بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

منگل، 13 اکتوبر، 2026

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report



مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی 


آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس کی 
اور کہا کہ پی ٹی آئی نے مذکرات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا اس لئے ہمیں مجبوراً گورنر راج لگانا پڑا 
جبکہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صبح چھ بجے ان کی ملاقات ہوئی شہباز شریف صاحب سے سے اور ان سے طئے ہوا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ملتوی کرے گی 
اور آپ عمران خان کی ملاقات کھولیں گے 
اور ان کے علاج کے لئے شفاء ہسپتال منتقل کیا جائے گا اس کے بعد حکومت نے یو ٹرن لیا اور گورنر راج نافذ کردیا گیا 
آپ سنی دونوں فریقوں کی گفتگو اس ویڈیو میں 


گورنر راج کیوں لگایا گیا اصل حقائق کیا ہیں

Al-Sadat News Repor










 ضلع خیبر باڑہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔۔۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس کو پسپا کرکے ڈنڈے اور حفاظت

 شیلڈز بھی قبضے میں لے لیں ۔ گورنر راج و ایمرجنسی نفاذ کے خلاف احتجاج کا آج تیسرا روز ہے
اس کے علاؤہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی عوامی احتجاج جاری ہے 
جگہ جگہ پولیس اور عوام۔کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں 




ہم سمجھتے کہ وفاقی حکومت نے بہت غلط فیصلہ لیا ہے ایک جمہوری حکومت جس کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی کو بغیر کسی جواز کے گرایا گیا صرف اس لئیے کہ کے پی کے کا وزیر اعلی سہیل آفریدی عمران خان کا خاص آدمی ہے اور وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کررہا تھا 
اور عمران کے علاج معالجے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت نے عمل نہ کرکے انسانی حقوق کی وائلیشن کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکتی میں ڈال دیا  ایک سال سے عمران خان قید تنہائی میں ہیں ان کی ملاقات بند ہے یہ جائز مطالبات تھے اور ہیں جن کے لئیے پی ٹی آئی متعدد بار عدالت گئی پارلیمنٹ گئی مگر ایک نہ سنی گئی 
اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کے علاج معالجہ اور ملاقاتیوں کا مطالبہ کیا مگر حکومت نہ مانی 
یہ آئین کے آرٹیکل 10 کی کھلی خلاف ورزی ہے 






جب حکمران عدالتی احکامات نہ مانیں تو پھر ملک میں رائٹ اینڈ مائٹ کا قانون ہو جاتا ہے  اس کے خلاف پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا اور اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا 
تو حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا راستے مسدود کر دیئے گئے  رینجر طلب کی گئی دیگر صوبوں سے پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی  آئی جی کے پی کو چیف سیکرٹری کو طلب کرکے پابند کیا گیا کہ آپ نے عوامی جلوس کو کے پی سے اسلام آباد جانے نہیں دینا ھے 

مگر وہ اس احتجاج کو روکنے میں ناکام رہے کیونکہ وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل خان آفریدی اس کو لیڈ کررہا تھا  جس پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگایا گیا انہوں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کی تو کروڑوں روپے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے جو حکومت نے سیز کردیئے





اس کے بعد سہیل آفریدی نے چندہ مہم کا آغاز کیا مختلف پارٹیوں میں کروڑوں روپے مالیت کا چندہ جمع کیا گیا 
جس سے وہ اس لانگ مارچ کو  کامیاب کرنے کے قابلِ ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ ہم ایک شخص کو بھی پنجاب میں داخل ہونے نہیں دیں گے کے پی کے کو پنجاب سے کاٹ دیا گیا بند کر دیا گیا 
حکومت کی بوکھلاہٹ واضح تھی اور اس پریشانی میں اضافی کیا سہل خان آفریدی نے اور مارچ کو 27 ستمبر کو ملتوی کرکے چار اکتوبر کر دیا اس کا مطلب تھا کہ وہ حکومت کو پریشرائز کرکے اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے 
حکومت کا روز کا تقریباً ایک ارب روپیہ لگ رہا تھا سیکورٹی فورسز کی سہولیات پر اور کنٹینرز کا کرایہ الگ  ہے 

مگر حکومت نے گورنر راج کی دھمکیا دینا شروع کر دیں ایمرجنسی لگانے کی بات کی گئی  ساتھ مذاکرات بھی ہوئے مگر حکومت عمران خان کو کوئی رعایت دینا نہیں چاہتی تھی اس لئیے ہر بار مذکرات سے فرار کے بہانے تلاش کئے گئے
یہ ن  لیگ حکومت شہباز شریف اور نوازا شریف مریم نواز کی خواہش تھی کہ وہ عمران خان کو جھکائیں گے اور معافی مانگنے پر مجبور کریں گے مگر وہ مرد کا بچہ شیر کی طرح کھڑا رہا کھڑا ہے 

حکومت کی ہر توقع اور امید عمران خان نے اپنے عمل سے توڑ دی جس سے مزید غم وغصہ بڑہ گیا   اپوزیشن لیڈر اور قائد  تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی صاحب نے کئی مرتبہ حکومت کو مذکرات کی دعوت دی مگر حکومت نہ مانی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا گیا 
کبھی این ایف سی ایوارڈ کے پئسے روک کر کبھی صوبے کی گندم روک کر کبھی 
صوبے کے وزیر اعلی کی بےعزتی کرکے سہیل آفریدی نے جب سے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا تب سے وہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرتا رہا مگر نہ ہونے دی گئی  

آخری وقت میں جب سہیل آفریدی نے صوابی انٹر چینج سے آگے بڑہنے کا فیصلہ کیا اور لانگ مارچ کو آگے لے جانے کا اعلان کیا تو حکومت کے اوسان خطا ہوگئے تھے اور آخری وقت میں مولانا فضل الرحمان صاحب کو مذکرات کا ٹاسک دیا گیا انہوں نے کوشش شروع کی  11اکتوبر کی صبح چھ بجے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی گئی اور طئے کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات مان لئیے جائیں گے لانگ مارچ منسوخ کرایا جائے  
اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان صاحب نے کے پی کے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا تھا سہل آفرید اور ان کی ٹیم سے ملاقات کا ٹائم۔لیا گیا 
سہیل آفریدی اسی میٹنگ کے لئے لانگ مارچ سے واپس وزیر اعلیٰ ہاؤس آئے 
مولانا صاحب کے وہاں پہنچنے سے پہلے وزیر اعظم کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کے پی کے میں گورنر راج نافذ کردیا جو سراسر دھوکا تھا جو پی آتی آئی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیا گیا 

اصل۔میں حکومت اسلام آباد تک پنجاب میں  مارچ کو کسی صورت داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کر چکی تھی 
کیونکہ حکومت کچھ عرصہ پہلے انڈیا میں کاکروچ کا احتجاج اور بنگلہ دیش میں احتجاج دیکھ چکی تھی اور اس کو ڈر تھا کہ اگر پنجاب کی عوام بھی ایسے نکل آئی جیسے کے پی کی کی نکلی ہے تو پھر ان کا اقتدار ختم ہو جائے گا 
اس لئیے حکومت کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا جس کی وجہ سے انتہائی قدم اٹھا کر گورنر راج نافذ کردیا گیا 
اس سے دو واضح مقاصد حاصل کئے گئے ایک تو اب حکومت کے پی کے میں آپریشن کرے جو کچھ کرے وہ آزاد ہے 
دوئم لانگ مارچ جو اسلام آباد کی طرف سیلاب کی طرح بڑہ رہا تھا وہ خطرہ اب تک گیا ہے سہل خان آفریدی گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی کام ھے مگر اس سے احتجاج رک گیا ہے حکومت نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے  

اب کے پی کے اندر عوام احتجاج میں مصروف ہوگئی ہے اور صوبے کے اندر حالات بہت حد تک خراب ہیں   صوبے کے مختلف اضلاع میں عوام احتجاج کررہی ہے اس کو کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش جاری ہے پی ٹی آئی کی کوئی بڑی لیڈر شپ اب میدان میں نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام منتشر ہے 
کے پی کے صوبہ مالی معاشی لحاظ سے پنجاب سے آگے تھا امن بھی کافی حد تک قائم ہوگیا تھا گو کہ اب بھی فاٹا میں دہشت گردانہ کارروائی جاری تھیں مگر بلوچستان کی نسب کے پی کے میں بہت تک امن قائم تھا 
مگر حکومت نے موقف اپنایا کہ ہم نے گورنر راج اس لئیے لگایا کہ کے پی کے حکومت وہاں وفاق کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے نہیں دے رہی تھی  جو بہت کمزور موقف ہے 
اب کے پی کے کی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوگا اور امن آمنا بھی خراب ہوگا مزید وفاقی حکومت وہاں کنٹرول نہیں کر پائے گی یہ ہمارا تجزیہ ہے وقت اسے ثابت کریگا  کیوں کہ کے پی کے میں وفاقی حکومت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اسی وجہ سے یہ وہاں ناکام ھونے 
ان حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے قومی اسمبلی سینیٹ اور صوبائی اسمبلی سے مجموعی استعفیٰ کی بات کی ہے اگر ایسا ہوا تو ملک کو میں جلد الیکشن کی طرف جاتا دیکھ رہا ہوں یا پھر عاصم منیر مارشل لاء نافذ کر دیں  اگر ایسا ہوا تو یہ اس ڈوبتی معیشت کو مزید ڈبو دے گا مہنگائی نے غربت نے پہلے سے عوام کو تباہ کردیا ہے مارشل لاء سے مزید تباہی ہوگی اور اس کی ساری زمہ داری ن۔لیگ اور پیپلز پارٹی پر عائد ہوگی 

کیونکہ اگر عمران خان جو جیل میں بند ہے کی ملاقات کھول دی جائے ان کو ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی تو اس سے حکومت نہیں گرتی یہ اپنے پانچ سال اسی طرح پورے کر تے مگر اس سے شاید ن لیگ کی قیادت کی آنا کو ٹھیس پہنچتی جو بہت مقدس ہے اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کی آنا سلامت رہے ملک ٹوٹ جائے بھی کوئی بات نہیں اس سے ان کے خلاف عوام میں مزید نفرت بڑھی ہے 
اور پی ٹی آئی سیاسی شہید بن گئی ہے کے پی کے میں جس کا سیاسی نقصان ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہی ہوگا 

پیر، 12 اکتوبر، 2026

Al-Sadat News Report


اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف

محمود خان اچکزئی صاحب کی پریس ٹاک  عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ 

کہا کہ ہم عمران خان کی مرضی کے بغیر لانگ مارچ ملتوی نہیں کرسکتے اس لئیے ملاقات لازمی ہے اس کے بغیر مذکرات بے معنی تھے اور ہیں 
انہوں کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کی مذمت کی اور اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا 



کے پی میں گورنر راج نافذ

Al-Sadat News Report

ملبوس آئین، عریاں آمریت؟

کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کا اعلان آمریت کا وار 



گیارہ اکتوبر کی تاریخ ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سیاہ حاشیے کا اضافہ بن گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے صدرِ مملکت کو بھیجی گئی ایڈوائس کے مطابق خیبر پختونخوا میں "آئینی مشینری کے ناکام ہونے" کا جواز بنا کر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلامیہ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زبان آئینی ہے، مگر اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایک صوبے کے عوام کا منتخب کردہ نظام اسلام آباد کے حکم پر لپیٹا جا رہا ہے۔





جس صوبے میں عوام نے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اپنی حکومت منتخب کی، وہاں "مشینری کی ناکامی" کا فیصلہ ووٹر نہیں، وفاق کر رہا ہے۔ اگر کوئی مشینری ناکام ہوئی ہے تو وہ امن و امان کی نہیں، اعتماد کی ہے، اور یہ ناکامی صوبے میں نہیں، وفاق کے رویّے میں ہے۔



ہم نے ابتدا ہی سے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا تھا۔ ہمارا موقف تھا کہ سیاسی تنازعات کا حل مکالمے میں ہے، طاقت میں نہیں۔ مگر یہ مشورہ یک طرفہ ثابت ہوا۔ ایک طرف احتجاج کرنے والے ہیں جو بنیادی مطالبات رکھتے ہیں: عمران خان کی طویل تنہائی ختم کی جائے، انہیں علاج معالجے تک رسائی ملے، اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل ہو۔ دوسری طرف ریاست ہے جس نے ان مطالبات کا جواب مذاکرات سے نہیں، رکاوٹوں اور اب ایمرجنسی جیسے اقدام سے دیا ہے۔


اہم بات یہ ہے کہ احتجاج کا مطالبہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد مانگنا آئین کی بالادستی مانگنا ہے۔ جو حکومت خود عدلیہ کے فیصلوں پر عمل نہ کرے، اسے آئین کی دفعات کا سہارا لے کر دوسروں کو آئینی ناکامی کا طعنہ دینے کا اخلاقی حق حاصل نہیں رہتا۔

