منگل، 7 جولائی، 2026

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan 



کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟

بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟

تحریر سید محمد شاہ غرشین 




میں آفس میں بیٹھے سوچ رہا تھا کہ کیا خوبصورت وقت تھا کہ جب ہم لورالائی کینٹ کی کینٹین پر جاکر جلیبی کھاتے تھے صاف ستھرا ماحول تھا فوج کے جوان ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھے باہمی اعتماد اور احترام تھا تحفظ کا احساس تھا 
پھر کوئٹہ چلتن مارکیٹ جانا شاپنگ کرنا وہاں خوبصورت مناظر پارک دیکھ کر سارے دن کی تھکاوٹ اتر جاتی تھی وہ چائے کا ایک کہ سموسے ڈپریشن کا علاج تھے 
آج کیا ہوگیا ہے میرے محافظ خود غیر محفوظ ہوگئے ہیں بڑی بڑی دیواروں نے حصار کھڑے کر دیئے ہیں 
آج ہمارے پالیسی سازوں سے یہی ایک سوال کے کہ آخر کیا غلط ہوا ہے آپ سے کہ آج وطن عزیز قوم اور آپ خود محفوظ نہیں ہیں ؟
اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو امن واپس نہیں آئے گا 
آخر کیا ھوگیا ہے کہ آج عوام آپ کے ساتھ نہیں ہے ؟
آخر کیوں آج آپ نے دیواروں کے اس حصار میں عوام سے خود کو دور کر لیا ہے ؟
 ہمارے انٹلیجنس ایجنسی دشمن کے لہروں کے دوش پر قائم وار کو پکڑ لیتے ہیں مگر  مگر اپنی قوم کے درمیان فاصلے کی وجہ ان کو نظر نہیں آرہی ؟
جب تک آپ اس قوم کو پہلے کی طرح عزت اور تحفظ اور حقوق نہیں دیں گے یہ فاصلے کم نہیں ہونگے یہ اعتماد بحال نہیں ہو گا 
طاقت کے استعمال سے پرہیز کریں یہی مسائل کی جڑ ہے آئین کو بحال کیا جائے ہر ادارہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرے جو کام جسکا ہے وہی کرے آئین کی بحالی عدلیہ کی آزادی عوامی خدمت میرٹ کی بحالی ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر ریاست امن قائم کر سکتی ہے 

پاکستان کے آئین کی پہلی ذمہ داری ریاست پر یہ عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ لیکن آج جب ہم بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا ریاست اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟

اگر معصوم بچے بارودی مواد کا نشانہ بن رہے ہوں، اگر دہشت گرد دیہات پر حملے کر رہے ہوں، اگر پولیس چوکیوں پر یلغار ہو رہی ہو، اگر شاہراہیں غیر محفوظ ہوں، اگر کاروبار تباہ ہو رہا ہو اور عام شہری خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں، تو محض مذمتی بیانات عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

بلوچستان کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ ایک طرف دہشت گرد تنظیمیں حملے کرتی ہیں، دوسری طرف عام شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ نہ جانے اگلا حملہ کہاں ہوگا۔ اگر حالات ایسے مقام پر پہنچ جائیں کہ لوگ اپنے گھروں، بازاروں اور سفر میں بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں تو یہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا بحران ہے۔

اسی دوران اگر آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہوں، تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہر واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کے مطابق احتجاج کے حق کا احترام دونوں یکساں اہم ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہشت گرد آخر اتنی آزادی سے کارروائیاں کیسے کر لیتے ہیں؟ ان کے نیٹ ورک کہاں سے چل رہے ہیں؟ ان کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟ انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان ایسا مؤثر نظام کیوں قائم نہیں ہو پا رہا جو ان حملوں کو پہلے ہی ناکام بنا سکے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ بلوچستان جیسے حساس خطے میں انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی، ترقی، تعلیم، روزگار، مقامی آبادی کی شمولیت اور قانون کی یکساں عملداری کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جہاں عوام کا اعتماد کمزور ہو جائے، وہاں دشمن عناصر کو جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔

آج پاکستان کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، عوامی تحفظ، متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد، سکیورٹی نظام کی بہتری اور ریاستی اداروں کا مؤثر احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ کالم کسی ادارے یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصولی سوال اٹھاتا ہے: ریاست کی اصل طاقت کیا ہے؟ ریاست کی طاقت صرف اسلحہ یا اختیارات نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کا اعتماد ہوتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہو، جب ایک تاجر سفر سے ڈرے، جب ایک مسافر شاہراہ پر خود کو غیر محفوظ سمجھے، تو ریاست کو خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ بلوچستان کا درد بھی پاکستان کا درد ہے، خیبر پختونخوا کا غم بھی پاکستان کا غم ہے، آزاد کشمیر کے شہری بھی اسی ریاست کے شہری ہیں، سندھ اور پنجاب کے عوام بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ اگر ملک کے کسی ایک حصے میں آگ لگی ہو تو یہ سمجھ لینا کہ باقی سب محفوظ ہیں، ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔

آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ قومی سنجیدگی کی ہے۔ حکومت، پارلیمان، سکیورٹی اداروں، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا لائحۂ عمل بنانا ہوگا جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور آئین کے مطابق ہر پاکستانی کو جان و مال کا یکساں تحفظ مل سکے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک پرامن، مستحکم اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔


پیر، 29 جون، 2026

بلوچستان میں امن قائم کریں

Al-Sadat News Pakistan 

بلوچستان میں امن کب قائم ہوگا 
تحریر سید محمد شاہ غرشین 

 



بلوچستاں میں امن امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے 
بلوچ بیلٹ کی صورت حال اگر بیان کروں تو مختصر حالات یہ ہیں کہ خوف کا عالم ھے نہ بلوچ محفوظ ہیں نہ کوئی اور محفوظ ہے نہ لوکل نہ غیر لوکل  سرکاری ادارے محفوظ نہیں ہیں سیکیورٹی ادارے خود خوف میں مبتلا ہیں انہوں نے اپنے گرد آہنی حصار کھڑے کر لئیے ہیں رات دن چاروں طرف مورچہ زن ہیں  پہلے ایک وقت تھا سیکیورٹی ادارے عوام کے جان مال کے تحفظ کے لیے گشت کرتے تھے اب وہ اپنے تحفظ کے لئیے گشت کرتے ہیں  کبھی پولیس کی ایک گاڑی گشت پر نکلتی تھی جرائم پیشہ افراد راستہ بدل لیتے تھے اب ایف سی کی کانوائے پر دشمن حملے کررہا ہے پولیس کے جوان رات دن شہادت لیں دے رہے ہیں ایف سی کے جوان شہادت دے رہے ہیں 
پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا جارہا ہے پہلے رات کو جلاتے تھے سرکا نے رات کو ٹریفک بند کردی اب بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے دن دہاڑے پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے بالخصوص ان گاڑیوں کو جو گیس کرومائیٹ کوئلہ لے کر جاتی ہیں جس کی وجہ بلوچستان سے تاجر بھاگ رہے ہیں کاروبار تباہ کردیا گیا ہے 
کہتے ہیں نائی دیگ سے چند چاول نکال کر چیک کرتا ہے کہ دیگر پک گئی ہے یا نہیں 
میں نے آپ کے سامنے دیگ کے چند چاول رکھے ہیں اس سے دیگ کی صورتحال   کا آپ اندازہ لگائیں 
اس وقت بلوچستان کی حکومت بطور ریاست ڈیفینس پوزیشن پر ہے 

 فورسز کا مورال ڈاؤن ہے  دہشت گردوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ کویٹہ دارلحکومت پر ریڈ زون میں آکر سیکٹریٹ کے سامنے خودکش دھماکا کرتے ہیں دو تین سو افراد مسلحہ حالت میں کوئتہ شہر میں داخل ہوتے ہیں 
ابھی کل پرسوں سے سی ایم ریسٹ ہاؤس ہمہ ہڑک میں قبائل کے افراد اور ٹی ٹی پی کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی ہیں 
ساتھ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی چھاؤنی ہے دشمن چھاؤنی کے اتنا قریب موجود ہے اور تمہیں خبر نہیں آزاد ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ٹی ٹی پی کے لوگ اس ایریا میں موجود ہیں مقامی ابادی نے حکام بالا تک کو آگاہ کیا مگر کیوں کارروائی نہیں ہوتی پھر قوم کیسے مان لے کہ یہ سب آپ کی آنکھوں کے نیچے موجود ہیں اور آپ کو علم نہیں ہے کل تک ہنہ ہڑک چوک قبائل نے دھرنا دیکر بند کردیا ہے 
ان حالات میں دعویٰ ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں 
طاقت کے تناسب کو دیکھا جائے تو بین آرگنائز یشنز اور ریاست اداروں کے درمیان نوے فیصد کا فاصلہ ہے 
اتنی طاقت کے باوجود اگر آپ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں تو 
تو یہ حکومت کی نالائقی ہے بہرحال عوام کی جان مال کا تحفظ ریاست کی زمہ داری ہے ریاست یہ زمہ داری پوری کرے 

اس وقت ریاست کے اندر اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ کئی مرتبہ ریاست کے نمائندوں نے جو معاہدہ کئے ان کو توڑا گیا منافقت کی گئی اس وجہ سے اب آپ کے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہے  سب پہلے اعتماد بحال کیا جائے  طاقت کے استعمال کی جہاں ضرورت ہے وہ استعمال کریں جہاں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے وہاں بات چیت کریں 
یہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا نہ پاکستان کا سیاسی انتشار ختم ہوگا 
طاقت کا استعمال وقتی طور پر مسائل کو کنٹرول کرتا ہے مسائل ختم نہیں کرتا ہے 
اس ملک میں جب تک آئین کی بالادستی تسلیم نہ کی گئی قانون کی حکمرانی تسلیم نہیں کی جاتی 
ادارے شخصیت کی بجائے قانون کے ماتحت  نہیں ہو جاتے نہ پاکستان ترقی کرے گا نہ امن قائم ھوگا 
قوموں کا باہمی احترام اور اعتماد لازمی ہے 

اتوار، 28 جون، 2026

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ 2026

Al-Sadat News Pakistan 

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ 
تحریر

سید محمد شاہ غرشین 

پاکستان کی سیاسی منظر نامے پہ اگر نظر ڈالی جائے 
تو گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں کچھ سیاسی موومنٹس نظر ارہے ہیں جن میں جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن صاحب اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن صاحب شامل ہیں پورے پاکستان میں ممبر سازی کے حوالے سے اور مختلف عنوان  سے  مختلف ناموں سے پاکستان میں جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں 
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عوام اور موجودہ سسٹم کے درمیان جو عدم اعتماد کی ایک دراڑ پیدا ہوئی ہے یا پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کے جو کوشش ہے ان کو کرش کرنے اور انہیں توڑنے کی اور ان کی لیڈرشپ کے خلاف جو مظالم جاری ہیں جس طرح ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور جس طرح نو مئی کی سازش رچی گئی پھر ان کے خلاف 26 نومبر 2024 کا جو ایک پری پلان منصوبہ تھا ڈی چوک میں جس 
میں بہت ساری انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں

 پھر ٹی ایل پی کے خلاف مریدکے میں جو کریک ڈاؤن کیا گیا اور
 اب پھر جی بی کے اندر اس عمل کو دہرایا گیا ہے طاقت کی اس بے تحاشہ استعمال نے عوام کی دلوں میں اس موجودہ سلیکٹڈ حکومت  جو فارم 47 کی مد میں سلیکٹ ہو کے ائی ہے کی  نفرت کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جو دیوار اب کسی صورت گرنے والی نہیں ہے 

موجودہ حکومت میں موجود سیاسی 
جماعتیں جو ہیں  ان کی اب عوام کی نظروں میں کوئی وقت اور ویلیو نہیں رہی ہے اور عوام ان پر کسی صورت اب بھروسہ کرنے والے نہیں اس خلا کو پر کرنے کے لیے

 جمعیت علماء اسلام کوشش کر رہی ہے عوامی رابطہ مہم کے لیے کوشش جاری ہے اور جماعت اسلامی نے بھی اس کے لیے بھرپور کوشش کی ہے اور بہت سارے نوجوانوں میں جو نے ان جماعتوں  کاجو رجسٹریشن پروسیس ہے ممبر سازی کا اور ان کے جلسے جلوس میں بھی حصہ لیا ہے

 دوسری طرف کے پی کے میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے اور کے پی کے کے اندر صوبائی حکومت پنجاب کی طرف سے جو راشن ہے گندم کی جو سپلائی ہے اسے بند کیا گیا ہے گیس کی سپلائی کو بند کیا گیا ہے اس طرح بہت ساری اور چیزیں انہوں نے روکی ہیں جس کی وجہ سے بھی نفرت جنم لے رہی ہے 
اب یہی عمل گلگت بلتستان اورکشمیر میں دہرایا جا رہا ہے اور حافظ نعیم الرحمن صاحب اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے کل ہی جو پریس کانفرنس کی ہے اس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومت دانستہ طور پر  جی بی کے اندر خوراک کی جو ترسیل ہے اسے روکا ہے
 بی بی سی نے جب اس سے کوڈ کیا اپنی ایک رپورٹ کے اندر جو انہوں نے مختلف لوگوں سے مل کے وہاں انٹرویوز کیے ان کو جب بی بی سی نے شائع کیا تو اس کے بعد حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ رپورٹ جو ہے درست نہیں ہے جبکہ یہ رپورٹ سو فیصد درست ہے جی بی کی عوام کا حق ہے ان کے ساتھ جو مذاکرات کیے گئے 2025 میں جو معاہدہ  حکومت کے ساتھ ہونے والے مذکرات میں جو شرائط طے پائی تھیں گورنمنٹ نے ان کی خلاف ورزی کی ان میں سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ جو مہاجرین کی 12 سیٹیں ہیں ان کو ریموو کیا جائے گا ختم کیا جائے  گا کیونکہ وہ جی بی کے مقامی عوامی نمائندگی نہیں رکھتے اور جب بھی حکومت کو گرانا ہو تو ان ووٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور حکومتیں گرائی جاتی ہیں اس لیے ان کو ختم کر دیا جائے اس عوامی مطالبے پہ حکومت نے ایگری کیا تھا اٹھ نو مہینے کے بعد جب الیکشن ہوئے تو حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی اور انہی 12 سیٹوں پر جو مہاجرین کشمیری کشمیریوں کے نام سے یہ سیٹیں ہیں ان پر دبارہ لوگوں کو الیکشن کے لیے میدان میں اتارا گیا 
جس کی وجہ سے کشمیری عوام اور حکومت کے درمیان شدید عدم اعتماد پیدا ہوا اور عوام سڑکوں پہ نکلی 
گزشتہ 15 دنوں سے عوام مسلسل رات دن عورتیں بچے بوڑھے جوان سب روڈوں پہ ہیں احتجاج جاری ہے حکومت نے بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرتی انہیں انگیج کرتی ڈنڈا استعمال کیا اور ایک ارڈر کے ذریعے عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کرتے ہوئے بین کر دیا گیا یقینا یہ عمل قابل مذمت تھا کیونکہ جب کسی تنظیم کو بین کیا جاتا ہے یا اس سے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو قانون کی منشا سے اس کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہونے چاہیے

