اداریہ
پاکستان میں توانائی کا بحران، حقائق اور اصلاح کی راہ
پاکستان آج جس معاشی بھنور میں پھنسا ہے، اس کے بنیادی اسباب میں بجلی کا شعبہ سرفہرست ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں کیے گئے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (IPPs) کے ساتھ معاہدے، جو کبھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی امید بنے تھے، آج ملکی معیشت کے لیے ایک مستقل "ناسور" بن چکے ہیں
مسئلے کی جڑ: 'کیپیسٹی پیمنٹس' کا بوجھ
بجلی کے بحران کا سب سے بڑا مجرم وہ 'Take or Pay' کا فارمولا ہے جس کے تحت حکومت پابند ہے کہ بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے پاور پلانٹس کو بھاری رقم (Capacity Payments) ادا کرنی ہی ہے۔ 2026 میں بھی یہ حقیقت عیاں ہے کہ ملکی صلاحیت، طلب سے کہیں زیادہ ہے، مگر ٹرانسمیشن اور ترسیل کے فرسودہ نظام کے باعث ہم اس توانائی کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجہ؟ عوام پر مہنگائی کا بوجھ اور گردشی قرضوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔
اصلاحات: وقت کی ناگزیر ضرورت
اگر ہم اس گرداب سے نکلنا چاہتے ہیں، تو محض تنقید کافی نہیں۔ ہمیں ٹھوس اور جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے:
1.معاہدوں کا فرانزک آڈٹ
حکومت کو تمام IPPs معاہدوں کا ایک غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی سطح کے ماہرین سے فرانزک آڈٹ کروانا چاہیے۔ جہاں بھی شفافیت کا فقدان یا مفادات کا ٹکراؤ پایا جائے، وہاں قانونی چارہ جوئی کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔
2. معاہدوں کی ازسرِ نو مذاکرات (Renegotiation)
عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ان معاہدوں کی شرائط کو موجودہ معاشی حقائق کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ 'کیپیسٹی پیمنٹس' کو پیداواری کارکردگی (Performance-based) سے مشروط کرنا ہوگا۔
3. ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری
بجلی کی پیداوار پر مزید خرچ کرنے کے بجائے، اس کے ترسیلی نظام (Transmission Infrastructure) کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ لائن لاسز کو کم کیا جا سکے۔
4. سولرائزیشن اور ڈی سینٹرلائزیشن
بڑے اور مہنگے پاور پلانٹس پر انحصار کم کرکے مقامی سطح پر قابلِ تجدید توانائی (خاص طور پر سولر اور ونڈ انرجی) کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ عام آدمی اور صنعتیں اپنی بجلی خود پیدا کرنے کی طرف بڑھ سکیں۔
5. مفادات کے ٹکراؤ کا خاتمہ
پالیسی سازی میں ان افراد یا گروپوں کا عمل دخل مکمل طور پر ختم کیا جائے جو خود ان توانائی منصوبوں کے مالکان ہیں۔ جب تک فیصلہ ساز اور کاروباری مفادات ایک ہوں گے، اصلاحات ممکن نہیں۔
حل /نتیجہ
یہ سفر کٹھن ہے اور اس میں طاقتور مافیاز کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ لیکن اگر آج اصلاحات نہ کی گئیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاشی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی۔ یہ وقت الزام تراشی سے نکل کر، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح دینے کا ہے۔ بجلی کے بلوں میں کمی صرف ایک نعرہ نہیں،
بلکہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ کسی بھی حکومت کے لیے ان طاقتور مفادات کے حامل گروپس کے خلاف کھڑے ہونا ممکن ہے، یا اس کے لیے ایک وسیع تر قومی سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت قیمتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں