جمعرات، 23 اپریل، 2026

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹائپ ٹو شوگر کوئی مرض نہیں ہے ؟


کیا آپ کو معلوم ہے کہ
"ٹائپ ٹو شوگر" واقعی ایک بیماری ہے یا ہمارے طرزِ زندگی کا نتیجہ؟

تحریر : ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین 
ٹائپ ٹو شوگر کا مرض اصل میں کوئی مرض نہیں ہے
آج السادات نیوز پاکستان کے پلیٹ فارم سے، ایک ماہرِ غذائیت اور طبی نقطہ نظر کے ساتھ ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اسے شوگر کا مرض سمجھ کر عمر بھر دوائیوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔
ہماری آرام دہ زندگی، سفید آٹے اور فاسٹ فوڈ کا کثرت سے استعمال، پسینے کا نہ آنا، اور سب سے بڑھ کر معاشرتی دکھاوے اور ذہنی دباؤ نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
آج کا کالم پڑھیں اور جانیں کہ کیوں گولیوں سے زیادہ آپ کا طرزِ زندگی آپ کو شفاء دے سکتا ہےاس کا علاج صرف غذا سے ممکن ہے
اور غذا میں شفاء ہے

https://healthtips111093.blogspot.com/


عنوان: ٹائپ ٹو شوگر کوئی مرض نہیں ہے یہ
ایک طبی دھوکہ یا ہماری طرزِ زندگی کا نتیجہ؟
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
آج کے دور میں ہم جس تیزی سے خود کو بیمار کر رہے ہیں، اس کا اندازہ ہمیں تب ہوتا ہے جب ہم ڈاکٹر کے کلینک کے باہر لمبی قطاریں دیکھتے ہیں۔
خاص طور پر 'ٹائپ ٹو شوگر' کا مرض ایک وباء کی طرح پھیل چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا یہ واقعی شوگر ہے؟
یا یہ ہماری بدلتی ہوئی طرزِ زندگی اور سماجی دباؤ کا ایک شاخسانہ ہے جسے ہم نے ایک لیبل دے دیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کو اتنا آرام دہ بنا لیا ہے کہ ہمارے جسم کی فطری صلاحیتیں سست پڑ چکی ہیں۔ ہم زیادہ تر وقت سایہ دار جگہوں، اے سی اور پنکھوں کی ٹھنڈک میں گزارتے ہیں۔ پسینہ آنا ہمارے عضلاتی نظام (Muscular System) کے لیے ایک قدرتی عمل تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔ جب جسم سے پسینہ نہیں نکلتا، تو ہمارے مسلز خون میں موجود شوگر کو کنزیوم نہیں کر پاتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور ہم اسے 'شوگر کا مرض' قرار دے کر دوائیوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
اس مرض کے پیچھے چھپے اسباب پر غور کریں تو تصویر صاف نظر آتی ہے۔ پیدل چلنے کا رجحان ختم ہو چکا ہے۔ دفتر کی کرسی، گاڑی اور موٹر سائیکل نے ہمیں نقل و حرکت سے محروم کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر ہماری خوراک نے پوری کر دی ہے۔ سفید آٹا (میدہ)، فاسٹ فوڈ، اور ٹیسٹ بڑھانے والے مصنوعی فارمولے ہماری آنتوں اور میٹابولزم کو تباہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خالص دودھ اور دہی کی فراہمی بھی اب ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے، جہاں منافع کی ہوس نے حفظانِ صحت کے اصولوں کو بھلا دیا ہے۔
مگر اس طبی مسئلے سے کہیں زیادہ سنگین مسئلہ ہمارا 'نفسیاتی بوجھ' ہے۔ دکھاوے کی زندگی، دولت کے حصول کی اندھی دوڑ، اور ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں پلنے والا بغض اور حسد
یہ سب مل کر انسان کو مسلسل ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ یہ انزائٹی (Anxiety) ہی آگے چل کر ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتی ہے۔ طبِ یونانی کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو معاشرتی بگاڑ، خاص طور پر بے راہ روی اور اخلاقی حدود کا پامال ہونا، انسانی جسم کے عضلاتی نظام میں ایسی غیر فطری تحریک پیدا کرتا ہے جو جسمانی توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے۔
تو پھر علاج کیا ہے؟ کیا ہم عمر بھر دوائیوں پر گزارا کریں گے جو ہمیں آہستہ آہستہ ٹائپ ون کی طرف لے جا رہی ہیں؟
علاج دوائیوں میں نہیں، ہماری عادات میں ہے۔
1. طرزِ زندگی کی تبدیلی:
پسینہ بہانا شروع کریں۔ روزانہ تیز پیدل چلیں، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
2. قدرتی خوراک:
سفید آٹے اور مصنوعی کھانوں سے توبہ کریں۔ خالص اور سادہ غذا کو اپنائیں چکی کا آٹا استعمال کریں
3. ذہنی سکون:
حسد اور دکھاوے کی دوڑ سے خود کو باہر نکالیں۔ اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھیں، کیونکہ ایک پرسکون ذہن ہی ایک صحت مند جسم کی بنیاد ہے۔
بطور ماہرِ غذائیت، میرا مشورہ یہی ہے کہ اپنی زندگی کی باگ ڈور خود سنبھالیں۔ ڈاکٹروں کی گولیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے طرزِ زندگی کو فطرت کے قریب لائیں۔ بیماری صرف جسم میں نہیں، بیماری ہمارے رہن سہن میں ہے، اور شفاء بھی اسی طرزِ زندگی کی درستگی میں پوشیدہ ہے۔
السادات نیوز پاکستان کا مقصد آپ کو آگاہی دینا ہے، کیونکہ باخبر انسان ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...