جمعرات، 30 اپریل، 2026

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور یوم مزدور

Al-Sadat News

اداریہ 


یومِ مزدور محنت کش کا پسینہ اور ریاست کی ذمہ داری

ہر سال یکم مئی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ترقی، شہروں کی رونق، صنعتوں کی چمک اور معیشت کی حرکت کے پیچھے ایک مزدور کا پسینہ شامل ہے۔ وہ مزدور جو صبح سویرے اپنے گھر سے نکلتا ہے، دن بھر محنت کرتا ہے، اور شام کو صرف اتنی امید کے ساتھ واپس لوٹتا ہے کہ اس کے بچوں کے چولہے میں آگ جل سکے۔

پاکستان میں یومِ مزدور منانا محض ایک رسمی تقریب نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ خود احتسابی کا دن ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ جس طبقے کے کندھوں پر ہماری معیشت کھڑی ہے، کیا ہم نے اسے وہ مقام، تحفظ اور سہولت دی ہے جس کا وہ حق دار ہے؟

مہنگائی اور مزدور کی ٹوٹتی کمر

پاکستان میں مارچ 2026 میں سالانہ مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ گندم، آٹا، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں نے عام آدمی، خصوصاً دیہاڑی دار مزدور کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ (brecorder.com)

اگرچہ ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 40,000 روپے مقرر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں مزدور آج بھی اس سے کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی بڑی تعداد کو نہ تو مقررہ اجرت ملتی ہے اور نہ ہی کوئی سماجی تحفظ حاصل ہے۔ (tradingeconomics.com)

دیہاڑی دار مزدور کی اصل مشکل

ایک دیہاڑی دار مزدور کی آمدنی روزگار کی دستیابی سے مشروط ہوتی ہے۔ اگر ایک دن کام نہ ملے تو اس دن گھر کا چولہا بجھ سکتا ہے۔ بارش، بیماری، معاشی سست روی یا تعمیراتی شعبے میں تعطل، سب سے پہلے اسی طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔

آج ایک عام مزدور کے لیے روزانہ کی کمائی سے گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی کے بل اور خوراک کا انتظام کرنا ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ اس کی آمدنی بڑھنے کی رفتار، اخراجات بڑھنے کی رفتار سے کہیں کم ہے۔

سرکاری ملازمین بھی دباؤ میں

یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صرف مزدور ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ سرکاری ملازمین، خصوصاً نچلے اور درمیانے درجے کے ملازمین، بھی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ تنخواہوں میں معمولی اضافے اکثر مہنگائی کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پاتے۔ نتیجتاً ان کی حقیقی آمدنی مسلسل سکڑ رہی ہے۔

ایک کلرک، استاد، نرس یا پولیس اہلکار اپنی محدود تنخواہ میں بچوں کی تعلیم، علاج اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ متوسط طبقہ آہستہ آہستہ معاشی دباؤ کے باعث کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

مزدور اور ملازم کے بنیادی مسائل

  • اجرت اور تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ ہونا
  • صحت کی سہولیات تک محدود رسائی
  • معیاری تعلیم کا بڑھتا ہوا خرچ
  • رہائش کے اخراجات میں مسلسل اضافہ
  • پنشن اور سماجی تحفظ کے ناکافی انتظامات
  • غیر رسمی شعبے میں قانونی تحفظ کا فقدان
  • ہنر مندی کی تربیت کے محدود مواقع

ریاست کی ذمہ داریاں

ایک فلاحی ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے مزدور اور ملازم دونوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:

  1. کم از کم اجرت پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
  2. اجرت اور تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کیا جائے۔
  3. مزدوروں کے لیے صحت انشورنس اور سوشل سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
  4. سستے رہائشی منصوبے متعارف کرائے جائیں۔
  5. فنی تربیت اور ہنر مندی کے پروگراموں کو وسعت دی جائے۔
  6. غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو بھی قانونی اور مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔
  7. حکومت غرباء مساکین مزدور افراد کو انشورنس پالیسی فراہم کرے جو اس قوم پر سب سے بڑا احسان ھوگا 

مزدور خود کو کیسے محفوظ رکھے؟

موجودہ حالات میں مزدور کے لیے چند عملی اقدامات نہایت ضروری ہیں:

  • اپنی آمدنی اور اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھیں۔
  • ہر ہفتے یا ماہ تھوڑی سی رقم بچانے کی عادت ڈالیں، چاہے رقم کم ہی کیوں نہ ہو۔
  • کسی ایک اضافی ہنر، جیسے الیکٹریشن، پلمبنگ، ویلڈنگ یا موبائل مرمت، کو سیکھنے کی کوشش کریں۔
  • صحت کو ترجیح دیں؛ بیماری سب سے بڑا معاشی بوجھ بن سکتی ہے۔
  • قرض صرف ناگزیر ضرورت میں لیں، اور غیر ضروری ادھار سے بچیں۔
  • بچوں کی تعلیم کو ہر حال میں جاری رکھیں، یہی مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔

ایک اجتماعی عہد

یومِ مزدور صرف مزدور کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کریں گے جہاں محنت کی عزت ہو، مزدور کو انصاف ملے، اور ہر کام کرنے والے فرد کو باوقار زندگی میسر ہو۔

