کے اربوں انسانوں کا ڈیٹا، ان کی پسند و ناپسند کا ریکارڈ اور ان کی سوچ کو تبدیل کرنے کے الگورتھم موجود ہوں، تو کیا جمہوریت اور آزادیِ رائے کے تصورات خطرے میں نہیں پڑ جاتے؟ یہ کمپنیاں منتخب حکومتوں سے بالا تر ہو کر پالیسیاں بنانے اور بدلنے کا اختیار حاصل کرتی جا رہی ہیں، جو کہ جدید سرمایہ داری کا ایک انتہائی خوفناک رخ ہے۔
## ڈیجیٹل انفراسٹرکچر: فوائد اور ممکنہ خدشات کا توازن
ٹیکنالوجی کے اس پھیلاؤ نے موجودہ دور میں تین اہم چیزوں کو جنم دیا ہے جن پر دنیا بھر میں سنجیدہ بحث چھڑی ہوئی ہے:
1. سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC)
2. ڈیجیٹل شناخت (Digital ID)
3. موبائل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر
ظاہری طور پر ان چیزوں کے فوائد سے انکار ممکن نہیں ہے۔ ایک عام آدمی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ڈیجیٹل معیشت نے زندگی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ بینکنگ کے نظام میں شفافیت، کرپشن کا خاتمہ، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ایک کلک پر دنیا کے کسی بھی کونے میں رقم کی منتقلی—یہ سب وہ فوائد ہیں جن کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے حکومتی خدمات تک رسائی آسان ہوتی ہے اور سکیورٹی کے معاملات بہتر ہوتے ہیں۔
لیکن ہر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ جہاں فکری اور معاشی ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے ہیں، وہاں اصل تشویش اس بات کی ہے کہ یہ نظام اگر غلط ہاتھوں میں چلا جائے، یا اس کا حد سے زیادہ مرکزیت پسند (Centralized) استعمال کیا جائے، تو کیا ہوگا۔
| ٹیکنالوجی کا عنصر | امکانی فوائد | سنجیدہ خدشات و تحفظات |
|---|---|---|
| **ڈیجیٹل کرنسی (CBDC)** | شفافیت، تیز رفتار لین دین، کرپشن کا خاتمہ | معاشی خودمختاری پر کنٹرول، حکومت جب چاہے اکاؤنٹ منجمد کر سکے |
| **ڈیجیٹل شناخت (Digital ID)** | آسان سکیورٹی، حکومتی ریلیف تک براہِ راست رسائی | نجی زندگی (Privacy) کا خاتمہ، ہر حرکت پر نظر (Mass Surveillance) |
| **مصنوعی ذہانت (AI)** | طبی و سائنسی ریسرچ، انسانی محنت کی بچت | بڑے پیمانے پر بیروزگاری، فکری غلامی اور جعلی پروپیگنڈا |
جب کاغذ کا نوٹ آپ کی جیب میں ہوتا ہے، تو وہ آپ کی خالص معاشی آزادی کی علامت ہوتا ہے۔ لیکن جب پوری معیشت صرف ڈیجیٹل ہو جائے اور مرکزی بینک کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ کسی بھی شہری کا اکاؤنٹ ایک بٹن دبا کر بند کر سکے، یا یہ طے کر سکے کہ آپ اپنے پیسے کہاں خرچ کر سکتے ہیں اور کہاں نہیں—تو کیا یہ انسان کی معاشی آزادی کو محدود کرنے کا آلہ نہیں بن جائے گا؟
اسی طرح اگر ڈیجیٹل آئی ڈی کو انسان کی بنیادی ضرورتوں، جیسے راشن، سفر اور صحت کی سہولیات سے مشروط کر دیا جائے، تو ایک ایسی 'نگران ریاست' (Surveillance State) وجود میں آ سکتی ہے جہاں ریاست سے اختلاف کرنے والے کے لیے جینا محال ہو جائے۔ یہ وہ مباحث ہیں جو آج دنیا کے معتبر فورمز پر ہو رہے ہیں کہ ہمیں اس ابھرتے ہوئے نظام میں ٹیکنالوجی کے فوائد اور انسانی آزادی کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنی ہوگی۔
## فکری اور فلسفیانہ سوالات: ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
اداریے کے اس آخری حصے میں، ہم چند ایسے سوالات تاریخ کی عدالت اور قارئین کے شعور کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں جن سے نظریں چرانا اب ممکن نہیں رہا:
* **پہلا سوال:** کیا عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے اپنی اخلاقی ساکھ کو مکمل طور پر کھو دینے کے بعد دنیا کو کسی بڑے قانونِ قدرت کے تحت انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں؟
* **دوسرا سوال:** ٹیکنالوجی اور مصنوعہ ذہانت کی یہ تیز رفتار دوڑ ہمیں انسان بنا رہی ہے یا مشینوں کا محتاج ایک ایسا ہجوم، جو اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے؟
* **تیسرا سوال:** کیا ڈیجیٹل کرنسی اور شناختی نظام واقعی صرف ہماری سہولت کے لیے ہیں، یا یہ نادانستہ طور پر انسان کی ذاتی اور معاشی خودمختاری کو ایک عالمی مرکزیت کے تابع کرنے کا آغاز ہے؟
* **چوتھا اور سب سے اہم سوال:** کیا زمین پر بسنے والا عام، کمزور اور غریب انسان کبھی اس نظام میں انصاف پا سکے گا، یا اس کا مقدر ہمیشہ طاقتور کے ایجنڈوں کے لیے ایندھن بننا ہی رہے گا؟
## حاصلِ کلام: متبادل بیانیے اور امید کی ضرورت
مستقبل کا افق دھندلا ضرور ہے، مگر مایوسی کا شکار ہونا کسی بھی زندہ معاشرے کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا جس تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، اس میں ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا، ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بننا ہوگا، لیکن اپنی شرطوں پر، اپنی اخلاقی قدروں اور اپنی خودمختاری کا سودا کیے بغیر۔
مغرب کا اخلاقی زوال اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دنیا اب ایک ایسا متبادل بیانیہ (Alternative Narrative) تلاش کرے جو صرف طاقت اور سرمائے پر مبنی نہ ہو، بلکہ جس کی بنیاد انسانیت، سچے انصاف اور اخلاقی اصولوں پر ہو۔ جب تک دنیا کا مرکز صرف 'منافع' اور 'بالادستی' رہے گا، تب تک امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے دانشور، صحافی، پالیسی ساز اور عام انسان بیدار ہوں، ان ابھرتے ہوئے نظاموں پر گہری اور تنقیدی نظر رکھیں، اور ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے آواز اٹھائیں جہاں ٹیکنالوجی انسان کی خادم ہو، اس کی آقا نہ بن جائے۔


ہفتہ، 16 مئی، 2026

پاکستان کی کمزور معیشت ترقی کا خواب کب پورا ہوگا

Al-Sadat News Pakistan 


پاکستان میں سیاسی انتشار، معاشی بحران اور سرمایہ کاری کا زوال
کیا ہم واقعی ترقی کی راہ پر ہیں؟

تحریر سید محمد شاہ غرشین CEO Al Sadat  News Pakistan

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی کشمکش، معاشی بے یقینی، بڑھتی مہنگائی، کمزور گورننس اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد نے ریاستی ڈھانچے کو شدید دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔ ایک طرف سیاسی قوتیں اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عام پاکستانی شہری مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور غیر یقینی مستقبل کے بوجھ تلے دبتا جارہا ہے۔
ایک جمہوری حکومت کی اولین ترجیح عوامی فلاح، مضبوط معیشت، امن و امان، آزاد عدلیہ، شفاف احتساب اور گڈ گورننس ہونی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام نے سیاسی نعروں سے زیادہ سیاسی انتقام، ادارہ جاتی کشمکش اور اقتدار کی رسہ کشی دیکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے اندر شدید مایوسی اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔
سیاسی عدم استحکام: معیشت کا سب سے بڑا دشمن
دنیا کے کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری صرف وسائل یا آبادی کی بنیاد پر نہیں آتی بلکہ سرمایہ کار سب سے پہلے استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور قانونی تحفظ کو دیکھتا ہے۔ پاکستان میں مسلسل سیاسی بحران، حکومتوں کی تبدیلی، احتجاجی سیاست، اور طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان تناؤ نے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر کیا ہے۔
سرمایہ کار یہ سوال پوچھتا ہے:
“کیا میں اگلے دس سال اس ملک میں محفوظ اور مستحکم کاروبار کرسکتا ہوں؟”
بدقسمتی سے پاکستان اس سوال کا واضح اور مثبت جواب دینے میں ناکام نظر آتا ہے۔
عالمی کمپنیاں کیوں پیچھے ہٹ رہی ہیں؟
پاکستان میں کئی بین الاقوامی کمپنیاں یا تو اپنی سرمایہ کاری محدود کررہی ہیں یا خاموشی سے مارکیٹ سے نکل رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی، صنعت اور توانائی کے شعبوں میں عالمی اداروں کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ جاپانی کمپنی مٹسوبشی کی جانب سے اینگرو پولیمر میں اپنے حصص فروخت کرنے کی خبر کاروباری حلقوں میں تشویش کے ساتھ دیکھی گئی۔
اسی طرح پاکستان اب تک مائیکروسوفٹ جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خطے کے دوسرے ممالک کی طرح مکمل آپریشنل ہب میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس کی بنیادی وجوہات واضح ہیں:
پالیسیوں کا عدم تسلسل
بجلی کی بلند ترین قیمتیں
طویل لوڈشیڈنگ
انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش
کرپشن اور کمیشن مافیا
پیچیدہ بیوروکریسی
عدالتی تاخیر
امن و امان کی خراب صورتحال
اور سب سے بڑھ کر سیاسی انتشار
مہنگی بجلی اور تباہ ہوتی صنعت
پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ صنعتکار مسلسل یہ شکایت کررہے ہیں کہ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کئی فیکٹریاں بند ہوئیں، بے روزگاری بڑھی اور برآمدات متاثر ہوئیں۔
جب صنعت کمزور ہوتی ہے تو معیشت کا پہیہ سست ہوجاتا ہے، اور جب معیشت سست ہوتی ہے تو مہنگائی عام آدمی کا جینا دوبھر کردیتی ہے۔
انٹرنیٹ بندش اور ڈیجیٹل معیشت کو نقصان
دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اکنامی اور آئی ٹی ایکسپورٹس کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش یا سست روی نے فری لانسرز، سافٹ ویئر کمپنیوں اور آن لائن کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا۔ نوجوان طبقہ، جو ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوسکتا تھا، اب مایوسی کے عالم میں بیرون ملک مواقع تلاش کررہا ہے۔
عوام کہاں کھڑے ہیں؟
پاکستانی عوام اس وقت شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک عام شہری کے لیے سیاست اب نظریات سے زیادہ روزمرہ بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں:
کیا جمہوریت صرف اقتدار کی تبدیلی کا نام ہے؟
کیا عوام صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہیں؟
کیا سیاسی قوتیں واقعی عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہیں؟
جب عوام کو انصاف، روزگار، تحفظ اور بنیادی سہولیات نہ ملیں تو جمہوریت کی روح کمزور محسوس ہونے لگتی ہے۔
حل کیا ہے؟
پاکستان کے مسائل کا حل صرف حکومتیں بدلنے میں نہیں بلکہ ریاستی سوچ اور پالیسیوں کے تسلسل میں ہے۔ ملک کو فوری طور پر:
سیاسی استحکام
قومی مکالمہ
مضبوط معاشی پالیسی
آزاد اور غیر جانبدار ادارے
توانائی اصلاحات
سرمایہ کار دوست ماحول
اور قانون کی بالادستی
کی ضرورت ہے۔
جب تک سیاست صرف اقتدار بچانے اور گرانے تک محدود رہے گی، تب تک نہ معیشت مضبوط ہوگی، نہ سرمایہ کاری آئے گی، اور نہ ہی عام پاکستانی کو حقیقی ریلیف مل سکے گا۔
پاکستان وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ مستقل مزاج قیادت، سیاسی استحکام اور اجتماعی وژن کی کمی کا شکار ہے۔ اگر ریاست، سیاستدان اور ادارے مل کر قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں تو پاکستان آج بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
السادات نیوز پاکستان
عوامی مسائل کی حقیقی آواز


پیر، 11 مئی، 2026

پاکستان میں مہنگائی کا حل کیا ہے؟

 

Al-Sadat News Pakistan

پاکستان میں ڈوبتی معیشت اور اس کا حل 



تحریر:سید محمد شاہ غرشین سی سی او السادات نیوز پاکستان

اس وقت پاکستان کی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں اور مستقبل کی پالیسی کی بجائے عارضی پالیسی کی راہ پر گامزن ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں نہیں آتے


دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نے صرف جنگ کے خدشات ہی نہیں بڑھائے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سمندری راستوں کا خطرہ، اور عالمی مالیاتی بے یقینی جیسے عوامل نے ترقی پذیر ممالک کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان بھی انہی متاثرہ ممالک میں شامل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خطے کے کئی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ کیوں محسوس ہوتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف عالمی تیل کی قیمت نہیں۔ اصل بحران پاکستان کی اندرونی معاشی کمزوری، درآمدی انحصار، کمزور کرنسی، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی بدانتظامی ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ تیل ڈالر میں خریدا جاتا ہے جبکہ پاکستانی روپیہ مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں معمولی اضافہ بھی پاکستان میں شدید مہنگائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس کے ساتھ حکومت کی بھاری پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی اخراجات، اور پرانی ریفائنریوں کی کمزور استعداد عوام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے توانائی کے شعبے میں پائیدار خود کفالت کی طرف سنجیدگی سے نہیں بڑھ سکا۔ دنیا جدید ریفائنریاں، پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور متبادل توانائی پر کام کر رہی ہے جبکہ پاکستان اب بھی وقتی فیصلوں، قرضوں اور درآمدی انحصار کے گرد گھوم رہا ہے۔
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایرانی تیل نسبتاً سستا ہے تو پاکستان اسے کھل کر کیوں نہیں خریدتا؟ اس کا جواب عالمی پابندیوں، مالیاتی دباؤ اور سفارتی پیچیدگیوں میں موجود ہے۔ غیر قانونی اسمگلنگ وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے مگر یہ مستقل قومی حل نہیں۔ اسمگلنگ معیشت کو دستاویزی نظام سے باہر لے جاتی ہے، مافیا کو مضبوط کرتی ہے، اور ریاستی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کا راستہ غیر قانونی تجارت نہیں بلکہ قانونی، متوازن اور حکمت پر مبنی توانائی پالیسی ہوتی ہے۔
پاکستان اگر واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے جدید ریفائنریوں کی تعمیر اور موجودہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے تاکہ پاکستان مختلف ممالک سے نسبتاً سستا خام تیل خرید کر خود بہتر انداز میں ریفائن کر سکے۔ دوسرا، روس، ایران، وسط ایشیائی ریاستوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن اور قانونی توانائی معاہدے ضروری ہیں۔ تیسرا، مقامی تیل و گیس کی تلاش، سولر انرجی، ریل ٹرانسپورٹ، اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو۔
لیکن ان سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا موجودہ انتظامی نظام یہ سب کر پائے گا؟
پاکستان کا ایک بڑا المیہ ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ کئی سرکاری محکموں میں کام سے زیادہ “سکیم”، “فائل”، “کمیشن” اور “منظوری” کی سیاست چلتی ہے۔ منصوبے قومی ضرورت سے زیادہ ذاتی مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔ افسر شاہی کا ایک حصہ اختیارات تو چاہتا ہے مگر ذمہ داری سے گریز کرتا ہے۔ سیاستدان مختصر سیاسی فائدے کے لیے طویل مدتی قومی مفاد قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں۔
اس صورتحال کا حل صرف نعروں میں نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات میں ہے۔ میرٹ پر تقرری، ڈیجیٹل شفافیت، بڑے پیمانے کا احتساب، سیاسی مداخلت میں کمی، اور قومی پالیسیوں کا تسلسل وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب تک قابل، ایماندار اور پیشہ ور افراد کو فیصلہ سازی میں آگے نہیں لایا جائے گا، تب تک ہر بحران صرف نئے قرض، نئی مہنگائی اور نئے ٹیکس کی شکل میں عوام پر منتقل ہوتا رہے گا۔
پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، نظم اور ترجیحات کا بحران ہے۔ اگر ریاست سنجیدگی سے صنعتی خود کفالت، توانائی اصلاحات، اور ادارہ جاتی بہتری کی طرف قدم بڑھائے تو یہی پاکستان چند برسوں میں معاشی استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانا نظام، پرانی سیاست، اور کمیشن کلچر جاری رہا تو ہر عالمی بحران پاکستان کے لیے نئی تباہی بن کر آتا رہے گا۔


ہفتہ، 9 مئی، 2026

پاکستان سے کرپشن اور لاقانونیت کیسے ختم کریں ؟

اداریہ: 

 نیا تعلیمی نصاب پاکستان کے محفوظ مستقبل کی آخری امید 


تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین سی سی او السادات نیوز پاکستان



پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر طرف بے یقینی، مایوسی، بدعنوانی، ناانصافی اور اخلاقی زوال کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کی اصل ترقی انسان سازی سے ہوتی ہے۔ اگر ایک قوم کے نوجوان باشعور، باکردار اور قانون کا احترام کرنے والے ہوں تو وہ قوم دنیا کی ہر مشکل کو شکست دے سکتی ہے۔

 لیکن اگر نئی نسل کو صرف ڈگری لینے کی مشین بنا دیا جائے تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ آج پاکستان میں سب سے بڑا بحران صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی بحران ہے۔ ایک ایسا بحران جس نے اداروں سے لے کر عام انسان تک سب کو متاثر کیا ہے۔ رشوت، سفارش، جھوٹ، دھوکہ دہی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور قانون سے لاعلمی اب ہمارے معاشرے میں معمول بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس سب کی جڑ کیا ہے؟ اس کا جواب ہمارے تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہے۔

 بدقسمتی سے ہمارے موجودہ نصاب میں بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، زندگی گزارنے کی نہیں۔ انہیں ریاضی، سائنس اور دیگر مضامین تو پڑھائے جاتے ہیں مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ایک اچھا انسان کیسے بنتا ہے؟ ایک ذمہ دار شہری کے فرائض کیا ہوتے ہیں؟ قانون کیا ہے؟ عوامی فنڈز کیا ہوتے ہیں؟ حکومت کیسے کام کرتی ہے؟ اور ایک ووٹ کی اصل طاقت کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب یہی بچے بڑے ہو کر معاشرے میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے مگر قومی شعور نہیں ہوتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نصاب میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی جائیں۔ 

ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ قوم ساری کے لیے ہو۔ ایسا نصاب جو ایک نئی نسل کو ایماندار، باشعور اور خود احتسابی کرنے والا شہری بنائے۔ اخلاقیات ایک کھوئی ہوئی بنیاد کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی تربیت تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بچوں کو کامیابی تو سکھائی جا رہی ہے مگر دیانتداری نہیں۔ 

انہیں مقابلہ کرنا سکھایا جا رہا ہے مگر انسانیت نہیں۔ اگر اسکولوں میں ابتدائی جماعتوں سے ہی سچائی، امانت، احترامِ انسانیت، انصاف، صبر، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری جیسے موضوعات کو عملی انداز میں شامل کیا جائے تو آنے والی نسلوں میں وہ شعور پیدا ہو سکتا ہے جو کرپشن کے خلاف سب سے بڑی دیوار ثابت ہوگا۔ ایک بچہ جب یہ سیکھے گا کہ سرکاری مال دراصل عوام کی امانت ہے، جھوٹ ایک سماجی جرم ہے، اور رشوت صرف پیسے کا لین دین نہیں بلکہ قوم سے خیانت ہے، تو وہ مستقبل میں ایک مختلف انسان بنے گا۔ 

جمہوریت صرف ووٹ نہیں، شعور کا نام ہے پاکستان میں اکثر لوگ جمہوریت کو صرف انتخابات تک محدود سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی جمہوریت عوامی شعور، مقامی اختیار اور جوابدہی کا نام ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت یہ بھی نہیں جانتی کہ یونین کونسل کیا ہوتی ہے؟ بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کیا ہوتے ہیں؟ اور مقامی حکومت عوامی مسائل کیسے حل کرتی ہے؟ اگر تعلیمی نصاب میں بلدیاتی نظام، شہری حقوق، پارلیمنٹ، آئین اور ریاستی اداروں کی بنیادی معلومات شامل کر دی جائیں تو عوام صرف جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں چلیں گے بلکہ باشعور فیصلے کریں گے۔

 ایک باشعور ووٹر ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد بنتا ہے۔ قانون سے لاعلمی ناانصافی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں ہزاروں لوگ صرف اس لیے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک عام شہری اکثر نہیں جانتا کہ پولیس کے اختیارات کیا ہیں، اس کے آئینی حقوق کیا ہیں، شکایت کیسے درج کرانی ہے، یا کسی سرکاری ظلم کے خلاف قانونی راستہ کیا ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی سطح سے ہی بنیادی قانونی آگاہی دی جائے تو معاشرے میں خوف کی بجائے اعتماد پیدا ہوگا۔ لوگ قانون کا احترام بھی کریں گے اور اپنے حقوق کا دفاع بھی کر سکیں گے۔ قانون سے واقف شہری کبھی آسانی سے غلام نہیں بنتے۔

 شفافیت اور عوامی فنڈز کی سمجھ کیوں ضروری ہے؟ آج ملک میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، مگر عام عوام کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے علاقے کے لیے کتنے فنڈز آئے، کہاں خرچ ہوئے اور کام کا معیار کیا تھا۔ یہی لاعلمی کرپشن کو جنم دیتی ہے۔ اگر اسکول کی سطح پر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ سرکاری بجٹ کیا ہوتا ہے، ترقیاتی اسکیمیں کیسے بنتی ہیں، ٹیکس کیا ہوتا ہے، اور عوامی پیسے کا حساب لینا ہر شہری کا حق ہے، تو آنے والی نسلیں خاموش تماشائی نہیں رہیں گی۔ وہ سوال پوچھیں گی۔ وہ جواب مانگیں گی۔ اور یہی عمل حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنے گا۔

 تعلیم صرف روزگار نہیں، قوم سازی کا ذریعہ ہے دنیا کی کامیاب قوموں نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ جاپان، فن لینڈ، سنگاپور اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف سائنسی ترقی پر توجہ نہیں دی بلکہ اپنے شہریوں میں نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور اجتماعی شعور پیدا کیا۔ پاکستان میں بھی اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر تعلیمی انقلاب لانا ہوگا۔ 

ایک ایسا انقلاب جو کتابوں کے صفحات سے نکل کر کردار سازی تک پہنچے۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ اساتذہ، والدین، دانشوروں، میڈیا اور سماجی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ کیونکہ ایک قوم کی تربیت صرف کلاس روم میں نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ہوتی ہے۔ والدین اگر بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں گے، قانون توڑیں گے یا دوسروں کے حقوق پامال کریں گے تو کتابوں کی نصیحتیں بے اثر ہو جائیں گی۔ اسی طرح اگر معاشرے میں ایماندار انسان کو کمزور اور بدعنوان کو کامیاب سمجھا جائے گا تو نوجوانوں کے ذہن بھی اسی طرف مائل ہوں گے۔ 

لہٰذا تبدیلی صرف نصاب کی نہیں بلکہ سوچ کی بھی ہونی چاہیے۔ ایک فیصلہ جو پاکستان کا مستقبل بدل سکتا ہے آج اگر پاکستان نے اپنے تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا، اخلاقیات، قانون، جمہوری شعور اور شفافیت کو اس کا حصہ بنا دیا، تو شاید آنے والے بیس سال بعد ہمیں ایک مختلف پاکستان دیکھنے کو ملے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان نوکری مانگنے کے بجائے مسائل حل کرنے والے ہوں۔ 

جہاں عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہوں۔ جہاں سرکاری عہدہ خدمت سمجھا جائے، حکمرانی نہیں۔ اور جہاں کرپشن کو ذہانت نہیں بلکہ شرمندگی سمجھا جائے۔ قوموں کی تقدیر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسل کی صحیح تربیت کر دی تو آنے والا پاکستان یقیناً زیادہ روشن، زیادہ انصاف پر مبنی اور زیادہ مضبوط ہوگا۔ ورنہ ڈگریوں کے انبار کے باوجود ہم شعور سے محروم ایک ہجوم ہی رہ جائیں گے۔


اس کے علاؤہ پاکستان میں میرٹ کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے 

عدلیہ کو ہر صورت آزاد رکھا جائے تاکہ عوام کو سستا انصاف ملے

اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کو نصاب میں شامل کیا جائے 

قوم کو ہنر مند بنانے کے لئیے تربیتی انسٹی ٹیوٹ فعال کیئے جائیں 

زرعی انقلاب کے لئیے سولر انرجی کو ٹیکس فری کیا جائے 

اور زمیندار کو سولر پینلز سسٹم ٹیوٹ ویل لگا کر دیئے جائیں تاکہ زراعت ترقی کرے 

زمیندار سے اس کی لاگت قسطوں میں وصول کی جائے مگر یہ بغیر سود ہو 

ملک کی ہر ڈسٹرکٹ میں فروٹ سبزی کو سٹور کرنے کے لیے کو لنگ  ہاؤس تعمیر کیئے جائیں جہاں مقامی فروٹ یا سبزی کو سٹور کیا جائے 

نہروں چشموں پر چھوٹے چھوٹے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے جائیں 

تاکہ مہنگی بجلی سے نجات ملے 

ملک میں زندگی بچانے والی ادویات بہت مہنگی ہیں ان ادویات کو ملکی سطح پر بنیان جائے اور ان کو پاس کرنے کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے 


اس پر آپ اپنی رائے لازمی دیں دائیں کونے میں نیچے واٹس اپ بٹن پر کلک کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت مفید ہے 

جمعرات، 7 مئی، 2026

جاپانی کمپنی مٹسوبشی ملک سے کیوں چلی گئی

Al-Sadat News Pakistan

غیر ملکی کمپنیاں کیوں جا رہی ہیں؟

حکومت کی معاشی پالیسیوں پر ایک تلخ مگر ضروری سوال

تحریر ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین سی ای او السادات نیوز پاکستان

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، زرخیز زمین اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہو سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ آج یہی ملک سرمایہ کاری کے میدان میں دنیا کے لیے ایک خطرناک اور غیر یقینی خطہ بنتا جا رہا ہے۔ جاپان کی معروف کمپنی مٹسوبشی کا اینگرو پولیمر سے مکمل انخلاء صرف ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر ایک خاموش عدم اعتماد ہے۔

