بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

جمعہ، 24 اپریل، 2026

برٹش ممبران کا اسرائیل پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ


مغربی کنارے کے الحاق پر برطانوی پارلیمنٹ میں ہلچل: 75 برطانوی قانون سازوں کا اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ





لورالائی/لندن: السادات نیوز پاکستان (ویب ڈیسک)

برطانوی پارلیمنٹ میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور الحاق کے منصوبوں کے خلاف ایک بڑا سفارتی محاذ کھل گیا ہے۔ برطانیہ کے 75 ارکانِ پارلیمنٹ نے ایک مشترکہ قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری اور سخت تادیبی اقدامات کا آغاز کرے۔

قرارداد کے اہم نکات

یہ قرارداد، جسے لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ رچرڈ برگن

نے ایوان میں پیش کیا ہے، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ قرارداد کے کلیدی مطالبات درج ذیل ہیں:

1. ہدف بند پابندیاں:

اسرائیلی حکام اور الحاق کی حمایت کرنے والے افراد پر سفری پابندیاں عائد کی جائیں اور ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔

2. تجارتی پابندیاں

مقبوضہ علاقوں میں تیار کردہ اسرائیلی مصنوعات اور خدمات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

3. بین الاقوامی قانون کا نفاذ

جولائی 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جانب سے دی گئی رائے کے مطابق، فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالا جائے۔

حالیہ تناظر میں 

یہ اقدام فروری 2026 میں اسرائیلی حکومت کے اس متنازع فیصلے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس کے تحت مغربی کنارے کی ہزاروں ایکڑ زرعی اور رہائشی زمینوں کو "ریاستی ملکیت" قرار دے کر وہاں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس عمل کو عالمی سطح پر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

عالمی برادری کا ردعمل

برطانوی قانون سازوں کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر فلسطین کے حقِ خودارادیت کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ قرارداد کے حامی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ:

"برطانیہ خاموش تماشائی نہیں بن سکتا جب بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا جا رہا ہو۔ اسرائیل کے ان اقدامات کا مطلب فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

السادات نیوز کا تجزیہ

سیاسی ماہرین کے مطابق، اگرچہ برطانوی حکومت پر اس قرارداد کے بعد دباؤ بڑھ گیا ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا لندن اپنی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے خلاف ایسی ٹھوس اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لاگو کرتا ہے یا نہیں۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے لیے سفارتی تنہائی کا باعث بن رہی ہے جب مغربی ممالک کے اندر بھی عوامی اور پارلیمانی سطح پر فلسطینی کاز کے لیے حمایت بڑھتی جا رہی ہے


ہمارے فیس بک پیج پر آئیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...