پاکستان کی معیشت اور بدلتے عالمی حالات ایک امتحان کا وقت
پاکستان آج ایک انتہائی نازک معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز صرف اندرونی اصلاحات تک محدود نہیں رہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس بحران کو ایک نئی اور پیچیدہ جہت دے دی ہے۔ آج ہماری معیشت کو "کمپاؤنڈنگ کرائسس" یا مرکب بحران کا سامنا ہے۔
ایک طرف مہنگائی کی بلند شرح، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری میں جمود ہمارے بنیادی مسائل ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے حالات نے ہماری توانائی کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی سپلائی چین میں خلل کے باعث پیدا ہونے والا "وار ٹائم رسک پریمیم" ہماری درآمدات کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا کر رہا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے بلاک (MENAAP) میں شامل کرنا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارا معاشی مستقبل براہِ راست خلیجی خطے کے استحکام سے جڑ چکا ہے۔
پاکستان کی معاشی بحالی کا راستہ صرف روایتی پالیسیوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، درآمدات کے متبادل تلاش کرنے اور توانائی کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے خود کفالت کی جانب سفر شروع کرنا ہوگا۔ معیشت کی "اڑان" محض خوش کن نعروں سے نہیں بلکہ زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدی صنعتوں میں انقلابی اصلاحات سے ممکن ہے۔
یہ درست ہے کہ معاشی بحالی کا سفر صبر آزما ہے، تاہم ناممکن نہیں۔
حکومت، پالیسی ساز اداروں اور نجی شعبے کو ایک پیج پر آ کر ایک طویل المدتی معاشی روڈ میپ تشکیل دینا ہوگا۔ السادات نیوز پاکستان کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے، تو ان کٹھن حالات کے باوجود ہم ایک مستحکم اور خود کفیل پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں اگر قیادت یہ فیصلہ کرے کہ اب نہیں تو کب
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عالمی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی استحکام کو مضبوط بنائیں اور اپنی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے محفوظ بنیادیں فراہم کریں۔
*السادات نیوز پاکستان -
تعمیرِ وطن کے عزم کے ساتھ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں