Al-Sadat News Pakistan
پاکستان میں ڈوبتی معیشت اور اس کا حل
تحریر:سید محمد شاہ غرشین سی سی او السادات نیوز پاکستان
اس وقت پاکستان کی عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں اور مستقبل کی پالیسی کی بجائے عارضی پالیسی کی راہ پر گامزن ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں نہیں آتے
دنیا ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش نے صرف جنگ کے خدشات ہی نہیں بڑھائے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سمندری راستوں کا خطرہ، اور عالمی مالیاتی بے یقینی جیسے عوامل نے ترقی پذیر ممالک کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان بھی انہی متاثرہ ممالک میں شامل ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خطے کے کئی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ کیوں محسوس ہوتی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف عالمی تیل کی قیمت نہیں۔ اصل بحران پاکستان کی اندرونی معاشی کمزوری، درآمدی انحصار، کمزور کرنسی، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی بدانتظامی ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ تیل ڈالر میں خریدا جاتا ہے جبکہ پاکستانی روپیہ مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔ نتیجتاً عالمی منڈی میں معمولی اضافہ بھی پاکستان میں شدید مہنگائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس کے ساتھ حکومت کی بھاری پیٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی اخراجات، اور پرانی ریفائنریوں کی کمزور استعداد عوام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے توانائی کے شعبے میں پائیدار خود کفالت کی طرف سنجیدگی سے نہیں بڑھ سکا۔ دنیا جدید ریفائنریاں، پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور متبادل توانائی پر کام کر رہی ہے جبکہ پاکستان اب بھی وقتی فیصلوں، قرضوں اور درآمدی انحصار کے گرد گھوم رہا ہے۔
بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ایرانی تیل نسبتاً سستا ہے تو پاکستان اسے کھل کر کیوں نہیں خریدتا؟ اس کا جواب عالمی پابندیوں، مالیاتی دباؤ اور سفارتی پیچیدگیوں میں موجود ہے۔ غیر قانونی اسمگلنگ وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے مگر یہ مستقل قومی حل نہیں۔ اسمگلنگ معیشت کو دستاویزی نظام سے باہر لے جاتی ہے، مافیا کو مضبوط کرتی ہے، اور ریاستی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کا راستہ غیر قانونی تجارت نہیں بلکہ قانونی، متوازن اور حکمت پر مبنی توانائی پالیسی ہوتی ہے۔
پاکستان اگر واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو اسے چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ سب سے پہلے جدید ریفائنریوں کی تعمیر اور موجودہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے تاکہ پاکستان مختلف ممالک سے نسبتاً سستا خام تیل خرید کر خود بہتر انداز میں ریفائن کر سکے۔ دوسرا، روس، ایران، وسط ایشیائی ریاستوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ متوازن اور قانونی توانائی معاہدے ضروری ہیں۔ تیسرا، مقامی تیل و گیس کی تلاش، سولر انرجی، ریل ٹرانسپورٹ، اور الیکٹرک ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے جانا ہوگا تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو۔
لیکن ان سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا موجودہ انتظامی نظام یہ سب کر پائے گا؟
پاکستان کا ایک بڑا المیہ ادارہ جاتی کمزوری ہے۔ کئی سرکاری محکموں میں کام سے زیادہ “سکیم”، “فائل”، “کمیشن” اور “منظوری” کی سیاست چلتی ہے۔ منصوبے قومی ضرورت سے زیادہ ذاتی مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔ افسر شاہی کا ایک حصہ اختیارات تو چاہتا ہے مگر ذمہ داری سے گریز کرتا ہے۔ سیاستدان مختصر سیاسی فائدے کے لیے طویل مدتی قومی مفاد قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں پالیسیاں مستقل نہیں رہتیں۔
اس صورتحال کا حل صرف نعروں میں نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات میں ہے۔ میرٹ پر تقرری، ڈیجیٹل شفافیت، بڑے پیمانے کا احتساب، سیاسی مداخلت میں کمی، اور قومی پالیسیوں کا تسلسل وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب تک قابل، ایماندار اور پیشہ ور افراد کو فیصلہ سازی میں آگے نہیں لایا جائے گا، تب تک ہر بحران صرف نئے قرض، نئی مہنگائی اور نئے ٹیکس کی شکل میں عوام پر منتقل ہوتا رہے گا۔
پاکستان وسائل سے محروم ملک نہیں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت، نظم اور ترجیحات کا بحران ہے۔ اگر ریاست سنجیدگی سے صنعتی خود کفالت، توانائی اصلاحات، اور ادارہ جاتی بہتری کی طرف قدم بڑھائے تو یہی پاکستان چند برسوں میں معاشی استحکام کی طرف جا سکتا ہے۔ لیکن اگر پرانا نظام، پرانی سیاست، اور کمیشن کلچر جاری رہا تو ہر عالمی بحران پاکستان کے لیے نئی تباہی بن کر آتا رہے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں