پیر، 24 اگست، 2026

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan 

ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت





تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین


پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کا سفر شروع دن سے ہی رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک عوامی رائے کو جس طرح عزت اور مقام ملنا چاہیے تھا، وہ کبھی پوری طرح نہیں مل سکا۔ ووٹ کو امانت کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس امانت کے ساتھ بارہا ایسا سلوک ہوا کہ عام آدمی کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا چلا گیا۔ ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات، نتائج پر تحفظات اور عوامی مینڈیٹ چرائے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات نے تو ان خدشات کو انتہا پر پہنچا دیا۔ عوام نے جن امیدواروں کو منتخب کیا تھا، رات کی تاریکی میں نتائج تبدیل کر کے فارم سینتالیس کے ذریعے ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔ یہ محض ایک الزام نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا وہ دکھ ہے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے ووٹ کی بے حرمتی ہوتے دیکھی۔

اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہمارا انتخابی نظام اتنا کمزور اور مشکوک کیوں ہے کہ ہر بار نتائج پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اس کی جڑیں صرف انتظامی بدعنوانی میں نہیں بلکہ خود نظام کے ڈھانچے میں بھی پیوست ہیں۔ ذیل میں ہم ان بنیادی مسائل کا جائزہ لیں گے جو ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور ان اصلاحات پر بات کریں گے جو اس نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

کم ٹرن آؤٹ کا المیہ

پاکستان میں انتخابی شرکت کی شرح کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ عمومی طور پر یہ شرح تیس سے چالیس فیصد کے درمیان رہتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی حلقے میں ساٹھ سے ستر فیصد اہل ووٹرز الیکشن کے دن گھروں پر ہی رہتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی بےزاری، امیدواروں پر عدم اعتماد، نتائج میں ہیر پھیر کا خدشہ، سیکیورٹی کے مسائل، گرمی یا موسم کی شدت، اور ووٹر لسٹوں میں غلطیاں شامل ہیں۔ جب اکثریت ووٹ ڈالنے ہی نہیں آتی تو باقی رہ جانے والی اقلیت کا فیصلہ پورے حلقے پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے عین منافی ہے۔

جماعتوں کی بھرمار اور ووٹ کی تقسیم

دوسرا بڑا مسئلہ سیاسی جماعتوں کی بے تحاشا تعداد ہے۔ ہر سال درجنوں نئی جماعتیں وجود میں آتی ہیں، اور ہر حلقے میں دس، بارہ یا پندرہ تک امیدوار میدان میں اترتے ہیں۔ فرض کریں کسی حلقے میں دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ساٹھ فیصد لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آتے، تو باقی صرف چار لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اب یہ چار لاکھ ووٹ پندرہ امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جیتنے والا امیدوار زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد ووٹ لے کر ہی کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اسی فیصد لوگ اس نمائندے کے مخالف تھے، مگر پھر بھی وہ ان پر حکمرانی کرنے کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کی خامیاں

پاکستان میں رائج انتخابی طریقہ کار، جسے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کہا جاتا ہے، اسی مسئلے کی جڑ ہے۔ اس نظام کے تحت جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اس کے حاصل کردہ ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فیصد سے کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ دنیا کے کئی ممالک اس نظام کی خامیوں کو محسوس کرتے ہوئے متبادل طریقے اپنا چکے ہیں، جیسے کہ رن آف الیکشن یا متناسب نمائندگی کا نظام، جہاں کامیابی کے لیے ایک مخصوص فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں اگر کوئی امیدوار مطلوبہ فیصد ووٹ حاصل نہ کر پائے تو سرفہرست دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے، تاکہ حتمی فاتح واقعی اکثریت کی حمایت رکھتا ہو۔

جیت کے تناسب میں اصلاح کا مطالبہ

اسی تناظر میں یہ تجویز نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کامیابی کے لیے کم از کم ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ اصول نافذ ہو جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے تو غیر سنجیدہ اور محض ووٹ تقسیم کرنے کے لیے میدان میں اترنے والی سینکڑوں چھوٹی جماعتیں خود بخود منظر سے ہٹ جائیں گی، کیونکہ کوئی بھی امیدوار اکیلے اتنی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں مجبور ہوں گی کہ وہ آپس میں اتحاد بنائیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور عوام کے سامنے واضح اور قابل عمل ایجنڈا پیش کریں۔ اس سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملے گی اور حکومت سازی زیادہ نمائندگی پر مبنی ہوگی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ واقعی اکثریت کی حمایت سے کامیاب ہوگا، جس سے اس کی حکومت کو اخلاقی اور سیاسی جواز حاصل ہوگا اور عوام میں یہ تاثر پیدا نہیں ہوگا کہ ایک اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی مسلط کر دی ہے۔

ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک تصدیق کی اہمیت

دوسرا مطالبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا کسی ایسے تصدیقی نظام کے استعمال سے متعلق ہے جو جعلی اور بوگس ووٹنگ کا سدباب کر سکے۔ روایتی کاغذی طریقہ کار میں انسانی مداخلت کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس سے گنتی میں تاخیر، غلطیاں اور جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں تو ہر ووٹر کی شناخت یقینی بنائی جا سکتی ہے، ایک شخص ایک سے زیادہ بار ووٹ نہیں ڈال سکے گا، اور نتائج فوری اور شفاف طریقے سے سامنے آ سکیں گے۔ اگرچہ الیکٹرانک نظام کو بھی اپنے تکنیکی چیلنجز اور سائبر تحفظ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر مناسب حفاظتی اقدامات اور شفاف آڈٹ کے ذریعے ان خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے انتخابی عمل کی ساکھ بحال کر سکتا ہے۔

 منتخب نمائندوں کے لیے تعلیمی و اہلیتی معیار کیا ہونا چاہیے 

تیسرا اور نہایت اہم مطالبہ یہ ہے کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدواروں کی اہلیت کا ایک واضح معیار مقرر کیا جائے۔ اس وقت کوئی بھی شخص، چاہے اس کی تعلیمی قابلیت کچھ بھی ہو، الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر ایسے افراد قانون سازی کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قانون سازی یا حکمرانی کے پیچیدہ امور کا خاطر خواہ ادراک نہیں ہوتا۔ اگر پی ایچ ڈی، ایم فل، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد کو آگے آنے کا موقع ملے تو قوم کو ایسی قیادت میسر آ سکتی ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہو اور بہتر پالیسی سازی کر سکے۔ یہ تجویز ان جمہوریتوں کے تجربے سے بھی ہم آہنگ ہے جہاں امیدواروں کے لیے کم از کم تعلیمی یا تجرباتی معیار مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ایوان میں سنجیدہ اور باصلاحیت افراد پہنچ سکیں۔

پاکستان کا انتخابی نظام آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس میں اصلاحات کی ضرورت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کم ٹرن آؤٹ، جماعتوں کی بھرمار، ووٹ کی تقسیم، شفافیت کا فقدان اور نااہل امیدواروں کی بھرمار، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں عوام کی حقیقی رائے کبھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتی۔ کامیابی کے لیے واضح اکثریتی تناسب مقرر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانا، اور امیدواروں کے لیے اہلیتی معیار طے کرنا، یہ تینوں اقدامات مل کر پاکستان کے جمہوری نظام کو زیادہ مضبوط، شفاف اور نمائندہ بنا سکتے ہیں۔

تاہم اس بحث کے دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ ماہرین اور سیاسی حلقے ان تجاویز پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ لازمی قرار دینا ایک کثیر الجماعتی اور متنوع معاشرے میں عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بار بار انتخابات یا رن آف مقابلوں کی ضرورت پیش آئے گی، جو کہ مالی اور انتظامی طور پر بوجھ بن سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی اور نئی جماعتوں کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی تنوع اور نئی آوازوں کا سامنے آنا جمہوریت کی صحت کے لیے ضروری ہے، اور بہت سخت شرائط ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے بھی کچھ حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی تک عوامی رسائی، خواندگی کی شرح، اور سائبر تحفظ کے مسائل کو پہلے مکمل طور پر حل کیے بغیر ایسا نظام نافذ کرنا نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح امیدواروں کے لیے تعلیمی معیار مقرر کرنے کی تجویز پر بھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ سیاسی تجربہ اور عوامی رابطہ بھی قیادت کی اہلیت کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنی کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری، اور محض ڈگری کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ کرنا کچھ باصلاحیت اور عوامی حمایت رکھنے والے افراد کو سیاسی عمل سے باہر کر سکتا ہے۔

بہرحال، ان تمام تحفظات کے باوجود یہ بات طے ہے کہ موجودہ نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے، تاکہ ووٹ کی حرمت بحال ہو اور عوام کا اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔

www.alsadatne2spm.com

ہفتہ، 22 اگست، 2026

جب قانون ساز ادارے قانون کے خلاف کام کریں ؟

Al-Sadat News Pakistan

جب قانون خود قانون کے راستے میں کھڑا ہو جائے

 تحریر تجزیہ : سید محمد شاہ غرشین

 CEO Al Sadat News Pakistan 



کبھی آپ نے سوچا ہے کہ رات کے کسی پہر دروازے پر دستک ہو، اور آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے خلاف ایک ایسا مقدمہ درج ہوچکا ہے جس کا آپ سے دور کا بھی تعلق نہیں؟
 کہ آپ کا "جرم" صرف یہ تھا کہ آپ نے سچ بولا، کسی کے ظلم پر آواز اٹھائی، یا محض کسی کی سیاسی مخالفت میں کھڑے رہے؟

یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں۔ یہ ہزاروں گھروں کی کہانی ہے جہاں ماں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے تھانے کے چکر کاٹتی ہے، بیوی اپنے شوہر کی ضمانت کے لیے وکیلوں کی فیسیں جمع کرنے کے لیے زیور بیچتی ہے، اور بچے یہ سوال کرتے ہیں کہ "بابا کب واپس آئیں گے؟" 
جبکہ بابا کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ تھے، یا کسی طاقتور کے سامنے سر جھکانے سے انکاری تھے۔
   
 قانون کیا کہتا ہے، اور عمل میں کیا ہوتا ہے

ہمارا آئین اور ہمارا قانون، پاکستان پینل کوڈ، اس ظلم کے خلاف واضح دفعات رکھتا ہے۔ دفعہ 182 اس شخص کو مجرم ٹھہراتی ہے جو جان بوجھ کر کسی سرکاری اہلکار کو جھوٹی اطلاع دے تاکہ کسی بےگناہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ دفعہ 211 اس سے بھی آگے جاتی ہے 
 یہ اس شخص کو سزا دیتی ہے جو جانتے بوجھتے کسی پر جھوٹا فوجداری الزام لگا کر اس کی زندگی، عزت اور آزادی کو داؤ پر لگا دے۔

اور جب یہی ظلم کوئی سرکاری ادارہ خود کرے تو دفعہ 166 اور 167 اس اہلکار کو کٹہرے میں لاتی ہیں جو اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قانون کے راستے سے ہٹ کر کسی کو نقصان پہنچائے۔ دفعہ 220 اس شخص کو مجرم قرار دیتی ہے جو جانتے ہوئے کہ کسی کی حراست غیر قانونی ہے، پھر بھی اسے قید میں رکھے۔

یہ الفاظ کتابوں میں خوبصورت لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زمین پر کہاں ہیں؟

 جب ادارے خاموش تماشائی بن جائیں

جب کوئی عام شہری کسی کے خلاف جھوٹی FIR درج کرواتا ہے، تو نظام کے پاس اسے روکنے کے راستے موجود ہیں 
 جسٹس آف پیس، ہائی کورٹ کی نگرانی، تفتیش کا عمل۔ مگر جب یہی کھیل کوئی طاقتور ادارہ سیاسی بنیادوں پر کھیلے، تو یہی راستے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ رات کی تاریخوں میں مقدمات درج ہوتے ہیں، ایک ہی واقعے پر درجنوں دفعائیں لگا دی جاتی ہیں، اور جس کا سیاسی نظریہ کسی کو ناپسند ہو، اسے راتوں رات "دہشت گرد" یا "غدار" بنا دیا جاتا ہے۔

یہ صرف اس ایک انسان کے ساتھ ظلم نہیں۔ یہ اس پورے معاشرے کے ساتھ دھوکہ ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ کیونکہ جب قانون کا رکھوالا ہی قانون کو ہتھیار بنا کر استعمال کرے، تو عام آدمی کہاں جائے؟ کس کے دروازے پر دستک دے؟
    یہ خاموشی اب مزید نہیں چل سکتی

ہر وہ شخص جو آج کسی سیاسی وابستگی کی بنا پر جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے، وہ کل کوئی عام شہری بھی ہو سکتا ہے 

 کوئی صحافی جو سچ لکھے، کوئی وکیل جو مظلوم کا ساتھ دے، کوئی استاد جو سوال اٹھائے۔ یہ سلسلہ جہاں سے شروع ہوتا ہے، وہاں رکتا نہیں 
یہ پھیلتا جاتا ہے، جب تک کوئی اسے روکے نہ۔

قانون خاموش نہیں ہے۔ دفعہ 182، 211، 166، 167 اور 220 موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دفعات صرف کاغذ پر نہ رہیں — کہ عدالتیں، بار کونسلیں، میڈیا اور عوام مل کر یہ آواز بلند کریں کہ جس اہلکار نے اختیار کا ناجائز استعمال کیا، اسے بھی اسی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جس کٹہرے میں وہ بےگناہوں کو کھڑا کرتا ہے۔

انصاف کوئی مراعات یافتہ طبقے کی میراث نہیں۔ یہ ہر اُس ماں کا حق ہے جو اپنے بیٹے کی واپسی کی دعا مانگتی ہے، ہر اُس بچے کا حق ہے جو اپنے باپ کا انتظار کرتا ہے، اور ہر اُس شہری کا حق ہے جو صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کا ملک قانون کی حکمرانی میں چلے، خوف کی حکمرانی میں نہیں۔

خاموش رہنا اب انصاف کی توہین ہے۔ آواز اٹھانا اب ضرورت ہے۔

حکومت پاکستان اور بلوچستان میں امن کی کوشش

Al-Sadat News Pakistan 

بلوچستان کے مسائل اور ان کا حل کیا ہے ؟

تحریر/تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین 




ہر ملک اور معاشرے کی بقا کا راز اس بات

 میں مضمر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مظلوموں کی آواز کس حد تک سنتا ہے اور ان کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کس قدر خلوصِ نیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بلوچستان—جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی و وسعتِ قلب کے معاملے میں طویل عرصے سے ایک نادیدہ گوشہ بنا رہا—آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی نئی سطریں لکھی جا سکتی ہیں۔
ہم نے بارہا اپنے قلم سے یہ حقیقت واضح کی تھی کہ طاقت کا استعمال، بندوق کی گونج اور جبری خاموشی کبھی کسی پائیدار امن کا پیش خیمہ نہیں بن سکتے۔ زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اگر ان پر مزید ضرب لگائی جائے تو درد ناسور بن جاتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور ساحلوں کی سچی آواز ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہاں کے مسائل کا حل گولی میں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور محرومیوں کا خاتمہ کرنے میں ہے۔
آج جب حکومت کی جانب سے "بلوچستان نیشنل ورکشاپ" کے ذریعے تمام مکاتبِ فکر، مقامی رہنماؤں، علمائے کرام اور عوام کو ایک چھت تلے جمع کر کے مشاورت کی راہ اپنائی گئی ہے، تو بلا شبہ یہ اندازِ فکر "دیر آید درست آید" کی مصداق ہے۔ یہ اعتراف کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، سونے، تانبے اور معدنیات پر پہلا اور بنیادی حق وہاں کی مٹی اور4 اس کے بچوں کا ہے، ایک انتہائی خوش آئند اور سراہنے کے قابل قدم ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ صرف اعداد و شمار یا سیاست کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ جیتی جاگتی انسانی زندگیوں اور ان کے جذبات کا معاملہ ہے۔ جب تک لسبیلہ سے لے کر چمن تک، اور مکران کے ساحل سے لے کر لورالائی اور کوئٹہ کی وادیوں تک کے ہر بچے کو معیارِ تعلیم نہیں ملے گا، جب تک ہسپتالوں میں ادویات، پینے کا صاف پانی، روزگار کے باوقار مواقع اور محفوظ سڑکیں میسر نہیں ہوں گی، تب تک احساسِ محرومی کی برف پگھل نہیں سکتی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ان مشاورتی نشستوں کو صرف لفظی دعوؤں اور خبروں کی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں عملی شکل دی جائے۔

مسائل کا پائیدار حل اور تجاویز
صادقانہ گفتگو اور مذاکرات: ناراض طبقات کے ساتھ بلا مشروط، وسیع البنیاد اور سنجیدہ مذاکرات ہی امن کی واحد ضمانت ہیں۔ طاقت کی حکمتِ عملی کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی انداز میں مسائل کو حل کیا جائے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم: ریکوڈک اور گواڈر جیسے عظیم الشان پروجیکٹس کا پہلا براہِ راست فائدہ مقامی آبادی تک پہنچنا چاہیے۔ وہاں کے نوجوانوں کو ٹیکنیکل تربیت دے کر انہی منصوبوں میں کلیدی عہدوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی: صحت، پینے کا صاف پانی، معیاری سکول و کالج اور سڑکوں کا جال فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ کوئی بھی خطہ اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا عام شہری زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستا رہے۔

عوامی اعتماد کی بحالی: صوبے کے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں ریاست کے ساتھ تعلق اور تحفظ کے احساس کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا، تاکہ غیر ملکی یا ملک دشمن عناصر ان کی محرومیوں کو اپنے شوم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ 
بلوچستان صرف معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کا نام نہیں، بلوچستان انسانوں کا نام ہے—ان انسانوں کا جو عزت، محبت اور مساوی حقوق کے طالب ہیں۔ اگر آج ریاست نے تدبر، دردمندی اور انسانی جذبے سے کام لیتے ہوئے ڈائیلاگ اور ترقی کے اس راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھا، تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کے سرسبز و شاداب مستقبل سے پورا پاکستان روشن ہوگا
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بلوچستان پیکج کے نام پر کوشش ہوئی بہت سارے فراری کمانڈر تسلیم ہوئے عام معافی کا اعلان ہوا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کے ذریعہ مسائل حل کی کوشش کی گئی شاید وہ مخلص نہیں تھے 
یا یہ وجہ تھی کہ اس کوشش سے عوام اور ریاست کے درمیان جو نفرت تھی فاصلے تھے وہ کم نہ ہوسکے  عام آدمی  کا اعتماد بحال نہیں ہوا ناراض لوگ راضی نہ ہوئے اس وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہوا تھا بلوچستان میں سب پہلے انصاف ہوتا نظر آئے 
اور ترقی عوام تک پہنچنی چاہیے اور عام معافی کا اعلان کیا جائے و مسائل کا حل  ہوتا نظر آئے معدنیات پر حق تسلیم کیا جائے جبری  گمشدگیوں کو ختم کیا جائے 
ماوراء عدالت قتل اور تفتیش کو بند کیا جائے 
جو گناہگار ہے اسے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے 
تب کچھ بہتری کی امید ہوسکتی ہے 

"السادات نیوز پاکستان"
Www.alsadatnewspk.com


جمعرات، 13 اگست، 2026

پاکستان میں نئے صوبے بنانے سے عوام کی قسمت بدلے گی ؟

Al-Sadat News Pakistan 

کاغذی محل، آبلہ پا عوام اور اصلاحات کا سراب ؟

تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین 




پاکستان کی تاریخ بھی عجب تاریخ ہے؛ یہاں مسائل کا حل کھوجنے کے لیے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے ہمیشہ کپڑا بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب جب ملک میں کوئی معاشی، سیاسی یا انتظامی بحران شدت اختیار کرتا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نابغے ایک نیا کاغذ، ایک نئی ترمیم اور ایک نیا "نجات دہندہ نظام" لے کر عوام کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔ آج کل بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کے سنجیدہ ایوانوں میں ایک نام نہاد "28ویں آئینی ترمیم" یا نويں انتظامی ڈھانچے کے مسودے کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک ایسا مسودہ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کر کے، صدارتی نظام لا کر، قومی اسمبلی کو ختم کر کے اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر تمام دردوں کی دوا کر دی جائے گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی قوم کی قسمت بدلنے کا کوئی الہامی پلان ہے، یا پھر ایک نچلے طبقے کے، مہنگائی کے تندور میں جلتے ہوئے، انصاف کی تلاش میں دربدر بھٹکتے ہوئے عام پاکستانی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک اور سیاسی ناٹک؟

اگر اس تجویز کردہ مسودے کے خدوخال پر نظر ڈالی جائے تو اس کا احاطہ کچھ یوں کیا گیا ہے:
تجویز کردہ نظام کی ایک نظر میں جھلک
   نیا انتظامی ڈھانچہ: ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز ہیں؛ جن میں پنجاب کو 5 (شمالی، سنٹرل، جنوبی، پوٹھوہار، بہاولپور)، سندھ کو 5 (کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ)، خیبر پختونخوا کو 4 (پشاور، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان)، بلوچستان کو 4 (کوئٹہ، مکران، ژوب، قلات)،
 جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو الگ وفاقی اکائیاں بنانے کا خاکہ ہے۔
      صدارتی و حکومتی طرز: 
قومی اسمبلی کے خاتمے، تمام تر طاقت کے مرکز کے طور پر ایک براہِ راست منتخب صدر، اور سینیٹ کو واحد ایوان بنانے کا دعویٰ ہے۔ وفاقی کابینہ میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہوں گے جو اپنے صوبے میں تو بااختیار ہوں گے مگر صدر کو جواب دہ ہوں گےہو سکتا ہے یہ صدر صاحب فوجی سربراہ ہو !!
    عدلیہ و انتظامیہ:
 ایک وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، گورنر کے ذریعے صوبائی وزرائے اعلیٰ کی معزولی کی گنجائش، اور اضلاع میں DC اور DPO کو براہِ راست عوام کے منتخب کردہ "ضلع ناظم" کے ماتحت کرنے کی نوید سنائی گئی ہے۔
کاغذ پر لکھا یہ ہر حرف دلکش لگتا ہے۔
 سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بارہ سنگھے کو صحرا میں دور چمکتی ریت پانی کا چشمہ نظر آ رہی ہو۔ لیکن جب اس مسودے کو پاکستان کی کڑوی، تلخ اور خونچکاں حقیقتوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے، تو دل دہل جاتا ہے۔
کیا یہ نظام اس غریب دہقان کا پیٹ بھر سکے گا جس کی پوری فصل ایک وڈیرے کے پانی بند کرنے سے سوکھ جاتی ہے؟
 کیا یہ 20 صوبے اس ماں کی گود میں اس کا لعل واپس لا سکیں گے جو تھانے کے باہر انصاف مانگتے مانگتے دم توڑ دیتی ہے؟
 کیا ایک نیا صدارتی نظام اس نوجوان کو روزگار دے سکے گا جو ڈگری بغل میں دبائے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک ایڑیاں رگڑ رہا ہے؟
کیا یہ نظام کسی غریب کو کسی طاقتور سے تحفظ فراہم کرے گا ؟
کیا عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کسی مظلوم کو انصاف دے گی جو کسی جاگیر دار کسی سیاسی شخصیت یا کسی بڑے بڑے بیوروکریسی کے آفیسرز یا کسی فوجی ڈکٹیٹر کے شر سے تحفظ فراہم کریں گی ؟
کیا یہ نظام بغیر قانون کے سرکاری نوکروں کے ذریعے اغوا کئیے گئے  مظلوم کو رہا کر سکے گا ؟
کیا یہ نظام کسی آمر کو جابر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر سکے گا ؟ 
کیا یہ نظام کسی ایس ایچ او  کو قانون کے مطابق آزادی سے  ایف آئی آر کرنے کا اختیار دیگا ؟
یا کبھی قانون کے مطابق کسی غیر قانونی حکم سے انکار کی آزادی اور جرئت دیگا ؟
جواب ہے 
ہرگز نہیں! تو تبدیلی کیا ہوا ؟ 

اصل بیماری کیا ہے اور علاج کس چیز کا ہو رہا ہے؟
پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظام کے ڈھانچے کی کمی کبھی نہیں رہا، بلکہ نظام کے اندر موجود نیت، انصاف اور آئینی حکمرانی کی عدم موجودگی رہا ہے۔
تصور کریں، ایک ایسا ملک جہاں آئین محض ایک کاغذی کتابچہ بن کر رہ گیا ہو، جہاں عدالتیں مظلوم کو انصاف دینے کے بجائے طاقتور کے اشاروں کی منتظر ہوں، جہاں الیکشن کمیشن محض ایک نام نہاد ادارہ ہو اور جہاں عوام کے ووٹ کی حرمت کو ہر بار بوٹوں تلے یا بند کمروں کے فیصلوں میں روند دیا جائے— وہاں آپ 20 صوبے بنا دیں یا 200، تبدیلی کیسے آئے گی؟
جب تک آئین اپنے اصل اور واقعی روح کے ساتھ بحال نہیں ہوتا، جب تک عدلیہ کو اپنے فیصلے ازخود اور بغیر کسی دباؤ کے کرنے کی آزادی نہیں ملتی، جب تک الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبدار اور خود مختار نہیں ہوتا، اور جب تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) یا شفاف ترین طریقہ کار سے سیاسی مداخلت کے بغیر انتخابات نہیں ہوتے ,
جب تک عوام کی رائے کو محترم نہیں بنایا جاتا 
تب تک کسی بھی ترمیم کا نام "نجات" نہیں بلکہ "سیاسی انجنیئرنگ" ہی رہے گا۔
عوامی نمائندگی کا زوال اور میرٹ کی موت
ہم کس پارلیمنٹ یا سینیٹ سے خیر کی امید رکھیں؟ جب تک ایوانوں میں پہنچنے والے اراکین کے لیے کوئی اخلاقی، تعلیمی، یا سیاسی اہلیت کا معیار طے نہیں ہوگا، تب تک یہی کرپٹ، موروثی اور مفاد پرست طبقات نئے نظام پر بھی سانپ بن کر بیٹھ جائیں گے۔ اگر موجودہ سلیکٹڈ، نادیدہ ہاتھوں کی مرہونِ منت اور عوام کے حقیقی جیویں جیویں سے محروم حکمرانوں کے ذریعے یہ تمام ترامیم اور نظام نافذ کیا گیا، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟
نتیجہ وہی نکلے گا جو پچھلے ستر سالوں سے نکلتا آیا ہے۔ اربوں روپے کی کاغذی محنت ضائع جائے گی۔
 عوام کا پیسہ، جو ان کا خون پسینہ نچوڑ کر ٹیکس کی صورت میں اکٹھا کیا جاتا ہے، نئے صوبوں کے گورنر ہاؤسز، نئے وزرائے اعلیٰ کے پروٹوکول، نئے سینیٹرز کی مرعوب کن گاڑیوں اور نويں دفاتر کی تزئین و آرائش کی نذر ہو جائے گا۔ اور عام آدمی؟ 
وہ اسی طرح پستا رہے گا۔ اس کے لیے کرپشن کا بازار یوں ہی گرم رہے گا، ظلم کی چکی یوں ہی چلتی رہے گی۔
بلدیاتی نظام: ایک المیہ اور حقیقت
اس مسودے میں بلدیاتی نظام کو تمام تر اختیارات کا منبع اور عوام کی دہلیز پر حل کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ لیکن ذرا عملی میدان میں آ کر دیکھیے۔ موجودہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کا حشر کیا ہے؟
آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی ضلعی ناظم یا بلدیاتی چیئرمین منتخب ہو کر آتا ہے، تو اس کے پاس عوام کے کام کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں نہ بجٹ۔ نظام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ علاقے کا صوبائی منسٹر یا طاقتور اقتدار دھنی خود چل کر ضلعی حکومت کے سربراہ کے پاس آتا ہے اور کھلم کھلا کہتا ہے: "اس سال چار ارب کا فنڈ آیا ہے، اس میں سے ایک ارب تم رکھو، باقی کا چیک کاٹ کر میرے نام کر دو۔"
اور اس کھلی غنڈہ گردی اور ڈکیتی کے سامنے کیا کوئی مزاحمت ہوتی ہے؟
 اگر کوئی باضمیر ناظم یا چیئرمین اپنے علاقے کے لوگوں کے حق کے لیے کھڑا ہونے کی جرات کر بھی لے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟
 اس نظام کی پشت پناہی سے اس کے خلاف فوری طور پر "عدم اعتماد" کی تحریک لائی جاتی ہے، اراکین کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، اور اس بدمعاش صوبائی وزیر یا طاقتور آقا کا اپنا پالتو بندہ اس کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔
جب تک اس نظام کے اندر احتساب کا کوئی ٹھوس، شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقہ کار موجود نہ ہو، جب تک طاقتور کو قانون کی زنجیروں میں نہ جکڑا جائے، اور جب تک اختیارات کو بیلنس کرنے کی واقعی ضمانت نہ ہو، 
تب تک یہ طاقتور ناظمین اور بلدیاتی خاکے عوام کی خدمت کیا کریں گے؟ یہ نظام صرف اور صرف لوٹ مار کی نچلی سطح تک منتقلی (Decentralization of Corruption) کے سوا کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔
قوم سے سنگین مذاق اور آخری گزارش
ہمیں یہ بات بحیثیت قوم سمجھنی ہوگی کہ جب تک ملک میں حق اور سچ کا بول بالا نہیں ہوتا، جب تک عوام کو اپنا حکمران خود منتخب کرنے کا آزادانہ حق نہیں ملتا، اور جب تک قوم کی اہل، باصلاحیت، خوفِ خدا رکھنے والی اور دیانت دار قیادت آگے آ کر نظام کو درست کرنے کی باگ ڈور نہیں سنبھالتی,
 تب تک کاغذی مسودے، 28ویں ترمیم ہو یا 50ویں، محض دل بہلانے کا سامان رہیں گی۔
یہ ملک کسی نئے نقشے کا طالب نہیں ہے، یہ ملک عدل کا طالب ہے۔ 
یہ ایک غیر جانبدار احتساب کا طالب ہے جہاں قانون کا نمائندہ یا کوئی سیاسی شخصیت یا کوئی فوجی آمر یا کوئی جاگیر دار قانون کو توڑنے کے تصور سے کامپ جائے
  اور یہ اختیار کے توازن  کو طالب ہے 
یہ قوم نئے صوبوں کے ناموں کی پیاسی نہیں ہے، یہ قوم انصاف اور روٹی کی پیاسی ہے۔
اگر موجودہ ابتر ماحول میں، جہاں عدم استحکام، گرتی ہوئی معیشت، اور عوامی غیض و غضب عروج پر ہے، یہ ڈنگ ٹپاؤ اور لالی پاپ قسم کی تبدیلیاں مسلط کی گئیں، تو یہ محنت بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جائے گی اور قوم کا وقت اور پیسہ ایک بار پھر ضائع ہوگا۔ ظالم وہی رہے گا، مظلوم وہی رہے گا، صرف ڈرامے کے کرداروں کے لباس بدل جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تجربوں کی لیبارٹری میں اس ملک کو مزید جھونکنے کے بجائے آئین کی اصل روح بحال کی جائے، اداروں کو ان کی حدود میں واپس لایا جائے، اور عوام کے ساتھ وہ سچا اور سچائی پر مبنی مکالمہ شروع کیا جائے جو اس ملک کو واقعی تباہی کے دہانے سے نکال کر عزت اور خودداری کی شاہراہ پر گامزن کر سکے۔

جمعرات، 6 اگست، 2026

اصلاح احوال کا آخری موقع

Al-Sadat News Pakistan 

جب عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے؟ پاکستان اور اصلاح کا آخری موقع

تحریر / تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین

السادات نیوز پاکستان 



ریاستیں محض جغرافیائی سرحدوں، عسکری قوت یا انتظامی امور سے قائم نہیں رہتیں؛ ریاست کا حقیقی وجود اس کے شہریوں اور آئینی معاہدے کے درمیان پائے جانے والے غیر متزلزل اعتماد پر منحصر ہوتا ہے۔ جب وہ اعتماد درہم برہم ہوتا ہے تو عظیم الشان ساختیں بھی اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہیں
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے حساس اور نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے گزرنے والی راہیں یا تو پائیدار قومی اصلاحات کی طرف جاتی ہیں یا پھر ایک ایسے بھیانک سیاسی و اجتماعی تصادم کی طرف جس کا تاوان پچھلی کئی دہائیوں سے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ یہ بحران محض کسی ایک حکومت کی آمد و رفت، اقتدار کی روایتی کشمکش یا چند سیاسی چہروں کی تبدیلی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے ریاستی ساخت، جمہوری اقدار اور سب سے بڑھ کر عام شہری کے اپنے ملک کے نظام پر اعتماد کا بحران ہے۔
۱. عوامی اعتماد کا زوال اور روایتی سیاست کی ناکامی
پاکستان میں دہائیوں سے اقتدار پر براجمان سیاسی جماعتیں — خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی — ملکی سیاست کے مرکز میں رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ انہوں نے مختلف ادوار میں ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رکھا۔ تاہم، ایک سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ناقدین کے اعتراضات بے بنیاد نہیں ہیں۔ مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود یہ جماعتیں ملک کو ایک شفاف، بااصول اور بنیادی عوامی مسائل حل کرنے والا مستحکم نظام دینے میں ناکام رہیں۔
گورننس کی ابتری، تعلیمی و صحتی نظام کی زبوں حالی، عدالتوں میں التوا کا شکار انصاف اور معیشت کی دائمی ساختار کی خرابی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ ہر بار کی سیاسی تبدیلی محض حکمران اشرافیہ کی مراعات اور چہروں کے تبادلے تک محدود رہتی ہے، اور عام شہری کے بنیادی مسائل جیوں کے تیو رہتے ہیں، تو سیاسی عمل سے ان کا اعتماد آہستہ آہستہ اٹھنے لگتا ہے۔
۲. سول ملٹری تعلقات اور غیر منتخب اداروں کا کردار
اس تاریخی بحران کا دوسرا اہم پہلو پاکستان میں سول ملٹری تعامل اور غیر سیاسی یا غیر منتخب اداروں کا کردار ہے۔ پاکستان کے آئین نے ریاست کے ہر ستون — مقننہ، مجریہ، عدلیہ اور دفاعی اداروں — کی حدود واضح طور پر متعین کی ہیں۔ تاہم، ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی پروسیس میں غير سیاسی مداخلت، پسند و ناپسند کے فیصلوں اور انجنیئرڈ ماحول کے تاثر نے جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔
اگرچہ اس مؤقف سے اختلاف کرنے والے حلقے یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ بعض اوقات سیاسی جماعتوں کی اندرونی کمزوریاں، بدعنوانی اور باہمی کشمکش ریاستی اداروں کو خلا پر کرنے پر مجبور کرتی ہے، لیکن جمہوری منطق یہ بتاتی ہے کہ سیاست کے تمام تر نقائص کا علاج مزید شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ جمہوریت میں ہی مضمر ہے۔ اداروں کی غیر سیاسی حیثیت ہی ان کے احترام، وقار اور عوامی مقبولیت کی سب سے بڑی ضامن ہوتی ہے۔
۳. پرامن تبدیلی کے راستے بند ہونے کے خطرات
سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کے ووٹ کا پرچہ بے اثر ہو چکا ہے، اور آئینی و پرامن ذرائع سے تبدیلی کے راستے پر رکاوٹیں ہیں، تو معاشرے کے اندر گہری مایوسی جنم لیتی ہے۔ مایوسی کا یہی احساس بالآخر نراج، انتہا پسندی اور پرتشدد تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان جیسا ایٹمی طاقت اور ۲۴ کروڑ آبادی والا ملک کسی ایسے سیاسی یا معاشرتی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر نوجوان نسل کا یہ باور ہو جائے کہ ان کی رائے کی کوئی قیمت نہیں، تو وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر نظام کے خلاف شدید غصے اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بحران سے نکلنے کا روڈ میپ اور بنیادی تقاضے
آئین اور قانون کی واقعی بالادستی: آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ حتمی اور مقدس قومی معاہدہ تسلیم کیا جائے۔
اداریاتی حدود کی پاسداری: تمام ریاستی و دفاعی ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار کے اندر رہ کر ذمہ داریاں ادا کریں۔
آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابات: ایسے شفاف انتخابات کا انعقاد جس پر تمام سیاسی فریقین اور عوام کامل اعتماد کر سکیں، تاکہ عوامی مینڈیٹ کی اصل روح بحال ہو۔
عدلیہ اور احتساب کی غیر جانبداری: عدلیہ اور احتسابی اداروں کو سیاسی انتقام کے تاثر سے پاک کر کے بلاتفریق انصاف کا مظہر بنایا جائے۔
میثاقِ معیشت و میثاقِ جمہوریت: تمام سیاسی قیادت ذات اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے بنیادی معاشی اور جمہوری روڈ میپ پر متفق ہو۔
میرٹ اور شفافیت: سرکاری تقرریوں، معاشی فیصلوں اور عوامی پالیسیوں میں میرٹ اور جواب دہی کو بنیادی شرط بنایا جائے۔
تصادم یا اصلاح؟
پاکستان کے پاس اب مزید غلطیوں یا تجربات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ ملک کا مستقبل انتقام، نفرت، عددی زبردستی یا اداروں کے باہمی تصادم میں ہرگز نہیں ہے۔ پاکستان کی بقا اور ترقی صرف اور صرف انصاف، آئینی پاسداری، عوامی اعتماد اور مضبوط، خود مختار اداروں کی تشکیل میں مضمر ہے۔
حرفِ آخر: تاریخ ان قوموں کو معاف نہیں کرتی جو وقت پر اصلاح کا موقع گنوا دیتی ہیں۔ آج ہمارے اربابِ اختیار، سیاسی رہنماؤں اور تمام طاقتور حلقوں کے پاس اصلاح کا یہ موقع موجود ہے۔ اگر آج آئین اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا تو کل کا مورخ کسی ایک فریق کو نہیں بلکہ پوری قیادت کو اس تاریخی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔


بدھ، 15 جولائی، 2026

پاکستان نے افغان جنگوں سے کیا سیکھا

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ



گزشتہ شے پیوستہ

پاکستان افغانستان کی تاریخ بہت طویل تلخیوں سے بھری پڑی ہے دونوں ہمسایہ ملکوں کی قیادت ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائی بھی کرتی رہی اور برادرانہ طور پر اچھے ہمسایہ بھی رہے ہیں 
افغانستان کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان اور انڈیا کی سرزمینوں پر حملے کئیے اور حکومت بھی کرتے رہے اس وقت افغانستان غالب تھا طاقتور تھا انڈیا اور پاکستان میں اس وقت چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں 
پھر برطانیہ آیا اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تقریباً آدھی دنیا سے زائد پر قبضہ کیا مگر افغانستان پر وہ بھی قابض نہ ہو سکا 
پھر برطانیہ کا اور 14 اگست 1947 کو غروب ھوا اس نے نہ صرف انڈیا پاکستان سے بلکہ فلسطین تک سے اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا 
افغانستان میں اب ہم طالبان دور حکومت پر بات کررہے ہیں مگر طالبان کا اسلامی تشخص اور اسلامی حکومت اور جہاد کی پالیسی اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی اور چیچنیا داغستان میں روس کے خلاف لڑتے مسلمانوں کی حمایت اور جہاد میں شرکت نے مغرب کو بے چین کردیا تھا اور ان کو طالبان کی شکل میں ایک ان کو خلافت  عثمانیہ کے بعد ایک اور خلافت نظر آرہی تھی اس لئیے وہ بے چین تھے اب آگے پڑہیں 

افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہو چکی تھی، لیکن ہر انقلاب اپنے ساتھ ایک نیا امتحان بھی لے کر آتا ہے۔
اقتدار حاصل کرنا ایک مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ اقتدار کو انصاف، برداشت اور تدبر کے ساتھ چلانا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد اعلان کیا کہ اب افغانستان میں بدامنی کا دور ختم ہو جائے گا اور ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے واقعی سکون کا سانس لیا۔ برسوں بعد شاہراہوں پر سفر نسبتاً محفوظ ہوا، اغوا برائے تاوان اور مسلح گروہوں کی چیک پوسٹیں کم ہوئیں، اور ایک مرکزی نظم و ضبط قائم ہونے لگا۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے طبقے نے، جو مسلسل خانہ جنگی سے تھک چکا تھا، طالبان کو ابتدا میں امن کی علامت سمجھا۔
لیکن ہر معاشرے کی طرح افغانستان بھی صرف ایک فکر رکھنے والوں کا ملک نہیں تھا۔
وہاں مختلف قومیتیں تھیں، مختلف مسالک تھے، مختلف سیاسی نظریات تھے اور مختلف تاریخی تجربات تھے۔
اسی لیے طالبان کی حکومت کو جتنا داخلی تعاون ملا، اتنی ہی مخالفت بھی سامنے آئی۔
شمالی افغانستان میں احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، عبدالرشید دوستم اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل اتحاد نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی اتحاد بعد میں "شمالی اتحاد" کے نام سے مشہور ہوا۔
پنج شیر کی وادی ایک مرتبہ پھر مزاحمت کی علامت بن گئی۔
افغانستان کی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس ملک میں پہاڑ صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ سیاست بھی بن جاتے ہیں۔
کبھی یہی پہاڑ برطانوی فوجوں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں، کبھی سوویت یونین کے لیے، کبھی امریکی افواج کے لیے، اور کبھی ایک افغان دھڑے کے مقابل دوسرے افغان دھڑے کے لیے۔
اسی لیے بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ افغانستان کو صرف نقشے پر دیکھنے والا اسے کبھی سمجھ نہیں سکتا۔
اسے سمجھنے کے لیے اس کی وادیوں، قبائل، زبانوں، روایات اور مذہبی حساسیت کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔
طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر بھی مکمل قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے انتظار اور احتیاط کی پالیسی اختیار کی۔
اس کی کئی وجوہات تھیں۔
خواتین کی تعلیم کے بارے میں پالیسیاں، سیاسی مخالفین کے ساتھ رویہ، انسانی حقوق سے متعلق عالمی تحفظات، اور القاعدہ جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی عالمی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک اور سبق دیتی ہے۔
دنیا میں صرف طاقت کافی نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی قبولیت بھی ریاست کی طاقت کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔
ایک حکومت اپنے عوام کی حمایت سے قائم رہ سکتی ہے، لیکن عالمی نظام میں تنہائی بھی ایک بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔
اسی دوران ایک اور نام دوبارہ عالمی خبروں میں نمایاں ہونے لگا۔
اسامہ بن لادن۔
سوویت جنگ کے زمانے میں عرب دنیا سے آنے والے رضاکاروں میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے القاعدہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ سوڈان میں قیام کے بعد وہ دوبارہ افغانستان آئے، جہاں طالبان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
یہ فیصلہ بعد میں طالبان حکومت کے لیے عالمی سفارتی دباؤ کا ایک بڑا سبب بنا۔
امریکہ پہلے ہی مختلف دہشت گرد حملوں کے تناظر میں القاعدہ کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔
واشنگٹن مسلسل مطالبہ کرتا رہا کہ اسامہ بن لادن کو حوالے کیا جائے، جبکہ طالبان قیادت مختلف شرائط، مذہبی دلائل اور قانونی مؤقف پیش کرتی رہی۔
یہ اختلاف آہستہ آہستہ ایک بڑے تصادم کی بنیاد بنتا جا رہا تھا۔
مگر اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ چند برس بعد یہی مسئلہ پوری دنیا کی سیاست کا رخ بدل دے گا۔
ادھر پاکستان بھی ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا تھا۔
ایک طرف افغانستان میں طالبان حکومت تھی، جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات موجود تھے۔
دوسری طرف امریکہ پاکستان کا اہم اتحادی تھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک ایسے باریک پل پر چل رہی تھی جس کے ایک طرف علاقائی حقیقت تھی اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے تقاضے۔
یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں تھا۔
یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔
کیا کسی درمیانے درجے کی ریاست کو ہمیشہ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے؟
یا کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جب اسے صرف اپنے قومی مفاد کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنا چاہیے؟
یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں۔
ترکی، مصر، ایران، سعودی عرب اور دنیا کے کئی ممالک مختلف ادوار میں اسی آزمائش سے گزر چکے ہیں۔
ریاستیں اکثر جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے فیصلے کرتی ہیں۔
لیکن جب مفادات اور قومی وقار آمنے سامنے آ جائیں تو تاریخ کے مشکل ترین فیصلے جنم لیتے ہیں۔
نوّے کی دہائی کے اختتام تک افغانستان بظاہر ایک نئی حکومت کے زیرِ انتظام تھا، لیکن اس کے گرد عالمی دباؤ کا دائرہ مسلسل تنگ ہو رہا تھا۔
کابل کی فضا میں خاموشی تھی، مگر یہ وہ خاموشی تھی جس کے بعد آنے والے طوفان کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی۔
دنیا اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔
نیویارک کی فلک بوس عمارتیں معمول کے مطابق آباد تھیں۔
واشنگٹن اپنی عالمی حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔
اسلام آباد اپنے داخلی اور خارجی توازن میں مصروف تھا۔
اور کابل کو شاید ابھی اندازہ بھی نہیں تھا کہ تاریخ اس کے لیے ایک ایسا باب لکھنے والی ہے جس کی بازگشت صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔
11 ستمبر 2001ء ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، لیکن تاریخ کے افق پر اس کے سائے نمودار ہونا شروع ہو چکے تھے۔
(جاری ہے...)

