منگل، 13 اکتوبر، 2026
مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟
گورنر راج کیوں لگایا گیا اصل حقائق کیا ہیں
پیر، 12 اکتوبر، 2026
اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد قائد حزب اختلاف
محمود خان اچکزئی صاحب کی پریس ٹاک عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ
کے پی میں گورنر راج نافذ
ملبوس آئین، عریاں آمریت؟
کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کا اعلان آمریت کا وار
گیارہ اکتوبر کی تاریخ ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سیاہ حاشیے کا اضافہ بن گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے صدرِ مملکت کو بھیجی گئی ایڈوائس کے مطابق خیبر پختونخوا میں "آئینی مشینری کے ناکام ہونے" کا جواز بنا کر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلامیہ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زبان آئینی ہے، مگر اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایک صوبے کے عوام کا منتخب کردہ نظام اسلام آباد کے حکم پر لپیٹا جا رہا ہے۔
جس صوبے میں عوام نے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اپنی حکومت منتخب کی، وہاں "مشینری کی ناکامی" کا فیصلہ ووٹر نہیں، وفاق کر رہا ہے۔ اگر کوئی مشینری ناکام ہوئی ہے تو وہ امن و امان کی نہیں، اعتماد کی ہے، اور یہ ناکامی صوبے میں نہیں، وفاق کے رویّے میں ہے۔
ہم نے ابتدا ہی سے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا تھا۔ ہمارا موقف تھا کہ سیاسی تنازعات کا حل مکالمے میں ہے، طاقت میں نہیں۔ مگر یہ مشورہ یک طرفہ ثابت ہوا۔ ایک طرف احتجاج کرنے والے ہیں جو بنیادی مطالبات رکھتے ہیں: عمران خان کی طویل تنہائی ختم کی جائے، انہیں علاج معالجے تک رسائی ملے، اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل ہو۔ دوسری طرف ریاست ہے جس نے ان مطالبات کا جواب مذاکرات سے نہیں، رکاوٹوں اور اب ایمرجنسی جیسے اقدام سے دیا ہے۔
جمعرات، 8 اکتوبر، 2026
کیا پاکستان میں غربت ختم ہوگی ؟
السادات نیوز پاکستان
تحریر سید محمد شاہ غرشین
CEO Al Sadat News Pakistan
ورلڈ بنک کی رپورٹ اور پاکستان کی معیشت
کسی بھی شہر کے کسی بھی محلے میں شام کے وقت سبزی کی ریڑھی کے پاس کھڑی ماں کو دیکھ لیجیے۔ وہ ٹماٹر اٹھاتی ہے، بھاؤ سنتی ہے، پھر آہستہ سے واپس رکھ دیتی ہے۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے نہ کوئی نعرہ۔ بس ایک خاموش حساب ہوتا ہے، جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کتنے باقی ہیں۔ اسی لمحے اسلام آباد کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں کوئی پریزنٹیشن چل رہی ہوتی ہے جس میں ہمیں بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ معیشت "استحکام" کی طرف جا رہی ہے۔
میں اس کالم میں کسی سیاسی جماعت کی وکالت نہیں کر رہا۔ میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس استحکام کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، وہ آخر ہے کس کے لیے ہے ؟ یا صرف کاغذ پر معیشت کھڑی ہے یا اس ماں کی ہانڈی کے لئے کچھ ہے ؟
آئیے سرکاری اور غیر سرکاری، دونوں طرح کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ سچ کہاں کھڑا ہے۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ پہلے وہی سنا جائے جو حکومت کہتی ہے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی provisional شرحِ نمو 3.7 فیصد بتائی ہے۔ معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 1,901 ڈالر بتائی گئی ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مد میں گزشتہ مالی سال تقریباً 41.6 ارب ڈالر ملک میں آئے۔ آئی ایم ایف خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ مالی سال 2025 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 1.3 فیصد رہا اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی اپریل میں اسٹیٹ بینک کے پاس 15 ارب ڈالر سے اوپر تھے۔
یہ سب باتیں غلط نہیں ہیں۔ ملک ڈیفالٹ کے کنارے سے پیچھے ہٹا، یہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی مریض کو وینٹی لیٹر سے اتار دینا اسے صحت مند قرار دینے کے لیے کافی ہے؟
ہم نے مریض کو بچا لیا، مگر اسے چلنے کے قابل نہیں بنایا۔ وہ آج بھی بستر پر پڑا ہے اور ڈاکٹر ہر دو ماہ بعد آ کر بتاتا ہے کہ نبض ٹھیک چل رہی ہے۔
مہنگائی جو اعداد میں کم اور بازار میں زیادہ ہے
منگل، 6 اکتوبر، 2026
آج غریب کے لئیے جینا مشکل بنادیا گیا ہے
حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں ڈیڈ لاک
وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیے جانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا شدیدردعمل
اتوار، 27 ستمبر، 2026
ملک میں بد آمنی کے بنیادی اسباب کیا ہیں ؟
گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر وہ زخم کھول دیا ہے جسے ہماری حکومتیں برسوں سے پٹی باندھ کر چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اس عالمی جائزے کے مطابق پاکستان 8.574 کے انتہائی بلند اسکور کے ساتھ پوری دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے، یعنی نمبر ایک۔ برکینا فاسو، نائجر، نائجیریا اور مالی جیسے وہ افریقی ممالک جو خانہ جنگی اور ریاستی ناکامی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اس فہرست میں پاکستان کے بعد آتے ہیں۔ افغانستان، جسے ہم برسوں سے دنیا کے سامنے دہشت گردی کا مرکز اور اپنی تمام تر بدامنی کی جڑ قرار دیتے آئے ہیں، اس فہرست میں گیارہویں نمبر پر ہے، یعنی ہم سے دس درجے پیچھے۔
یہ محض ایک عدد یا ایک رپورٹ کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں وہ حقیقت دکھا رہا ہے جسے ہماری حکومتی مشینری، ہمارا میڈیا کا بڑا حصہ، اور ہمارے پالیسی ساز ادارے تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ رپورٹ درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ اگر ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ مسلسل کئی برسوں سے ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ ہمارے ہاں تشدد بڑھ رہا ہے، تو ہماری ریاست نے اس کے جواب میں کیا کیا؟
ذمہ داری کا سوال:
کیا افغانستان ہی سب کچھ ہے؟
پاکستان کی سرکاری بیانیہ سازی کا محور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے: افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی برآمد ہو رہی ہے، افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دے رہی ہے، اور ہمارا مسئلہ دراصل ہماری سرحد کے اس پار سے آتا ہے۔ اس بیانیے میں کچھ سچائی ضرور ہے، سرحد پار پناہ گاہوں کا وجود ایک حقیقت ہے جسے کوئی سنجیدہ تجزیہ کار مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔ لیکن اگر یہی واحد وجہ ہوتی، تو منطقی طور پر افغانستان کو خود اس انڈیکس میں پاکستان سے کہیں زیادہ متاثرہ اور بدتر پوزیشن پر ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ افغانستان گیارہویں نمبر پر ہے وہاں امن ھم سے بہتر پوزیشن میں ھے اور پاکستان پہلے نمبر پر۔ یہ فرق اپنی جگہ ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف باہر سے درآمد شدہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ہمارے اپنے اندر، ہماری اپنی پالیسیوں، ہمارے اپنے فیصلوں اور ہماری اپنی تاریخی غلطیوں میں پیوست ہیں۔ دہائیوں تک بعض عسکریت پسند گروہوں کو "اسٹریٹجک اثاثے" سمجھنے کی پالیسی، بعض تنظیموں کے خلاف انتخابی کارروائی اور دوسروں کے خلاف نرمی، اور داخلی سیاست میں انتہاپسند بیانیوں کو گاہے بگاہے استعمال کرنے کی روش، یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو پروان چڑھایا۔ آج جب ہم افغانستان کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بیج کو ہم نے دہائیوں پہلے بویا تھا، وہی درخت آج تناور ہو کر ہمیں سایہ دینے کے بجائے نگل رہا ہے۔
گورننس کا بحران:
سلامتی پالیسی کہاں کھڑی ہے؟
پچھلے کئی برسوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں بلاشبہ قابل احترام ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض فوجی کارروائیاں، آپریشنز، اور بارڈر مینجمنٹ کے اعلانات کافی ہیں؟ حکومت وقتاً فوقتاً بڑے آپریشنز کا اعلان کرتی ہے، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، دعوے کیے جاتے ہیں کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، لیکن چند ماہ بعد ہی نئے حملے، نئی ہلاکتیں، اور نیا خوف سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک شکست خوردہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے وقتی طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ جب حکومتیں اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہوں، جب اداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی جاری ہو، اور جب پالیسی سازی کا تسلسل ہر چند ماہ بعد نئی حکومت یا نئے سیٹ اپ کی نذر ہو جائے، تو دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی، مربوط اور مستقل حکمت عملی بنانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، جسے 2014 میں بڑے جوش و خروش سے متعارف کرایا گیا تھا، آج کہاں کھڑا ہے؟ اس کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اتنی سست ہے کہ عام شہری کو یہ نام تک یاد نہیں رہا۔ مدارس کی رجسٹریشن، انتہاپسند لٹریچر پر پابندی، کالعدم تنظیموں کے دوبارہ نئے ناموں سے سرگرم ہونے کی روک تھام، یہ سب وہ شعبے ہیں جہاں حکومتی سنجیدگی کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔
معیشت اور سلامتی کا باہمی تعلق
دہشت گردی کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں، یہ معاشی بدحالی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سماجی ناانصافی کے ساتھ گہرا جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں محرومی کا احساس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور مقامی آبادی کو ترقیاتی عمل سے باہر رکھنے کا رویہ، یہ سب عناصر عسکریت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کے پاس روزگار نہیں، تعلیم کا معیار پست ہے، اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے، تو انتہاپسند بیانیہ اسے ایک "مقصد" اور "شناخت" کا جھوٹا احساس دلاتا ہے۔
حکومت کا معاشی بحران، آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار، اور ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔ جب دفاعی اور سیاسی اخراجات میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں، تو یہ ترجیحات کا وہی پرانا کھیل ہے جس کی قیمت آخرکار عام شہری اپنی جان سے چکاتا ہے۔
بیانیے کی جنگ اور داخلی تضادات
ایک اور اہم پہلو ریاستی بیانیے کا تضاد ہے۔ ایک طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خلاف "مکمل اتفاق رائے" اور "صفر برداشت" کی پالیسی کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ مصلحت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب انتخابی سیاست یا اتحادی حکومت کی مجبوریاں درپیش ہوں۔ یہ دوہرا معیار عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ریاست واقعی اس جنگ میں سنجیدہ ہے یا یہ صرف بیرونی دنیا کو دکھانے کے لیے ایک بیانیہ ہے۔
مزید یہ کہ جب کبھی سویلین حکومت دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو سکیورٹی معاملات پر حتمی فیصلہ سازی کا اختیار اکثر عسکری قیادت کے پاس ہی مرتکز نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ جاتی عدم توازن جوابدہی کے پورے نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو سویلین حکومت پارلیمنٹ میں وضاحتیں دیتی ہے، لیکن پالیسی کے حقیقی خدوخال کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں جمہوری جوابدہی کا تصور محض علامتی رہ جاتا ہے۔
بین الاقوامی ساکھ اور اس کی قیمت
پاکستان کا نمبر ایک پوزیشن پر آنا صرف اندرونی سلامتی کا معاملہ نہیں، اس کے دور رس سفارتی اور معاشی اثرات بھی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت، اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات ایک ایسے ملک کے لیے مشکل ہو جاتے ہیں جسے دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا جائے۔ چین جیسے قریبی اتحادی بھی سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے اپنے انجینئروں اور مزدوروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بار بار خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ جب کوئی بین الاقوامی کمپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتی ہے، تو ایسی رپورٹس اس کے فیصلے پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔
اس تناظر میں حکومت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف زبانی دعووں کی بجائے ٹھوس، قابل پیمائش، اور شفاف اقدامات کرے جن کا نتیجہ عالمی سطح پر نظر آئے۔ محض یہ کہہ دینا کہ "ہم قربانیاں دے رہے ہیں" یا "دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم نہیں کرتی"، ایک جذباتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ قربانیاں دینا الگ بات ہے، اور مؤثر پالیسی کے ذریعے ان قربانیوں کو کم سے کم کرنا بالکل الگ بات ہے۔
عوامی اعتماد کا فقدان
شاید سب سے تشویشناک پہلو عوام کا حکومتی دعووں پر سے اعتماد اٹھ جانا ہے۔ جب بار بار "امن قائم ہو گیا" کے اعلانات کے بعد نئے حملے ہوتے ہیں، تو عام آدمی حکومتی بیانات کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اعتماد کا خلا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں، یہ پورے معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔ جب معاشرہ ہی ریاست کی نیت اور صلاحیت پر شک کرنے لگے، تو مقامی آبادی کی وہ حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کسی بھی حکمت عملی کی بنیاد ہوتی ہے۔
خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مقامی آبادی نے حالیہ برسوں میں سڑکوں پر نکل کر امن مارچ کیے، دھرنے دیے، اور کھلے عام حکومت اور فوج دونوں سے سوال کیا کہ ان کے علاقوں کو دوبارہ عسکریت پسندی کی لپیٹ میں کیوں آنے دیا گیا۔ یہ آوازیں کسی سیاسی جماعت کی ایما پر نہیں اٹھیں، یہ ان خاندانوں کی چیخیں تھیں جنہوں نے ایک بار پھر اپنے پیاروں کو کھونا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کا ردعمل ان مظاہروں پر بھی وہی روایتی رہا: تسلی، یقین دہانی، اور پھر خاموشی۔
کیا راستہ ہونا چاہیے تھا؟
اس تمام صورتحال کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی حل موجود نہیں۔ سب سے پہلے، سلامتی پالیسی کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک قومی اتفاق رائے پر مبنی، طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر ہر آنے والی حکومت عمل درآمد کی پابند ہو۔ دوسرا، افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے بارڈر مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے، لیکن اسے واحد حل کے طور پر پیش کرنا خود فریبی ہو گی۔ تیسرا، جن علاقوں میں محرومی اور پسماندگی عسکریت پسندی کی بنیادی وجہ ہے، وہاں حقیقی ترقیاتی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، نہ کہ صرف فوجی موجودگی میں اضافہ۔ چوتھا، اداروں کے درمیان جوابدہی کا واضح نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ سویلین حکومت اور عسکری قیادت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا کھلے عام جواب دہ ہوں۔
میں یہ سمجھتا ہوں ملک میں سیاسی انتشار
جمہوری روایات کی پامالی اور سیاسی وکٹمائزیشن ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اور اقتدار کی ہوس
ملک پر قرضوں کا بوجھ جو اب جی ڈی پی کے برابر ہونے کو ہے
بے روزگاری ایسے اسباب ہیں جو اس عذاب کا بنیادی سبب ہیں جنکی وجہ سے حکومت امن قائم نہیں کر پارہی ہے
آخر میں، سب سے اہم چیز نیت کی سچائی ہے۔ جب تک ریاست کے مختلف ستون ایک ہی صفحے پر نہیں آتے، جب تک بیانیہ اور عمل کے درمیان فاصلہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک محض عالمی درجہ بندیوں پر ناراضگی کا اظہار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 ہمیں ایک موقع دے رہا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، بجائے اس کے کہ صرف باہر کی طرف انگلی اٹھائیں۔
یہ کالم اس یقین پر لکھا گیا ہے کہ تنقید محبت کی ایک شکل ہوتی ہے، اور اپنے وطن کے زخموں کی نشاندہی کرنا اس سے محبت کا انکار نہیں بلکہ اس کے علاج کی خواہش ہے۔
ہے۔
پیر، 14 ستمبر، 2026
یمن کا سعودی عرب پر حملہ /کیا اسرائیل امریکہ کی سازش ہے ؟
اتوار، 6 ستمبر، 2026
پاکستانی قوم وملک کی محرومی کے اسباب
Al Sadat News Pakistan
www.alsadatnewspk.com
pub-1468160377663484
پاکستانی قوم با شعور ہے مگر یہاں نظام پر ڈاکو مسلط ہیں
یہ شعور نہ حاصل کرسکتے مگر وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت: آئینی و انتظامی جائزہ
Al-Sadat News Pakistan
اداریہ
تحریر/تجزیہ سید محمد شاہ غرشین
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی نئے صوبے بنانے کی ضرورت کے تحت آئین کے آرٹیکل 239(4( میں تبدیلی کرکے محض چند جماعتوں کے پانچ چھ سو ممبران اسمبلی کے اقتدار کو ختم کرکے وسائل اور اختیارات عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور بلاشبہ یہ وقت کی ضرورت ہے
اس منصوبے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جو اس ہائبرڈ نظام سے مستفید ہورہی ہے سخت مخالفت کا فیصلہ کیا ہے
پیر، 24 اگست، 2026
پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل
ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت
تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کا سفر شروع دن سے ہی رکاوٹوں کا شکار رہا ہے۔ آزادی کے بعد سے آج تک عوامی رائے کو جس طرح عزت اور مقام ملنا چاہیے تھا، وہ کبھی پوری طرح نہیں مل سکا۔ ووٹ کو امانت کہا جاتا ہے، مگر عملی طور پر اس امانت کے ساتھ بارہا ایسا سلوک ہوا کہ عام آدمی کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا چلا گیا۔ ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات، نتائج پر تحفظات اور عوامی مینڈیٹ چرائے جانے کی شکایات معمول بن چکی ہیں۔ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات نے تو ان خدشات کو انتہا پر پہنچا دیا۔ عوام نے جن امیدواروں کو منتخب کیا تھا، رات کی تاریکی میں نتائج تبدیل کر کے فارم سینتالیس کے ذریعے ہارے ہوئے امیدواروں کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔ یہ محض ایک الزام نہیں بلکہ لاکھوں افراد کا وہ دکھ ہے جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے ووٹ کی بے حرمتی ہوتے دیکھی۔اس صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر ہمارا انتخابی نظام اتنا کمزور اور مشکوک کیوں ہے کہ ہر بار نتائج پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اس کی جڑیں صرف انتظامی بدعنوانی میں نہیں بلکہ خود نظام کے ڈھانچے میں بھی پیوست ہیں۔ ذیل میں ہم ان بنیادی مسائل کا جائزہ لیں گے جو ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں، اور ان اصلاحات پر بات کریں گے جو اس نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
کم ٹرن آؤٹ کا المیہ
پاکستان میں انتخابی شرکت کی شرح کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ عمومی طور پر یہ شرح تیس سے چالیس فیصد کے درمیان رہتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی حلقے میں ساٹھ سے ستر فیصد اہل ووٹرز الیکشن کے دن گھروں پر ہی رہتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سیاسی بےزاری، امیدواروں پر عدم اعتماد، نتائج میں ہیر پھیر کا خدشہ، سیکیورٹی کے مسائل، گرمی یا موسم کی شدت، اور ووٹر لسٹوں میں غلطیاں شامل ہیں۔ جب اکثریت ووٹ ڈالنے ہی نہیں آتی تو باقی رہ جانے والی اقلیت کا فیصلہ پورے حلقے پر مسلط کر دیا جاتا ہے، جو کہ جمہوری اصولوں کے عین منافی ہے۔
جماعتوں کی بھرمار اور ووٹ کی تقسیم
دوسرا بڑا مسئلہ سیاسی جماعتوں کی بے تحاشا تعداد ہے۔ ہر سال درجنوں نئی جماعتیں وجود میں آتی ہیں، اور ہر حلقے میں دس، بارہ یا پندرہ تک امیدوار میدان میں اترتے ہیں۔ فرض کریں کسی حلقے میں دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ساٹھ فیصد لوگ ووٹ ڈالنے نہیں آتے، تو باقی صرف چار لاکھ ووٹ پڑتے ہیں۔ اب یہ چار لاکھ ووٹ پندرہ امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جیتنے والا امیدوار زیادہ سے زیادہ پندرہ سے بیس فیصد ووٹ لے کر ہی کامیاب قرار پاتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اسی فیصد لوگ اس نمائندے کے مخالف تھے، مگر پھر بھی وہ ان پر حکمرانی کرنے کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ منتخب نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔
فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام کی خامیاں
پاکستان میں رائج انتخابی طریقہ کار، جسے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کہا جاتا ہے، اسی مسئلے کی جڑ ہے۔ اس نظام کے تحت جس امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں وہ کامیاب قرار پاتا ہے، چاہے اس کے حاصل کردہ ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں کے پچاس فیصد سے کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ دنیا کے کئی ممالک اس نظام کی خامیوں کو محسوس کرتے ہوئے متبادل طریقے اپنا چکے ہیں، جیسے کہ رن آف الیکشن یا متناسب نمائندگی کا نظام، جہاں کامیابی کے لیے ایک مخصوص فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے نظاموں میں اگر کوئی امیدوار مطلوبہ فیصد ووٹ حاصل نہ کر پائے تو سرفہرست دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کرایا جاتا ہے، تاکہ حتمی فاتح واقعی اکثریت کی حمایت رکھتا ہو۔
جیت کے تناسب میں اصلاح کا مطالبہ
اسی تناظر میں یہ تجویز نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں کامیابی کے لیے کم از کم ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ اگر یہ اصول نافذ ہو جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سے پہلے تو غیر سنجیدہ اور محض ووٹ تقسیم کرنے کے لیے میدان میں اترنے والی سینکڑوں چھوٹی جماعتیں خود بخود منظر سے ہٹ جائیں گی، کیونکہ کوئی بھی امیدوار اکیلے اتنی بڑی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں مجبور ہوں گی کہ وہ آپس میں اتحاد بنائیں، مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور عوام کے سامنے واضح اور قابل عمل ایجنڈا پیش کریں۔ اس سے سیاسی استحکام کو بھی تقویت ملے گی اور حکومت سازی زیادہ نمائندگی پر مبنی ہوگی۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ منتخب نمائندہ واقعی اکثریت کی حمایت سے کامیاب ہوگا، جس سے اس کی حکومت کو اخلاقی اور سیاسی جواز حاصل ہوگا اور عوام میں یہ تاثر پیدا نہیں ہوگا کہ ایک اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی مسلط کر دی ہے۔
ووٹنگ مشینوں اور بائیو میٹرک تصدیق کی اہمیت
دوسرا مطالبہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں یا کسی ایسے تصدیقی نظام کے استعمال سے متعلق ہے جو جعلی اور بوگس ووٹنگ کا سدباب کر سکے۔ روایتی کاغذی طریقہ کار میں انسانی مداخلت کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، جس سے گنتی میں تاخیر، غلطیاں اور جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ووٹنگ مشینیں استعمال کی جائیں تو ہر ووٹر کی شناخت یقینی بنائی جا سکتی ہے، ایک شخص ایک سے زیادہ بار ووٹ نہیں ڈال سکے گا، اور نتائج فوری اور شفاف طریقے سے سامنے آ سکیں گے۔ اگرچہ الیکٹرانک نظام کو بھی اپنے تکنیکی چیلنجز اور سائبر تحفظ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، مگر مناسب حفاظتی اقدامات اور شفاف آڈٹ کے ذریعے ان خدشات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے انتخابی عمل کی ساکھ بحال کر سکتا ہے۔
منتخب نمائندوں کے لیے تعلیمی و اہلیتی معیار کیا ہونا چاہیے
تیسرا اور نہایت اہم مطالبہ یہ ہے کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے امیدواروں کی اہلیت کا ایک واضح معیار مقرر کیا جائے۔ اس وقت کوئی بھی شخص، چاہے اس کی تعلیمی قابلیت کچھ بھی ہو، الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر ایسے افراد قانون سازی کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، قانون سازی یا حکمرانی کے پیچیدہ امور کا خاطر خواہ ادراک نہیں ہوتا۔ اگر پی ایچ ڈی، ایم فل، انجینئرز، ڈاکٹرز اور دیگر باصلاحیت اور تعلیم یافتہ افراد کو آگے آنے کا موقع ملے تو قوم کو ایسی قیادت میسر آ سکتی ہے جو جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتی ہو اور بہتر پالیسی سازی کر سکے۔ یہ تجویز ان جمہوریتوں کے تجربے سے بھی ہم آہنگ ہے جہاں امیدواروں کے لیے کم از کم تعلیمی یا تجرباتی معیار مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ایوان میں سنجیدہ اور باصلاحیت افراد پہنچ سکیں۔
پاکستان کا انتخابی نظام آج جس نہج پر پہنچ چکا ہے، اس میں اصلاحات کی ضرورت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کم ٹرن آؤٹ، جماعتوں کی بھرمار، ووٹ کی تقسیم، شفافیت کا فقدان اور نااہل امیدواروں کی بھرمار، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جس میں عوام کی حقیقی رائے کبھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ پاتی۔ کامیابی کے لیے واضح اکثریتی تناسب مقرر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانا، اور امیدواروں کے لیے اہلیتی معیار طے کرنا، یہ تینوں اقدامات مل کر پاکستان کے جمہوری نظام کو زیادہ مضبوط، شفاف اور نمائندہ بنا سکتے ہیں۔
تاہم اس بحث کے دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ ماہرین اور سیاسی حلقے ان تجاویز پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ لازمی قرار دینا ایک کثیر الجماعتی اور متنوع معاشرے میں عملی طور پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بار بار انتخابات یا رن آف مقابلوں کی ضرورت پیش آئے گی، جو کہ مالی اور انتظامی طور پر بوجھ بن سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی اور نئی جماعتوں کے حامی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی تنوع اور نئی آوازوں کا سامنے آنا جمہوریت کی صحت کے لیے ضروری ہے، اور بہت سخت شرائط ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے بھی کچھ حلقے یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی تک عوامی رسائی، خواندگی کی شرح، اور سائبر تحفظ کے مسائل کو پہلے مکمل طور پر حل کیے بغیر ایسا نظام نافذ کرنا نئے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی طرح امیدواروں کے لیے تعلیمی معیار مقرر کرنے کی تجویز پر بھی یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ سیاسی تجربہ اور عوامی رابطہ بھی قیادت کی اہلیت کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنی کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری، اور محض ڈگری کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ کرنا کچھ باصلاحیت اور عوامی حمایت رکھنے والے افراد کو سیاسی عمل سے باہر کر سکتا ہے۔
بہرحال، ان تمام تحفظات کے باوجود یہ بات طے ہے کہ موجودہ نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے، تاکہ ووٹ کی حرمت بحال ہو اور عوام کا اپنے منتخب نمائندوں پر اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔
www.alsadatne2spm.com
ہفتہ، 22 اگست، 2026
جب قانون ساز ادارے قانون کے خلاف کام کریں ؟
جب قانون خود قانون کے راستے میں کھڑا ہو جائے
تحریر تجزیہ : سید محمد شاہ غرشین
CEO Al Sadat News Pakistan
حکومت پاکستان اور بلوچستان میں امن کی کوشش
بلوچستان کے مسائل اور ان کا حل کیا ہے ؟
تحریر/تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین
ہر ملک اور معاشرے کی بقا کا راز اس بات
جمعرات، 13 اگست، 2026
پاکستان میں نئے صوبے بنانے سے عوام کی قسمت بدلے گی ؟
کاغذی محل، آبلہ پا عوام اور اصلاحات کا سراب ؟
تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین
مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟
Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...
-
Al-Sadat News Pakistan ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین پاکستان ایک ایسا ملک ہ...
-
Al-Sadat News Repor ضلع خیبر باڑہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔۔۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس کو پسپا کرکے ڈنڈے اور حفاظت شیلڈز بھی قبضے میں لے...
-
Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...

