جب تک مزدور خوشحال نہیں ہوگا، معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ اور جب تک عام ملازم مطمئن نہیں ہوگا، ریاستی نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نعروں سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ قوموں کی اصل طاقت ان کے محلات میں نہیں، بلکہ ان کے محنت کش ہاتھوں میں ہوتی ہے۔


اتوار، 26 اپریل، 2026

پاکستان میں توانائی کا بحران اور حل

Al-Sadat News Report

 اداریہ

 پاکستان میں توانائی کا بحران، حقائق اور اصلاح کی راہ


پاکستان آج جس معاشی بھنور میں پھنسا ہے، اس کے بنیادی اسباب میں بجلی کا شعبہ سرفہرست ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں کیے گئے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) کے ساتھ معاہدے، جو کبھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی امید بنے تھے، آج ملکی معیشت کے لیے ایک مستقل "ناسور" بن چکے ہیں 

مسئلے کی جڑ: 'کیپیسٹی پیمنٹس' کا بوجھ
بجلی کے بحران کا سب سے بڑا مجرم وہ 'Take or Pay' کا فارمولا ہے جس کے تحت حکومت پابند ہے کہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے پاور پلانٹس کو بھاری رقم (Capacity Payments) ادا کرنی ہی ہے۔ 2026 میں بھی یہ حقیقت عیاں ہے کہ ملکی صلاحیت، طلب سے کہیں زیادہ ہے، مگر ٹرانسمیشن اور ترسیل کے فرسودہ نظام کے باعث ہم اس توانائی کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجہ؟ عوام پر مہنگائی کا بوجھ اور گردشی قرضوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔
اصلاحات: وقت کی ناگزیر ضرورت
اگر ہم اس گرداب سے نکلنا چاہتے ہیں، تو محض تنقید کافی نہیں۔ ہمیں ٹھوس اور جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے:

 1.معاہدوں کا فرانزک آڈٹ 

 حکومت کو تمام IPPs معاہدوں کا ایک غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین سے فرانزک آڈٹ کروانا چاہیے۔ جہاں بھی شفافیت کا فقدان یا مفادات کا ٹکراؤ پایا جائے، وہاں قانونی چارہ جوئی کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔

 2. معاہدوں کی ازسرِ نو مذاکرات (Renegotiation)

 عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ان معاہدوں کی شرائط کو موجودہ معاشی حقائق کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ 'کیپیسٹی پیمنٹس' کو پیداواری کارکردگی (Performance-based) سے مشروط کرنا ہوگا۔
 
3. ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری
بجلی کی پیداوار پر مزید خرچ کرنے کے بجائے، اس کے ترسیلی نظام (Transmission Infrastructure) کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ لائن لاسز کو کم کیا جا سکے۔

 4. سولرائزیشن اور ڈی سینٹرلائزیشن

 بڑے اور مہنگے پاور پلانٹس پر انحصار کم کرکے مقامی سطح پر قابلِ تجدید توانائی (خاص طور پر سولر اور ونڈ انرجی) کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ عام آدمی اور صنعتیں اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی طرف بڑھ سکیں۔

 5. مفادات کے ٹکراؤ کا خاتمہ

 پالیسی سازی میں ان افراد یا گروپوں کا عمل دخل مکمل طور پر ختم کیا جائے جو خود ان توانائی منصوبوں کے مالکان ہیں۔ جب تک فیصلہ ساز اور کاروباری مفادات ایک ہوں گے، اصلاحات ممکن نہیں۔

 حل /نتیجہ

یہ سفر کٹھن ہے اور اس میں طاقتور مافیاز کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ لیکن اگر آج اصلاحات نہ کی گئیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ یہ وقت الزام تراشی سے نکل کر، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کا ہے۔ بجلی کے بلوں میں کمی صرف ایک نعرہ نہیں، 
بلکہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے ان طاقتور مفادات کے حامل گروپس کے خلاف کھڑے ہونا ممکن ہے، یا اس کے لیے ایک وسیع تر قومی سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت قیمتی ہے 

جمعہ، 24 اپریل، 2026

پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ڈیجیٹل کرنسی کا نفاذ

Al-Sadat News Report

پاکستان میں ڈیجیٹل معاشی انقلاب

 کیا ڈالر سے منسلک 'اسٹیبل کوائن' ملکی معیشت کا رخ بدل سکے گا؟


تحریر سید محمد شاہ غرشین 

پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے ضوابط (Virtual Assets Act 2026) کے نفاذ اور 'اسٹیبل کوائن' (Stablecoin) کے استعمال پر غور نے ملک کے مالیاتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ملک کو روایتی بینکنگ نظام سے جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

اسٹیبل کوائن کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟


اسٹیبل کوائن ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی قدر کسی مستحکم اثاثے (جیسے امریکی ڈالر) کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ روایتی کرپٹو کرنسیوں کے برعکس، اس کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا، کیونکہ ہر ڈیجیٹل کوائن کے پیچھے اصل ڈالر یا اس کے مساوی اثاثے موجود ہوتے ہیں۔ پاکستان کا منصوبہ ہے کہ وہ ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرائے جو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے ہم آہنگ ہو۔
کیا اس سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے ادا ہو سکیں گے؟
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے عالمی اداروں کے قرضے ادا کیے جا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ایک "نظریاتی ہاں" ہے، لیکن یہ چند اہم شرائط سے مشروط ہے:

 عالمی قبولیت (Acceptability)

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک تب تک کسی ڈیجیٹل کرنسی کو قبول نہیں کریں گے جب تک وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہ ہو۔ اگر پاکستان کا اسٹیبل کوائن عالمی سطح پر مستحکم تسلیم کر لیا جاتا ہے، تو تکنیکی طور پر اس کے ذریعے رقوم کی منتقلی ممکن ہوگی شفافیت کی  شرط

 آئی ایم ایف یہ مطالبہ کرے گا کہ اس ڈیجیٹل سسٹم کی مانیٹرنگ اور اس کی "بیکنگ" (یعنی اس کے پیچھے موجود ڈالرز کا ذخیرہ) عالمی آڈٹ کے لیے دستیاب ہو۔
 قرضوں کے بوجھ میں کمی کا ذریعہ:
 یہ نظام براہِ راست قرضہ تو ختم نہیں کرے گا، لیکن یہ "کرنسی کے عدم توازن" (Currency Mismatch) کے مسائل کو حل کر سکتا ہے، جس سے ہمیں عالمی منڈی میں ڈالر کی کمی کا سامنا کم کرنا پڑے گا

اس اقدام کے فوائد
 ترسیلاتِ زر میں سہولت:
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے رقوم بھجوانا سستا، تیز اور شفاف ہو جائے گا۔
 ایکسپورٹ کو فروغ:
 ملکی برآمد کنندگان دنیا بھر سے براہِ راست ڈیجیٹل ادائیگی وصول کر سکیں گے۔
 معاشی شفافیت:
ڈیجیٹل لیجر (Blockchain) کے ذریعے مالیاتی لین دین کا ریکارڈ رکھنا آسان ہوگا، جس سے کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے گا

چیلنجز اور ممکنہ خطرات
 سائبر سیکیورٹی: 
جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیکنگ اور ڈیجیٹل فراڈ کے خطرات بھی موجود ہیں، جن کے لیے انتہائی مضبوط حفاظتی اقدامات درکار ہیں۔
 سیاسی و مالیاتی خودمختاری:
عالمی مالیاتی ادارے ملک کی مونیٹری پالیسی پر سوالات اٹھا سکتے ہیں، جس کے لیے پاکستان کو ایک مستحکم اور شفاف قانونی فریم ورک پیش کرنا ہوگا۔
 عوامی آگاہی کا فقدان: 
ڈیجیٹل معیشت کے فوائد اور نقصانات سے عام شہریوں کو آگاہ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

  نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

پاکستان کا یہ قدم محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ معاشی ڈیجیٹلائزیشن کی طرف ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ اگر اس کا نفاذ شفاف طریقے سے کیا گیا اور بین الاقوامی سطح پر اس کا اعتماد بحال ہوا، تو یہ پاکستان کو روایتی بینکنگ کے طویل اور مہنگے عمل سے نجات دلا کر ایک نئی معاشی طاقت بنا سکتا ہے۔ تاہم، اس کامیابی کا انحصار اسٹیٹ بینک اور PVARA کی سخت نگرانی اور شفافیت پر ہوگا۔
رپورٹ:
ایڈیٹوریل ٹیم، السادات نیوز پاکستان

بلوچستان یونیورسٹی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کا طلبا سے مکالمہ

Al-Sadat News Report

مجھ پر 17 جان لیوا حملے ہوئے، 1700 مزید حملوں کے لیے تیار ہوں، سرفراز بگٹی*



کوئٹہ 
 وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کوئٹہ میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "خوشی ہے کہ پاکستان کے ایک معیاری تعلیمی ادارے میں مستقبل کے معماروں سے مخاطب ہوں۔ نوجوانوں کو تصور اور حقائق میں فرق جاننے کے لیے عملی تحقیق کرنا ہوگی۔ پاکستان سمیت معاشرے کو پروپیگنڈا بیانیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ریاستِ پاکستان کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے میں وہ عناصر ملوث ہیں جنہوں نے آغاز سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔
 حقائق کی نسبت تصور تیزی سے سفر کرتا ہے، بلوچستان سے متعلق حقائق اور تصورات میں واضح فرق موجود ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان کی ایک خوبصورت کہانی موجود ہے، چند عناصر نے بلوچستان کے تاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا۔
 بلوچستان سے متعلق حقائق اور ریاستی بیانیے پر مکالمے کے لیے تیار ہوں۔ مجھ پر 17 مہلک حملے ہوچکے، ریاست کے لیے مزید 1700 حملوں کے لیے تیار ہوں۔ نوجوان بلا جھجھک سوال کریں، ہر سوال کا جواب دلیل اور حقائق سے دوں گا۔ میرٹ اور مسلسل ڈائیلاگ سے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان خلیج ختم کی جاسکتی ہے۔ ہر بچے اور ہر بیٹی کے سوال کا جواب دیے بغیر نہیں جاؤں گا۔"
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا نسٹ یونیورسٹی کے طالب علموں سے چار گھنٹوں سے زائد وقت تک مکالمہ رہا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوال و جواب کے سیشن میں کھل کر سوال کرنے کے لیے کیمرے بند کروا دیے، اور طالب علموں سے سوال و جواب کے دوران اپنے ذاتی اسٹاف کو دیگر سرگرمیوں کی یاد دہانی سے منع کردیا۔

جمعرات، 23 اپریل، 2026

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹائپ ٹو شوگر کوئی مرض نہیں ہے ؟


کیا آپ کو معلوم ہے کہ
"ٹائپ ٹو شوگر" واقعی ایک بیماری ہے یا ہمارے طرزِ زندگی کا نتیجہ؟

تحریر : ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین 
ٹائپ ٹو شوگر کا مرض اصل میں کوئی مرض نہیں ہے
آج السادات نیوز پاکستان کے پلیٹ فارم سے، ایک ماہرِ غذائیت اور طبی نقطہ نظر کے ساتھ ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اسے شوگر کا مرض سمجھ کر عمر بھر دوائیوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔
ہماری آرام دہ زندگی، سفید آٹے اور فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال، پسینے کا نہ آنا، اور سب سے بڑھ کر معاشرتی دکھاوے اور ذہنی دباؤ نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
آج کا کالم پڑھیں اور جانیں کہ کیوں گولیوں سے زیادہ آپ کا طرزِ زندگی آپ کو شفاء دے سکتا ہےاس کا علاج صرف غذا سے ممکن ہے
اور غذا میں شفاء ہے

https://healthtips111093.blogspot.com/


عنوان: ٹائپ ٹو شوگر کوئی مرض نہیں ہے یہ
ایک طبی دھوکہ یا ہماری طرزِ زندگی کا نتیجہ؟
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
آج کے دور میں ہم جس تیزی سے خود کو بیمار کر رہے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں تب ہوتا ہے جب ہم ڈاکٹر کے کلینک کے باہر لمبی قطاریں دیکھتے ہیں۔
خاص طور پر 'ٹائپ ٹو شوگر' کا مرض ایک وباء کی طرح پھیل چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا یہ واقعی شوگر ہے؟
یا یہ ہماری بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اور سماجی دباؤ کا ایک شاخسانہ ہے جسے ہم نے ایک لیبل دے دیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کو اتنا آرام دہ بنا لیا ہے کہ ہمارے جسم کی فطری صلاحیتیں سست پڑ چکی ہیں۔ ہم زیادہ تر وقت سایہ دار جگہوں، اے سی اور پنکھوں کی ٹھنڈک میں گزارتے ہیں۔ پسینہ آنا ہمارے عضلاتی نظام (Muscular System) کے لیے ایک قدرتی عمل تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ جب جسم سے پسینہ نہیں نکلتا، تو ہمارے مسلز خون میں موجود شوگر کو کنزیوم نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور ہم اسے 'شوگر کا مرض' قرار دے کر دوائیوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
اس مرض کے پیچھے چھپے اسباب پر غور کریں تو تصویر صاف نظر آتی ہے۔ پیدل چلنے کا رجحان ختم ہو چکا ہے۔ دفتر کی کرسی، گاڑی اور موٹر سائیکل نے ہمیں نقل و حرکت سے محروم کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر ہماری خوراک نے پوری کر دی ہے۔ سفید آٹا (میدہ)، فاسٹ فوڈ، اور ٹیسٹ بڑھانے والے مصنوعی فارمولے ہماری آنتوں اور میٹابولزم کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خالص دودھ اور دہی کی فراہمی بھی اب ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے، جہاں منافع کی ہوس نے حفظانِ صحت کے اصولوں کو بھلا دیا ہے۔
مگر اس طبی مسئلے سے کہیں زیادہ سنگین مسئلہ ہمارا 'نفسیاتی بوجھ' ہے۔ دکھاوے کی زندگی، دولت کے حصول کی اندھی دوڑ، اور ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں پلنے والا بغض اور حسد
یہ سب مل کر انسان کو مسلسل ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ یہ انزائٹی (Anxiety) ہی آگے چل کر ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتی ہے۔ طبِ یونانی کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو معاشرتی بگاڑ، خاص طور پر بے راہ روی اور اخلاقی حدود کا پامال ہونا، انسانی جسم کے عضلاتی نظام میں ایسی غیر فطری تحریک پیدا کرتا ہے جو جسمانی توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔
تو پھر علاج کیا ہے؟ کیا ہم عمر بھر دوائیوں پر گزارا کریں گے جو ہمیں آہستہ آہستہ ٹائپ ون کی طرف لے جا رہی ہیں؟
علاج دوائیوں میں نہیں، ہماری عادات میں ہے۔
1. طرزِ زندگی کی تبدیلی:
پسینہ بہانا شروع کریں۔ روزانہ تیز پیدل چلیں، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
2. قدرتی خوراک:
سفید آٹے اور مصنوعی کھانوں سے توبہ کریں۔ خالص اور سادہ غذا کو اپنائیں چکی کا آٹا استعمال کریں
3. ذہنی سکون:
حسد اور دکھاوے کی دوڑ سے خود کو باہر نکالیں۔ اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھیں، کیونکہ ایک پرسکون ذہن ہی ایک صحت مند جسم کی بنیاد ہے۔
بطور ماہرِ غذائیت، میرا مشورہ یہی ہے کہ اپنی زندگی کی باگ ڈور خود سنبھالیں۔ ڈاکٹروں کی گولیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے طرزِ زندگی کو فطرت کے قریب لائیں۔ بیماری صرف جسم میں نہیں، بیماری ہمارے رہن سہن میں ہے، اور شفاء بھی اسی طرزِ زندگی کی درستگی میں پوشیدہ ہے۔
السادات نیوز پاکستان کا مقصد آپ کو آگاہی دینا ہے، کیونکہ باخبر انسان ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے

برٹش ممبران کا اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ


مغربی کنارے کے الحاق پر برطانوی پارلیمنٹ میں ہلچل: 75 برطانوی قانون سازوں کا اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ





لورالائی/لندن: السادات نیوز پاکستان (ویب ڈیسک)

برطانوی پارلیمنٹ میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور الحاق کے منصوبوں کے خلاف ایک بڑا سفارتی محاذ کھل گیا ہے۔ برطانیہ کے 75 ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک مشترکہ قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری اور سخت تادیبی اقدامات کا آغاز کرے۔

قرارداد کے اہم نکات

یہ قرارداد، جسے لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ رچرڈ برگن

نے ایوان میں پیش کیا ہے، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ قرارداد کے کلیدی مطالبات درج ذیل ہیں:

1. ہدف بند پابندیاں:

اسرائیلی حکام اور الحاق کی حمایت کرنے والے افراد پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں اور ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔

2. تجارتی پابندیاں

مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اسرائیلی مصنوعات اور خدمات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

3. بین الاقوامی قانون کا نفاذ

جولائی 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جانب سے دی گئی رائے کے مطابق، فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالا جائے۔

حالیہ تناظر میں 

یہ اقدام فروری 2026 میں اسرائیلی حکومت کے اس متنازع فیصلے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت مغربی کنارے کی ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمینوں کو "ریاستی ملکیت" قرار دے کر وہاں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس عمل کو عالمی سطح پر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

عالمی برادری کا ردعمل

برطانوی قانون سازوں کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر فلسطین کے حقِ خودارادیت کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ قرارداد کے حامی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ:

"برطانیہ خاموش تماشائی نہیں بن سکتا جب بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا جا رہا ہو۔ اسرائیل کے ان اقدامات کا مطلب فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

السادات نیوز کا تجزیہ

سیاسی ماہرین کے مطابق، اگرچہ برطانوی حکومت پر اس قرارداد کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا لندن اپنی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے خلاف ایسی ٹھوس اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لاگو کرتا ہے یا نہیں۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے لیے سفارتی تنہائی کا باعث بن رہی ہے جب مغربی ممالک کے اندر بھی عوامی اور پارلیمانی سطح پر فلسطینی کاز کے لیے حمایت بڑھتی جا رہی ہے


ہمارے فیس بک پیج پر آئیں

پاکستان کی کمزور معیشت اور بدلتے عالمی حالات


اداریہ 

پاکستان کی معیشت اور بدلتے عالمی حالات ایک امتحان کا وقت 





پاکستان آج ایک انتہائی نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز صرف اندرونی اصلاحات تک محدود نہیں رہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس بحران کو ایک نئی اور پیچیدہ جہت دے دی ہے۔ آج ہماری معیشت کو "کمپاؤنڈنگ کرائسس" یا مرکب بحران کا سامنا ہے۔


ایک طرف مہنگائی کی بلند شرح، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری میں جمود ہمارے بنیادی مسائل ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے ہماری توانائی کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں خلل کے باعث پیدا ہونے والا "وار ٹائم رسک پریمیم" ہماری درآمدات کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا کر رہا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے بلاک (MENAAP) میں شامل کرنا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارا معاشی مستقبل براہِ راست خلیجی خطے کے استحکام سے جڑ چکا ہے۔


پاکستان کی معاشی بحالی کا راستہ صرف روایتی پالیسیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، درآمدات کے متبادل تلاش کرنے اور توانائی کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے خود کفالت کی جانب سفر شروع کرنا ہوگا۔ معیشت کی "اڑان" محض خوش کن نعروں سے نہیں بلکہ زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدی صنعتوں میں انقلابی اصلاحات سے ممکن ہے۔

یہ درست ہے کہ معاشی بحالی کا سفر صبر آزما ہے، تاہم ناممکن نہیں۔ 


حکومت، پالیسی ساز اداروں اور نجی شعبے کو ایک پیج پر آ کر ایک طویل المدتی معاشی روڈ میپ تشکیل دینا ہوگا۔ السادات نیوز پاکستان کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے، تو ان کٹھن حالات کے باوجود ہم ایک مستحکم اور خود کفیل پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں اگر قیادت یہ فیصلہ کرے کہ اب نہیں تو کب 

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی استحکام کو مضبوط بنائیں اور اپنی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے محفوظ بنیادیں فراہم کریں۔


*السادات نیوز پاکستان - 

تعمیرِ وطن کے عزم کے ساتھ



کے پی کے سے اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ ختم

Al-Sadat News 





پشاور (سیاسی ڈیسک - السادات نیوز پاکستان)

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی انتظامیہ میں بڑی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے صوبے سے اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

​وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور سرکاری امور میں شفافیت لانے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے سرکاری ملازمین کے معاملات اور انتظامی فیصلے مزید تیز اور موثر ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے بعد صوبائی بیوروکریسی کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں

تفصیلات کے لئیے اس لنک پر کلک کریں


https://www.facebook.com/reel/913605108241152/?mibextid=Nif5oz


منگل، 21 اپریل، 2026

شہادت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ


اہل بیت سے عقیدت، حکمرانوں کا خوف اور تاریخ کا المیہ: ایک تاریخی جائزہ

تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین








دینِ اسلام کی بنیاد جہاں توحید اور رسالت پر قائم ہے، وہیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو ایک مضبوط سہارا بھی عطا کیا، جسے "ثقلین" یعنی قرآن اور اہل بیت کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی آلِ پاک (اہل بیت اطہار) کی محبت اور ان کے احترام کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔


 محبتِ اہل بیت: ایمان کا تقاضہ 

امام جعفر الصادق علیہ السلام کا مقام سنیں یہاں کلک کریں 


رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہمیشہ امت کے لیے مشعلِ راہ رہا کہ "میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میرے اہل بیت۔" اہل بیت سے محبت محض جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ ان کی اطاعت، ان کے علوم کی پیروی اور ان کے کردار کو اپنانے کا نام ہے۔ تاریخِ اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں کی اکثریت نے اس محبت کو اپنے دلوں میں بسائے رکھا اور اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھا۔

 اہل اقتدار کا خوف اور تاریخ کا سبق

بدقسمتی سے تاریخ کے ہر دور میں ایک ایسی قوت بھی موجود رہی جو محبتِ اہل بیت کے اس سیلِ رواں سے خائف تھی۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی بہت سی حکومتوں میں حکمرانوں کو ہمیشہ یہ ڈر ستاتا رہا کہ کہیں عوام کی نظر میں اہل بیت کا تقدس ان کے ناجائز اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔

یہ اقتدار کی ہوس ہی تھی جس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جہاں محبتِ اہل بیت کو جرم بنا دیا گیا۔ حکمرانوں کا یہ خوفِ اقتدار اتنا گہرا تھا کہ انہوں نے رسولِ خدا ﷺ کے پیاروں کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا۔

 کرب و بلااور یزید کے خوف کا بھیانک انجام

تاریخ کا سب سے المناک باب "کربِ بلا" ہے۔ یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا، بلکہ یہ اسی خوف کا نتیجہ تھا جو اہل بیت کے فکری اور روحانی اثر و رسوخ کے سامنے حکمرانوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے رفقاء کی شہادت دراصل اسی سیاسی خوف کی انتہا تھی، جس نے حق کو دبانے کے لیے ظلم کا سہارا لیا۔

منصور دوانیقی جیسے حکمرانوں کا دور ہو یا اس سے پہلے کے ادوار، ہر جگہ یہی دیکھنے میں آیا کہ جب جب اہل بیت کے چشمۂ فیض سے امت سیراب ہونے لگی، اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ اسی خوف نے امام جعفر صادق علیہ السلام جیسے عظیم علمی ستون کو زہرِ دغا کا شکار بنایا، کیونکہ آپ کی علمی اور فقہی مقبولیت حکمرانِ وقت کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی تھی۔

 آج کا سبق

آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اہل بیت کی محبت صرف نام لینے کا نام نہیں، بلکہ ان کی دی ہوئی تعلیمات اور ان کے سچائی کے راستے پر چلنے کا نام ہے۔ حکمرانوں کا وہ خوفِ اقتدار آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے، جو حق کی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔


"السادات نیوز" کے پلیٹ فارم سے ہمارا پیغام یہی ہے کہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اقتدار عارضی ہے اور حق ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ اہل بیت کا دامنِ محبت تھامنا ہی اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آئیے! ہم آج کے دن عہد کریں کہ ہم ان عظیم ہستیوں کی تعلیمات کو عام کریں گے، جو سچائی، عدل اور انسانیت کی معراج ہیں۔

*نوٹ: یہ آرٹیکل امام جعفر صادق علیہ السلام کے یومِ شہادت کے موقع پر ان کی علمی خدمات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے شائع کیا گیا ہے



ایران اسرائیل جنگ اصل تنازعہ کیا ہے

Al-Sadat News 


   1. قبلہ اول کی دینی اور تاریخی اہمیت اور ایران اسرائیل امریکہ جنگ اصل حقائق کیا ہیں ؟








تحریر وتحقیق: سید محمد شاہ غرشین CEO

 Al Sadat News Pakistan


مسلمانوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ محض ایک جگہ نہیں بلکہ اس کی حیثیت درج ذیل ہے:

* **انبیاء کی سرزمین:** بیت المقدس انبیاءِ کرامؑ کا مرکز رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اسے "الذی بارکنا حولہ" (وہ سرزمین جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے) فرمایا ہے۔

* **اسراء و معراج:** نبی کریم ﷺ کا معراج کے سفر کے دوران مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ جانا اور وہاں تمام انبیاء کی امامت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کا تعلق اس مقدس مقام سے ابدی اور روحانی ہے۔

* **قبلہ اول:** رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے تقریباً 16-17 ماہ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ یہ مسلمانوں کی اولین عبادت گاہ تھی، جس سے مسلمانوں کا ایک جذباتی اور عقیدتی تعلق قائم ہو گیا۔


 2. قبلہ اول اور یہود و نصاریٰ کا دعویٰ

اسلامی نقطہ نظر سے یہ بحث غلط ہے کہ یہ صرف "ان کا" قبلہ ہے۔

* **توحید کا تسلسل:** اسلام خود کو پچھلے تمام انبیاء (حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ) کے دین کا تسلسل مانتا ہے۔ جب یہ انبیاء کرام مسلمان تھے، تو ان کی عبادت گاہیں بھی مسلمانوں کی میراث ہیں۔

* **عقیدے کا فرق:** مسلمان تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے وہ ان کی عبادت گاہوں کا احترام کرتے ہیں۔ جبکہ یہودی اور عیسائی اپنے مخصوص نظریات کے تحت اسے اپنا قبلہ مانتے ہیں۔ اسلام کے مطابق، انبیاء کی تعلیمات میں تحریف کے بعد اصل ورثہ وہی لوگ سنبھالتے ہیں جو اللہ کی آخری شریعت (اسلام) پر کاربند ہیں۔


 3. "حق" اور "دعویٰ" کا مفہوم

مسجدِ اقصیٰ پر مسلمانوں کا حق کسی علاقائی جنگ یا محض زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا نہیں ہے، بلکہ یہ *امانتِ الٰہیہ* کی حفاظت کا نام ہے۔

* **امانت داری:** مسلمان اس جگہ کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں۔ شریعت کے مطابق، جہاں بھی اللہ کا نام بلند ہو رہا ہو، وہاں مسلمانوں کو حقِ ملکیت اور حقِ عبادت حاصل ہے۔

* **آزادیِ عبادت:** فلسطین اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا دعویٰ اس لیے ہے کہ وہاں تمام مذاہب کے ماننے والے سکون سے عبادت کر سکیں، جیسا کہ خلافتِ اسلامیہ کے دور میں رہا۔ جبکہ کسی خاص گروہ کے قبضے میں اس مقام کا تقدس خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

 4. جنگ یا جدوجہد کا مقصد

اسلامی شریعت میں بیت المقدس کے لیے جدو جہد کا مطلب محض ایک عمارت کا حصول نہیں، بلکہ:

* **مظلومین کی نصرت:** شریعتِ محمدی ﷺ کا حکم ہے کہ جہاں بھی مومنین پر ظلم ہو یا ان کے شعائر (مقدس مقامات) کی توہین ہو، وہاں ان کی مدد کرنا فرض ہے۔

* **ظلم کا خاتمہ:**

 مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کا مطالبہ دراصل اس زمین پر قائم ناانصافی اور قبضے کے خلاف ایک اخلاقی اور شرعی موقف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

خانہ کعبہ مسلمانوں کا **

مستقل اور آخری قبلہ** ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا **پہلا قبلہ اور میراثِ انبیاء** ہے۔ مسلمانوں کا اس پر حق اس لیے ہے کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کے حقیقی پیروکار ہونے کے ناطے اس مقدس مقام کے امین ہیں۔ اس پر دعویٰ زمین کے کسی ٹکڑے کی ہوس نہیں بلکہ ایک ایمانی تقاضا ہے تاکہ اس مقام کو فساد اور ناانصافی سے بچایا جا سکے

اور میری دانست میں اسرائیل ایک مذہبی ریاست ہے اور وہ یہودی عقائد کو خطے پر مسلط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور قابل مذمت یہ ہے کہ اسرائیل کے اس گناہ میں امریکہ برابر کا شریک ہے

اسرائیلی عقائد یا مذہب کے مطابق وہ پوری انسانیت میں افضل ترین اور اللہ کے منتخب کردہ لوگ ہیں وہی اس زمین پر حق حاکمیت رکھتے ہیں

اسی سوچ کے تحت وہ توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں اور عرب کا بہت بڑا ایریا قبضہ کرکے اس پر گریٹر اسرائیل بنانے کا پروگرام ہے

اور یہی سوچ فساد کی جڑ ہے جو کبھی امن قائم ہونے دیگی

اسرائیل نے فلسطین پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ وہ نسل کشی میں مصروف ہے اسرائیل فوج سیاست قیادت جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے جسکی اس کو سزا ملی چاہیے

موجود مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہ ہونے کی بڑی وجہ امریکہ اسرائیل کی دھوکا دہی جھوٹ پروپیگنڈا اور واعدہ خلافی کی فطری عادت ہے جو امن قائم کرنے کی کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے



اتوار، 19 اپریل، 2026

پاکستان میں پولیو کیوں ختم نہیں ہوتی



پاکستان میں پولیو مہم
ایک تلخ مگر ضروری سچ
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ایسا مرض جس کا علاج موجود ہے، جس کی ویکسین مفت دی جاتی ہے، وہ آج بھی پاکستان میں کیوں موجود ہے؟
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سفر 1994 میں شروع ہوا تھا۔ تب امید تھی کہ چند سالوں میں یہ بیماری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ مگر آج، تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، ہم اسی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
لیکن یہ کہانی صرف ایک بیماری کی نہیں ہے…
یہ کہانی قربانیوں، غلط فہمیوں، اور ہمارے نظام کی کمزوریوں کی ہے۔
قربانیوں کی وہ داستان جسے ہم بھول جاتے ہیں
جب بھی پولیو مہم شروع ہوتی ہے، ہم دروازے پر آنے والے ورکر کو ایک عام سرکاری ملازم سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں۔
پچھلے کئی سالوں میں، دو سو سے زیادہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ ان میں سے کئی نوجوان تھے، کئی ایسے تھے جن کے اپنے بچے ان کے منتظر تھے… مگر وہ واپس نہیں آئے۔
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
"کیا ایک بیماری کے خلاف جنگ میں اتنی انسانی جانوں کی قربانی درست ہے؟"
یہ سوال آسان نہیں، اور اس کا جواب بھی سیدھا نہیں۔
پیسہ بہت لگا، لیکن مسئلہ کیوں باقی ہے؟
دنیا بھر کے بڑے ادارے، حکومت پاکستان، اور بین الاقوامی تنظیمیں — سب مل کر اربوں روپے اس مہم پر خرچ کر چکے ہیں۔
ہر سال مہم چلتی ہے، اشتہارات بنتے ہیں، ٹیمیں نکلتی ہیں، لیکن پھر بھی کچھ بچے رہ جاتے ہیں… اور یہی "کچھ بچے" اس بیماری کو زندہ رکھتے ہیں۔
مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی ہے۔
اصل رکاوٹ: لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والا شک
پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی لوگ پولیو ویکسین پر شک کرتے ہیں۔
کوئی اسے سازش سمجھتا ہے،
کوئی اسے نقصان دہ مانتا ہے،
اور کوئی محض لاعلمی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پلانے سے انکار کر دیتا ہے۔
جب عوام اور نظام کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے، تو پھر کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہوتی۔
دہشت گردی
ایک خاموش رکاوٹ
پولیو مہم صرف ایک طبی مہم نہیں رہی، بلکہ کئی جگہوں پر یہ سیکیورٹی آپریشن بن چکی ہے
ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ٹیمیں پولیس کے بغیر جا ہی نہیں سکتیں
جب گولی اور خوف کا ماحول ہو، تو ویکسین کا قطرہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایک اور حقیقت — جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
پولیو ایک معمولی بیماری نہیں ہے۔
یہ ایک ایسا وائرس ہے جو ایک صحت مند بچے کو ہمیشہ کے لیے معذور بنا سکتا ہے۔ ایک لمحے میں زندگی بدل جاتی ہے۔
ایک طرف وہ بچے ہیں جو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں…
اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو انہیں بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔
تو حل کیا ہے؟
یہ مسئلہ نہ صرف حکومت کا ہے، نہ صرف عوام کا — بلکہ ہم سب کا ہے۔
جب تک:
عوام کو صحیح آگاہی نہیں دی جائے گی
اعتماد بحال نہیں کیا جائے گا
نظام کو مضبوط نہیں کیا جائے گا
تب تک یہ مہم چلتی رہے گی… اور نتائج ادھورے رہیں گے۔
آخر میں ایک سوال آپ کے لیے
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا ہم خوف اور شک کے ساتھ جینا چاہتے ہیں؟
یا ہم علم، اعتماد اور حقیقت کو قبول کریں گے؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے:
پولیو کا خاتمہ ممکن ہے…
لیکن صرف ویکسین سے نہیں،
بلکہ سوچ کی تبدیلی سے
کرپشن کے خاتمے سے
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیو ویکسین کے پروسس کو درست کیا جائے تاکہ اس سے نجات مل سکے
اس کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ اس مد میں موجود فنڈز ہیں
ہماری تجویز ہے کہ اگر حکومت تنخواہوں کے علاؤہ دیگر فنڈز بند کر دے تو اس کے خاتمے کا اعلان جلد ہوگا اور یہی ڈاکٹر حضرات کریں گے



ہفتہ، 18 اپریل، 2026

السادات نیوز پاکستان تعارف

قارئین 

کرام اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


سب پہلے میں ہر ناظر کو ہر قاری کو اپنی ویب سائٹ پر خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کا شکریہ کے آپ نے وزٹ کیا 

السادات نیوز پاکستان 

 کپاکستان اور بالخصوص بلوچستان اور سادات سماجی مسائل کی نیوز کو کور کرتا ہے تاہم قومی معاملات پر ہماری نظر ہے۔

آپ کو یہاں مصدقہ اطلاعات ملیں گی غلط خبر اگر پوسٹ ہوئی تو ادارہ توجہ دلاؤ نوٹس پر اپنی غلطی سے بلا جھجھک رجوع کریگا 

ہم قومی مفادات ملکی مفاد اور پاک فوج کے ادارجاتی مفادات کے تحفظ 

اور ساکھ کا ہر حال میں خیال رکھیں گے عوامی مسائل پر بات ہوگی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا موقف دینے کا پرو حق حاصل ہے اختلاف برائے اصلاح کی پالیسی جاری رہے گی مگر کسی کی لڑائی کا حصہ ادارہ نہیں بنے گا

پیمرا کے قوانین کا احترام کیا جائے گا اور صحافتی اصولوں کے مطابق کام جاری رہے گا چونکہ سیاست دان عوامی نمائندے ہیں اور عوامی نمائندوں پر عوام جائز تنقید کا حق رکھتی ہے تاہم کسی کی ذاتی کردار کشی نہیں کی جائے گی 

یہاں آپ کو کالم اور عوامی مسائل کی ہر خبر کی سپیس ملے گی آپ ہم سے رابطہ کریں واٹس اپ نمبر ہے 

+923138865733 ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین CEO السادات نیوز پاکستان 

بیورو چیف بلوچستان السادات نیوز ، سید نعمان شاہ غرشین 03363295884



Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...