 مگر گزشتہ کچھ عرصے میں اس قانون کو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے انہیں کرش کرنے سیاسی پارٹیوں کو بین کرنے کے لیے ناجائز استعمال کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کی شدید وائلیشن کی گئی ہے 
اب عوام اور موجودہ سیٹ اپ یا نظام کے درمیان جو عدم اعتمادی ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف پر ظلم زیادتی ائین سے ماوراء الیکشن کمیشن ائین سے ماورا سپریم کورٹ کی فیصلے اور ائینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے جو فیصلے کیے گئے اس سے عدالت پر عوام کا جو بھروسہ تھا اعتماد تھا وہ ٹوٹ گیا ہے
 اب اداروں پہ جب اعتماد نہیں رہا پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پہ جب اعتماد نہیں رہا الیکشن کمیشن پہ جب اعتماد نہیں رہا عوامی رائے کی توہین کرتے ہوئے جس طرح فارم 47 کے ذریعے یہ حکومت سلیکٹ کی گئی اور عوام پر مسلط کی گئی اس سے اعتماد ٹوٹا اور اداروں نے بجائے قانون اور رولز کو فالو کرنے کے حکمران کی بات مانی اور حکمرانوں کے پیروکار بن گئے اس سے ائین کی توہین ہوئی
 عوامی رائے دہی کی توہین ہوئی جس سے شدید غم و غصہ عوام میں پایا جاتا ہے 
اس عوامی عدم اعتماد سسٹم کے خلاف باغیانہ روش عدم اعتماد کو کور کرنے کے لیے جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کو لانچ کیا گیا ہے
 ایک ہفتہ چھ دن پہلے امریکن سیاسی امور کے جو ذمہ داران تھے انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملاقات کی ہے اور اس پہ بات چیت ہوئی ہے کہ پاکستان میں اگے نظام کو کیسے چلایا جائے اور اس عوامی عدم اعتماد کو اور سسٹم اور عوام کے درمیان اس نفرت کو کیسے ختم کیا جائے یا پاکستان تحریک انصاف کو نظام سے باہر رکھ کر عمران خان کو اس سسٹم سے باہر رکھ کر کیسے پاکستان کو مزید اگے لے جا کر چلا جائے اس پہ بات ہوئی ہے ۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس پورے سسٹم یا اس پورے نظام کو اگے چلانے کے قابل ہیں یا اس میں یہ کامیاب ہوں گے کیونکہ بدعتمادی 70 پرسنٹ سے زیادہ ہے بینیفیشری 30 پرسنٹ وہ لوگ جو موجودہ سیٹ اپ سے مفید ہو رہے ہیں یا فائدے حاصل کر رہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ فصلی بٹیرے ہیں چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جو سامنے ایا اس طرف چلے جائیں گے تو اس سے پاکستان میں مزید عدم اعتماد اور سیاسی انتشار بڑھے گا جس سے پاکستان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں جو پہلے سے ہی ہچ کو لے کھا رہی ہے اور ائی ایم ایف یا ورلڈ بینک یا دوست ممالک کے قرضوں پہ چل رہی ہے 

مجھے نہیں لگتا کہ جماعت اسلامی یا جمیعت علماء اسلام پاکستان تحریک انصاف کے اس خلا کو پر کر سکتی ہے یا اس عوامی اعتماد کو بحال کر سکتی ہے یا اس غم  اور غصے میں کوئی کمی لا سکتی ہے 
جمیعت علماء اسلام کا مذہبی اور نظریاتی ووٹ ہے اور اگر اپ دیکھیں کہ جمعیت علماء اسلام کی جو اب تک کی پالیسی رہی ہے وہ یہ کہ وہ موجودہ سیٹ اپ جو موجود ہے اس کو سپورٹ کرتی رہی ہے اسمبلی کے فلور پہ مولانا فضل الرحمن صاحب اور ان کی جماعت مختلف طریقوں سے موجودہ سیٹ اپ کی پالیسیوں پہ تنقید بھی کرتے ہیں جلسے جلوسوں میں اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پہ کھلے عام تنقید کرتے ہیں جو اس وقت عوام کا ایک پسندیدہ موضوع ہے 

مگر جب یہ ایوان میں اتے ہیں چاہے 26ویں ترمیم ہو چاہے 27 ویں ائینی ترمیم ہو یا کوئی اور قانون پاس ہو رہا ہو یا 28 ویں ائینی ترمیم ہو یا کوئی اور مفادات کا حاصل کرنا ہو تو یہ سب ایک صف میں ہوتے ہیں اور ایک جگہ ہوتے ہیں
 پاکستان کی عوام اب باشعور ہے وہ اب ان تمام چیزوں کو سمجھتی ہے اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ جمیعت علماء اسلام پہ پاکستانی عوام کو بھروسہ کرے گی 
اسی طرح جماعت اسلامی ہے  اسے پہلے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کہا جاتا ہے جس طرح ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی بھی ٹیم ہے

 لیکن ایک بات جو ان میں مشترک ہے وہ یہ کہ جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام میں یا ان کے نمائندگان جو اب تک ایوان میں ائے ہیں ان کے خلاف کوئی کرپشن کا بڑا سکینڈل منظر عام پہ نہیں ایا ہے جس کی وجہ سے عوام ان پہ دیانتداری کے حوالے سے کچھ بروسہ کرتی ہے اور عوام میں ا خدمات کے حوالے سے یا ڈیلیور کرنے کے حوالے سے بھی ان کے اوپر بھروسہ کیا جاتا ہے مگر یہ پاکستان تحریک انصاف تحریک انصاف کی جگہ نہیں لے سکتے
 اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں امریکہ کے خلاف اپنے عوامی اجتماعات میں جلسے جلوسوں میں باتیں تو کرتے ہیں مگر امریکہ کے خلاف جو سٹینڈ عمران خان نے لیا اور جس برابری کی بات عمران خان نے کی اور غلامی کی جس زنجیر کو توڑنے کی بات عمران خان نے کی یہ جرات ان دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ میں موجود نہیں ہے
 ٹیبل ٹاک پہ یہ ان کے ساتھ ہیں مفاہمت کی پالیسی کو یہ اختیار کرتے ہیں مل جاتے ہیں اور عوامی اجتماعات میں بظاہر یہ مخالفت کرتے رہتے ہیں اسی وجہ سے بھی عوام ان کے اوپر اس حوالے سے بھروسہ نہیں کرتے 

اس ساری صورتحال میں سب سے جو پریشان 
کن بات ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جو قیادت اس وقت باہر موجود ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی سسٹم سے کسی حد تک کم پرومائز کر چکی ہے یا دباؤ کی وجہ سے یا ڈر کی وجہ سے یا اندرونی طور پر جو بات چیت ہوتی رہتی ہے کسی دلیل کی وجہ سے بھی جو بھی اپ اسے کہہ دیں اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی ایسی موومنٹ نہیں بنا سکی 
 جیسا کہ پاکستان مسلم لیگ نون نے نواز شریف کی رہائی کے لیے بنائی تھی وہ ایسا پریشر بلڈ نہ کر سکے حالانکہ  مسلم لیگ نون نے پاکستان تحریک انصاف کی گورنمنٹ کے خلاف سب سے بڑا کارڈ مہنگائی کارڈ کھیلا تھا اور مولانا فضل الرحمن صاحب بھی ان کے ساتھ تھے انہوں نے جلسے جلوس کیے دھرنے دیے مولانا فضل الرحمن کئی دن تک دھرنا دے کے بیٹھے رہے مہنگائی کے خلاف مارچ ہوتے رہے میڈیا نے ایک طوفان برپا کر رکھا تھا یہاں تک فیصل واڈا کی انکشافات کے مطابق کہ کتے کا خون لے کے اس کی پلیٹلٹس کی رپورٹ کو نواز شریف کی رپورٹ بنا کے پیش کیا گیا ایوان میں یہ انتہائی شرمناک عمل تھا اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے کسی بھی اخلاقی گراوٹ کی توقع کی جا سکتی ہے 

پاکستان کی تاریخ اور ان کے مکر اور فریب کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ کسی بھی لیول تک اپنے مفادات کے لیے گر سکتے ہیں ان کے اندر اخلاقی مورلٹی کچھ بھی نہیں ہے بالکل نہیں ہے 
پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے رہائی کے بجائے صرف ملاقات کے مطالبے پہ ا کے ٹکی ہے رات دن وہ جتنی کوشش کر رہے ہیں وہ ایک ملاقات نہیں کروا پا رہے اس سے ایک طرف تو نظام یعنی عدلیہ کی بے بسی نظر ا رہی ہے جہاں مہینوں سے سالوں سے لگی درخواستیں پینڈنگ پڑی ہیں وہ سنی نہیں جا رہی ہیں اس وجہ سے عوام کے اور عدلیہ کے درمیان بھی ایک نفرت پائی جاتی ہے کہ عدلیہ بھی بکی ہوئی ہے اور عدلیہ کی ساکھ جتنی اس دور میں متاثر ہوئی ہے جتنا عدلیہ اس دور میں بے عزت ہوئی ہے شاید کبھی ہوئی ہو 

میری رائے میں پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل ہے چاہے وہ بلوچستان کا مسئلہ ہو بی ائی سی کا مسئلہ ہو ماہ۔رنگ بلوچ کا یا ریاست اور بلوچستان کی جو مسلح گروپس کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے اس کا معاملہ ہو وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہو یا کے پی کے میں دہشت گردی کا معاملہ ہو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا معاملہ ہو 
تو تحریک انصاف کے جو لیڈر ہیں عمران خان وہ وا حد شخصیت ہیں جس پہ بلوچ بھروسہ کر سکتا ہے افغانستان کی حکومت بھروسہ کر سکتی ہے بین الاقوامی ادارے بھروسہ کر سکتے ہیں 
اس لیے میں کہتا ہوں کہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے عمران خان کے کہنے پہ بلوچ پہاڑوں سے اتر سکتا ہے بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے کے پی کے میں امن کائم ہو سکتا ہے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدیں بحال ہو سکتی ہیں 

تو اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ پی ٹی ائی یا عمران خان کو مائنس کر کے پاکستان کو اگے لے کے چلا جا سکتا ہے پاکستان کی معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے یا پاکستان میں امن قائم کیا جا سکتا ہے یا پاکستان میں ازاد عدلیہ یا ازاد ا ادارے یا عوامی خدمت گڈ گورننس اور میرٹ کو بحال کیا جا سکتا ہے کرپشن کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہوگا یہ ممکن نہیں ہے طاقتوروں کو اس  نوشتہ دیوار کو پڑھ لینا چاہیے جتنا جلد انہیں یہ حقیقت سمجھ ائے وہ اسے تسلیم کریں تو یہ ان کے لیے پاکستان کے لیے سب سے بہتر فیصلہ ہوگا
تحریر ؛ سید محمد شاہ غرشین
السادات نیوز پاکستان

جمعرات، 25 جون، 2026

پر امن بلوچستان ایک امید

Al-Sadat News Pakistan 

کیا بلوچستان کبھی پر امن بلوچستان بنے گا ؟ مسائل کا حل کیا ہے ؟
تحریر: سید محمد شاہ غرشین  سی ای او السادا نیوز پاکستان

پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی خطے نے سب سے زیادہ سیاسی تنازعات، معاشی محرومیوں، انتظامی ناکامیوں اور سیکیورٹی بحرانوں کا سامنا کیا ہے تو وہ بلوچستان ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا تقریباً 44 فیصد حصہ رکھنے والا یہ صوبہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا لیکن قدرتی وسائل کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالا مال علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس سرزمین کے سینے میں گیس، سونا، تانبا، کوئلہ اور دیگر قیمتی معدنیات کے خزانے موجود ہوں، وہاں کے لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی، بنیادی صحت، معیاری تعلیم اور روزگار جیسی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان کی سیاست کو متاثر کیا اور بالآخر بدامنی، مزاحمت اور دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی۔

بدقسمتی سے بلوچستان کے مسئلے کو اکثر دو انتہاؤں میں تقسیم کرکے دیکھا جاتا ہے۔ ایک طبقہ ہر مسئلے کو بیرونی سازش قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف وفاق اور ریاستی اداروں کو قرار دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

بلوچستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احساس محرومی کا تصور کوئی نیا نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے صوبے میں یہ بحث جاری رہی کہ بلوچستان کے وسائل اور اختیارات کا اصل مالک کون ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا مؤقف رہا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومتوں کا مؤقف رہا کہ قومی وسائل پورے ملک کی ملکیت ہوتے ہیں۔

یہ اختلاف وقت کے ساتھ سیاسی کشیدگی میں تبدیل ہوتا گیا۔

سوئی گیس اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان کے عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر گیس ان کے علاقے سے نکلی تو مقامی آبادی کو اس کا مکمل فائدہ کیوں نہ ملا؟ اگرچہ مختلف حکومتوں نے گیس رائلٹی اور ترقیاتی فنڈز کی صورت میں رقوم دینے کا دعویٰ کیا، لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس کا اثر محدود نظر آیا
آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق معدنیات اور گیس پر پہلا حق اس علاقے کا ہے کیا اس پر عمل درآمد ہوا ؟

یہاں ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر وفاق نے اربوں روپے ترقیاتی منصوبوں، این ایف سی ایوارڈ، گیس رائلٹی اور خصوصی پیکجز کی صورت میں فراہم کیے تو وہ رقوم کہاں گئیں؟
کیا احتساب ہوا آڈٹ کا گورکھ دھندا آڈٹ پیرا سے نکل کر گرفت تک گیا تاکہ ادارہ جاتی کرپشن بوگس بلنگ کو روکا جا سکتا ؟
منسٹر حضرات نے فنڈز کہاں خرچ کئیے اپنی ترقی کے لئیے یا عوام کی فلاح وبہبود کے لیے زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ فنڈز صرف سردار نواب منسٹرز کی ذاتی زندگی اور ان کے چند حواریوں کے لئیے استعمال ہوئے عوام کو کچھ نہ ملا ؟
یہ سوال صرف اسلام آباد سے نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ، قبائلی سرداروں، وزراء، ارکان اسمبلی اور صوبائی حکومتوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔

بلوچستان میں کئی دہائیوں تک مختلف قبائلی اور سیاسی شخصیات اقتدار کا حصہ رہیں۔ بعض وفاقی کابینہ میں شامل رہیں، بعض گورنر اور وزیر اعلیٰ بنے، اور بعض نے صوبائی سیاست پر طویل عرصہ اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ اگر تمام اختیارات اسلام آباد کے پاس تھے تو اقتدار کے مزے کیوں لیے گئے؟ اور اگر اختیارات موجود تھے تو پھر عوام کی حالت کیوں نہ بدلی؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بلوچستان کی تاریخ ابھی تک تلاش کر رہی ہے۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی خواتین میلوں دور سے پانی لاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں بنیادی مراکز صحت موجود نہیں۔ جہاں عمارتیں موجود ہیں وہاں ڈاکٹر نہیں، جہاں ڈاکٹر موجود ہیں وہاں ادویات نہیں۔ جہاں اسکول موجود ہیں وہاں اساتذہ نہیں اور جہاں اساتذہ موجود ہیں وہاں طلبہ نہیں۔
یہ صورتحال صرف ریاستی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی ہے
آج بھی حکومت بلوچستان نے پی پی ایچ آئی کے ذریعہ جو کونٹرکٹ پر بھرتیاں کی ہیں صحت کے شعبہ میں وہ نوے فیصد سیاسی بنیادوں پر یا پیسوں کے لین دین یا اقربا پروری کی بنیاد پر ہوئی ہیں جو لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کو بی ایچ یو یا ڈسپنسری میں موجود دواؤں کا علم نہیں ہے
ان کو بی پی چیک کرنے کا طریقہ نہیں آتا ہے
نا اہل۔لوگ منتخب کئے گئے گئے ہیں اس کا نقصان یہ ہوا کہ عوام دواؤں کی موجود عملے کی موجودگی کے باوجود فوائد سے محروم رہی یہی حال اسکول کا ہے
آخر کب تک یہ چلے گا ؟

اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں قبائلی نظام بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ قبائلی نظام نے بعض اوقات سماجی تحفظ فراہم کیا، لیکن جدید ریاستی ڈھانچے کے ساتھ اس کا ٹکراؤ بھی پیدا ہوا۔ بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ بعض سرداروں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے تحفظ کو ترجیح دی۔ جبکہ سرداروں کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہوں نے وفاقی مداخلت کے خلاف بلوچ شناخت اور حقوق کا دفاع کیا۔

حقیقت شاید دونوں مؤقفوں کے درمیان موجود ہے۔
2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی موت کے بعد بلوچ نوجوانوں کے ایک طبقے میں غم و غصے میں اضافہ ہوا اور مسلح مزاحمت کو نئی توانائی ملی۔ جو لوگ پہلے سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، ان میں سے بعض نے ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کر دی۔

دوسری طرف ریاستی اداروں کا مؤقف تھا کہ مسلح کارروائیاں، گیس تنصیبات پر حملے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول تھا اور ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کی پابند تھی۔
یہ تنازع آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

بلوچستان میں بدامنی کی ایک اور بڑی وجہ نوجوانوں کی بے روزگاری ہے۔ جب تعلیم کم ہو، صنعت نہ ہو، روزگار محدود ہو اور مستقبل غیر یقینی نظر آئے تو نوجوان آسانی سے انتہا پسند یا علیحدگی پسند بیانیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جہاں معاشی مواقع کم ہوتے ہیں وہاں شدت پسندی کو جگہ ملتی ہے۔

اس کے ساتھ بیرونی عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بعض علیحدگی پسند گروہوں کو بیرونی حمایت حاصل رہی ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی تفصیلات پر سیاسی اختلاف موجود ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ہر ریاست اپنے داخلی تنازعات میں بیرونی مداخلت کے خدشات سے دوچار رہتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں کامیاب کب ہوتی ہیں ؟
وہ اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔
جہاں انصاف کمزور ہو، ترقی محدود ہو، نوجوان مایوس ہوں اور عوام کا اعتماد متزلزل ہو، وہاں بیرونی پروپیگنڈا زیادہ اثر دکھاتا ہے۔
لہٰذا بلوچستان کا حل صرف سیکیورٹی آپریشن نہیں ہو سکتا۔
اگر بندوق مسئلے کا مکمل حل ہوتی تو دنیا کے بیشتر تنازعات کئی دہائیاں پہلے ختم ہو چکے ہوتے۔
بلوچستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں ریاست، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتیں، قبائلی قیادت، نوجوان اور سول سوسائٹی سب شریک ہوں۔
اس مقصد کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، وسائل کی تقسیم کا شفاف نظام متعارف کرایا جائے اور ہر ضلع کو بتایا جائے کہ اس کے حصے میں کتنی رقم آئی اور کہاں خرچ ہوئی۔

دوم، صحت، تعلیم اور پانی کے منصوبوں کو قومی ترجیح قرار دیا جائے۔

سوم، نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم، سرکاری و نجی روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جائیں۔

چہارم، لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے معاملات کو مکمل قانونی شفافیت کے ساتھ حل کیا جائے بلوچ نوجوان دو طرفہ مشکلات میں ہے اگر وہ ریاست کا حامی ہے تو بی ایل اے اسے اٹھا کر غائب کر دیتی ہے
اگر وہ بی ایل کی حمایت کرتا ہے تو سرکار کے غیض غضب کا شکار ہو تا ہے
ایک طرف بھوک ہے بے روزگاری ہے بد امنی ہے
دوسری طرف رات دن خوف کا پہرہ ہے تو بلوچ خصوصی طور پر وہ بلوچ کو غیر جانبدار ہے کہاں جائے کیسے اس ماحول میں سروائیو کرے ؟

پنجم، سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت قائم کی جائے۔
ششم، بلوچستان میں آنے والے تمام ترقیاتی فنڈز کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے نام پر آنے والی رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔
ہفتم، صوبے کے تمام طبقات کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی شناخت، ثقافت اور سیاسی حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

بلوچستان کا مسئلہ محض بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، حکمرانی، انصاف اور قومی یکجہتی کا امتحان ہے۔
اگر ریاست عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔ لیکن اگر محرومیوں، بداعتمادی اور سیاسی غلطیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت علاقے فتح کر سکتی ہے، مگر دل صرف انصاف، احترام اور شراکت داری سے جیتے جاتے ہیں۔


پیر، 22 جون، 2026

پاکستان میں انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران

Al-Sadat News Pakistan 

انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران: ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