اتوار، 12 جولائی، 2026

پاکستان نے افغانستان کی تاریخ سے کیا سبق حاصل کیا

Al-Sadat News Pakistan 
https://www.alsadatnewspk.com/

اداریہ

افغانستان عالمی قوتوں کی شطرنج کی گیم کا مرکز : کیا پاکستان نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے ؟




حصہ اول 

ایک جنگ جو کبھی ختم نہیں ہوئی


تاریخ کبھی نہیں مرتی۔ وہ صرف لباس بدلتی ہے۔ کردار بدل جاتے ہیں، نام بدل جاتے ہیں، پرچم بدل جاتے ہیں، مگر طاقت، مفاد، خوف اور اقتدار کی خواہش ویسی ہی رہتی ہے کبھی اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ، کبھی قومی سلامتی کا نام دیا جاتا ہے، اور کبھی مذہب کے مقدس جذبے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب دھواں چھٹتا ہے تو سب سے پہلے جو چیز دکھائی دیتی ہے وہ قبرستان ہوتے ہیں، یتیم بچے ہوتے ہیں، اجڑے ہوئے شہر ہوتے ہیں اور ایسی مائیں ہوتی ہیں جو برسوں تک دروازے پر نظریں جمائے اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتی رہتی ہیں
افغانستان بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ ایک ایسی سرزمین جسے قدرت نے حسن دیا، مگر جغرافیے نے آزمائش۔ یہ ملک ایشیا کے دل میں واقع ہے، لیکن شاید اسی لیے صدیوں سے عالمی طاقتوں کی نگاہ بھی اسی پر رہی سکندر اعظم آیا، منگول آئے، برطانوی سلطنت آئی، سوویت یونین آیا، پھر امریکہ آیا۔ ہر طاقت نے سمجھا کہ وہ افغانستان کو اپنے نقشے کے مطابق ڈھال لے گی، مگر افغانستان ہر بار زخمی تو ہوا، جھکا نہیں
بدقسمتی یہ رہی کہ اس پوری داستان میں پاکستان بھی ایک اہم کردار بن گیا۔ یہ کردار ہمیشہ اپنی مرضی سے تھا یا حالات نے اسے مجبور کیا، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی میں افغانستان میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کے اثرات پاکستان کے گھروں، بازاروں، معیشت، سیاست اور معاشرت تک پہنچے
یہ اداریہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ تاریخ کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں کا حساب نہیں کرتیں، تاریخ ان کا حساب ضرور کرتی ہے
1979ء کا سال صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ کابل کی کمیونسٹ حکومت کی مدد کے لیے آیا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی دنیا نے اسے سرد جنگ کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا
پاکستان اس وقت جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے زیرِ انتظام تھا۔ ایک طرف مشرق میں بھارت تھا، دوسری طرف مغرب میں افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی نے اسلام آباد میں شدید تشویش پیدا کی۔ اس دور میں پاکستان کی ریاستی پالیسی یہ بنی کہ افغان مزاحمت کی حمایت کی جائے۔ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی اس حکمت عملی کی بھرپور تائید کی
اسی دور میں "افغان جہاد" کا تصور عام ہوا لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ سرحدی علاقوں میں مہاجر کیمپ قائم ہوئے,مذہبی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مختلف ممالک سے مالی امداد آنے لگی۔ دنیا بھر سے نوجوان افغانستان کا رخ کرنے لگے 
اس وقت پاکستان کے عوام کو یہی بتایا گیا کہ یہ صرف افغانستان کی جنگ نہیں بلکہ اسلام اور کمیونزم کے درمیان معرکہ ہے ہزاروں پاکستانی نوجوان بھی اس جذبے سے متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے اسے مذہبی فریضہ سمجھا، بہت سے اسے افغان بھائیوں کی مدد قرار دیتے تھے، جبکہ ریاست اسے اپنی قومی سلامتی کا تقاضا سمجھتی تھی
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ریاستیں ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، یا نظریات اکثر قومی مفادات کی زبان بن جاتے ہیں؟
یہ سوال صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی ہر بڑی طاقت کے لیے بھی ہے
امریکہ نے افغان مجاہدین کی حمایت اس لیے نہیں کی تھی کہ وہ ایک مذہبی ریاست قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کو کمزور کرنا تھا۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں صرف مذہبی مسئلہ نہیں تھیں بلکہ سلامتی، سرحد، خارجہ پالیسی اور علاقائی توازن کا معاملہ بھی تھیں
لیکن جنگوں کا ایک اصول ہوتا ہے
جنگ کبھی صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کی قیمت معاشرے بھی ادا کرتے ہیں
پاکستان نے بھی ادا کی
اس جنگ کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے ان کے لیے اپنے دروازے کھولے، جو انسانی ہمدردی کا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اتنی بڑی آبادی کی آمد نے معاشی، سماجی اور انتظامی دباؤ بھی پیدا کیا۔ سرحدی علاقوں کی معیشت بدل گئی، آبادی کا تناسب تبدیل ہوا، اور کئی نئے مسائل نے جنم لیا
اسی زمانے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر کی اصطلاح عام ہوئی ، اسلحہ پہلے بھی موجود تھا، مگر اب خودکار ہتھیار عام لوگوں کی دسترس میں آنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا

 متعدد تحقیقی رپورٹس اور تجزیہ نگار اس دور کو پاکستان میں ہیروئن کے پھیلاؤ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر مختلف اوقات میں ریاستی اداروں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرحدی جرائم کے تعلق پر بھی سوالات اٹھتے رہے، اگرچہ ان میں سے ہر الزام ثابت نہیں ہوا
لیکن ایک حقیقت بہرحال سب کے سامنے تھی۔
پاکستان بدل رہا تھا
وہ پاکستان، جس کے دیہات میں رات گئے تک دروازے کھلے رہتے تھے، آہستہ آہستہ خوف کے سائے میں آنے لگا
وہ معاشرہ، جہاں بندوق صرف ریاست یا قبائلی روایات کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہاں بندوق طاقت، سیاست اور ذاتی تحفظ کی علامت بنتی گئی
یہ تبدیلی صرف اسلحے کی نہیں تھی، سوچ کی بھی تھی
جب ایک معاشرہ کئی برس تک جنگ کے ماحول میں سانس لیتا ہے تو جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، وہ ذہنوں میں بھی اتر جاتی ہے
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا المیہ تھا
افغانستان کی سرزمین پر سوویت ٹینک ابھی پوری طرح واپس بھی نہیں لوٹے تھے کہ ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا
جنگ جیتنے کے بعد حکومت کون کرے گا؟
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب شاید کسی نے پہلے سے تیار نہیں کیا تھا
جنگ لڑنے والوں کے پاس بندوقیں تھیں، قربانیاں تھیں، جذبہ تھا، لیکن ایک متحد سیاسی منصوبہ نہیں تھابجب تک دشمن سامنے تھا، اختلافات پس منظر میں تھے جیسے ہی دشمن ہٹا، وہی اختلافات اقتدار کی جنگ میں بدلنے لگے
1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں، لیکن کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت چند سال تک برقرار رہی۔ 1992ء میں وہ حکومت بھی گر گئی اور مجاہدین کابل میں داخل ہوئے۔ دنیا نے سمجھا کہ اب افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا، مگر تاریخ نے ایک اور موڑ لے لیا
کابل، جو برسوں سوویت بمباری کا شکار رہا تھا، اب افغان دھڑوں کی باہمی لڑائی کا میدان بن گیا
ایک طرف گلبدین حکمت یار تھے، دوسری طرف برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، عبدالرشید دوستم اور دیگر کمانڈر۔ سب نے سوویت یونین کے خلاف ایک ہی مورچے میں جنگ لڑی تھی، لیکن اقتدار کے سوال نے انہیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا
افغانستان کے عام شہری کے لیے شاید اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں تھا
کل تک جو ایک ہی صف میں کھڑے تھے، آج ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے تھے
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ جیتنا آسان ہے، مگر امن جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے
کئی قومیں دشمن کو شکست دے دیتی ہیں، لیکن اپنے غرور، اختلاف اور اقتدار کی خواہش کے سامنے خود شکست کھا جاتی ہیں
افغانستان بھی اسی آزمائش سے گزر رہا تھا
کابل کی گلیاں ملبے میں بدل رہی تھیں
ہزاروں شہری مارے گئے
لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے
ریاست نام کی کوئی مؤثر قوت باقی نہ رہی
ہر علاقے میں الگ کمانڈر، الگ قانون اور الگ طاقت تھی
پاکستان اس سارے منظر کو خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا تھا
اس کے مغربی بارڈر پر ایک ایسا ملک موجود تھا جہاں حکومت تقریباً ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ رہے تھے۔ اسمگلنگ، اسلحہ، مہاجرین، غیر یقینی صورتحال اور سرحدی عدم استحکام پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنتے جا رہے تھے
اسی دوران وسط ایشیائی ریاستیں سوویت یونین سے آزاد ہو چکی تھیں۔ پاکستان کے بعض پالیسی سازوں کو محسوس ہوا کہ اگر افغانستان میں ایک مستحکم حکومت قائم ہو جائے تو پاکستان وسط ایشیا تک تجارت اور توانائی کے نئے راستے حاصل کر سکتا ہے۔

یہیں سے افغانستان کے بارے میں نئی سوچ نے جنم لیا
یہ سوچ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھی
ہر علاقائی طاقت افغانستان میں اپنے مفادات تلاش کر رہی تھی
ایران اپنے اثرورسوخ کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا
روس اپنی سابقہ شکست کے باوجود خطے سے مکمل لاتعلق نہیں ہونا چاہتا تھا
بھارت افغانستان میں اپنا سیاسی کردار بڑھانا چاہتا تھا
امریکہ، اگرچہ سوویت انخلا کے بعد نسبتاً پیچھے ہٹ گیا تھا، مگر اس کی نظریں بھی خطے پر موجود تھیں
یوں افغانستان ایک بار پھر افغانوں سے زیادہ دوسروں کی دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا تھا
اسی پس منظر میں جنوبی افغانستان کے مدارس سے ایک نئی تحریک ابھری
یہ نوجوان زیادہ تر انہی برسوں کی جنگ کے ماحول میں پلے بڑھے تھے

ان کا نعرہ تھا:
بدامنی ختم کرو، اسلحہ بردار گروہوں کا خاتمہ کرو اور اسلامی نظام نافذ کرو۔
اسی تحریک کو دنیا نے بعد میں طالبان کے نام سے جانا
تحریک کے روحِ رواں ملا محمد عمر تھے
ان کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ وہ میڈیا سے دور رہتے تھے، عوامی اجتماعات میں کم نظر آتے تھے اور ان کی شخصیت کے گرد ایک پراسرار فضا قائم رہی۔ اسی وجہ سے ان کے بارے میں حقیقت اور روایت اکثر ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں
طالبان نے اپنی ابتدا قندھار سے کی
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے چند مقامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی، جن پر عوام کے ساتھ ظلم اور بدامنی پھیلانے کے الزامات تھے۔ اس اقدام نے انہیں مقامی سطح پر مقبولیت دی
اس کے بعد ان کی پیش قدمی حیرت انگیز رفتار سے شروع ہوئی
بہت سے علاقوں میں انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن کئی مقامات پر مقامی کمانڈروں نے لڑائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، جبکہ بعض ان کے ساتھ شامل بھی ہو گئے
چند ہی برسوں میں افغانستان کا بڑا حصہ طالبان کے زیرِ انتظام آ گیا
1996ء میں کابل پر طالبان کا قبضہ ہو گیا
دنیا حیران تھی
وہ قوتیں جو برسوں کی خانہ جنگی ختم نہ کر سکیں، ایک نئی تحریک نے مختصر عرصے میں ملک کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا
طالبان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے افغانستان کو بدامنی، لوٹ مار اور جنگجو سرداروں سے نجات دلائی
ان کے ناقدین کہتے تھے کہ انہوں نے سخت طرزِ حکمرانی، خواتین کے حقوق پر پابندیوں اور سیاسی آزادیوں کی کمی کو فروغ دیا
یہ اختلاف آج بھی موجود ہے
لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں
طالبان کے ظہور نے نہ صرف افغانستان بلکہ
 پورے خطے کی سیاست کا رخ بدل دیا
پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے چند ممالک میں جگہ بنائی
اس فیصلے کو پاکستان نے اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھا، جبکہ ناقدین نے اسے ایک خطرناک سفارتی حکمت عملی قرار دیا
یہیں سے پاکستان اور افغانستان کی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوئی، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے گئے
اور شاید یہیں سے ایک نئی عالمی کشمکش کے بیج بھی بوئے جا رہے تھے، جس کے آثار اس وقت بہت کم لوگوں کو دکھائی دے رہے تھے
لیکن تاریخ خاموشی سے اپنا اگلا باب لکھ رہی تھی۔

جاری ہے آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں 

www.alsadatnewspk.com 



Headliners

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan  ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین پاکستان ایک ایسا ملک ...