اسی دن لانگ مارچ کا صوابی انٹرچینج پہنچنا اور حکومت کا "مکمل تیاری" کے ساتھ اس کا منتظر ہونا بھی اپنے اندر ایک پیغام رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تیاری کس کے خلاف ہے؟ اپنے ہی شہریوں کے خلاف؟ جمہوری ریاستیں احتجاج کے لیے راستے کھولتی ہیں، کنٹینر نہیں لگاتیں۔

ہم رسمی طور پر اسے مارشل لاء نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس کے لیے ایک الگ آئینی اور عملی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر منتخب حکومت کو ہٹانا، مینڈیٹ کو معطل کرنا اور احتجاج کو طاقت سے روکنا ایک ساتھ ہو جائیں، تو نام بدلنے سے مفہوم نہیں بدلتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بار پہلے "آئینی مجبوری" کا لفظ آتا ہے اور پھر برسوں کا پچھتاوا۔

آئین کے تحت ایسے اعلامیے کو پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہوتی ہے اور عدالتیں بھی اس کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ اب نظر ان اداروں پر ہے کہ وہ آئین کے محافظ بنتے ہیں یا محض مہر لگانے والے۔

حکومت کے حامی یقیناً یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان اور انتظامی صورتحال خراب تھی اور وفاق کو آئینی ذمہ داری نبھانا پڑی۔ ان کے نزدیک یہ اقدام آئین کے اندر رہ کر اٹھایا گیا ہے۔ یہ دلیل سنی جانی چاہیے، مگر اس کا فیصلہ شفاف عدالتی اور پارلیمانی جانچ ہی کر سکتی ہے، اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر آنے والے دنوں میں اس اقدام کو پرکھا جائے گا۔

آخر میں ایک ہی بات: ریاست طاقت سے وقتی خاموشی خرید سکتی ہے، قبولیت نہیں۔ اور جمہوریت میں قبولیت ہی اصل اقتدار ہے
اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاؤہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو غیر آئینی غیر جمہوری قرار دیا ہے اور اس کو واپس لینے کا مطالبہ کیاہے 
پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ دونوں نے جمہوری لباس پہن رکھا ہے مگر انہوں نے ہمیشہ آمریت کا ساتھ دیا ہےاور یہ 
کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کا نفاذ عوام قبول نہیں کریگی 
اب تک لاکھوں لوگ اس کے خلاف سڑکوں پر ہیں گورنر ہاؤس صوبائی اسمبلی اور ریڈ زون کے تمام راستے ایف سی پولیس نے بند کر دیئے ہیں 
انٹر نیٹ بند کردی گئی ہے یا جزوی طور پر کام کررہی ہے 
پورے ملک سے حکومت پر تنقید کی جارہی ہے ۔
اگر ہم تاریخ کے آئینے میں جھانک دیکھیں تو مجھے 12 اکتوبر 2013 یاد آتا ہے جب نواز شریف کی حکومت کے خلاف پرویز مشرف نے مارشل لگایا تھا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اس وقت ن لیگ نے اس کو ناجائز غیر آئینی قرار دیا تھا آج اسی ن۔لیگ نے ایک تو تہائی اکثریت سے بنی عوامی حکومت کو گرا دیا اور گورنر راج نافذ کردیا یہ وقت کا ائنہ بھی عجیب ھے ہر شخص کو اس کے چہرے کی کالک دکھاتا ہے 



اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو سلامت رکھے اور امن قائم رہے 
حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے 


جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

کیا پاکستان میں غربت ختم ہوگی ؟

السادات نیوز پاکستان 




تحریر سید محمد شاہ غرشین 

 CEO Al Sadat News Pakistan 

 ورلڈ بنک کی رپورٹ اور پاکستان کی معیشت


 کسی بھی شہر کے کسی بھی محلے میں شام کے وقت سبزی کی ریڑھی کے پاس کھڑی ماں کو دیکھ لیجیے۔ وہ ٹماٹر اٹھاتی ہے، بھاؤ سنتی ہے، پھر آہستہ سے واپس رکھ دیتی ہے۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے نہ کوئی نعرہ۔ بس ایک خاموش حساب ہوتا ہے، جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کتنے باقی ہیں۔ اسی لمحے اسلام آباد کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں کوئی پریزنٹیشن چل رہی ہوتی ہے جس میں ہمیں بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ معیشت "استحکام" کی طرف جا رہی ہے۔


میں اس کالم میں کسی سیاسی جماعت کی وکالت نہیں کر رہا۔ میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس استحکام کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، وہ آخر ہے کس کے لیے ہے ؟ یا صرف کاغذ پر معیشت کھڑی ہے یا اس ماں کی ہانڈی کے لئے کچھ ہے ؟


 آئیے سرکاری اور غیر سرکاری، دونوں طرح کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ سچ کہاں کھڑا ہے۔


پہلے سرکار کی بات سن لیں

انصاف کا تقاضا ہے کہ پہلے وہی سنا جائے جو حکومت کہتی ہے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی provisional شرحِ نمو 3.7 فیصد بتائی ہے۔ معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 1,901 ڈالر بتائی گئی ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مد میں گزشتہ مالی سال تقریباً 41.6 ارب ڈالر ملک میں آئے۔ آئی ایم ایف خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ مالی سال 2025 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 1.3 فیصد رہا اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی اپریل میں اسٹیٹ بینک کے پاس 15 ارب ڈالر سے اوپر تھے۔

یہ سب باتیں غلط نہیں ہیں۔ ملک ڈیفالٹ کے کنارے سے پیچھے ہٹا، یہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی مریض کو وینٹی لیٹر سے اتار دینا اسے صحت مند قرار دینے کے لیے کافی ہے؟ 

ہم نے مریض کو بچا لیا، مگر اسے چلنے کے قابل نہیں بنایا۔ وہ آج بھی بستر پر پڑا ہے اور ڈاکٹر ہر دو ماہ بعد آ کر بتاتا ہے کہ نبض ٹھیک چل رہی ہے۔


 مہنگائی جو اعداد میں کم اور بازار میں زیادہ ہے

ادارۂ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی 10.26 فیصد رہی۔ ایک سال پہلے، ستمبر 2025 میں، یہی شرح 5.76 فیصد تھی۔ یعنی ایک سال میں تقریباً دگنی۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط مہنگائی 10.20 فیصد رہی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.30 فیصد تھی۔ صرف ستمبر میں ایک مہینے کے اندر قیمتیں 1.27 فیصد بڑھ گئیں۔ اگست میں یہی شرح 11.1 فیصد کے لگ بھگ تھی اور دیہی علاقوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
ذرا ٹھہر کر سوچیے۔ دیہات میں رہنے والا وہ کسان اور مزدور جو پہلے ہی کم کماتا ہے، اس کے لیے مہنگائی شہر والوں سے بھی زیادہ ہے۔ تھوک کی قیمتوں کا اشاریہ (WPI) ستمبر میں 13.3 فیصد بڑھا، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں دکان کے ریٹ مزید اوپر جانے کا دباؤ موجود ہے۔ بنیادی (core) مہنگائی بھی 8 فیصد سے اوپر ہے، یعنی یہ صرف تیل یا سبزی کا وقتی جھٹکا نہیں، قیمتوں کی بنیاد ہی اوپر چلی گئی ہے۔
اپریل 2026 میں ہفتہ وار حساس قیمتوں کا اشاریہ تقریباً 14 فیصد تک جا پہنچا تھا۔ آلو، روٹی، خوردنی تیل، انڈے، گھی، چکن، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر کسی غریب کا دسترخوان مکمل نہیں ہوتا، اور یہی چیزیں سب سے پہلے مہنگی ہوتی ہیں۔

یہاں حکومت کے دفاع میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے تیل اور سپلائی چین کو متاثر کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی جولائی میں اسی وجہ سے پاکستان کی شرحِ نمو کا اندازہ 4.5 فیصد سے گھٹا کر 3.7 فیصد کیا اور مہنگائی کا تخمینہ بڑھایا۔ بیرونی جھٹکا حقیقی ہے، میں اس سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن بیرونی جھٹکے کی ڈھال وہی ملک بناتے ہیں جنہوں نے برسوں پہلے اپنا گھر ٹھیک کر رکھا ہو۔ جس معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوں، اسے ہر ہوا گرا دیتی ہے، اور ہر بار قصور ہوا کا بتایا جاتا ہے۔

 قرض: وہ دلدل جس میں ہم ہر سال ایک قدم اور نیچے اتر جاتے ہیں۔
اب اس موضوع پر آتے ہیں جس پر بات کرتے ہوئے حکمرانوں کی زبان اکثر لڑکھڑا جاتی ہے۔ حکومتی اعداد کے مطابق مارچ 2026 تک ملک کا مجموعی سرکاری قرض 83.285 کھرب روپے تھا۔ جون 2026 تک سالانہ قرضہ پلان کی دستاویز کے مطابق یہ بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہو گیا، جس میں 59.4 کھرب اندرونی اور 27.3 کھرب بیرونی قرض ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کے 70 فیصد سے اوپر ہے۔
اب سب سے تکلیف دہ عدد دیکھیے۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا کل حجم 18.771 کھرب روپے ہے، اور اس میں سے 8.054 کھرب روپے، یعنی تقریباً 43 فیصد، صرف سود اور قرض کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اگر اس رقم کو دنوں پر تقسیم کریں تو تقریباً 22 ارب روپے روزانہ بنتے ہیں۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں، آپ کا بچہ اسکول جا رہا ہوتا ہے، آپ بیمار ہوتے ہیں، اور اس دوران ملک روزانہ 22 ارب روپے قرض دینے والوں کو دے رہا ہوتا ہے۔
اب اس کے مقابلے میں دیکھیے۔ پورے بجٹ میں سماجی تحفظ کے لیے 857 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی اقتصادی کونسل نے 3.669 کھرب روپے کا دائرہ منظور کیا ہے۔ یعنی سود کی ادائیگی غریبوں کی سماجی امداد سے تقریباً نو گنا اور پورے ترقیاتی پروگرام سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ جو ملک اپنی آمدنی کا اتنا بڑا حصہ پرانے قرض پر لٹا دے، وہ نئے اسکول، اسپتال، سڑکیں اور کارخانے کیسے بنائے گا؟
اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ حکومت کی اپنی دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال میں مجموعی مالی ضروریات 28.6 کھرب روپے ہیں، جن میں سے 17 کھرب سے زیادہ صرف اصل رقم کی واپسی کے لیے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پرانا قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لینا پڑے گا، اور نئے قرض پر مزید سود لگے گا۔ یہ وہ چکر ہے جسے ہمارے ہاں "معاشی حکمتِ عملی" کا نام دے دیا گیا ہے، حالانکہ یہ حکمتِ عملی کم اور مجبوری زیادہ ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ قرض کی میعاد لمبی کی جا رہی ہے، سود کا خرچ کچھ کم ہوا ہے، اور قرض جی ڈی پی کے تناسب سے آہستہ آہستہ گھٹے گا۔ ہو سکتا ہے ایسا ہو۔ مگر آہستہ آہستہ کی قیمت وہ طبقہ ادا کرتا ہے جس کے پاس انتظار کی عیاشی نہیں۔ بھوک قسطوں میں انتظار نہیں کرتی۔

 آئی ایم ایف دوا بھی، شرائط بھی، اور ہمارا امتحان بھی
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام اور تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے تحت چل رہا ہے۔ ستمبر کے آخر میں آئی ایم ایف کا مشن چوتھے جائزے کے لیے پاکستان آیا، جس میں جون 2026 تک کی کارکردگی دیکھی جا رہی ہے۔ میں اس کالم کے لکھتے وقت اس جائزے کے نتیجے کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کیونکہ وہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

لیکن جائزے سے پہلے کی خبریں خود بہت کچھ بتاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گورننس اصلاحات کے جو تین درجن سے زیادہ اہداف جنوری سے جون 2026 کے لیے طے ہوئے تھے، ان میں سے صرف چند پورے ہوئے۔ یہ اصلاحات آئی ایم ایف کی اس تشخیصی رپورٹ کے بعد طے کی گئی تھیں جس میں پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف کمزور اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پھر گندم اور چینی کے معاملات میں حکومتی مداخلت کا ذکر ہے، حالانکہ پروگرام کی شرط یہ تھی کہ ریاست اجناس کی منڈی سے دور رہے۔

یہاں مجھے ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ بجلی کا بل بھرو، پیٹرول پر لیوی دو، ٹیکس دو، کیونکہ آئی ایم ایف کی شرط ہے۔ مگر جب شرط حکومت کے اپنے اختیارات یا مفادات کو چھوئے، یعنی گورننس، بدعنوانی، منڈی میں مداخلت، سرکاری اداروں کی نجکاری، تو وہاں رفتار اچانک سست ہو جاتی ہے۔ بوجھ عام آدمی کے کندھے پر فوراً ڈال دیا جاتا ہے اور اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ "اگلے جائزے" تک ٹل جاتا ہے۔

توانائی کا شعبہ اسی کہانی کی سب سے واضح مثال ہے۔ گردشی قرضے کا مسئلہ برسوں سے ہمارے ساتھ ہے۔ ہر حکومت اسے "حل" کرتی ہے، اور ہر بار وہ نئے نام کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔ نقصان کا بوجھ اوور بلنگ، فکسڈ چارجز اور ٹیکسوں کی شکل میں اسی صارف پر منتقل ہوتا ہے جو بیچارہ پہلے ہی میٹر ریڈنگ سے ڈرتا ہے۔

    ورلڈ بینک کا آئینہ: غربت کی وہ تصویر جو بجٹ تقریر میں نہیں دکھائی جاتی

ورلڈ بینک کی رپورٹ "Reclaiming Momentum Towards Prosperity" ہماری معاشی کامیابی کے دعووں کو ایک ایسے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس میں جھوٹ بولنا مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2001 میں 64.3 فیصد تھی اور 2018 تک گھٹ کر 21.9 فیصد رہ گئی۔ یہ کسی بھی ملک کے لیے قابلِ فخر کارنامہ تھا۔ مگر اس کے بعد رخ پلٹ گیا۔ کورونا، مہنگائی، سیلاب اور معاشی بحران، یہ سب مل کر ان کامیابیوں کو چاٹ گئے۔

ورلڈ بینک نے جون 2025 میں عالمی غربت کی لکیر کو تقریباً 4.20 ڈالر یومیہ تک بڑھایا، اور اس نئے پیمانے کے تحت پاکستان میں غربت 44.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ملک کے اپنے ادارے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (SPDC) کا مارچ 2026 کا اندازہ 43.5 فیصد ہے۔ جبکہ سرکاری اعداد میں یہ شرح 28.9 فیصد کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ آپ کو یہاں فرق دکھائی دے رہا ہے؟ سرکاری کاغذ پر ہر تین میں سے ایک سے کچھ کم غریب، اور بین الاقوامی اور آزاد پیمانے پر ہر دس میں سے تقریباً ساڑھے چار غریب۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہو، مگر وہ دروازے جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں، وہاں کوئی پیمانہ نہیں پوچھتا۔

ورلڈ بینک نے ایک اور بات کہی جو ہمارے پالیسی سازوں کے لیے بہت سخت ہے۔ بینک کے مطابق پاکستان کا موجودہ ترقی کا ماڈل، جو بنیادی طور پر کھپت پر کھڑا ہے، غربت اور عدم مساوات کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو چکا ہے اور نئے راستے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستان بالواسطہ ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتا ہے، اور یہ ٹیکس آمدنی کو کم کرتے اور غربت بڑھاتے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس کا مطلب سمجھتے ہیں؟ جو ٹیکس آپ ماچس سے لے کر آٹے، دوا اور پیٹرول تک ہر خریداری میں بغیر پوچھے ادا کرتے ہیں۔ اس ٹیکس کے سامنے رکشہ ڈرائیور اور کروڑ پتی برابر کھڑے ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی استطاعت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ ہے وہ ناانصافی جو میزانیے کے ہندسوں میں چھپی رہتی ہے۔ جب ٹیکس کا ہدف پورا کرنا ہو (اس سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ہدف 15.26 کھرب روپے ہے) تو سب سے آسان راستہ وہی ہے جو پہلے سے ٹیکس دینے والوں اور بے زبان صارفین کی جیب سے گزرتا ہے۔ ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور بڑے زمینداروں کو حقیقی طور پر ٹیکس نیٹ میں لانا مشکل ہے، کیونکہ وہاں طاقت ہے۔ تنخواہ دار کی تنخواہ سے ٹیکس کٹ جاتا ہے، کیونکہ وہاں زور نہیں چلتا۔

پھر ناکامی کہاں ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ حکومت کی پالیسی میں اصل خرابی کیا ہے؟ میں چند نکات اختصار سے رکھتا ہوں۔

پہلا، استحکام کو منزل سمجھ لینا
 زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا، روپے کو سنبھالنا اور خسارہ کم کرنا بلاشبہ ضروری ہیں۔ لیکن یہ ذرائع ہیں، منزل نہیں۔ منزل وہ روزگار ہے جو نوجوان کو مل سکے، وہ آمدنی ہے جو مہنگائی سے آگے چل سکے، وہ برآمدات ہیں جو قرض کے بغیر ڈالر لائیں۔ ہم نے ذریعے کو منزل بنا لیا، اور اب عالمی اداروں سے شاباشی لے کر عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ اصل کامیابی یہی ہے۔

   دوسرا، آمدنی بڑھانے کے بجائے آسان شکار تلاش کرنا۔ 
ٹیکس کا دائرہ حقیقی معنوں میں وسیع کرنے کی ہمت ہم میں کم ہے۔ نتیجہ یہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھتا ہے، کاروبار دباؤ میں آتا ہے، اور غیر رسمی معیشت اپنی جگہ مزے سے قائم رہتی ہے۔

  تیسرا، اصلاحات کا وعدہ اور تاخیر کی عادت۔
سرکاری اداروں کی نجکاری، توانائی کے نقصانات، گورننس کے اہداف، ہر محاذ پر وعدے ہیں، مگر عمل سست۔ جب آئی ایم ایف کی ایک پروگرام رپورٹ میں اہداف کی اکثریت پوری نہ ہوئی ہو تو یہ محض تکنیکی تاخیر نہیں، یہ ارادے کی کمزوری ہے۔

   چوتھا، اشرافیہ کی مراعات اور عوام کی قربانی کا غیر متوازن تناسب۔ 
جب قوم کو "مل کر قربانی" کا درس دیا جاتا ہے تو دیکھنا چاہیے کہ قربانی کون دے رہا ہے اور بچت کس کی ہو رہی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو 7 فیصد اضافہ ملا، مگر جب مہنگائی دس فیصد کے آس پاس ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طبقے کی حقیقی آمدنی بھی گھٹ رہی ہے۔ اور نجی شعبے کے وہ کروڑوں مزدور جنہیں کوئی اضافہ ملا ہی نہیں، ان کی حالت کا اندازہ آپ خود لگا لیجیے۔

      پانچواں، انسان پر سرمایہ کاری سے گریز۔ 
جس ملک کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہو اور جہاں تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کا حصہ سود کی ادائیگی کے سامنے بونا دکھائی دے، وہاں مستقبل کی معاشی طاقت کیسے پیدا ہو گی؟
 آج جو بچہ بھوکا اسکول جاتا ہے یا اسکول سے باہر رہتا ہے، کل وہ ہماری پیداواری قوت بنے گا یا ہمارا بوجھ، اس کا فیصلہ آج کا بجٹ کر رہا ہے۔

 بجٹ ہندسوں کا کھیل نہیں، اخلاقی دستاویز ہوتا ہے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم اعداد و شمار سے اتنے مرعوب ہو گئے ہیں کہ انسان کو بھول بیٹھے ہیں۔ 
جی ڈی پی کی شرحِ نمو اوپر جاتی ہے تو اخبار سرخی لگاتا ہے، مگر کسی اخبار میں یہ سرخی نہیں چھپتی کہ آج کتنی ماؤں نے بچوں کو دودھ کی جگہ چائے پلائی، کتنے باپوں نے علاج مؤخر کر دیا، کتنے طلبہ نے فیس نہ بھرنے کے باعث تعلیم چھوڑ دی۔ یہ وہ اعداد ہیں جو کوئی ادارہ باقاعدگی سے جمع نہیں کرتا کیونکہ اگر جمع کرے گا تو شرمندگی ہو گی۔

بجٹ دراصل ایک اخلاقی دستاویز ہوتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ ریاست کس کو پہلے رکھتی ہے۔ جب بجٹ کا سب سے بڑا حصہ سود کھا جائے، اور سماجی تحفظ کے حصے میں اتنی رقم بچے کہ وہ سود کے نو دن کی قسط جتنی بھی نہ ہو، تو یہ فیصلہ ہم نے اپنی ترجیحات کے بارے میں خود کر دیا۔ اور یہ ترجیحات کسی آسمانی فیصلے کا نتیجہ نہیں، یہ ہمارے حکمرانوں کے انتخاب ہیں۔

    تو پھر راستہ کیا ہے؟
تنقید آسان ہے، اس لیے مجھے ذمہ داری سے کچھ تجاویز دینی ہیں 

     پہلی بات، ٹیکس کا نظام اوپر سے نیچے کی طرف انصاف پر کھڑا ہو۔ جو زیادہ کماتا ہے، جو زیادہ جائیداد رکھتا ہے، جو زیادہ بچاتا ہے، وہ زیادہ دے۔ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم ہو اور زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے شعبوں کو، جو برسوں سے سہولت یافتہ ہیں، ٹیکس کے حقیقی دائرے میں لایا جائے۔

     دوسری بات، توانائی کے شعبے میں سنجیدہ اور شفاف اصلاحات کی جائیں۔ گردشی قرضہ نئے ناموں سے نہیں، بجلی چوری، لائن لاسز اور غیر ضروری معاہدوں کی اصل اصلاح سے ختم ہو گا۔

       تیسری بات، سرکاری اداروں کے نقصانات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ان کی نجکاری یا اصلاح کے وعدے وقت پر پورے کیے جائیں۔

    چوتھی بات، تعلیم، صحت اور ہنر مندی پر سرمایہ کاری کو ترجیح بنایا جائے۔ برآمدات اسی وقت بڑھتی ہیں جب ہاتھ ہنرمند ہوں اور ذہن پڑھے لکھے۔

    پانچویں بات، اعداد و شمار کی شفافیت۔ ورلڈ بینک نے خود ڈیٹا سسٹم بہتر بنانے کی بات کی ہے۔ جب غربت کے بارے میں ہمارے اندازے آپس میں اتنے مختلف ہوں تو پالیسی اندھیرے میں تیر چلانے کا نام بن جاتی ہے۔

چھٹی اور آخری بات

میں جانتا ہوں کہ ایسی تحریر پڑھ کر کچھ لوگ کہیں گے کہ مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ نہیں، مایوسی وہ ہے جو چولہے پر خالی دیگچی کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ میں تو صرف وہ بات لکھ رہا ہوں جو ہر گھر میں دبی آواز سے کہی جا رہی ہے۔

سرکار کے پاس تعریف کرنے والے بہت ہیں۔ اس ملک کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو حکمرانوں کے سامنے آئینہ رکھیں۔ اگر آئینہ توڑ دینے سے چہرہ خوبصورت ہو جاتا تو شاید ہم کب کے ایک خوبصورت ملک ہوتے۔
پاکستان کے لوگ غیر معمولی طور پر صابر ہیں۔ وہ قطاروں میں کھڑے ہو کر، بل بھر کر، سبزی کم خرید کر، بھی صابر ہیں 
کیا اس ماں کے لئیے حکومت نے کچھ کیا جس کے بچوں کو سلانے کے لیے دیگ  

منگل، 6 اکتوبر، 2026

آج غریب کے لئیے جینا مشکل بنادیا گیا ہے

Al-Sadat News Report



ایک پاکستانی کے جذبات سن کر مجھے رونا آگیا اس ملک وقوم کو تباہ کردیا ہے اشرافیہ, جاگیرداری سرمایہ دارانہ نظام نے سودی سسٹم نے 




شیر کا بچہ ہے 
اب یہ قوم تنگ آگئی ہے 

 اور یہ قوم اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے گی 
کسی بھی وقت کسی کی وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا یہ اب 
اب اس قوم کو ریاستی جبر سے پولیس کی گولی سے نہیں ڈرایا جا سکتا موجودہ نظام اب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے 
وقت پلٹتے دیر نہیں لگتی   
ایک عدالت میرے رب کی ہے

حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں ڈیڈ لاک

خبر تصویر 1
خبر تصویر 2
خبر تصویر 3
">

وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیے جانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا شدیدردعمل

 مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی وجوہات بیان کر دیں، ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار اور آئندہ مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان کر دیا



گورنر راج کے نفاذ کے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے کہا کہ 
گورنر راج آج لگانا ہے آج لگائیں، دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، سہیل آفریدی کا وفاق کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کی باتوں پر ردعمل کہا اس بار ان کا "once & for all عوام کرے گی


اور دہشت گردی سے متعلق وفاقی حکومت کی آپریشنز کے متعلق جو پالیسی ہے اس نسبت سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ 
ہمارا مطالبہ ہے کہ کے پی کی صوبائی حکومت کو ان بورڈ لیا جائے کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں 
پھر اور کے پی کی تمام سیاسی جماعتوں کو ان بورڈ لیا جائے پھر جو فیصلہ ہو  ہم اس کی تائید کریں گے 
مگر وفاقی حکومت اکیلے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں 
اور زمہ داری بدنامی ہماری حکومت کے پلے میں ڈالنا چاہتے ہیں ایسا ہر گز نہیں ہوگا 