تحریر: سید محمد شاہ غرشین 

دنیا کی تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ کسی نے معیشت کو بنیاد قرار دیا، کسی نے فوجی طاقت کو، کسی نے تعلیم کو اور کسی نے جغرافیہ کو۔ لیکن جب ہم کامیاب اور ناکام ریاستوں کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کو اصل طاقت انصاف دیتا ہے اور ان کی کمزوری کا سب سے بڑا سبب ناانصافی بنتی ہے۔
عدل وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ جب عدل کمزور پڑ جائے تو آئین محض ایک کتاب، قانون محض چند دفعات اور ادارے محض عمارتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ملک نے جنگیں بھی دیکھیں، مارشل لا بھی دیکھے، جمہوری ادوار بھی دیکھے، معاشی ترقی بھی دیکھی اور بحران بھی۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی کارکن نہیں پوچھتا بلکہ ایک عام شہری بھی پوچھتا ہے۔ وہ کسان جو پٹواری کے دفتر کے چکر لگا رہا ہے، وہ مزدور جو تھانے کے باہر کھڑا ہے، وہ نوجوان جو ملازمت کے لیے دربدر ہے، اور وہ تاجر جو سرکاری محکموں میں فائلوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، سب کے ذہن میں یہی سوال گردش کرتا ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت قائم رہتا ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اگر ایک غریب شخص عدالت میں برسوں مقدمہ لڑے اور طاقتور شخص چند دنوں میں تمام رکاوٹیں عبور کر لے تو عوام کے دل میں قانون کے احترام کے بجائے قانون سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں احتساب کا تصور اکثر سیاسی تنازعات کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب ایک جماعت اقتدار میں آتی ہے تو احتساب کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اور جب اقتدار سے باہر جاتی ہے تو انہی اداروں پر جانبداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ احتساب انصاف کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن خود اس تاثر کا وجود بھی اداروں کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح بیڈ گورننس پاکستان کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ حکمرانی کا بنیادی مقصد عوام کو خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ صاف پانی، صحت، تعلیم، سڑکیں، روزگار اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ لیکن جب عوام کو یہ سہولیات نہ ملیں تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، بجٹ منظور ہوتے ہیں، اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، مگر عوامی زندگی میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس کی ایک وجہ کرپشن ہے، دوسری وجہ ناقص منصوبہ بندی، تیسری وجہ سیاسی مداخلت اور چوتھی وجہ جوابدہی کا فقدان۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی ضلع کے لیے اربوں روپے منظور ہوئے تو ان کا آڈٹ عوام کے سامنے کیوں نہیں آتا؟
اگر کسی ہسپتال کے لیے بجٹ جاری ہوا تو وہاں دوائیں کیوں نہیں پہنچیں؟
اگر کسی اسکول کی تعمیر کے لیے رقم مختص ہوئی تو وہاں اساتذہ کیوں نہیں پہنچے؟
یہ سوالات صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ پورے نظام سے متعلق ہیں۔
میرٹ کی تباہی بھی پاکستان کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ دنیا میں ترقی وہی معاشرے کرتے ہیں جہاں مواقع سفارش نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں۔ جب ایک محنتی نوجوان کو ملازمت نہ ملے اور اس کی جگہ کسی بااثر شخص کا عزیز تعینات ہو جائے تو صرف ایک فرد کا حق نہیں مارا جاتا بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، ڈگریاں لیتے ہیں، لیکن جب انہیں یہ محسوس ہو کہ کامیابی کا راستہ محنت کے بجائے سفارش اور تعلقات سے گزرتا ہے تو ان کے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
یہ مایوسی وقت کے ساتھ ریاستی نظام پر عدم اعتماد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں یہ احساس موجود ہے کہ ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں، کہیں بنیادی صحت کی سہولیات موجود نہیں، اور کہیں تعلیم کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ احساس محرومی اگر طویل عرصے تک برقرار رہے تو سیاسی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔
جمہوریت کا بنیادی اصول عوامی نمائندگی ہے۔ عوام ووٹ اس امید پر دیتے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کے مسائل حل کریں گے۔ لیکن جب انتخابات کے بعد بھی حالات میں بہتری نہ آئے تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں انتخابات کے بارے میں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کبھی ایک جماعت نتائج کو متنازع قرار دیتی ہے اور کبھی دوسری۔ اس صورتحال نے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
کسی بھی جمہوری نظام کی طاقت صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ ان انتخابات پر عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ دیانت داری سے شمار ہوا ہے تو سیاسی اختلافات کے باوجود نظام مستحکم رہتا ہے۔
میڈیا بھی ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کا کام صرف خبریں دینا نہیں بلکہ طاقتور سے سوال پوچھنا بھی ہے۔ جب میڈیا آزاد اور ذمہ دار ہو تو وہ عوام کے مسائل حکمرانوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب میڈیا دباؤ، مفادات یا وابستگیوں کا شکار ہو جائے تو اس کا بنیادی کردار متاثر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے ظہور نے اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ اب معلومات صرف چند اداروں کی اجارہ داری میں نہیں رہیں۔ عام شہری بھی اپنی رائے اور تجربات دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا مسئلہ موجود ہے، لیکن اس نے عوام کو اظہار کا ایک نیا پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کا سوال دراصل انصاف کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔
کیا طاقتور اور کمزور ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے؟
کیا احتساب سب کے لیے یکساں ہوگا؟
کیا ملازمتیں میرٹ پر ملیں گی؟
کیا عوام کے ٹیکس کا حساب عوام کو دیا جائے گا؟
کیا آئین کو تمام اداروں پر یکساں فوقیت حاصل ہوگی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
اصلاحات کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، عدالتی اصلاحات کے ذریعے فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جائے۔
دوم، احتساب کے تمام اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے۔
سوم، سرکاری بھرتیوں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
چہارم، ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
پنجم، بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں
اور ان بلدیاتی اداروں میں بھی کرپشن بوگس بلنگ بوگس سکیم کا رواج ہے جس کی وجہ سے مالی وسائل صوبائی منسٹر بلدیاتی ایڈمنسٹریٹر اور عمل ملکر ہڑپ کر جاتے ہیں
یوں یہ بلدیہ کا نظام بھی عوام کی خدمت اور حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے خزانے پر بیٹھا سانپ بن گیا ہے لہذا روایتی آڈٹ نہیں ایک الگ جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے جو تمام اداروں کے اندر مالی معاملات کی شفاف تقسیم اور اختیار کے ناجائز استعمال کے کی روک تھام کا زمہ دار ہو
ششم، پارلیمنٹ کو حقیقی قانون سازی اور نگرانی کا مرکز بنایا جائے۔
ہفتم، تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں۔
ہشتم، تعلیم، صحت اور روزگار کو قومی سلامتی کے برابر اہمیت دی جائے۔
پاکستان کے عوام کسی معجزے کے منتظر نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کا صلہ ملے، ووٹ کا احترام ہو، اور ریاست انہیں برابر کا شہری سمجھے۔
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں انصاف، اعتماد اور امید سے بنتی ہیں۔ جب ایک نوجوان کو یقین ہو کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوگی، جب ایک غریب کو یقین ہو کہ عدالت اس کی بھی سنے گی، جب ایک شہری کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ معنی رکھتا ہے، تب ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی اور نوجوان آبادی بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ آئین، قانون، میرٹ اور انصاف کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔
اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی مسائل برقرار رہے تو عدم اعتماد بڑھتا رہے گا، اور کوئی بھی ریاست مسلسل عدم اعتماد کے سہارے زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے حق میں نہیں ہوتا، تاریخ کا فیصلہ آخرکار انصاف کے حق میں ہوتا ہے۔

