اتوار، 28 جون، 2026

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ 2026

Al-Sadat News Pakistan 

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ 
تحریر

سید محمد شاہ غرشین 

پاکستان کی سیاسی منظر نامے پہ اگر نظر ڈالی جائے 
تو گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں کچھ سیاسی موومنٹس نظر ارہے ہیں جن میں جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن صاحب اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن صاحب شامل ہیں پورے پاکستان میں ممبر سازی کے حوالے سے اور مختلف عنوان  سے  مختلف ناموں سے پاکستان میں جلسے جلوس منعقد کیے جا رہے ہیں 
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عوام اور موجودہ سسٹم کے درمیان جو عدم اعتماد کی ایک دراڑ پیدا ہوئی ہے یا پاکستان تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کے جو کوشش ہے ان کو کرش کرنے اور انہیں توڑنے کی اور ان کی لیڈرشپ کے خلاف جو مظالم جاری ہیں جس طرح ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور جس طرح نو مئی کی سازش رچی گئی پھر ان کے خلاف 26 نومبر 2024 کا جو ایک پری پلان منصوبہ تھا ڈی چوک میں جس 
میں بہت ساری انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں

 پھر ٹی ایل پی کے خلاف مریدکے میں جو کریک ڈاؤن کیا گیا اور
 اب پھر جی بی کے اندر اس عمل کو دہرایا گیا ہے طاقت کی اس بے تحاشہ استعمال نے عوام کی دلوں میں اس موجودہ سلیکٹڈ حکومت  جو فارم 47 کی مد میں سلیکٹ ہو کے ائی ہے کی  نفرت کی ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جو دیوار اب کسی صورت گرنے والی نہیں ہے 

موجودہ حکومت میں موجود سیاسی 
جماعتیں جو ہیں  ان کی اب عوام کی نظروں میں کوئی وقت اور ویلیو نہیں رہی ہے اور عوام ان پر کسی صورت اب بھروسہ کرنے والے نہیں اس خلا کو پر کرنے کے لیے

 جمعیت علماء اسلام کوشش کر رہی ہے عوامی رابطہ مہم کے لیے کوشش جاری ہے اور جماعت اسلامی نے بھی اس کے لیے بھرپور کوشش کی ہے اور بہت سارے نوجوانوں میں جو نے ان جماعتوں  کاجو رجسٹریشن پروسیس ہے ممبر سازی کا اور ان کے جلسے جلوس میں بھی حصہ لیا ہے

 دوسری طرف کے پی کے میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہے اور کے پی کے کے اندر صوبائی حکومت پنجاب کی طرف سے جو راشن ہے گندم کی جو سپلائی ہے اسے بند کیا گیا ہے گیس کی سپلائی کو بند کیا گیا ہے اس طرح بہت ساری اور چیزیں انہوں نے روکی ہیں جس کی وجہ سے بھی نفرت جنم لے رہی ہے 
اب یہی عمل گلگت بلتستان اورکشمیر میں دہرایا جا رہا ہے اور حافظ نعیم الرحمن صاحب اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے کل ہی جو پریس کانفرنس کی ہے اس سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومت دانستہ طور پر  جی بی کے اندر خوراک کی جو ترسیل ہے اسے روکا ہے
 بی بی سی نے جب اس سے کوڈ کیا اپنی ایک رپورٹ کے اندر جو انہوں نے مختلف لوگوں سے مل کے وہاں انٹرویوز کیے ان کو جب بی بی سی نے شائع کیا تو اس کے بعد حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ رپورٹ جو ہے درست نہیں ہے جبکہ یہ رپورٹ سو فیصد درست ہے جی بی کی عوام کا حق ہے ان کے ساتھ جو مذاکرات کیے گئے 2025 میں جو معاہدہ  حکومت کے ساتھ ہونے والے مذکرات میں جو شرائط طے پائی تھیں گورنمنٹ نے ان کی خلاف ورزی کی ان میں سب سے بڑی شرط یہ تھی کہ جو مہاجرین کی 12 سیٹیں ہیں ان کو ریموو کیا جائے گا ختم کیا جائے  گا کیونکہ وہ جی بی کے مقامی عوامی نمائندگی نہیں رکھتے اور جب بھی حکومت کو گرانا ہو تو ان ووٹوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور حکومتیں گرائی جاتی ہیں اس لیے ان کو ختم کر دیا جائے اس عوامی مطالبے پہ حکومت نے ایگری کیا تھا اٹھ نو مہینے کے بعد جب الیکشن ہوئے تو حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی اور انہی 12 سیٹوں پر جو مہاجرین کشمیری کشمیریوں کے نام سے یہ سیٹیں ہیں ان پر دبارہ لوگوں کو الیکشن کے لیے میدان میں اتارا گیا 
جس کی وجہ سے کشمیری عوام اور حکومت کے درمیان شدید عدم اعتماد پیدا ہوا اور عوام سڑکوں پہ نکلی 
گزشتہ 15 دنوں سے عوام مسلسل رات دن عورتیں بچے بوڑھے جوان سب روڈوں پہ ہیں احتجاج جاری ہے حکومت نے بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرتی انہیں انگیج کرتی ڈنڈا استعمال کیا اور ایک ارڈر کے ذریعے عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد تنظیم ڈکلیئر کرتے ہوئے بین کر دیا گیا یقینا یہ عمل قابل مذمت تھا کیونکہ جب کسی تنظیم کو بین کیا جاتا ہے یا اس سے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے تو قانون کی منشا سے اس کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ہونے چاہیے

 مگر گزشتہ کچھ عرصے میں اس قانون کو اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے انہیں کرش کرنے سیاسی پارٹیوں کو بین کرنے کے لیے ناجائز استعمال کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کی شدید وائلیشن کی گئی ہے 
اب عوام اور موجودہ سیٹ اپ یا نظام کے درمیان جو عدم اعتمادی ہے اس کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر سب سے بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف پر ظلم زیادتی ائین سے ماوراء الیکشن کمیشن ائین سے ماورا سپریم کورٹ کی فیصلے اور ائینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے جو فیصلے کیے گئے اس سے عدالت پر عوام کا جو بھروسہ تھا اعتماد تھا وہ ٹوٹ گیا ہے
 اب اداروں پہ جب اعتماد نہیں رہا پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پہ جب اعتماد نہیں رہا الیکشن کمیشن پہ جب اعتماد نہیں رہا عوامی رائے کی توہین کرتے ہوئے جس طرح فارم 47 کے ذریعے یہ حکومت سلیکٹ کی گئی اور عوام پر مسلط کی گئی اس سے اعتماد ٹوٹا اور اداروں نے بجائے قانون اور رولز کو فالو کرنے کے حکمران کی بات مانی اور حکمرانوں کے پیروکار بن گئے اس سے ائین کی توہین ہوئی
 عوامی رائے دہی کی توہین ہوئی جس سے شدید غم و غصہ عوام میں پایا جاتا ہے 
اس عوامی عدم اعتماد سسٹم کے خلاف باغیانہ روش عدم اعتماد کو کور کرنے کے لیے جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کو لانچ کیا گیا ہے
 ایک ہفتہ چھ دن پہلے امریکن سیاسی امور کے جو ذمہ داران تھے انہوں نے مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملاقات کی ہے اور اس پہ بات چیت ہوئی ہے کہ پاکستان میں اگے نظام کو کیسے چلایا جائے اور اس عوامی عدم اعتماد کو اور سسٹم اور عوام کے درمیان اس نفرت کو کیسے ختم کیا جائے یا پاکستان تحریک انصاف کو نظام سے باہر رکھ کر عمران خان کو اس سسٹم سے باہر رکھ کر کیسے پاکستان کو مزید اگے لے جا کر چلا جائے اس پہ بات ہوئی ہے ۔
مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس پورے سسٹم یا اس پورے نظام کو اگے چلانے کے قابل ہیں یا اس میں یہ کامیاب ہوں گے کیونکہ بدعتمادی 70 پرسنٹ سے زیادہ ہے بینیفیشری 30 پرسنٹ وہ لوگ جو موجودہ سیٹ اپ سے مفید ہو رہے ہیں یا فائدے حاصل کر رہے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ فصلی بٹیرے ہیں چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جو سامنے ایا اس طرف چلے جائیں گے تو اس سے پاکستان میں مزید عدم اعتماد اور سیاسی انتشار بڑھے گا جس سے پاکستان کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں جو پہلے سے ہی ہچ کو لے کھا رہی ہے اور ائی ایم ایف یا ورلڈ بینک یا دوست ممالک کے قرضوں پہ چل رہی ہے 

مجھے نہیں لگتا کہ جماعت اسلامی یا جمیعت علماء اسلام پاکستان تحریک انصاف کے اس خلا کو پر کر سکتی ہے یا اس عوامی اعتماد کو بحال کر سکتی ہے یا اس غم  اور غصے میں کوئی کمی لا سکتی ہے 
جمیعت علماء اسلام کا مذہبی اور نظریاتی ووٹ ہے اور اگر اپ دیکھیں کہ جمعیت علماء اسلام کی جو اب تک کی پالیسی رہی ہے وہ یہ کہ وہ موجودہ سیٹ اپ جو موجود ہے اس کو سپورٹ کرتی رہی ہے اسمبلی کے فلور پہ مولانا فضل الرحمن صاحب اور ان کی جماعت مختلف طریقوں سے موجودہ سیٹ اپ کی پالیسیوں پہ تنقید بھی کرتے ہیں جلسے جلوسوں میں اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پہ کھلے عام تنقید کرتے ہیں جو اس وقت عوام کا ایک پسندیدہ موضوع ہے 

مگر جب یہ ایوان میں اتے ہیں چاہے 26ویں ترمیم ہو چاہے 27 ویں ائینی ترمیم ہو یا کوئی اور قانون پاس ہو رہا ہو یا 28 ویں ائینی ترمیم ہو یا کوئی اور مفادات کا حاصل کرنا ہو تو یہ سب ایک صف میں ہوتے ہیں اور ایک جگہ ہوتے ہیں
 پاکستان کی عوام اب باشعور ہے وہ اب ان تمام چیزوں کو سمجھتی ہے اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ جمیعت علماء اسلام پہ پاکستانی عوام کو بھروسہ کرے گی 
اسی طرح جماعت اسلامی ہے  اسے پہلے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کہا جاتا ہے جس طرح ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی بھی ٹیم ہے

 لیکن ایک بات جو ان میں مشترک ہے وہ یہ کہ جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام میں یا ان کے نمائندگان جو اب تک ایوان میں ائے ہیں ان کے خلاف کوئی کرپشن کا بڑا سکینڈل منظر عام پہ نہیں ایا ہے جس کی وجہ سے عوام ان پہ دیانتداری کے حوالے سے کچھ بروسہ کرتی ہے اور عوام میں ا خدمات کے حوالے سے یا ڈیلیور کرنے کے حوالے سے بھی ان کے اوپر بھروسہ کیا جاتا ہے مگر یہ پاکستان تحریک انصاف تحریک انصاف کی جگہ نہیں لے سکتے
 اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں امریکہ کے خلاف اپنے عوامی اجتماعات میں جلسے جلوسوں میں باتیں تو کرتے ہیں مگر امریکہ کے خلاف جو سٹینڈ عمران خان نے لیا اور جس برابری کی بات عمران خان نے کی اور غلامی کی جس زنجیر کو توڑنے کی بات عمران خان نے کی یہ جرات ان دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ میں موجود نہیں ہے
 ٹیبل ٹاک پہ یہ ان کے ساتھ ہیں مفاہمت کی پالیسی کو یہ اختیار کرتے ہیں مل جاتے ہیں اور عوامی اجتماعات میں بظاہر یہ مخالفت کرتے رہتے ہیں اسی وجہ سے بھی عوام ان کے اوپر اس حوالے سے بھروسہ نہیں کرتے 