یہ اگر میری جان بھی لے لیں میں دہشتگردی کے خلاف ان کی پالیسی نہیں مانوں گا ، ان کی پالیسی پختون دشمن، صوبہ دشمن اور ملک دشمن پالیسی ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی





اتوار، 27 ستمبر، 2026

ملک میں بد آمنی کے بنیادی اسباب کیا ہیں ؟

Al-Sadat News Pakistan 
 دنیا کا سب سے خطرناک ملک؟ ایک سوال، ایک الزام، اور ہماری  خاموشی؟




تحریر سید محمد شاہ غرشین
جب بھی کسی ملک نے ترقی کی ہے تو اس کی بنیاد کچھ سنہری اصولوں اور قوانین پر قائم ہوتی ہے 
 جمہوریت کی مکمل بحالی 1
آئین وقانون کی بالادستی 2 
سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی آزادی3  
تعلیم وترتیب کے ذریعہ اصلاح فرد کا نظام 4.
کرپشن کا خاتمہ میرٹ کی بحالی 5.
گڈ گورننس کے ذریعے عوامی خدمات6۔ 
اور مضبوط معیشت روزگار کی فراہمی 7.
وہ اصول ہیں جو کسی ملک کی ترقی کی بنیاد اور معیار ہوتی ہیں 
مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ تمام نظام کتابوں میں تو موجود ہے مگر عملاً کہیں نظر نہیں آتا ہے جسکی  وجہ سے میرا ملک آج اس شرمندگی اور تنہائی بدنامی تک پہنچا ہے 

گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر وہ زخم کھول دیا ہے جسے ہماری حکومتیں برسوں سے پٹی باندھ کر چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اس عالمی جائزے کے مطابق پاکستان 8.574 کے انتہائی بلند اسکور کے ساتھ پوری دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے، یعنی نمبر ایک۔ برکینا فاسو، نائجر، نائجیریا اور مالی جیسے وہ افریقی ممالک جو خانہ جنگی اور ریاستی ناکامی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اس فہرست میں پاکستان کے بعد آتے ہیں۔ افغانستان، جسے ہم برسوں سے دنیا کے سامنے دہشت گردی کا مرکز اور اپنی تمام تر بدامنی کی جڑ قرار دیتے آئے ہیں، اس فہرست میں گیارہویں نمبر پر ہے، یعنی ہم سے دس درجے پیچھے۔

یہ محض ایک عدد یا ایک رپورٹ کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں وہ حقیقت دکھا رہا ہے جسے ہماری حکومتی مشینری، ہمارا میڈیا کا بڑا حصہ، اور ہمارے پالیسی ساز ادارے تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ رپورٹ درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ اگر ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ مسلسل کئی برسوں سے ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ ہمارے ہاں تشدد بڑھ رہا ہے، تو ہماری ریاست نے اس کے جواب میں کیا کیا؟

ذمہ داری کا سوال:
کیا افغانستان ہی سب کچھ ہے؟

پاکستان کی سرکاری بیانیہ سازی کا محور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے: افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی برآمد ہو رہی ہے، افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دے رہی ہے، اور ہمارا مسئلہ دراصل ہماری سرحد کے اس پار سے آتا ہے۔ اس بیانیے میں کچھ سچائی ضرور ہے، سرحد پار پناہ گاہوں کا وجود ایک حقیقت ہے جسے کوئی سنجیدہ تجزیہ کار مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔ لیکن اگر یہی واحد وجہ ہوتی، تو منطقی طور پر افغانستان کو خود اس انڈیکس میں پاکستان سے کہیں زیادہ متاثرہ اور بدتر پوزیشن پر ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ افغانستان گیارہویں نمبر پر ہے وہاں امن ھم سے بہتر پوزیشن میں ھے اور پاکستان پہلے نمبر پر۔ یہ فرق اپنی جگہ ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف باہر سے درآمد شدہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ہمارے اپنے اندر، ہماری اپنی پالیسیوں، ہمارے اپنے فیصلوں اور ہماری اپنی تاریخی غلطیوں میں پیوست ہیں۔ دہائیوں تک بعض عسکریت پسند گروہوں کو "اسٹریٹجک اثاثے" سمجھنے کی پالیسی، بعض تنظیموں کے خلاف انتخابی کارروائی اور دوسروں کے خلاف نرمی، اور داخلی سیاست میں انتہاپسند بیانیوں کو گاہے بگاہے استعمال کرنے کی روش، یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو پروان چڑھایا۔ آج جب ہم افغانستان کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بیج کو ہم نے دہائیوں پہلے بویا تھا، وہی درخت آج تناور ہو کر ہمیں سایہ دینے کے بجائے نگل رہا ہے۔

گورننس کا بحران:
سلامتی پالیسی کہاں کھڑی ہے؟

پچھلے کئی برسوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں بلاشبہ قابل احترام ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض فوجی کارروائیاں، آپریشنز، اور بارڈر مینجمنٹ کے اعلانات کافی ہیں؟ حکومت وقتاً فوقتاً بڑے آپریشنز کا اعلان کرتی ہے، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، دعوے کیے جاتے ہیں کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، لیکن چند ماہ بعد ہی نئے حملے، نئی ہلاکتیں، اور نیا خوف سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک شکست خوردہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے وقتی طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ جب حکومتیں اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہوں، جب اداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی جاری ہو، اور جب پالیسی سازی کا تسلسل ہر چند ماہ بعد نئی حکومت یا نئے سیٹ اپ کی نذر ہو جائے، تو دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی، مربوط اور مستقل حکمت عملی بنانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، جسے 2014 میں بڑے جوش و خروش سے متعارف کرایا گیا تھا، آج کہاں کھڑا ہے؟ اس کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اتنی سست ہے کہ عام شہری کو یہ نام تک یاد نہیں رہا۔ مدارس کی رجسٹریشن، انتہاپسند لٹریچر پر پابندی، کالعدم تنظیموں کے دوبارہ نئے ناموں سے سرگرم ہونے کی روک تھام، یہ سب وہ شعبے ہیں جہاں حکومتی سنجیدگی کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔

معیشت اور سلامتی کا باہمی تعلق
دہشت گردی کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں، یہ معاشی بدحالی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سماجی ناانصافی کے ساتھ گہرا جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں محرومی کا احساس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور مقامی آبادی کو ترقیاتی عمل سے باہر رکھنے کا رویہ، یہ سب عناصر عسکریت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کے پاس روزگار نہیں، تعلیم کا معیار پست ہے، اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے، تو انتہاپسند بیانیہ اسے ایک "مقصد" اور "شناخت" کا جھوٹا احساس دلاتا ہے۔

حکومت کا معاشی بحران، آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار، اور ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔ جب دفاعی اور سیاسی اخراجات میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں، تو یہ ترجیحات کا وہی پرانا کھیل ہے جس کی قیمت آخرکار عام شہری اپنی جان سے چکاتا ہے۔

 بیانیے کی جنگ اور داخلی تضادات

ایک اور اہم پہلو ریاستی بیانیے کا تضاد ہے۔ ایک طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خلاف "مکمل اتفاق رائے" اور "صفر برداشت" کی پالیسی کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ مصلحت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب انتخابی سیاست یا اتحادی حکومت کی مجبوریاں درپیش ہوں۔ یہ دوہرا معیار عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ریاست واقعی اس جنگ میں سنجیدہ ہے یا یہ صرف بیرونی دنیا کو دکھانے کے لیے ایک بیانیہ ہے۔

مزید یہ کہ جب کبھی سویلین حکومت دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو سکیورٹی معاملات پر حتمی فیصلہ سازی کا اختیار اکثر عسکری قیادت کے پاس ہی مرتکز نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ جاتی عدم توازن جوابدہی کے پورے نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو سویلین حکومت پارلیمنٹ میں وضاحتیں دیتی ہے، لیکن پالیسی کے حقیقی خدوخال کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں جمہوری جوابدہی کا تصور محض علامتی رہ جاتا ہے۔
بین الاقوامی ساکھ اور اس کی قیمت

پاکستان کا نمبر ایک پوزیشن پر آنا صرف اندرونی سلامتی کا معاملہ نہیں، اس کے دور رس سفارتی اور معاشی اثرات بھی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت، اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات ایک ایسے ملک کے لیے مشکل ہو جاتے ہیں جسے دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا جائے۔ چین جیسے قریبی اتحادی بھی سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے اپنے انجینئروں اور مزدوروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بار بار خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ جب کوئی بین الاقوامی کمپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتی ہے، تو ایسی رپورٹس اس کے فیصلے پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔

اس تناظر میں حکومت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف زبانی دعووں کی بجائے ٹھوس، قابل پیمائش، اور شفاف اقدامات کرے جن کا نتیجہ عالمی سطح پر نظر آئے۔ محض یہ کہہ دینا کہ "ہم قربانیاں دے رہے ہیں" یا "دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم نہیں کرتی"، ایک جذباتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ قربانیاں دینا الگ بات ہے، اور مؤثر پالیسی کے ذریعے ان قربانیوں کو کم سے کم کرنا بالکل الگ بات ہے۔

عوامی اعتماد کا فقدان

شاید سب سے تشویشناک پہلو عوام کا حکومتی دعووں پر سے اعتماد اٹھ جانا ہے۔ جب بار بار "امن قائم ہو گیا" کے اعلانات کے بعد نئے حملے ہوتے ہیں، تو عام آدمی حکومتی بیانات کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اعتماد کا خلا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں، یہ پورے معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔ جب معاشرہ ہی ریاست کی نیت اور صلاحیت پر شک کرنے لگے، تو مقامی آبادی کی وہ حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کسی بھی حکمت عملی کی بنیاد ہوتی ہے۔

خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مقامی آبادی نے حالیہ برسوں میں سڑکوں پر نکل کر امن مارچ کیے، دھرنے دیے، اور کھلے عام حکومت اور فوج دونوں سے سوال کیا کہ ان کے علاقوں کو دوبارہ عسکریت پسندی کی لپیٹ میں کیوں آنے دیا گیا۔ یہ آوازیں کسی سیاسی جماعت کی ایما پر نہیں اٹھیں، یہ ان خاندانوں کی چیخیں تھیں جنہوں نے ایک بار پھر اپنے پیاروں کو کھونا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کا ردعمل ان مظاہروں پر بھی وہی روایتی رہا: تسلی، یقین دہانی، اور پھر خاموشی۔

کیا راستہ ہونا چاہیے تھا؟

اس تمام صورتحال کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی حل موجود نہیں۔ سب سے پہلے، سلامتی پالیسی کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک قومی اتفاق رائے پر مبنی، طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر ہر آنے والی حکومت عمل درآمد کی پابند ہو۔ دوسرا، افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے بارڈر مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے، لیکن اسے واحد حل کے طور پر پیش کرنا خود فریبی ہو گی۔ تیسرا، جن علاقوں میں محرومی اور پسماندگی عسکریت پسندی کی بنیادی وجہ ہے، وہاں حقیقی ترقیاتی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، نہ کہ صرف فوجی موجودگی میں اضافہ۔ چوتھا، اداروں کے درمیان جوابدہی کا واضح نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ سویلین حکومت اور عسکری قیادت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا کھلے عام جواب دہ ہوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں ملک میں سیاسی انتشار
جمہوری روایات کی پامالی اور سیاسی وکٹمائزیشن ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اور اقتدار کی ہوس
ملک پر قرضوں کا بوجھ جو اب جی ڈی پی کے برابر ہونے کو ہے
بے روزگاری ایسے اسباب ہیں جو اس عذاب کا بنیادی سبب ہیں جنکی وجہ سے حکومت امن قائم نہیں کر پارہی ہے

آخر میں، سب سے اہم چیز نیت کی سچائی ہے۔ جب تک ریاست کے مختلف ستون ایک ہی صفحے پر نہیں آتے، جب تک بیانیہ اور عمل کے درمیان فاصلہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک محض عالمی درجہ بندیوں پر ناراضگی کا اظہار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 ہمیں ایک موقع دے رہا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، بجائے اس کے کہ صرف باہر کی طرف انگلی اٹھائیں۔

یہ کالم اس یقین پر لکھا گیا ہے کہ تنقید محبت کی ایک شکل ہوتی ہے، اور اپنے وطن کے زخموں کی نشاندہی کرنا اس سے محبت کا انکار نہیں بلکہ اس کے علاج کی خواہش ہے۔

 ہے۔


پیر، 14 ستمبر، 2026

یمن کا سعودی عرب پر حملہ /کیا اسرائیل امریکہ کی سازش ہے ؟

Al-Sadat News Pakistan 
تحریر تجزیہ سید محمد شاہ غرشین 
CEO Al Sadat News Pakistan 