#PakistanPolitics #MeritCrisis #Governance #AlSadatNews #UrduEditorials


اتوار، 14 جون، 2026

کیا پاکستان قرضوں سے نجات حاصل کر لے گا

Al-Sadat News Pakistan 
بجٹ، قرض اور قوم کا مستقبل
 السادات نیوز پاکستان
Syed Mohammad Shah Gharshin 
CEO Al Sadat News Pakistan 



قارئین کرام 
ہر سال جون کا مہینہ آتا ہے، پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہوتا ہے، حکومتی بینچوں سے میزیں بجتی ہیں، اپوزیشن شور مچاتی ہے، ٹی وی سکرینوں پر معاشی ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں، اور عوام یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ آخر اس بجٹ میں ان کے لیے کیا ہے؟
یہ سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دس سال پہلے تھا، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ آج پاکستان صرف مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے بحران سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک ایسے معاشی ڈھانچے میں پھنسا ہوا ہے جہاں قومی وسائل کا بڑا حصہ قوم پر خرچ ہونے کے بجائے قرضوں، سود، گردشی قرضوں، سبسڈیوں اور انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔
حکومت نے 2026-27 کا تقریباً 18.77 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ کاغذ پر یہ رقم بہت بڑی دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ کتنا بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں قوم کے لیے کتنا حصہ بچتا ہے؟
جب ہم بجٹ کے اعداد و شمار کو غور سے دیکھتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ پھر دفاعی اخراجات ہیں۔ پھر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ہیں۔ پھر مختلف سبسڈیاں ہیں۔ پھر گردشی قرضے ہیں۔ ان سب اخراجات کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا بجٹ ایک ایسے خاندان کے بجٹ سے مشابہ نظر آتا ہے جو اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ پرانے قرضے اتارنے میں خرچ کر دیتا ہے جبکہ بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے اس کے پاس بہت کم وسائل بچتے ہیں۔
تعلیم کی مثال لے لیجیے۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا۔ انہوں نے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے نوجوان سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، محقق اور صنعت کار بنے۔
پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔
وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم 77 ارب سے 118 ارب روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
یہاں سوال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مخالفت نہیں۔ غریب آدمی کی مدد ہر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سوال ترجیحات کا ہے۔
اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو غربت سے نکالنے کے لیے مستقل روزگار، تعلیم اور ہنر فراہم کرنے کے بجائے مسلسل مالی امداد پر انحصار کرتا رہے تو کیا غربت ختم ہوگی یا غربت کا انتظام ہوتا رہے گا؟
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں خیرات سے نہیں بلکہ تعلیم، صنعت اور محنت سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان میں لاکھوں بچے آج بھی سکول سے باہر ہیں۔ ہزاروں سکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اساتذہ کی کمی ہے۔ جدید لیبارٹریاں نہیں ہیں۔ تحقیق کا نظام کمزور ہے۔ یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا موجودہ وسائل سے پاکستان علمی انقلاب لا سکے گا؟
معاشی بحران کا ایک اور پہلو توانائی کا شعبہ ہے۔
آج پاکستان میں بجلی مہنگی ہے، صنعت متاثر ہے، کاروبار دباؤ کا شکار ہیں اور صارف پریشان ہے۔ عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنی مہنگی بجلی کے باوجود بجلی کے ادارے خسارے میں کیوں ہیں؟
اس کا جواب صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات میں پوشیدہ ہے۔
بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص انتظام، سیاسی مداخلت، گردشی قرضے اور بعض معاہدوں کی شرائط سب مل کر اس بحران کو جنم دیتے ہیں۔ اگر بجلی پیدا ہونے کے بعد اس کا بڑا حصہ چوری ہو جائے یا اس کی قیمت وصول نہ ہو سکے تو اس کا بوجھ بالآخر ایماندار صارف پر پڑتا ہے۔
بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے ایسے الزامات اور شکایات بارہا سامنے آتی رہی ہیں کہ غیر قانونی کنکشن، بااثر افراد کی رعایتیں اور بدعنوانی بجلی کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔ اگر ان شکایات میں حقیقت موجود ہے تو پھر اصلاحات کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
اسی طرح گیس کا شعبہ بھی انتظامی کمزوریوں اور نقصانات کا شکار رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اپنی پیدا کردہ بجلی اور گیس کی مکمل قیمت وصول نہیں کر سکتی تو وہ مالی طور پر مضبوط کیسے ہوگی؟
ایک اور بنیادی مسئلہ ٹیکس نظام ہے۔
پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی کاروبار ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ معیشت کا بڑا حصہ اب بھی مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بار بار انہی لوگوں پر بوجھ ڈالتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہوتے ہیں۔
جب ٹیکس کا دائرہ محدود ہو، جب وسائل ضائع ہوں، جب ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت پر سوال اٹھیں، جب احتساب کمزور ہو، تو پھر بجٹ خواہ کتنا بھی بڑا ہو، اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔
پاکستان کی اصل ضرورت صرف نئے قرضے نہیں بلکہ نئے اصول ہیں۔
ایسے اصول جن میں: قانون سب کے لیے برابر ہو، بجلی چوری ناقابلِ برداشت جرم ہو، سرکاری منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ ہو، ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے، تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے، صنعت کو سستی توانائی فراہم کی جائے، اور احتساب سیاسی انتقام کے بجائے قومی پالیسی بنے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو بجٹ کے اعداد و شمار ہر سال بدلتے رہیں گے مگر عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔
آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔
ایک راستہ وہ ہے جس پر ہم کئی دہائیوں سے چل رہے ہیں؛ قرض، خسارہ، مہنگائی، امداد اور وقتی سہارا۔
دوسرا راستہ اصلاحات، شفافیت، تعلیم، پیداوار اور خود انحصاری کا ہے۔
قوموں کی تقدیر بجٹ کی کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، بلکہ اس بات سے لکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے وسائل کہاں خرچ کرتی ہیں۔
اگر ہماری ترجیح قرضوں کی ادائیگی سے زیادہ انسان سازی نہ بنی، اگر سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور صنعتوں کو قومی سلامتی جتنی اہمیت نہ ملی، اگر احتساب صرف تقریروں تک محدود رہا، تو آنے والی نسلیں بھی وہی سوال پوچھیں گی جو آج پاکستان کا نوجوان پوچھ رہا ہے:
"آخر اس ملک کے وسائل کہاں جا رہے ہیں؟"
یہ سوال حکومت سے بھی ہے، بیوروکریسی سے بھی، سیاست دانوں سے بھی اور ہم سب سے بھی۔
کیونکہ قوموں کا زوال صرف حکمرانوں کی غلطیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب پورا نظام جواب دہی سے آزاد ہو جائے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی ہیں، صلاحیت بھی ہے اور موقع بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بجٹ کا مرکز کاغذی اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستانی عوام کا مستقبل بنے۔