اس ساری صورتحال میں سب سے جو پریشان 
کن بات ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جو قیادت اس وقت باہر موجود ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی سسٹم سے کسی حد تک کم پرومائز کر چکی ہے یا دباؤ کی وجہ سے یا ڈر کی وجہ سے یا اندرونی طور پر جو بات چیت ہوتی رہتی ہے کسی دلیل کی وجہ سے بھی جو بھی اپ اسے کہہ دیں اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی ایسی موومنٹ نہیں بنا سکی 
 جیسا کہ پاکستان مسلم لیگ نون نے نواز شریف کی رہائی کے لیے بنائی تھی وہ ایسا پریشر بلڈ نہ کر سکے حالانکہ  مسلم لیگ نون نے پاکستان تحریک انصاف کی گورنمنٹ کے خلاف سب سے بڑا کارڈ مہنگائی کارڈ کھیلا تھا اور مولانا فضل الرحمن صاحب بھی ان کے ساتھ تھے انہوں نے جلسے جلوس کیے دھرنے دیے مولانا فضل الرحمن کئی دن تک دھرنا دے کے بیٹھے رہے مہنگائی کے خلاف مارچ ہوتے رہے میڈیا نے ایک طوفان برپا کر رکھا تھا یہاں تک فیصل واڈا کی انکشافات کے مطابق کہ کتے کا خون لے کے اس کی پلیٹلٹس کی رپورٹ کو نواز شریف کی رپورٹ بنا کے پیش کیا گیا ایوان میں یہ انتہائی شرمناک عمل تھا اور مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے کسی بھی اخلاقی گراوٹ کی توقع کی جا سکتی ہے 

پاکستان کی تاریخ اور ان کے مکر اور فریب کا اگر مطالعہ کیا جائے تو یہ کسی بھی لیول تک اپنے مفادات کے لیے گر سکتے ہیں ان کے اندر اخلاقی مورلٹی کچھ بھی نہیں ہے بالکل نہیں ہے 
پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے رہائی کے بجائے صرف ملاقات کے مطالبے پہ ا کے ٹکی ہے رات دن وہ جتنی کوشش کر رہے ہیں وہ ایک ملاقات نہیں کروا پا رہے اس سے ایک طرف تو نظام یعنی عدلیہ کی بے بسی نظر ا رہی ہے جہاں مہینوں سے سالوں سے لگی درخواستیں پینڈنگ پڑی ہیں وہ سنی نہیں جا رہی ہیں اس وجہ سے عوام کے اور عدلیہ کے درمیان بھی ایک نفرت پائی جاتی ہے کہ عدلیہ بھی بکی ہوئی ہے اور عدلیہ کی ساکھ جتنی اس دور میں متاثر ہوئی ہے جتنا عدلیہ اس دور میں بے عزت ہوئی ہے شاید کبھی ہوئی ہو 

میری رائے میں پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل ہے چاہے وہ بلوچستان کا مسئلہ ہو بی ائی سی کا مسئلہ ہو ماہ۔رنگ بلوچ کا یا ریاست اور بلوچستان کی جو مسلح گروپس کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے اس کا معاملہ ہو وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہو یا کے پی کے میں دہشت گردی کا معاملہ ہو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا معاملہ ہو 
تو تحریک انصاف کے جو لیڈر ہیں عمران خان وہ وا حد شخصیت ہیں جس پہ بلوچ بھروسہ کر سکتا ہے افغانستان کی حکومت بھروسہ کر سکتی ہے بین الاقوامی ادارے بھروسہ کر سکتے ہیں 
اس لیے میں کہتا ہوں کہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے عمران خان کے کہنے پہ بلوچ پہاڑوں سے اتر سکتا ہے بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے کے پی کے میں امن کائم ہو سکتا ہے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدیں بحال ہو سکتی ہیں 

تو اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ پی ٹی ائی یا عمران خان کو مائنس کر کے پاکستان کو اگے لے کے چلا جا سکتا ہے پاکستان کی معیشت کو بحال کیا جا سکتا ہے یا پاکستان میں امن قائم کیا جا سکتا ہے یا پاکستان میں ازاد عدلیہ یا ازاد ا ادارے یا عوامی خدمت گڈ گورننس اور میرٹ کو بحال کیا جا سکتا ہے کرپشن کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہوگا یہ ممکن نہیں ہے طاقتوروں کو اس  نوشتہ دیوار کو پڑھ لینا چاہیے جتنا جلد انہیں یہ حقیقت سمجھ ائے وہ اسے تسلیم کریں تو یہ ان کے لیے پاکستان کے لیے سب سے بہتر فیصلہ ہوگا
تحریر ؛ سید محمد شاہ غرشین
السادات نیوز پاکستان

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...