عالمی بحری تجارت کا اہم مقام اب حوثی قبضے میں بیرریم جزی  
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع تزویراتی لحاظ سے نہایت اہم جزیرے 'پیریم' پر اپنا کنٹرول جما لیا ہے، جس نے سعودی عرب سمیت پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
حوثی جنگجو تسلسل کے ساتھ یمن کے اُن ساحلی حصوں کی جانب بڑھ رہے ہیں جو سعودی سرحد اور دنیا کی مصروف ترین گزرگاہ 'باب المندب' سے قریب ہیں۔

 اسی دوران وہ سعودی جہازوں اور تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پیریم پر ان کا تسلط امریکا اور سعودی عرب دونوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد پیریم کے گرد و نواح سے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی کُل بحری تجارت کا قریب ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ امریکی توانائی ادارے کے مطابق 2025 میں باب المندب سے یومیہ تقریباً 45 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی جو اب بڑھ کر 81 لاکھ بیرل روزانہ ہو چکی ہے۔


مقامی طور پر 'میّون' کے نام سے جانا جانے والا یہ جزیرہ محض پانچ مربع میل پر مشتمل ایک بنجر، آتش فشانی زمین ہے جو یمن کی حدود میں آتا ہے اور باب المندب کے عین قریب واقع ہے۔ اس کے ایک طرف یمن جبکہ دوسری جانب اریٹیریا اور جبوتی (ہارن آف افریقہ) موجود ہیں۔ یہاں بحیرہ احمر انتہائی تنگ ہو کر عرب اور افریقی سرزمین کے درمیان محض 

بارہ میل کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ 
ماضی میں ایشیا اور یورپ کے مابین تجارتی جہازوں کو افریقہ کے گرد چکر لگانا پڑتا تھا، مگر نہرِ سوئز کی تعمیر نے بحیرہ احمر کے راستے ایک نیا راستہ کھول دیا جس کا اہم موڑ باب المندب ہے۔ عربی میں اس نام کا مطلب 'آنسوؤں کا دروازہ' لیا جاتا ہے، جو غالباً یہاں کی مشکل سمندری گزرگاہ، تیز دھاروں اور چٹانی خطرات کی نسبت سے رکھا گیا۔ 

آبنائے ملاکا اور ہرمز کے بعد یہ دنیا کا تیسرا مصروف ترین بحری چوک پوائنٹ شمار ہوتا ہے۔
پیریم کا محلِ وقوع اسے اس پورے راستے پر نگرانی اور تسلط کا موقع فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے یہ جزیرہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے — اور اب یہ حوثیوں کے ہاتھ میں ہے۔

 عالمی میری ٹائم تنظیم کے مطابق دنیا کی تقریباً 10 سے 12 فیصد تجارت روزانہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
اس قبضے کے بعد حوثیوں کے پاس یہ صلاحیت آ گئی ہے کہ وہ جب چاہیں تیل کی عالمی ترسیل اور تجارت کو روک سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ راستہ سعودی عرب کے سوا باقی تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا۔ سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، ایران سے جنگ سے قبل روزانہ قریب 2 کروڑ بیرل تیل برآمد کرتا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس نے متبادل کے طور پر زمینی پائپ لائن اور بندرگاہ 'ینبع' کا سہارا لیا، جہاں سے روزانہ 45 لاکھ بیرل میں سے قریباً 30 لاکھ بیرل باب المندب کے راستے برآمد ہوتا تھا۔ 

حوثی خطرات کے باعث اگست میں یہ مقدار گھٹ کر محض 4 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، اور اب مزید کمی واقع ہو چکی ہے۔ ماہرین اسے سعودی عرب اور عالمی تجارت کے لیے ایک سنگین معاشی اور تزویراتی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
اس جزیرے کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ 1798 میں نپولین کی مصر پر یلغار کے بعد برطانیہ کو خدشہ ہوا کہ فرانس ہندوستان کی طرف بڑھ سکتا ہے، چنانچہ 1799 میں برطانیہ نے پیریم پر قبضہ کر کے اسے فوجی چوکی بنانے کی کوشش کی، مگر توپوں کی محدود رینج اور میٹھے پانی کی عدم دستیابی کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ 1857 میں، جب سوئز کینال کی تعمیر شروع ہوئی تو برطانیہ نے دوبارہ اس جزیرے پر قبضہ کر لیا۔ 

نہر کے کھلنے کے بعد بھاپ سے چلنے والے جہازوں کی تعداد بڑھی جنہیں کوئلے کی ضرورت تھی، اور چونکہ پیریم کا جنوبی ساحل عدن کے مقابلے میں زیادہ گہرا تھا، اس لیے 1881 میں یہاں ایک کوئلہ کمپنی قائم کی گئی، جس نے جزیرے کو کچھ عرصے کے لیے بحری سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ تاہم 1930 کی دہائی میں جب جہاز تیل پر منتقل ہوئے تو عدن نے خود کو ڈھال لیا مگر پیریم کی کوئلہ کمپنی 1935 میں دیوالیہ ہو گئی،

 اور جزیرہ دوبارہ گمنامی میں چلا گیا۔ برطانوی تسلط 1967 تک قائم رہا، جس کے بعد یمنی آزادی کی تحریک کے نتیجے میں یہ جنوبی یمن کا حصہ بن گیا۔

اتوار، 6 ستمبر، 2026

پاکستانی قوم وملک کی محرومی کے اسباب

Al-Sadat News Pakistan 





ے


جب تک مقامی سطح پر کونسلرز اور ناظمین کے پاس فنڈز اور فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، بڑے شہروں پر بوجھ بڑھتا رہے گا اور چھوٹے علاقے پسماندہ رہیں گے۔اگر آپ اس مباحثے یا پاکستان اتحاد نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کے دیگر نکات کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں، تو مجھے بتائیں:کیا آپ کو اس کانفرنس کی دیگر تقاریر اور سفارشات کی تفصیلات درکار ہیں؟کیا آپ زرعی پالیسی اور کسانوں کے حقوق پر مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ AI can 

Al Sadat News Pakistan 

www.alsadatnewspk.com

pub-1468160377663484


پاکستانی قوم با شعور ہے مگر یہاں نظام پر ڈاکو مسلط ہیں

Al-Sadat News Pakistan 





پاکستانی حکمرانوں کو بس چلے تو اس قوم کو تعلیم میڈیا سے کہیں دور کے جاتے تر آلہ

یہ شعور نہ حاصل کرسکتے مگر وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے 
بہت نکلے ارماں میرے مگر پھر بھی کم نکلے 
یہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہے کی گفتگو ہے سنیں 
پھر آپ فیصلہ کریں کیا اب یہ قوم مزید اس نو آبادیاتی نظام کو چلنے دیں گے ؟
میرے خیال سے ہرگز نہیں چلنے دیں گے 
اگر ان ظالمانہ نظام نے خود اپنا راستہ نہ بدلا تو پھر یہ لاوا پھٹ جائے گا 
www.alsadatnewspk.com

pub-1468160377663484

پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت: آئینی و انتظامی جائزہ

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ

تحریر/تجزیہ سید محمد شاہ غرشین 

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ  کی نئے صوبے بنانے کی ضرورت کے تحت آئین کے آرٹیکل 239(4( میں تبدیلی کرکے   محض چند جماعتوں کے پانچ چھ سو ممبران اسمبلی کے اقتدار کو ختم کرکے وسائل اور اختیارات عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور بلاشبہ یہ وقت کی ضرورت ہے



 اس منصوبے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جو اس ہائبرڈ نظام سے مستفید ہورہی ہے سخت مخالفت کا فیصلہ کیا ہے 

اس مخالفت کا آگر تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ وسائل ہمیشہ کی طرح ان کے پاس رہیں ان کی مرضی کے فیصلے کو۔  مسلط کیا جاتا رہے 
اگر یہ نئے صوبے بن گئے تو ان کا اقتدار پورے ملک پر سے سکڑ کر ایک دو صوبوں تک محدود ہو جائے گا اور اسی ڈر کی وجہ سے مخالفت کی جارہی ہے ۔ کیوں کہ یہ دونوں جماعتیں اپنا عوامی مینڈیٹ کھو چکی ہیں 
پاکستان کی عوام ان سے  نفرت کرتی ہے  اب ان کو ایک طرف اس منصوبے سے اپنا اقتدار خطرے میں لگ رہا ہے دوسری عمران خان کا ڈر ہے ۔ مکافات عمل ان کو اس دہرائے پر ل آیا ہے جہاں سے بچنا شاید ممکن نہیں ہے 

بالخصوص 2024 کے الیکشن چوری ڈکیٹی کرنے کے بعد جس طرح یہ ہٹ دھرمی سے اقتدار پر قابض ہوگئے ہیں اس سے ان کی اخلاقی مورالٹی اور دیانتداری کا جنازہ عوام پڑہ چکی ہے  اور  پھر بار بار مواقع ملنے باوجود یہ نہ سدھرے اور اپنی عیاشیوں اور حُکمرانی کا طریقہ نہ بدلا ملک اور قوم مسلسل قرض میں  ڈوبی ہوئی ہے بے روزگاری عروج پر ہے نوجوان مایوس ہیں  ملک میں ادارہ جاتی کرپشن عروج پر ھے عوام سسک سسک کر مر رہی ہے 
غریب اپنے بچے ذبح کر رہا ہے کیونکہ وہ انہیں روٹی نہیں دے سکتا مگر ان کی کارکردگی عوامی خدمات کے حوالے سے صفر ہے  یا مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر ہے 
آج ہم اس منصوبے کے خدو خال بلوچستان کے حوالے سے بات کریں گے خاص کر کیوں کہ بلوچستان ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور سے زیادہ غریب ہے اور دہشت گردی کا شکار بھی ہے  بلوچستان کا مجوزہ نقشہ اس تقسیم کے بعد یہ ہوگا 



پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی بحث پچھلے کچھ ہفتوں سے دوبارہ زور پکڑ گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حالیہ عرصے میں متعدد مواقع پر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام مؤثر طریقے سے نہیں چل پا رہا، آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، اور 79 سال بعد انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں صحافیوں کو دی گئی بریفنگز اور بعض ذرائع کی رپورٹس میں ملک کو مجموعی طور پر بتیس (32) نئے وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی ایک تفصیلی تجویز کا ذکر سامنے آیا ہے، جس کے تحت پنجاب میں دس، سندھ میں سات، خیبرپختونخوا میں سات اور بلوچستان میں آٹھ نئے صوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی 33 ہائی کورٹس اور تقریباً چالیس ہزار انتظامی آسامیوں کے خاتمے کی بات بھی کی گئی ہے، جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کی بچت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ ضروری وضاحت ہے کہ یہ تجویز ابھی تک کسی حتمی حکومتی فیصلے یا آئینی ترمیم کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ یہ ایک زیرِ غور خاکہ اور پریزنٹیشن ہے جس پر حکومتی و مقتدر حلقوں میں گفتگو جاری ہے، اور اسے قانونی حیثیت دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 کے علاوہ آرٹیکل 1، 51، 59 اور 106 میں بھی ترمیم درکار ہوگی، کیونکہ ان شقوں کا تعلق وفاقی اکائیوں کی تعریف، قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے ہے۔ دو تہائی اکثریت کے بغیر ایسی کوئی ترمیم ممکن نہیں، اور موجودہ سیاسی منظرنامے میں یہ اکثریت آسانی سے میسر نظر نہیں آتی۔



بلوچستان کے لیے مجوزہ تقسیم
اگر بلوچستان کی حد تک اس بحث کو دیکھا جائے تو گردش کرنے والی تجویز کے مطابق صوبے کو سات سے آٹھ چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن کی بنیاد کسی حد تک صوبے کے موجودہ ڈویژنل ڈھانچے پر رکھی گئی ہے:
نصیرآباد — جعفرآباد، جھل مگسی، کچھی، صحبت پور
سبی (سیوی) — ڈیرہ بگٹی، کوہلو، ہرنائی، زیارت
قلات — خضدار، لسبیلہ، مستونگ، سوراب
مکران — گوادر، کیچ، پنجگور
رخشان (درخشاں) — خاران، واشک، نوشکی
کوئٹہ — کوئٹہ ایسٹ، کوئٹہ ویسٹ، پشین، قلعہ عبداللہ
لورالائی — دکی، بارکھان، موسیٰ خیل
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس فہرست کا بڑا حصہ دراصل بلوچستان حکومت کے اُس انتظامی نوٹیفکیشن سے ملتا جلتا ہے جو رواں سال جولائی میں جاری کیا جا چکا ہے، جس کے تحت صوبہ 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع پر مشتمل کر دیا گیا ہے، اور کوئٹہ کو دو الگ اضلاع — کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ — میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔ یعنی زمینی حقیقت میں ابھی تک جو کچھ ہوا ہے وہ ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیلِ نو ہے، نہ کہ نئے صوبوں کا قیام۔ نئے صوبے بنانا ایک الگ اور کہیں زیادہ پیچیدہ آئینی عمل ہے، جس میں ہر صوبے کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور مکمل انتظامی مشینری درکار ہوگی۔
دلائل، جو تقسیم کے حق میں دیے جا رہے ہیں
اس تجویز کے حامیوں کا مؤقف یہ ہے کہ موجودہ صوبے 1970 کی دہائی کے لسانی و علاقائی خطوط پر قائم ہوئے تھے، اور نصف صدی سے زائد گزر جانے کے بعد آبادی میں اضافے، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور فیصلہ سازی کے مرکز سے دوری جیسے مسائل نے نچلی سطح پر گورننس کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں ترقیاتی فنڈز کی بہتر تقسیم، تیز فیصلہ سازی اور عوام کی دہلیز تک اختیارات پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، اور بھارت، نائیجیریا و ایتھوپیا جیسی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جہاں چھوٹے انتظامی یونٹس نے گورننس بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔




مخالفت اور تحفظات
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت نے اس بحث پر سخت ردعمل دیا ہے۔ سندھ کے وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ سمیت پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے محض انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ اپنی تاریخ، شناخت اور آئینی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس نوعیت کے بیانات کی حساسیت کو سمجھا جانا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے تو وفاقی وزیرِ داخلہ سے استعفے کا مطالبہ بھی کر ڈالا، اور اس تجویز کو ہائبرڈ نظام کی توسیع اور آئینی دائرہ کار سے تجاوز قرار دیا۔ کئی تجزیہ کار یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جس وقت قوم پہلے ہی سیاسی و معاشی طور پر دباؤ میں ہے، ایسے میں صوبوں کی مزید تقسیم اتحاد کی بجائے مزید تقسیم اور بداعتمادی کو جنم دے سکتی ہے۔ ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کا مؤقف بھی دوغلے پن کا شکار نظر آتا ہے — سندھ میں تقسیم کی مخالفت اور پنجاب میں حمایت، جس پر خود اس جماعت کے اندر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
اخراجات کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر نئے صوبے کے لیے علیحدہ ہائی کورٹ (موجودہ سیشن کورٹس کی سطح بلند کر کے)، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، صوبائی اسمبلی اور مکمل بیورو کریٹک ڈھانچہ درکار ہوگا۔ اگر چہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ غیرضروری آسامیاں ختم کر کے بچت ممکن ہے، لیکن ابتدائی طور پر نئے دفاتر، عمارات اور مشینری کے قیام پر بھاری اخراجات ناگزیر ہوں گے، خصوصاً بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔
بلوچ بیلٹ اور سیکیورٹی کا سوال
بلوچستان کی حد تک سب سے حساس پہلو سیکیورٹی کا ہے۔ خضدار، قلات اور مکران پر مشتمل علاقے ایک عرصے سے شورش اور دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ تجویز کے حامیوں کا خیال ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس مقامی سطح پر تیز رسپانس، بہتر انٹیلیجنس شیئرنگ اور مقامی آبادی کے ساتھ براہِ راست رابطے کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی سرحدیں اور نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا عمل خود کئی برس لے گا، اس دوران سیکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ اور عدالتی نظام کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، اور مقامی سیاسی جماعتیں، خصوصاً بلوچ قوم پرست حلقے، اسے اپنی شناخت اور وسائل پر مرکز کے مزید کنٹرول کی کوشش کے طور پر بھی دیکھ سکتی ہیں — ایسا تاثر جو موجودہ بداعتمادی کو کم کرنے کی بجائے بڑھا سکتا ہے۔
نتیجہ
بلاشبہ آبادی میں اضافہ، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور طرزِ حکمرانی کے مسائل حقیقی ہیں، اور ان پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ لیکن نئے صوبوں کا قیام کوئی ایسا فیصلہ نہیں جو محض انتظامی دستاویز یا صحافیوں کو بریفنگ کے ذریعے کیا جا سکے۔ یہ ایک وسیع تر آئینی، سیاسی اور مالی عمل ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلیوں کی رضامندی، دو تہائی پارلیمانی اکثریت اور، سب سے بڑھ کر، متعلقہ آبادیوں کا اعتماد درکار ہوگا۔ 

فی الحال جو کچھ زمین پر موجود ہے وہ بلوچستان کے اندر نئے ڈویژنوں اور اضلاع کی تشکیلِ نو ہے، جبکہ 32 نئے صوبوں کا خاکہ تاحال ایک زیرِ بحث تجویز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ بحث کسی حقیقی آئینی پیش رفت کی صورت اختیار کرتی ہے یا سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کے بعد دیگر بہت سی تجاویز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔
اس وقت پاکستان کی حقیقی عوامی نمائندہ جماعت پی ٹی آئی ہے اور پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے یہ منصوبہ جس پر اسٹیبلشمنٹ کام کررہی ہے عوامی حمایت دو تہائی اکثریت کے بغیر یہ منصوبہ پائے تکمیل تک نہیں پہنچے گا اس پر مشاورت جاری ہے اگر اسٹیبلشمنٹ عمران کی شرائط مان گئی تو پی ٹی آئی یہ کام کر سکتی ہے  عمران خان وہ واحد شخصیت ہیں جس پر قوم آنکھیں بند کرکے اعتبار کرتی ہے اگر ان کو اقتدار ملا آئین مکمل بحال ہوا تو بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بھی قومی دھارے میں واپس آجائیں گی اور کے پی کے میں دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے کی بی وکشمیر کی عوام بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں وہاں بھی زندگی معمول پر سجائے گی اور فوج کے خلاف نفرت اور نا پسند دیدگی کا یہ ماحول ختم ہو جائے گا 
بین الاقوامی دنیا بھی ان کے ساتھ چلنے کا تیار ہے وہ سب کے ساتھ برابری کا تعلق چاہتے ہیں مگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو ملک وقوم کی خاطر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی سیاست میں کسی کو مائنث نہیں کیا جاسکتا بالخصوص عمران خان کو تو کسی صورت نہیں کرسکتے ہیں 
 کو اب دہشت گردی، قرض، بے روزگاری اب یہ غداری کے سرٹیفکیٹ کی تقسیم بند کی جائے ملک وقوم کی سوچیں ملکر

چلیں اب قوم تنگ اگئ ہے اس نو آبادیاتی نظام سے اور روز کی آپس کی لڑائی سے 

(یہ تحریر دستیاب رپورٹس اور بیانات کی بنیاد پر تیار کردہ تجزیہ ہے۔ چونکہ معاملہ تاحال زیرِ بحث ہے، حتمی تفصیلات میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔) اس وقت متحدہ اپوزیشن ہیں اس ملک وقوم کے مسائل کا حل کر سکتی ہے 
6/9/2026 
www.alsadatnewspk.com

پیر، 24 اگست، 2026

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan 

ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت




تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کا سفر شروع دن سے ہی رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک عوامی رائے کو جس طرح عزت اور مقام ملنا چاہیے تھا، وہ کبھی پوری طرح نہیں مل سکا۔ ووٹ کو امانت کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس امانت کے ساتھ بارہا ایسا سلوک ہوا کہ عام آدمی کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا چلا گیا۔ ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات، نتائج پر تحفظات اور عوامی مینڈیٹ چرائے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات نے تو ان خدشات کو انتہا پر پہنچا دیا۔ عوام نے جن امیدواروں کو منتخب کیا تھا، رات کی تاریکی میں نتائج تبدیل کر کے فارم سینتالیس کے ذریعے ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔ یہ محض ایک الزام نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا وہ دکھ ہے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے ووٹ کی بے حرمتی ہوتے دیکھی۔

اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہمارا انتخابی نظام اتنا کمزور اور مشکوک کیوں ہے کہ ہر بار نتائج پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اس کی جڑیں صرف انتظامی بدعنوانی میں نہیں بلکہ خود نظام کے ڈھانچے میں بھی پیوست ہیں۔ ذیل میں ہم ان بنیادی مسائل کا جائزہ لیں گے جو ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور ان اصلاحات پر بات کریں گے جو اس نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔

کم ٹرن آؤٹ کا المیہ

پاکستان میں انتخابی شرکت کی شرح کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ عمومی طور پر یہ شرح تیس سے چالیس فیصد کے درمیان رہتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی حلقے میں ساٹھ سے ستر فیصد اہل ووٹرز الیکشن کے دن گھروں پر ہی رہتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی بےزاری، امیدواروں پر عدم اعتماد، نتائج میں ہیر پھیر کا خدشہ، سیکیورٹی کے مسائل، گرمی یا موسم کی شدت، اور ووٹر لسٹوں میں غلطیاں شامل ہیں۔ جب اکثریت ووٹ ڈالنے ہی نہیں آتی تو باقی رہ جانے والی اقلیت کا فیصلہ پورے حلقے پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے عین منافی ہے۔

جماعتوں کی بھرمار اور ووٹ کی تقسیم

دوسرا بڑا مسئلہ سیاسی جماعتوں کی بے تحاشا تعداد ہے۔ ہر سال درجنوں نئی جماعتیں وجود میں آتی ہیں، اور ہر حلقے میں دس، بارہ یا پندرہ تک امیدوار میدان میں اترتے ہیں۔ فرض کریں کسی حلقے میں دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ساٹھ فیصد لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آتے، تو باقی صرف چار لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اب یہ چار لاکھ ووٹ پندرہ امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جیتنے والا امیدوار زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد ووٹ لے کر ہی کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اسی فیصد لوگ اس نمائندے کے مخالف تھے، مگر پھر بھی وہ ان پر حکمرانی کرنے کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کی خامیاں

پاکستان میں رائج انتخابی طریقہ کار، جسے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کہا جاتا ہے، اسی مسئلے کی جڑ ہے۔ اس نظام کے تحت جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اس کے حاصل کردہ ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فیصد سے کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ دنیا کے کئی ممالک اس نظام کی خامیوں کو محسوس کرتے ہوئے متبادل طریقے اپنا چکے ہیں، جیسے کہ رن آف الیکشن یا متناسب نمائندگی کا نظام، جہاں کامیابی کے لیے ایک مخصوص فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں اگر کوئی امیدوار مطلوبہ فیصد ووٹ حاصل نہ کر پائے تو سرفہرست دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے، تاکہ حتمی فاتح واقعی اکثریت کی حمایت رکھتا ہو۔

جیت کے تناسب میں اصلاح کا مطالبہ

اسی تناظر میں یہ تجویز نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کامیابی کے لیے کم از کم ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ اصول نافذ ہو جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے تو غیر سنجیدہ اور محض ووٹ تقسیم کرنے کے لیے میدان میں اترنے والی سینکڑوں چھوٹی جماعتیں خود بخود منظر سے ہٹ جائیں گی، کیونکہ کوئی بھی امیدوار اکیلے اتنی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں مجبور ہوں گی کہ وہ آپس میں اتحاد بنائیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور عوام کے سامنے واضح اور قابل عمل ایجنڈا پیش کریں۔ اس سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملے گی اور حکومت سازی زیادہ نمائندگی پر مبنی ہوگی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ واقعی اکثریت کی حمایت سے کامیاب ہوگا، جس سے اس کی حکومت کو اخلاقی اور سیاسی جواز حاصل ہوگا اور عوام میں یہ تاثر پیدا نہیں ہوگا کہ ایک اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی مسلط کر دی ہے۔

ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک تصدیق کی اہمیت

دوسرا مطالبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا کسی ایسے تصدیقی نظام کے استعمال سے متعلق ہے جو جعلی اور بوگس ووٹنگ کا سدباب کر سکے۔ روایتی کاغذی طریقہ کار میں انسانی مداخلت کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس سے گنتی میں تاخیر، غلطیاں اور جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں تو ہر ووٹر کی شناخت یقینی بنائی جا سکتی ہے، ایک شخص ایک سے زیادہ بار ووٹ نہیں ڈال سکے گا، اور نتائج فوری اور شفاف طریقے سے سامنے آ سکیں گے۔ اگرچہ الیکٹرانک نظام کو بھی اپنے تکنیکی چیلنجز اور سائبر تحفظ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر مناسب حفاظتی اقدامات اور شفاف آڈٹ کے ذریعے ان خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے انتخابی عمل کی ساکھ بحال کر سکتا ہے۔

 منتخب نمائندوں کے لیے تعلیمی و اہلیتی معیار کیا ہونا چاہیے 

تیسرا اور نہایت اہم مطالبہ یہ ہے کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدواروں کی اہلیت کا ایک واضح معیار مقرر کیا جائے۔ اس وقت کوئی بھی شخص، چاہے اس کی تعلیمی قابلیت کچھ بھی ہو، الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر ایسے افراد قانون سازی کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قانون سازی یا حکمرانی کے پیچیدہ امور کا خاطر خواہ ادراک نہیں ہوتا۔ اگر پی ایچ ڈی، ایم فل، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد کو آگے آنے کا موقع ملے تو قوم کو ایسی قیادت میسر آ سکتی ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہو اور بہتر پالیسی سازی کر سکے۔ یہ تجویز ان جمہوریتوں کے تجربے سے بھی ہم آہنگ ہے جہاں امیدواروں کے لیے کم از کم تعلیمی یا تجرباتی معیار مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ایوان میں سنجیدہ اور باصلاحیت افراد پہنچ سکیں۔