یہ خبر دل کو اس لیے زیادہ تکلیف دیتی ہے کیونکہ مٹسوبشی کوئی چھوٹی یا وقتی کمپنی نہیں تھی۔ یہ وہ ادارہ تھا جس نے پاکستان کے صنعتی شعبے پر یقین کیا، سرمایہ لگایا، وقت دیا، روزگار پیدا کیا، مگر آخرکار اسے بھی اپنا سرمایہ سمیٹنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

حکمران طبقہ ہر روز قوم کو “معاشی استحکام” کے خواب دکھاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک سے سرمایہ بھاگ رہا ہے۔ ایک طرف نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، دوسری طرف بڑی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ایک قومی المیہ ہے۔

جب کوئی غیر ملکی کمپنی کسی ملک میں سرمایہ لگاتی ہے تو وہ صرف منافع نہیں دیکھتی بلکہ اعتماد، پالیسیوں کا تسلسل، سیاسی استحکام اور معاشی تحفظ بھی دیکھتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے یہ سب چیزیں مسلسل ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج سرمایہ کار کو یہ یقین نہیں کہ کل ڈالر کی قیمت کہاں ہوگی، درآمدی پالیسی کیا ہوگی، یا حکومت اچانک کون سا نیا ٹیکس نافذ کر دے گی۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے معیشت کو ہمیشہ وقتی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ کبھی مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو سہارا دیا گیا، کبھی آئی ایم ایف کے دباؤ پر اچانک مہنگائی کے طوفان کھڑے کر دیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ عوام کو سکون ملا اور نہ سرمایہ کار کو اعتماد۔

غیر ملکی کمپنیاں پاکستان سے صرف اس لیے نہیں جا رہیں کہ یہاں منافع کم ہے، بلکہ اس لیے جا رہی ہیں کہ یہاں پالیسیوں میں سنجیدگی کم ہے۔ جب ایک کمپنی اپنا منافع قانونی طور پر بھی بیرون ملک منتقل نہ کر سکے، جب بینکوں میں ڈالر دستیاب نہ ہوں، جب ہر چند ماہ بعد نئی معاشی ایمرجنسی پیدا ہو جائے تو پھر کون سرمایہ کار اپنا پیسہ اس آگ میں ڈالے گا؟

حکومت کو شاید یہ احساس نہیں کہ ایک بڑی کمپنی کے جانے سے صرف ایک ادارہ بند نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ مزدور کی تنخواہ، انجینئر کا مستقبل، دکاندار کی روزی، ٹرانسپورٹر کی آمدنی، سب کچھ اس سے جڑا ہوتا ہے۔ جب صنعت کمزور ہوتی ہے تو پورا معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔

افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ حکمران ہر ناکامی کا الزام پچھلی حکومتوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ قوم اب صرف تقاریر نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر ملک میں واقعی معاشی استحکام آ رہا ہے تو پھر شیل، ٹیلینور، مٹسوبشی اور دیگر کمپنیاں کیوں جا رہی ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت صرف قرضوں پر کھڑا ایک کمزور معاشی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ صنعتیں سکڑ رہی ہیں، کاروبار بند ہو رہے ہیں، نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں اور حکمران اب بھی اعداد و شمار کے کھیل میں مصروف ہیں۔ قوم کو بتایا جاتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے، مگر بازاروں میں خریداری ختم ہو رہی ہے۔ غریب آدمی کے لیے روٹی، بجلی، گیس اور علاج تک مشکل ہو چکا ہے۔

اگر حکومت واقعی ملک کو معاشی تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر چند بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے:

  • سرمایہ کاروں کو پالیسیوں کا طویل المدتی تحفظ دیا جائے۔
  • ڈالر اور منافع کی منتقلی کے مسائل حل کیے جائیں۔
  • ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔
  • سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔
  • مقامی صنعتوں کو بجلی اور گیس سستی فراہم کی جائے۔

ورنہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان صرف قرض لینے والا ملک رہ جائے گا اور دنیا کی بڑی کمپنیاں یہاں سرمایہ لگانے کے بجائے صرف خبروں میں “پاکستان چھوڑنے” کے اعلانات کرتی نظر آئیں گی۔

قوم آج بھی محنتی ہے، نوجوان آج بھی باصلاحیت ہیں، زمین آج بھی زرخیز ہے، مگر مسئلہ صرف یہ ہے کہ حکمرانوں کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ جب اقتدار خدمت کے بجائے مفادات کا ذریعہ بن جائے تو پھر سرمایہ بھی بھاگتا ہے اور امیدیں بھی۔

مٹسوبشی کا جانا صرف ایک کمپنی کا جانا نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر ایک خاموش مگر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

جو پاکستان کی معیشت پر کاری ضرب ہے اس سے پہلے بہت ساری کمپنیاں ملک چھوڑ گئی ہیں 

یہ ہے کہ ڈی ایم کی اتحادی حکومت کی کارکردگی لگتا ہے یہ ملک دیوالیہ کرکے کی دم۔لیں گے 



بدھ، 6 مئی، 2026

حکومت کی ناکامی مہنگائی کا طوفان

Al-Sadat News Pakistan


معاشی زنجیریں، عوامی اذیت اور حکمرانوں کی ذمہ داری



تحریر: سید محمد شاہ غرشین 

CEO Al Sadat News Pakistan 

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب سے ملک بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں شامل ہوا ہے، عوام کو یہ امید دلائی گئی کہ معیشت مستحکم ہوگی، ترقی آئے گی، اور عام آدمی کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔
مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ روزمرہ کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ ایک عام مزدور اور تنخواہ دار طبقہ اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔
یہ سوال اب شدت سے اٹھ رہا ہے کہ وہ قرضے، جو قوم کی ترقی کے نام پر لیے گئے، آخر گئے کہاں؟ اگر یہ قرض عوام کی بہتری پر خرچ ہوتے تو آج حالات مختلف ہوتے۔ بدقسمتی سے عوام کے ذہن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ ان وسائل سے حقیقی ترقی کے بجائے مخصوص طبقے نے فائدہ اٹھایا، جبکہ عام آدمی بدحالی کا شکار ہوتا گیا۔
معاشی دباؤ نے سماجی مسائل کو بھی خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات، بیروزگاری، اور گھریلو بحران اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ انسانی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے سے قاصر ہو، جب ایک نوجوان کو روزگار نہ ملے، تو معاشرے میں مایوسی اور بے بسی جنم لیتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس نظام میں امیر اور امیر تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب مزید پستی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرتی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایسے حالات میں عوامی ردِعمل فطری ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں، آواز اٹھاتے ہیں، اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم اصل ضرورت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک سنجیدہ اور مؤثر اصلاح کی ہے۔
حکمرانوں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو بحال کریں۔ شفافیت، احتساب، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر کوئی بھی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ قرض لینا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، مگر اس کا درست استعمال نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں اور صلاحیت بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ پالیسی سازی میں عوامی مفاد کو حقیقی ترجیح دی جائے، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے کو۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ:

کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو
قومی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے
روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں

اور سب سے بڑھ کر، عوام کو ریلیف دیا جائے

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو ایسے مخلص اور دیانتدار قائدین عطا فرمائے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کی خدمت کریں، اور پاکستان کو ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال ریاست بنائیں

اپنی رائے کا اظہار کریں واٹس اپ بٹن پر کلک کریں 

یا گوگل کے ذریعہ سائن اپ کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت مفید ہے تاکہ آئندہ عوامی مسائل پر لکھا جائے 

ہم آپ کی نمائندگی کرتے ہیں 

داعش خراسان کا اعتراف جرم

Al-Sadat News Pakistan 


جب دلیل سچ ثابت ہو جائے  

وارثانِ منبر کے خون کا اعتراف

تحریر: (Syed Mohammad Shah Gharshin CEO Al Sadat News Pakistan

کبھی کبھی کسی تجزیے کا درست ثابت ہونا خوشی نہیں بلکہ ایک گہرا دکھ اور کرب دے جاتا ہے۔ چند روز قبل جب چارسدہ کی فضا مولانا محمد ادریس صاحب کے خون سے لہو رنگ ہوئی تھی، تو ہم نے انہی کالموں میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر ان علماء کا قصور کیا ہے؟ اس وقت حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہم نے یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ یہ قتل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی جنگ ہے، جس کا سرا "پیغامِ پاکستان" فتوے سے جڑا ہے۔ آج جب "داعش خراسان" نے باقاعدہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، تو ہماری وہ رائے ایک ہولناک حقیقت بن کر سامنے آ گئی ہے

پہلے جب میں نے السادات نیوز پاکستان میں شائع کیا تھا کہ یہ قتل داعش نے کیا ہے تفصیل اس لنک پر کلک کریں 


https://alsadatnewspk.blogspot.com/2026/05/Kpk-phir-dahshat-gardon-kwy-nishanay-par.html

نظریاتی انتقام کی آگ

داعش کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن کو سب سے زیادہ تکلیف ان فتووں سے ہے جنہوں نے دہشت گردی کے غبارے سے "مذہبی جواز" کی ہوا نکال دی تھی۔ مولانا محمد ادریس اور ان جیسے دیگر جید علماء کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بندوق کے کلچر کے خلاف قلم اور ممبر کو ڈھال بنایا۔ داعش نے اپنے بیان میں جس نفرت آمیز زبان کا استعمال کیا، وہ واضح کرتا ہے کہ ان کے نزدیک وہ علماء سب سے بڑے دشمن ہیں جو ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر امن کی بات کرتے ہیں۔
تجزیہ درست، مگر ریاست کہاں ہے؟
ہم نے اس سے پہلے بھی بحث کی تھی کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا یہ سیلاب ایک خاص ترتیب سے لایا جا رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے اور دوسری طرف ان جید شخصیات کو چن چن کر ہدف بنایا جا رہا ہے جو معاشرے میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔ اب جبکہ قاتل خود سامنے آ کر پکار رہا ہے کہ "ہاں، یہ میں نے کیا ہے"، تو ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروں کے پاس خاموشی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کیا علماء کرام کو صرف فتوے لینے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ کیا ان کی جانوں کی حفاظت ریاست کی ترجیح میں شامل نہیں؟
**ایک سلسلہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا**
یہ اعتراف اس بات کی تصدیق ہے کہ کے پی کے میں ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگ ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ داعش جیسی تنظیمیں ان علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ان لوگوں کو راستے سے ہٹا رہی ہیں جو نوجوانوں کو ان کے "خارجی نظریات" سے بچا سکتے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نظریاتی خسارہ ہے۔
حاصلِ کلام
ہماری رائے درست ثابت ہوئی، لیکن اس درستی کی قیمت ایک عظیم عالمِ دین کی شہادت کی صورت میں چکانی پڑی۔ السادات نیوز پر شائع ہونے والے گزشتہ اداریے میں ہم نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ریاست نے وارثانِ منبر کو تحفظ نہ دیا تو یہ جنگ جیتنا ناممکن ہو جائے گا۔ آج داعش کا اعترافی بیان ایک چارج شیٹ ہے؛ نہ صرف ان قاتلوں کے خلاف بلکہ ان پالیسی سازوں کے خلاف بھی جو اب تک "نامعلوم" کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں اور اس فتنے کو کچلنے کے لیے وہی سنجیدگی دکھائی جائے جس کا مطالبہ کے پی کے کا ہر شہری کر رہا ہے۔


ایران امریکہ کشیدگی اور امن کے لیے پاکستان کا کردار

Al-Sadat News Pakistan 
مہمان کالم نگار 
سید مطیع اللہ شاہ گیلانی 
03006014462



عالمی کشیدگی، علاقائی جنگی دباؤ، اور پاکستان کی قیادت
ایران، امریکہ، اسرائیل اور پاک فوج کا کردار

دنیا اس وقت ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں طاقت کے مختلف مراکز ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال محض علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ ہر فریق اپنے اسٹریٹجک مفادات کے حصول میں مصروف ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنی اسٹریٹجک گہرائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی حکمت عملی زیادہ تر غیر روایتی جنگ، سیاسی اثر و رسوخ اور پراکسی نیٹ ورکس پر مبنی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور ایک مضبوط انٹیلیجنس نظام کے ذریعے اپنی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ اس توازن میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، نہ صرف اسرائیل کے کلیدی اتحادی کے طور پر بلکہ خطے کی طاقت کی ترتیب کو تشکیل دینے والی بڑی قوت کے طور پر بھی۔
ایسی نازک صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ اس لیے اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن اور احتیاط کی متقاضی رہی ہے۔ اس تناظر میں سیاسی قیادت اور عسکری ادارے دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، بالخصوص عاصم منیر، نے ایسے وقت میں ذمہ داری سنبھالی ہے جب علاقائی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج کا کردار دفاعی حکمت عملی، اندرونی استحکام اور سرحدی تحفظ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کا عسکری نظریہ ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دینے پر مبنی رہا ہے، نہ کہ عالمی تنازعات میں براہِ راست فریق بننے پر۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک متحد حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ قومی استحکام کسی ایک ادارے کے ذریعے برقرار نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔
پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور عوامی توقعات میں اضافہ پالیسی سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خارجہ پالیسی کا تسلسل اور اندرونی استحکام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
اگر ہم خطے کی بڑی طاقتوں کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ ایران علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے میں مصروف ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ “غیر جانبدار مگر فعال” رہے — یعنی نہ کسی بلاک کا حصہ بنے اور نہ ہی عالمی دباؤ کے تحت اپنے قومی مفادات سے سمجھوتہ کرے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا موجودہ عالمی حالات کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ صورتحال انتہائی حساس ہے، لیکن مکمل جنگ کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ معاشی پابندیوں، سائبر حملوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے تمام فریق محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی ذمہ داری دوہری ہے:
اندرونی استحکام کو برقرار رکھنا
بیرونی دباؤ کو حکمت اور توازن کے ساتھ سنبھالنا 
اگر پاکستان اپنی سفارتی پالیسی کو درست سمت میں لے جائے تو وہ خطے میں ایک “متوازن ریاست” کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ قیادت صرف سیاسی یا عسکری طاقت کا نام نہیں بلکہ قومی سوچ کے تسلسل کی عکاس ہوتی ہے۔ جب ریاستی ادارے ایک سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو قومیں بحرانوں سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھتی ہیں۔
پاکستان کے پاس وسائل، اسٹریٹجک جغرافیہ اور عسکری صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اصل ضرورت ایک واضح اور مستقل قومی حکمت عملی کی ہے۔
موجودہ عالمی منظرنامہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ سفارت کاری، معاشی قوت اور اتحادوں میں بھی ہوتی ہے۔ وہی ممالک ترقی کرتے ہیں جو ان عناصر کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہیں۔
آخر میں، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک عالمی حقیقت ہے، مگر پاکستان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس تنازع سے دور رہتے ہوئے اپنے اندرونی استحکام کو برقرار رکھے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں قیادت، اداروں اور عوام کو ایک سمت میں متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
محترم قارئین،
یہ تجزیاتی کالم آپ تک قومی، علاقائی اور عالمی حالات کو بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ پہنچانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ آپ کی آراء، تجاویز اور تنقیدی رائے میرے لیے بے حد اہم ہیں۔ براہِ کرم اس کالم کے حوالے سے اپنی رائے ضرور دیں۔
آپ کی رہنمائی مستقبل کے کالمز کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی،

خوشاب گرین ٹریکٹر سکیم

Al-Sadat News Report

وزیراعلیٰ پنجاب کا کسان دوست اقدام سراہا گیا: گرین ٹریکٹرز کی تقسیم کا خیر مقدم




سید ابراہیم شاہ خوشاب

السادات نیوز پاکستان 

مریم نواز کی جانب سے کم وسائل رکھنے والے کسانوں کو گرین ٹریکٹرز فراہم کر
نے کے حالیہ اقدام کو عوامی اور زرعی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو زرعی شعبے کو مضبوط بنانے اور کم آمدنی والے زمینداروں کی مدد کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

معروف غلہ تاجر ملک حاجی حق نواز بگھور چن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کا یہ فیصلہ کسانوں کو مالی مشکلات سے نکلنے میں بڑی مدد فراہم کرے گا اور انہیں جدید زرعی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے اس اقدام کو بروقت اور کسان دوست قدم قرار دیا جو نچلی سطح پر مثبت تبدیلی لائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم سے چھوٹے کسان سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے، جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور دیہی معیشت میں بہتری آئے گی۔ ان کے مطابق ایسے تعمیری اقدامات کسانوں کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں اور زرعی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

عوامی حلقوں نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ یہ پروگرام نہ صرف زراعت کو فروغ دے گا بلکہ صوبے بھر میں غربت کے خاتمے میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔

منگل، 5 مئی، 2026

کے پی کے دہشت گردوں کے نشانے پر

 اداریہ 

چارسدہ میں مولانا محمد ادریس صاحب کی شہادت اور خیبر پختونخوا میں علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے تناظر میں۔ خاص تحریر 


تحریر سید محمد شاہ غرشین
سی ای او السادات نیوز پاکستان 

وارثانِ منبر کا لہو اور ریاست کی ذمہ داری
خیبر پختونخوا کی دھرتی ایک بار پھر لہو رنگ ہے۔
چارسدہ میں سابق رکنِ اسمبلی اور جید عالمِ دین مولانا محمد ادریس صاحب پر قاتلانہ حملہ اور ان کی شہادت محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ اس پورے نظریاتی حصار پر حملہ ہے جو پاکستان کو انتہا پسندی کے طوفان سے بچائے ہوئے ہے۔ گزشتہ ایک سال سے بالخصوص کے پی کے میں جس طرح چن چن کر علماء کرام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ کسی بڑے اور ہولناک اسکرپٹ کی نشاندہی کر رہا ہے۔
نظریاتی محاذ پر انتقامی کارروائی
اس خون ریزی کے اسباب و علل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ قتل و غارت گری ان فتووں کا ردِ عمل ہے جنہوں نے دہشت گردوں سے ان کا مذہبی جواز چھین لیا۔ "پیغامِ پاکستان" جیسے تاریخی اعلامیے پر دستخط کر کے علماءِ دیوبند اور دیگر مکتبہ فکر کے قائدین نے ریاست کے بیانیے کو شرعی سند عطا کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خودکش حملے، تکفیر اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت "خروج" ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوا، اور آج وہی "وارثانِ منبر" اس جراتِ رندانہ کی قیمت اپنے خون سے چکا رہے ہیں۔

سیاسی بساط اور امن و امان کا سوال
موجودہ حالات کو سیاسی منظرنامے سے الگ کر کے دیکھنا ناممکن ہے۔ کے پی کے میں ایک ایسی جماعت کی حکومت ہے جو مرکز اور مقتدر حلقوں کے سامنے مزاحمتی موڈ میں ہے۔ اس کشمکش میں جب علماء کرام، جو کہ جمیعت علمائے اسلام جیسی بڑی سیاسی و مذہبی قوت کا حصہ ہیں، نشانہ بنتے ہیں تو شک کی انگلیاں ان قوتوں کی طرف بھی اٹھتی ہیں جو صوبے میں انتظامی ناکامی کا تاثر دے کر سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ اگر ان حملوں کا مقصد پی ٹی آئی اور جے یو آئی کو دست و گریبان کرنا ہے، تو یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس کی آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

افغانستان کا عنصر اور "خارجی" خطرہ
افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ سرحد پار سے خطرات کم ہوں گے، کیونکہ افغان حکومت پاکستانی علماء کی قدردان ہے۔ لیکن داعش جیسے "خوارج" گروہوں کا ابھرنا اور ان کا مخصوص نظریاتی ایجنڈا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب مساجد اور مدارس کے اندر سے قیادت کو ختم کر کے نظریاتی خلا پیدا کرنا چاہتا ہے۔
ریاست کے لیے لمحہ فکریہ
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ علماء نے "پیغامِ پاکستان" کے ذریعے اپنا حصہ ڈال دیا، اب گیند ریاست کے لبادے میں ہے۔ اگر ریاست ان جید شخصیات کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے نظریاتی دفاع کی جنگ لڑی، تو عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جائے گا۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا؛ اگر ساری توانائی سیاسی انجینئرنگ اور جوڑ توڑ پر خرچ ہوگی تو دہشت گردوں کے لیے میدان خالی رہے گا۔
نتیجہ:
پاکستان یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیت سکتا جب تک وہ اپنے ان سپاہیوں کو تحفظ نہ دے جو قلم اور ممبر کے ذریعے انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کا خون ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا یہ ملک صرف طاقتوروں کے لیے ہے یا ان کے لیے بھی جنہوں نے اس کی بقا کی خاطر فتوے دیے اور جانیں نچھاور کیں؟ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی اور "نامعلوم" قاتلوں کو بے نقاب نہ کیا گیا، تو تاریخ لکھے گی کہ ریاست نے اپنے ہی محافظوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔

ہفتہ، 2 مئی، 2026

عالمی یوم آزادی اور پاکستان میں صحافت پر قدغن

Al-Sadat News 
اداریہ

Syed Mohammad Shah Gharshin 

CEO Al Sadat News Pakistan 

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی مہذب، جمہوری اور باشعور معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام اور اقتدار کے درمیان ایک مضبوط پل، احتساب کا مؤثر ہتھیار، اور سچائی کی روشن شمع ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں صحافت آج ایک نازک اور کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔
ایک طرف صحافت کا ایک حصہ زرد صحافت کی دلدل میں دھنس چکا ہے، جہاں سچائی، تحقیق اور قومی مفاد کے بجائے سنسنی، مفاد پرستی اور ذاتی ایجنڈے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس طرزِ صحافت نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ صحافتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب وہ صحافی اور ادارے جو دیانتداری، حق گوئی اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا چاہتے ہیں، انہیں سنسرشپ، دباؤ اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔
آج پاکستان میں کئی صحافی صرف اس لیے مشکلات کا شکار ہیں کہ انہوں نے سچ بولنے، سوال اٹھانے اور طاقتور حلقوں کا احتساب کرنے کی جرات کی۔ بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، بعض کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کچھ کو اپنی جان کے تحفظ کے لیے ملک چھوڑنا پڑا، جبکہ کئی صحافیوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے بلکہ جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بھی منافی ہے۔
صحافت کو دبانے سے سچائی ختم نہیں ہوتی، بلکہ معاشرے میں بے یقینی، افواہوں اور عدم اعتماد کو فروغ ملتا ہے۔ ایک آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت ہی وہ قوت ہے جو عوام کو باخبر رکھتی، حکمرانوں کو جوابدہ بناتی اور جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔

حاکم وقت کاہے مطالبہ

سب گناہ وحرام چلنے دو 

کہہ رہے ہیں کہ نظام چلنے دو

ضد ہے کیا نظام کو بدلنے کی 

یونہی سب  بے لگام چلنے دو

تم زاہد ہو تو مسجد چلے  جاؤ

میکدے میں تو جام چلنے دو

حق کو چھوڑو کتاب کو چھوڑو

حکم حاکم سے کام چلنے دو

شاہ آئے گا شاہ جائے گا

تو ہو غلام اسی طرح نظام چلنے دو

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم صحافیوں کے حقوق، ان کے تحفظ، اور آزادیٔ اظہار کے لیے ہر ممکن آواز بلند کریں گے۔ پاکستان کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں صحافی بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں، کیونکہ مضبوط صحافت ہی مضبوط جمہوریت اور مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔

جمعہ، 1 مئی، 2026

پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی قیمت اور حکمران

Al-Sadat News 
اداریہ 







پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمت 399.86 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جو پہلے کے 257 روپے کے مقابلے میں تقریباً 56 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں پیٹرول کی قیمت 94.72 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں بھی قیمتیں تقریباً 130 ٹکا فی لیٹر کے آس پاس مستحکم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب خام تیل کی عالمی قیمت ایک ہی ہے، تو پھر پاکستان میں عوام پر اتنا بھاری بوجھ کیوں؟
یہ محض عالمی منڈی کا اثر نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو نئی دہلی، ڈھاکا اور اسلام آباد میں قیمتوں کا ردِعمل تقریباً یکساں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی قیمت ایک جیسی ہو سکتی ہے، مگر اس کے اثرات ہر ملک کی معاشی حکمتِ عملی، ٹیکس پالیسی، زرِ مبادلہ کے انتظام، اور حکومتی ترجیحات کے تابع ہوتے ہیں۔
بھارت نے اپنی معیشت کو نسبتاً مستحکم رکھا۔ اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہیں، کرنسی دباؤ میں نہیں، اور حکومت توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اسی لیے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود وہاں عوام کو فوری جھٹکا نہیں دیا جاتا۔ بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان سے معاشی طور پر پیچھے سمجھا جاتا تھا، آج توانائی اور مالی نظم و ضبط میں زیادہ متوازن دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف تیل مہنگا ہونا نہیں؛ اصل مسئلہ ہماری معاشی کمزوری، پالیسیوں کا عدم تسلسل، اور بیرونی انحصار ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے درآمدی ایندھن کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔ اس پر پٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس، اور دیگر محصولات نے قیمت کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ یوں عالمی منڈی کا دباؤ کم اور اندرونی پالیسیوں کا بوجھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ پیٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کی قیمت بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ، خوراک، زرعی لاگت، صنعتی پیداوار، اور روزمرہ اشیاء سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ گویا ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ پوری معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر دوڑا دیتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم ہر بحران کو "عالمی حالات" کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بھارت اور بنگلہ دیش اسی عالمی منڈی میں رہتے ہوئے اپنے عوام کو نسبتاً تحفظ دے سکتے ہیں، تو پاکستان کیوں نہیں؟ جواب واضح ہے: کمزور معاشی ڈھانچہ، قلیل مدتی فیصلے، اور عوامی مفاد پر مالیاتی مجبوریوں کی ترجیح۔
یہ وقت محض قیمتوں پر افسوس کرنے کا نہیں، بلکہ اپنی معاشی ترجیحات پر نظرثانی کا ہے۔ جب تک پاکستان توانائی میں خود کفالت، ٹیکس نظام میں اصلاح، زرِ مبادلہ کے استحکام، اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی نہیں بناتا، ہر عالمی جھٹکا یہاں طوفان بن کر آئے گا۔
تیل کی قیمت عالمی ہو سکتی ہے، مگر اس کا درد واقعی مقامی پالیسیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور جب پالیسی کمزور ہو، تو قیمت صرف پیٹرول کی نہیں بڑھتی—عوام کے صبر، اعتماد اور معیارِ زندگی کی بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
x

وزیر اعلیٰ کے پی کے کا خطاب

Al-Sadat News 






وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی صاحب کا اسمبلی میں خطاب پاکستان میں انسانی حقوق کے مسائل پر بات کی گئی 





Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...