منگل، 7 جولائی، 2026

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan 



کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟

بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟

تحریر سید محمد شاہ غرشین 




میں آفس میں بیٹھے سوچ رہا تھا کہ کیا خوبصورت وقت تھا کہ جب ہم لورالائی کینٹ کی کینٹین پر جاکر جلیبی کھاتے تھے صاف ستھرا ماحول تھا فوج کے جوان ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھے باہمی اعتماد اور احترام تھا تحفظ کا احساس تھا 
پھر کوئٹہ چلتن مارکیٹ جانا شاپنگ کرنا وہاں خوبصورت مناظر پارک دیکھ کر سارے دن کی تھکاوٹ اتر جاتی تھی وہ چائے کا ایک کہ سموسے ڈپریشن کا علاج تھے 
آج کیا ہوگیا ہے میرے محافظ خود غیر محفوظ ہوگئے ہیں بڑی بڑی دیواروں نے حصار کھڑے کر دیئے ہیں 
آج ہمارے پالیسی سازوں سے یہی ایک سوال کے کہ آخر کیا غلط ہوا ہے آپ سے کہ آج وطن عزیز قوم اور آپ خود محفوظ نہیں ہیں ؟
اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کیا گیا تو امن واپس نہیں آئے گا 
آخر کیا ھوگیا ہے کہ آج عوام آپ کے ساتھ نہیں ہے ؟
آخر کیوں آج آپ نے دیواروں کے اس حصار میں عوام سے خود کو دور کر لیا ہے ؟
 ہمارے انٹلیجنس ایجنسی دشمن کے لہروں کے دوش پر قائم وار کو پکڑ لیتے ہیں مگر  مگر اپنی قوم کے درمیان فاصلے کی وجہ ان کو نظر نہیں آرہی ؟
جب تک آپ اس قوم کو پہلے کی طرح عزت اور تحفظ اور حقوق نہیں دیں گے یہ فاصلے کم نہیں ہونگے یہ اعتماد بحال نہیں ہو گا 
طاقت کے استعمال سے پرہیز کریں یہی مسائل کی جڑ ہے آئین کو بحال کیا جائے ہر ادارہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرے جو کام جسکا ہے وہی کرے آئین کی بحالی عدلیہ کی آزادی عوامی خدمت میرٹ کی بحالی ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر ریاست امن قائم کر سکتی ہے 

پاکستان کے آئین کی پہلی ذمہ داری ریاست پر یہ عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ لیکن آج جب ہم بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا ریاست اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟

اگر معصوم بچے بارودی مواد کا نشانہ بن رہے ہوں، اگر دہشت گرد دیہات پر حملے کر رہے ہوں، اگر پولیس چوکیوں پر یلغار ہو رہی ہو، اگر شاہراہیں غیر محفوظ ہوں، اگر کاروبار تباہ ہو رہا ہو اور عام شہری خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں، تو محض مذمتی بیانات عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

بلوچستان کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہے۔ ایک طرف دہشت گرد تنظیمیں حملے کرتی ہیں، دوسری طرف عام شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ نہ جانے اگلا حملہ کہاں ہوگا۔ اگر حالات ایسے مقام پر پہنچ جائیں کہ لوگ اپنے گھروں، بازاروں اور سفر میں بھی خود کو محفوظ نہ سمجھیں تو یہ صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا بحران ہے۔

اسی دوران اگر آزاد کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہوں، تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہر واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کے مطابق احتجاج کے حق کا احترام دونوں یکساں اہم ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہشت گرد آخر اتنی آزادی سے کارروائیاں کیسے کر لیتے ہیں؟ ان کے نیٹ ورک کہاں سے چل رہے ہیں؟ ان کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟ انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان ایسا مؤثر نظام کیوں قائم نہیں ہو پا رہا جو ان حملوں کو پہلے ہی ناکام بنا سکے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ بلوچستان جیسے حساس خطے میں انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی، ترقی، تعلیم، روزگار، مقامی آبادی کی شمولیت اور قانون کی یکساں عملداری کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جہاں عوام کا اعتماد کمزور ہو جائے، وہاں دشمن عناصر کو جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔

آج پاکستان کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، عوامی تحفظ، متاثرہ خاندانوں کی فوری مدد، سکیورٹی نظام کی بہتری اور ریاستی اداروں کا مؤثر احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ کالم کسی ادارے یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصولی سوال اٹھاتا ہے: ریاست کی اصل طاقت کیا ہے؟ ریاست کی طاقت صرف اسلحہ یا اختیارات نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کا اعتماد ہوتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے خوفزدہ ہو، جب ایک تاجر سفر سے ڈرے، جب ایک مسافر شاہراہ پر خود کو غیر محفوظ سمجھے، تو ریاست کو خود احتسابی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ بلوچستان کا درد بھی پاکستان کا درد ہے، خیبر پختونخوا کا غم بھی پاکستان کا غم ہے، آزاد کشمیر کے شہری بھی اسی ریاست کے شہری ہیں، سندھ اور پنجاب کے عوام بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ اگر ملک کے کسی ایک حصے میں آگ لگی ہو تو یہ سمجھ لینا کہ باقی سب محفوظ ہیں، ایک خطرناک غلط فہمی ہے۔

آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ قومی سنجیدگی کی ہے۔ حکومت، پارلیمان، سکیورٹی اداروں، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا لائحۂ عمل بنانا ہوگا جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور آئین کے مطابق ہر پاکستانی کو جان و مال کا یکساں تحفظ مل سکے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ریاست صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک پرامن، مستحکم اور باوقار پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...