پاکستان کا انتخابی نظام آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس میں اصلاحات کی ضرورت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کم ٹرن آؤٹ، جماعتوں کی بھرمار، ووٹ کی تقسیم، شفافیت کا فقدان اور نااہل امیدواروں کی بھرمار، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں عوام کی حقیقی رائے کبھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتی۔ کامیابی کے لیے واضح اکثریتی تناسب مقرر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانا، اور امیدواروں کے لیے اہلیتی معیار طے کرنا، یہ تینوں اقدامات مل کر پاکستان کے جمہوری نظام کو زیادہ مضبوط، شفاف اور نمائندہ بنا سکتے ہیں۔

تاہم اس بحث کے دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ ماہرین اور سیاسی حلقے ان تجاویز پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ لازمی قرار دینا ایک کثیر الجماعتی اور متنوع معاشرے میں عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بار بار انتخابات یا رن آف مقابلوں کی ضرورت پیش آئے گی، جو کہ مالی اور انتظامی طور پر بوجھ بن سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی اور نئی جماعتوں کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی تنوع اور نئی آوازوں کا سامنے آنا جمہوریت کی صحت کے لیے ضروری ہے، اور بہت سخت شرائط ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے بھی کچھ حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی تک عوامی رسائی، خواندگی کی شرح، اور سائبر تحفظ کے مسائل کو پہلے مکمل طور پر حل کیے بغیر ایسا نظام نافذ کرنا نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح امیدواروں کے لیے تعلیمی معیار مقرر کرنے کی تجویز پر بھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ سیاسی تجربہ اور عوامی رابطہ بھی قیادت کی اہلیت کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنی کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری، اور محض ڈگری کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ کرنا کچھ باصلاحیت اور عوامی حمایت رکھنے والے افراد کو سیاسی عمل سے باہر کر سکتا ہے۔

بہرحال، ان تمام تحفظات کے باوجود یہ بات طے ہے کہ موجودہ نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے، تاکہ ووٹ کی حرمت بحال ہو اور عوام کا اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔
pub-1468160377663484


www.alsadatne2spm.com

ہفتہ، 22 اگست، 2026

جب قانون ساز ادارے قانون کے خلاف کام کریں ؟

Al-Sadat News Pakistan

جب قانون خود قانون کے راستے میں کھڑا ہو جائے

 تحریر تجزیہ : سید محمد شاہ غرشین

 CEO Al Sadat News Pakistan 



کبھی آپ نے سوچا ہے کہ رات کے کسی پہر دروازے پر دستک ہو، اور آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے خلاف ایک ایسا مقدمہ درج ہوچکا ہے جس کا آپ سے دور کا بھی تعلق نہیں؟
 کہ آپ کا "جرم" صرف یہ تھا کہ آپ نے سچ بولا، کسی کے ظلم پر آواز اٹھائی، یا محض کسی کی سیاسی مخالفت میں کھڑے رہے؟

یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں۔ یہ ہزاروں گھروں کی کہانی ہے جہاں ماں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے تھانے کے چکر کاٹتی ہے، بیوی اپنے شوہر کی ضمانت کے لیے وکیلوں کی فیسیں جمع کرنے کے لیے زیور بیچتی ہے، اور بچے یہ سوال کرتے ہیں کہ "بابا کب واپس آئیں گے؟" 
جبکہ بابا کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ تھے، یا کسی طاقتور کے سامنے سر جھکانے سے انکاری تھے۔
   
 قانون کیا کہتا ہے، اور عمل میں کیا ہوتا ہے

ہمارا آئین اور ہمارا قانون، پاکستان پینل کوڈ، اس ظلم کے خلاف واضح دفعات رکھتا ہے۔ دفعہ 182 اس شخص کو مجرم ٹھہراتی ہے جو جان بوجھ کر کسی سرکاری اہلکار کو جھوٹی اطلاع دے تاکہ کسی بےگناہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ دفعہ 211 اس سے بھی آگے جاتی ہے 
 یہ اس شخص کو سزا دیتی ہے جو جانتے بوجھتے کسی پر جھوٹا فوجداری الزام لگا کر اس کی زندگی، عزت اور آزادی کو داؤ پر لگا دے۔

اور جب یہی ظلم کوئی سرکاری ادارہ خود کرے تو دفعہ 166 اور 167 اس اہلکار کو کٹہرے میں لاتی ہیں جو اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قانون کے راستے سے ہٹ کر کسی کو نقصان پہنچائے۔ دفعہ 220 اس شخص کو مجرم قرار دیتی ہے جو جانتے ہوئے کہ کسی کی حراست غیر قانونی ہے، پھر بھی اسے قید میں رکھے۔

یہ الفاظ کتابوں میں خوبصورت لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زمین پر کہاں ہیں؟

 جب ادارے خاموش تماشائی بن جائیں

جب کوئی عام شہری کسی کے خلاف جھوٹی FIR درج کرواتا ہے، تو نظام کے پاس اسے روکنے کے راستے موجود ہیں 
 جسٹس آف پیس، ہائی کورٹ کی نگرانی، تفتیش کا عمل۔ مگر جب یہی کھیل کوئی طاقتور ادارہ سیاسی بنیادوں پر کھیلے، تو یہی راستے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ رات کی تاریخوں میں مقدمات درج ہوتے ہیں، ایک ہی واقعے پر درجنوں دفعائیں لگا دی جاتی ہیں، اور جس کا سیاسی نظریہ کسی کو ناپسند ہو، اسے راتوں رات "دہشت گرد" یا "غدار" بنا دیا جاتا ہے۔

یہ صرف اس ایک انسان کے ساتھ ظلم نہیں۔ یہ اس پورے معاشرے کے ساتھ دھوکہ ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ کیونکہ جب قانون کا رکھوالا ہی قانون کو ہتھیار بنا کر استعمال کرے، تو عام آدمی کہاں جائے؟ کس کے دروازے پر دستک دے؟
    یہ خاموشی اب مزید نہیں چل سکتی

ہر وہ شخص جو آج کسی سیاسی وابستگی کی بنا پر جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے، وہ کل کوئی عام شہری بھی ہو سکتا ہے 

 کوئی صحافی جو سچ لکھے، کوئی وکیل جو مظلوم کا ساتھ دے، کوئی استاد جو سوال اٹھائے۔ یہ سلسلہ جہاں سے شروع ہوتا ہے، وہاں رکتا نہیں 
یہ پھیلتا جاتا ہے، جب تک کوئی اسے روکے نہ۔

قانون خاموش نہیں ہے۔ دفعہ 182، 211، 166، 167 اور 220 موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دفعات صرف کاغذ پر نہ رہیں — کہ عدالتیں، بار کونسلیں، میڈیا اور عوام مل کر یہ آواز بلند کریں کہ جس اہلکار نے اختیار کا ناجائز استعمال کیا، اسے بھی اسی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جس کٹہرے میں وہ بےگناہوں کو کھڑا کرتا ہے۔

انصاف کوئی مراعات یافتہ طبقے کی میراث نہیں۔ یہ ہر اُس ماں کا حق ہے جو اپنے بیٹے کی واپسی کی دعا مانگتی ہے، ہر اُس بچے کا حق ہے جو اپنے باپ کا انتظار کرتا ہے، اور ہر اُس شہری کا حق ہے جو صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کا ملک قانون کی حکمرانی میں چلے، خوف کی حکمرانی میں نہیں۔

خاموش رہنا اب انصاف کی توہین ہے۔ آواز اٹھانا اب ضرورت ہے۔

حکومت پاکستان اور بلوچستان میں امن کی کوشش

Al-Sadat News Pakistan 

بلوچستان کے مسائل اور ان کا حل کیا ہے ؟

تحریر/تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین 




ہر ملک اور معاشرے کی بقا کا راز اس بات

 میں مضمر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مظلوموں کی آواز کس حد تک سنتا ہے اور ان کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے کس قدر خلوصِ نیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بلوچستان—جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا لیکن ترقی و وسعتِ قلب کے معاملے میں طویل عرصے سے ایک نادیدہ گوشہ بنا رہا—آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی نئی سطریں لکھی جا سکتی ہیں۔
ہم نے بارہا اپنے قلم سے یہ حقیقت واضح کی تھی کہ طاقت کا استعمال، بندوق کی گونج اور جبری خاموشی کبھی کسی پائیدار امن کا پیش خیمہ نہیں بن سکتے۔ زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اگر ان پر مزید ضرب لگائی جائے تو درد ناسور بن جاتا ہے۔ بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور ساحلوں کی سچی آواز ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہاں کے مسائل کا حل گولی میں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے اور محرومیوں کا خاتمہ کرنے میں ہے۔
آج جب حکومت کی جانب سے "بلوچستان نیشنل ورکشاپ" کے ذریعے تمام مکاتبِ فکر، مقامی رہنماؤں، علمائے کرام اور عوام کو ایک چھت تلے جمع کر کے مشاورت کی راہ اپنائی گئی ہے، تو بلا شبہ یہ اندازِ فکر "دیر آید درست آید" کی مصداق ہے۔ یہ اعتراف کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، سونے، تانبے اور معدنیات پر پہلا اور بنیادی حق وہاں کی مٹی اور4 اس کے بچوں کا ہے، ایک انتہائی خوش آئند اور سراہنے کے قابل قدم ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ صرف اعداد و شمار یا سیاست کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ جیتی جاگتی انسانی زندگیوں اور ان کے جذبات کا معاملہ ہے۔ جب تک لسبیلہ سے لے کر چمن تک، اور مکران کے ساحل سے لے کر لورالائی اور کوئٹہ کی وادیوں تک کے ہر بچے کو معیارِ تعلیم نہیں ملے گا، جب تک ہسپتالوں میں ادویات، پینے کا صاف پانی، روزگار کے باوقار مواقع اور محفوظ سڑکیں میسر نہیں ہوں گی، تب تک احساسِ محرومی کی برف پگھل نہیں سکتی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ان مشاورتی نشستوں کو صرف لفظی دعوؤں اور خبروں کی حد تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں عملی شکل دی جائے۔

مسائل کا پائیدار حل اور تجاویز
صادقانہ گفتگو اور مذاکرات: ناراض طبقات کے ساتھ بلا مشروط، وسیع البنیاد اور سنجیدہ مذاکرات ہی امن کی واحد ضمانت ہیں۔ طاقت کی حکمتِ عملی کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی انداز میں مسائل کو حل کیا جائے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم: ریکوڈک اور گواڈر جیسے عظیم الشان پروجیکٹس کا پہلا براہِ راست فائدہ مقامی آبادی تک پہنچنا چاہیے۔ وہاں کے نوجوانوں کو ٹیکنیکل تربیت دے کر انہی منصوبوں میں کلیدی عہدوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔
بنیادی انسانی سہولیات کی فراہمی: صحت، پینے کا صاف پانی، معیاری سکول و کالج اور سڑکوں کا جال فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ کوئی بھی خطہ اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا عام شہری زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستا رہے۔

عوامی اعتماد کی بحالی: صوبے کے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں ریاست کے ساتھ تعلق اور تحفظ کے احساس کو دوبارہ بیدار کرنا ہوگا، تاکہ غیر ملکی یا ملک دشمن عناصر ان کی محرومیوں کو اپنے شوم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔ 
بلوچستان صرف معدنیات اور جغرافیائی اہمیت کا نام نہیں، بلوچستان انسانوں کا نام ہے—ان انسانوں کا جو عزت، محبت اور مساوی حقوق کے طالب ہیں۔ اگر آج ریاست نے تدبر، دردمندی اور انسانی جذبے سے کام لیتے ہوئے ڈائیلاگ اور ترقی کے اس راستے کو مضبوطی سے تھامے رکھا، تو یقیناً وہ دن دور نہیں جب بلوچستان کے سرسبز و شاداب مستقبل سے پورا پاکستان روشن ہوگا
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی بلوچستان پیکج کے نام پر کوشش ہوئی بہت سارے فراری کمانڈر تسلیم ہوئے عام معافی کا اعلان ہوا مگر مسئلہ حل نہیں ہوا میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کے ذریعہ مسائل حل کی کوشش کی گئی شاید وہ مخلص نہیں تھے 
یا یہ وجہ تھی کہ اس کوشش سے عوام اور ریاست کے درمیان جو نفرت تھی فاصلے تھے وہ کم نہ ہوسکے  عام آدمی  کا اعتماد بحال نہیں ہوا ناراض لوگ راضی نہ ہوئے اس وجہ سے مسئلہ حل نہیں ہوا تھا بلوچستان میں سب پہلے انصاف ہوتا نظر آئے 
اور ترقی عوام تک پہنچنی چاہیے اور عام معافی کا اعلان کیا جائے و مسائل کا حل  ہوتا نظر آئے معدنیات پر حق تسلیم کیا جائے جبری  گمشدگیوں کو ختم کیا جائے 
ماوراء عدالت قتل اور تفتیش کو بند کیا جائے 
جو گناہگار ہے اسے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے 
تب کچھ بہتری کی امید ہوسکتی ہے 