پیر، 8 جون، 2026

پاکستان کی عوام کا اب اداروں پر اعتماد نہیں رہا

Al-Sadat News Pakistan 

جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مرنے لگے

تحریر: سید محمد شاہ غرشین 



السادات نیوز پاکستان

کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے ٹینک، توپیں، میزائل، عدالتیں، پارلیمنٹ یا سرکاری عمارتیں نہیں ہوتیں۔ ریاست کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جائے گی، ان کے ووٹ کی عزت ہوگی، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوگا اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا تو ریاست مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو بظاہر مضبوط نظر آنے والی ریاستیں بھی اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
آج پاکستان کے گلی کوچوں، چائے خانوں، بازاروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گھروں میں بیٹھے لاکھوں لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: "ہم جائیں تو جائیں کہاں؟"
یہ سوال محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران کا شکار نہیں۔ پاکستان صرف سیاسی کشمکش کا شکار بھی نہیں۔ پاکستان دراصل ایک گہرے اعتماد کے بحران سے گزر رہا ہے۔ وہ اعتماد جو عوام اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کرتا ہے، آہستہ آہستہ کمزور ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے۔ شام تک محنت کرتا ہے۔ لیکن مہنگائی اس کی پوری کمائی نگل جاتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ کا حساب لگاتا ہے تو مہینے کے آخری ہفتے سے پہلے ہی جیب خالی ہو جاتی ہے۔ ایک نوجوان ڈگری حاصل کرتا ہے لیکن نوکری نہیں ملتی۔ ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان رہتا ہے۔
جب معاشی مشکلات مسلسل بڑھتی رہیں تو عوام کی برداشت بھی امتحان میں پڑ جاتی ہے۔
لیکن صرف غربت قوموں کو نہیں توڑتی۔
دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جو پاکستان سے زیادہ غریب رہے مگر وہاں کے عوام کو یقین تھا کہ نظام ان کے ساتھ انصاف کرے گا۔ اس یقین نے انہیں مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دیا۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ سیاسی بے یقینی بھی بڑھنے لگے۔
جب لوگ محسوس کریں کہ ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔
جب انہیں لگے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ اصول ہیں۔
جب انہیں محسوس ہو کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے۔
جب ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو جائے کہ ان کی فریاد سننے والا کون ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے۔ ہر دور میں حکمرانوں نے خود کو درست اور مخالفین کو غلط قرار دیا۔ ہر دور میں طاقت اور اختیار کی جنگ جاری رہی۔ لیکن ان تمام سیاسی لڑائیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی نے اٹھایا۔
وہ آدمی جو کسی جماعت کا نظریاتی کارکن نہیں۔
وہ آدمی جو صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتا ہے۔
وہ آدمی جو امن، روزگار اور عزت کی زندگی چاہتا ہے۔
بدقسمتی سے اکثر سیاسی بحرانوں میں اسی عام آدمی کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے۔
آج اگر آپ کسی بھی شہر کے بازار میں جائیں تو لوگ سیاست پر بحث کرتے نظر آئیں گے۔ لیکن ان بحثوں میں ایک چیز مشترک ہوگی: مایوسی۔
کسی کو معیشت سے شکایت ہے۔
کسی کو حکمرانوں سے۔
کسی کو اپوزیشن سے۔
کسی کو اداروں سے۔
اور کسی کو پورے نظام سے۔
یہ مایوسی خطرناک اس وقت بنتی ہے جب امید ختم ہونے لگے۔
کیونکہ امید زندہ ہو تو قومیں بڑے سے بڑا بحران برداشت کر لیتی ہیں۔
لیکن جب امید مرنے لگے تو غصہ جنم لیتا ہے۔
اور جب غصہ مسلسل بڑھتا رہے تو معاشرہ تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہا ہے۔ مختلف جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے۔ سیاسی وابستگی بعض اوقات خاندانی اور سماجی تعلقات سے بھی زیادہ اہم سمجھی جانے لگی ہے۔
یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔
کیونکہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب اختلاف کے باوجود مکالمہ باقی رہے۔
جب لوگ ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہوں۔
جب مخالف کو دشمن نہیں بلکہ سیاسی حریف سمجھا جائے۔
بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول اس سمت میں کم اور محاذ آرائی کی سمت میں زیادہ بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ ذمہ داری ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
طاقت کا اصل امتحان مخالف کو دبانے میں نہیں بلکہ مخالف کی بات سننے میں ہوتا ہے۔
حکمرانی کا اصل کمال تنقید برداشت کرنے میں ہوتا ہے۔
جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ لوگ حکومت سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
اگر عوام سوال پوچھنا چھوڑ دیں تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے۔
پاکستان کو آج ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں عوام کو یقین دلایا جائے کہ ان کی جان، مال، عزت اور رائے محفوظ ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں قانون سب کے لیے برابر ہو۔
ایسا معاہدہ جس میں ادارے شخصیات سے نہیں بلکہ آئین اور قانون سے وفادار ہوں۔
ایسا معاہدہ جس میں میڈیا خوف کے بغیر سوال پوچھ سکے۔
ایسا معاہدہ جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
کیونکہ تاریخ کا ایک سبق بہت واضح ہے۔
طاقت وقتی ہوتی ہے۔
عہدے عارضی ہوتے ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
لیکن قوموں کی یادداشت بہت طویل ہوتی ہے۔
لوگ شاید تقریریں بھول جائیں، نعرے بھول جائیں، سیاسی اتحاد بھول جائیں، لیکن وہ انصاف اور ناانصافی دونوں کو یاد رکھتے ہیں۔
پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف سیاسی جماعتیں نہیں کریں گی۔
اس کا فیصلہ وہ نوجوان کرے گا جو آج نوکری ڈھونڈ رہا ہے۔
وہ مزدور کرے گا جو مہنگائی سے لڑ رہا ہے۔
وہ کسان کرے گا جو اپنی فصل کے بہتر دام چاہتا ہے۔
وہ ماں کرے گی جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔
اور وہ شہری کرے گا جو عزت اور انصاف کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔
ریاست اور عوام کا رشتہ خوف پر نہیں چل سکتا۔
یہ رشتہ اعتماد پر چلتا ہے۔
اگر اعتماد مضبوط ہو تو مشکلات بھی برداشت ہو جاتی ہیں۔
اگر اعتماد کمزور ہو جائے تو کامیابیاں بھی بے معنی لگنے لگتی ہیں۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت معاشی پیکیج، سیاسی نعروں یا جذباتی تقریروں سے زیادہ اعتماد کی بحالی کی ہے۔
کیونکہ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ ان کی بات سنی جائے گی تو بحران کم ہونے لگتے ہیں۔
اور جب عوام کو یقین ہو جائے کہ کوئی ان کی فریاد سننے والا نہیں تو پھر مسائل صرف سیاسی نہیں رہتے، وہ قومی بحران بن جاتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست، سیاستدان، ادارے، میڈیا اور معاشرہ سب مل کر اس اعتماد کو بحال کریں۔
کیونکہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں۔
قومیں اعتماد، انصاف اور امید سے بنتی ہیں۔
اور جب امید زندہ ہو تو اندھیری راتیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...