"السادات نیوز پاکستان"
Www.alsadatnewspk.com


جمعرات، 13 اگست، 2026

پاکستان میں نئے صوبے بنانے سے عوام کی قسمت بدلے گی ؟

Al-Sadat News Pakistan 

کاغذی محل، آبلہ پا عوام اور اصلاحات کا سراب ؟

تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین 




پاکستان کی تاریخ بھی عجب تاریخ ہے؛ یہاں مسائل کا حل کھوجنے کے لیے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے ہمیشہ کپڑا بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب جب ملک میں کوئی معاشی، سیاسی یا انتظامی بحران شدت اختیار کرتا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نابغے ایک نیا کاغذ، ایک نئی ترمیم اور ایک نیا "نجات دہندہ نظام" لے کر عوام کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔ آج کل بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کے سنجیدہ ایوانوں میں ایک نام نہاد "28ویں آئینی ترمیم" یا نويں انتظامی ڈھانچے کے مسودے کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک ایسا مسودہ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کر کے، صدارتی نظام لا کر، قومی اسمبلی کو ختم کر کے اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر تمام دردوں کی دوا کر دی جائے گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی قوم کی قسمت بدلنے کا کوئی الہامی پلان ہے، یا پھر ایک نچلے طبقے کے، مہنگائی کے تندور میں جلتے ہوئے، انصاف کی تلاش میں دربدر بھٹکتے ہوئے عام پاکستانی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک اور سیاسی ناٹک؟

اگر اس تجویز کردہ مسودے کے خدوخال پر نظر ڈالی جائے تو اس کا احاطہ کچھ یوں کیا گیا ہے:
تجویز کردہ نظام کی ایک نظر میں جھلک
   نیا انتظامی ڈھانچہ: ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز ہیں؛ جن میں پنجاب کو 5 (شمالی، سنٹرل، جنوبی، پوٹھوہار، بہاولپور)، سندھ کو 5 (کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ)، خیبر پختونخوا کو 4 (پشاور، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان)، بلوچستان کو 4 (کوئٹہ، مکران، ژوب، قلات)،
 جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو الگ وفاقی اکائیاں بنانے کا خاکہ ہے۔
      صدارتی و حکومتی طرز: 
قومی اسمبلی کے خاتمے، تمام تر طاقت کے مرکز کے طور پر ایک براہِ راست منتخب صدر، اور سینیٹ کو واحد ایوان بنانے کا دعویٰ ہے۔ وفاقی کابینہ میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہوں گے جو اپنے صوبے میں تو بااختیار ہوں گے مگر صدر کو جواب دہ ہوں گےہو سکتا ہے یہ صدر صاحب فوجی سربراہ ہو !!
    عدلیہ و انتظامیہ:
 ایک وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، گورنر کے ذریعے صوبائی وزرائے اعلیٰ کی معزولی کی گنجائش، اور اضلاع میں DC اور DPO کو براہِ راست عوام کے منتخب کردہ "ضلع ناظم" کے ماتحت کرنے کی نوید سنائی گئی ہے۔
کاغذ پر لکھا یہ ہر حرف دلکش لگتا ہے۔
 سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بارہ سنگھے کو صحرا میں دور چمکتی ریت پانی کا چشمہ نظر آ رہی ہو۔ لیکن جب اس مسودے کو پاکستان کی کڑوی، تلخ اور خونچکاں حقیقتوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے، تو دل دہل جاتا ہے۔
کیا یہ نظام اس غریب دہقان کا پیٹ بھر سکے گا جس کی پوری فصل ایک وڈیرے کے پانی بند کرنے سے سوکھ جاتی ہے؟
 کیا یہ 20 صوبے اس ماں کی گود میں اس کا لعل واپس لا سکیں گے جو تھانے کے باہر انصاف مانگتے مانگتے دم توڑ دیتی ہے؟
 کیا ایک نیا صدارتی نظام اس نوجوان کو روزگار دے سکے گا جو ڈگری بغل میں دبائے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک ایڑیاں رگڑ رہا ہے؟
کیا یہ نظام کسی غریب کو کسی طاقتور سے تحفظ فراہم کرے گا ؟
کیا عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کسی مظلوم کو انصاف دے گی جو کسی جاگیر دار کسی سیاسی شخصیت یا کسی بڑے بڑے بیوروکریسی کے آفیسرز یا کسی فوجی ڈکٹیٹر کے شر سے تحفظ فراہم کریں گی ؟
کیا یہ نظام بغیر قانون کے سرکاری نوکروں کے ذریعے اغوا کئیے گئے  مظلوم کو رہا کر سکے گا ؟
کیا یہ نظام کسی آمر کو جابر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر سکے گا ؟ 
کیا یہ نظام کسی ایس ایچ او  کو قانون کے مطابق آزادی سے  ایف آئی آر کرنے کا اختیار دیگا ؟
یا کبھی قانون کے مطابق کسی غیر قانونی حکم سے انکار کی آزادی اور جرئت دیگا ؟
جواب ہے 
ہرگز نہیں! تو تبدیلی کیا ہوا ؟ 

اصل بیماری کیا ہے اور علاج کس چیز کا ہو رہا ہے؟
پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظام کے ڈھانچے کی کمی کبھی نہیں رہا، بلکہ نظام کے اندر موجود نیت، انصاف اور آئینی حکمرانی کی عدم موجودگی رہا ہے۔
تصور کریں، ایک ایسا ملک جہاں آئین محض ایک کاغذی کتابچہ بن کر رہ گیا ہو، جہاں عدالتیں مظلوم کو انصاف دینے کے بجائے طاقتور کے اشاروں کی منتظر ہوں، جہاں الیکشن کمیشن محض ایک نام نہاد ادارہ ہو اور جہاں عوام کے ووٹ کی حرمت کو ہر بار بوٹوں تلے یا بند کمروں کے فیصلوں میں روند دیا جائے— وہاں آپ 20 صوبے بنا دیں یا 200، تبدیلی کیسے آئے گی؟
جب تک آئین اپنے اصل اور واقعی روح کے ساتھ بحال نہیں ہوتا، جب تک عدلیہ کو اپنے فیصلے ازخود اور بغیر کسی دباؤ کے کرنے کی آزادی نہیں ملتی، جب تک الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبدار اور خود مختار نہیں ہوتا، اور جب تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) یا شفاف ترین طریقہ کار سے سیاسی مداخلت کے بغیر انتخابات نہیں ہوتے ,
جب تک عوام کی رائے کو محترم نہیں بنایا جاتا 
تب تک کسی بھی ترمیم کا نام "نجات" نہیں بلکہ "سیاسی انجنیئرنگ" ہی رہے گا۔
عوامی نمائندگی کا زوال اور میرٹ کی موت
ہم کس پارلیمنٹ یا سینیٹ سے خیر کی امید رکھیں؟ جب تک ایوانوں میں پہنچنے والے اراکین کے لیے کوئی اخلاقی، تعلیمی، یا سیاسی اہلیت کا معیار طے نہیں ہوگا، تب تک یہی کرپٹ، موروثی اور مفاد پرست طبقات نئے نظام پر بھی سانپ بن کر بیٹھ جائیں گے۔ اگر موجودہ سلیکٹڈ، نادیدہ ہاتھوں کی مرہونِ منت اور عوام کے حقیقی جیویں جیویں سے محروم حکمرانوں کے ذریعے یہ تمام ترامیم اور نظام نافذ کیا گیا، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟
نتیجہ وہی نکلے گا جو پچھلے ستر سالوں سے نکلتا آیا ہے۔ اربوں روپے کی کاغذی محنت ضائع جائے گی۔
 عوام کا پیسہ، جو ان کا خون پسینہ نچوڑ کر ٹیکس کی صورت میں اکٹھا کیا جاتا ہے، نئے صوبوں کے گورنر ہاؤسز، نئے وزرائے اعلیٰ کے پروٹوکول، نئے سینیٹرز کی مرعوب کن گاڑیوں اور نويں دفاتر کی تزئین و آرائش کی نذر ہو جائے گا۔ اور عام آدمی؟ 
وہ اسی طرح پستا رہے گا۔ اس کے لیے کرپشن کا بازار یوں ہی گرم رہے گا، ظلم کی چکی یوں ہی چلتی رہے گی۔
بلدیاتی نظام: ایک المیہ اور حقیقت
اس مسودے میں بلدیاتی نظام کو تمام تر اختیارات کا منبع اور عوام کی دہلیز پر حل کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ لیکن ذرا عملی میدان میں آ کر دیکھیے۔ موجودہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کا حشر کیا ہے؟
آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی ضلعی ناظم یا بلدیاتی چیئرمین منتخب ہو کر آتا ہے، تو اس کے پاس عوام کے کام کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں نہ بجٹ۔ نظام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ علاقے کا صوبائی منسٹر یا طاقتور اقتدار دھنی خود چل کر ضلعی حکومت کے سربراہ کے پاس آتا ہے اور کھلم کھلا کہتا ہے: "اس سال چار ارب کا فنڈ آیا ہے، اس میں سے ایک ارب تم رکھو، باقی کا چیک کاٹ کر میرے نام کر دو۔"
اور اس کھلی غنڈہ گردی اور ڈکیتی کے سامنے کیا کوئی مزاحمت ہوتی ہے؟
 اگر کوئی باضمیر ناظم یا چیئرمین اپنے علاقے کے لوگوں کے حق کے لیے کھڑا ہونے کی جرات کر بھی لے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟
 اس نظام کی پشت پناہی سے اس کے خلاف فوری طور پر "عدم اعتماد" کی تحریک لائی جاتی ہے، اراکین کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، اور اس بدمعاش صوبائی وزیر یا طاقتور آقا کا اپنا پالتو بندہ اس کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔
جب تک اس نظام کے اندر احتساب کا کوئی ٹھوس، شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقہ کار موجود نہ ہو، جب تک طاقتور کو قانون کی زنجیروں میں نہ جکڑا جائے، اور جب تک اختیارات کو بیلنس کرنے کی واقعی ضمانت نہ ہو، 
تب تک یہ طاقتور ناظمین اور بلدیاتی خاکے عوام کی خدمت کیا کریں گے؟ یہ نظام صرف اور صرف لوٹ مار کی نچلی سطح تک منتقلی (Decentralization of Corruption) کے سوا کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔
قوم سے سنگین مذاق اور آخری گزارش
ہمیں یہ بات بحیثیت قوم سمجھنی ہوگی کہ جب تک ملک میں حق اور سچ کا بول بالا نہیں ہوتا، جب تک عوام کو اپنا حکمران خود منتخب کرنے کا آزادانہ حق نہیں ملتا، اور جب تک قوم کی اہل، باصلاحیت، خوفِ خدا رکھنے والی اور دیانت دار قیادت آگے آ کر نظام کو درست کرنے کی باگ ڈور نہیں سنبھالتی,
 تب تک کاغذی مسودے، 28ویں ترمیم ہو یا 50ویں، محض دل بہلانے کا سامان رہیں گی۔
یہ ملک کسی نئے نقشے کا طالب نہیں ہے، یہ ملک عدل کا طالب ہے۔ 
یہ ایک غیر جانبدار احتساب کا طالب ہے جہاں قانون کا نمائندہ یا کوئی سیاسی شخصیت یا کوئی فوجی آمر یا کوئی جاگیر دار قانون کو توڑنے کے تصور سے کامپ جائے
  اور یہ اختیار کے توازن  کو طالب ہے 
یہ قوم نئے صوبوں کے ناموں کی پیاسی نہیں ہے، یہ قوم انصاف اور روٹی کی پیاسی ہے۔
اگر موجودہ ابتر ماحول میں، جہاں عدم استحکام، گرتی ہوئی معیشت، اور عوامی غیض و غضب عروج پر ہے، یہ ڈنگ ٹپاؤ اور لالی پاپ قسم کی تبدیلیاں مسلط کی گئیں، تو یہ محنت بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جائے گی اور قوم کا وقت اور پیسہ ایک بار پھر ضائع ہوگا۔ ظالم وہی رہے گا، مظلوم وہی رہے گا، صرف ڈرامے کے کرداروں کے لباس بدل جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تجربوں کی لیبارٹری میں اس ملک کو مزید جھونکنے کے بجائے آئین کی اصل روح بحال کی جائے، اداروں کو ان کی حدود میں واپس لایا جائے، اور عوام کے ساتھ وہ سچا اور سچائی پر مبنی مکالمہ شروع کیا جائے جو اس ملک کو واقعی تباہی کے دہانے سے نکال کر عزت اور خودداری کی شاہراہ پر گامزن کر سکے۔

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...