پیر، 29 جون، 2026
بلوچستان میں امن قائم کریں
اتوار، 28 جون، 2026
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ 2026
جمعرات، 25 جون، 2026
پر امن بلوچستان ایک امید
کیا بلوچستان کبھی پر امن بلوچستان بنے گا ؟ مسائل کا حل کیا ہے ؟
تحریر: سید محمد شاہ غرشین سی ای او السادا نیوز پاکستان
پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی خطے نے سب سے زیادہ سیاسی تنازعات، معاشی محرومیوں، انتظامی ناکامیوں اور سیکیورٹی بحرانوں کا سامنا کیا ہے تو وہ بلوچستان ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا تقریباً 44 فیصد حصہ رکھنے والا یہ صوبہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا لیکن قدرتی وسائل کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالا مال علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس سرزمین کے سینے میں گیس، سونا، تانبا، کوئلہ اور دیگر قیمتی معدنیات کے خزانے موجود ہوں، وہاں کے لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی، بنیادی صحت، معیاری تعلیم اور روزگار جیسی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟
یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان کی سیاست کو متاثر کیا اور بالآخر بدامنی، مزاحمت اور دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی۔
بدقسمتی سے بلوچستان کے مسئلے کو اکثر دو انتہاؤں میں تقسیم کرکے دیکھا جاتا ہے۔ ایک طبقہ ہر مسئلے کو بیرونی سازش قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف وفاق اور ریاستی اداروں کو قرار دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
بلوچستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احساس محرومی کا تصور کوئی نیا نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے صوبے میں یہ بحث جاری رہی کہ بلوچستان کے وسائل اور اختیارات کا اصل مالک کون ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا مؤقف رہا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومتوں کا مؤقف رہا کہ قومی وسائل پورے ملک کی ملکیت ہوتے ہیں۔
یہ اختلاف وقت کے ساتھ سیاسی کشیدگی میں تبدیل ہوتا گیا۔
سوئی گیس اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان کے عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر گیس ان کے علاقے سے نکلی تو مقامی آبادی کو اس کا مکمل فائدہ کیوں نہ ملا؟ اگرچہ مختلف حکومتوں نے گیس رائلٹی اور ترقیاتی فنڈز کی صورت میں رقوم دینے کا دعویٰ کیا، لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس کا اثر محدود نظر آیا
آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق معدنیات اور گیس پر پہلا حق اس علاقے کا ہے کیا اس پر عمل درآمد ہوا ؟
یہاں ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
اگر وفاق نے اربوں روپے ترقیاتی منصوبوں، این ایف سی ایوارڈ، گیس رائلٹی اور خصوصی پیکجز کی صورت میں فراہم کیے تو وہ رقوم کہاں گئیں؟
کیا احتساب ہوا آڈٹ کا گورکھ دھندا آڈٹ پیرا سے نکل کر گرفت تک گیا تاکہ ادارہ جاتی کرپشن بوگس بلنگ کو روکا جا سکتا ؟
منسٹر حضرات نے فنڈز کہاں خرچ کئیے اپنی ترقی کے لئیے یا عوام کی فلاح وبہبود کے لیے زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ فنڈز صرف سردار نواب منسٹرز کی ذاتی زندگی اور ان کے چند حواریوں کے لئیے استعمال ہوئے عوام کو کچھ نہ ملا ؟
یہ سوال صرف اسلام آباد سے نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ، قبائلی سرداروں، وزراء، ارکان اسمبلی اور صوبائی حکومتوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔
بلوچستان میں کئی دہائیوں تک مختلف قبائلی اور سیاسی شخصیات اقتدار کا حصہ رہیں۔ بعض وفاقی کابینہ میں شامل رہیں، بعض گورنر اور وزیر اعلیٰ بنے، اور بعض نے صوبائی سیاست پر طویل عرصہ اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ اگر تمام اختیارات اسلام آباد کے پاس تھے تو اقتدار کے مزے کیوں لیے گئے؟ اور اگر اختیارات موجود تھے تو پھر عوام کی حالت کیوں نہ بدلی؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بلوچستان کی تاریخ ابھی تک تلاش کر رہی ہے۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی خواتین میلوں دور سے پانی لاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں بنیادی مراکز صحت موجود نہیں۔ جہاں عمارتیں موجود ہیں وہاں ڈاکٹر نہیں، جہاں ڈاکٹر موجود ہیں وہاں ادویات نہیں۔ جہاں اسکول موجود ہیں وہاں اساتذہ نہیں اور جہاں اساتذہ موجود ہیں وہاں طلبہ نہیں۔
یہ صورتحال صرف ریاستی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی ہے
آج بھی حکومت بلوچستان نے پی پی ایچ آئی کے ذریعہ جو کونٹرکٹ پر بھرتیاں کی ہیں صحت کے شعبہ میں وہ نوے فیصد سیاسی بنیادوں پر یا پیسوں کے لین دین یا اقربا پروری کی بنیاد پر ہوئی ہیں جو لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کو بی ایچ یو یا ڈسپنسری میں موجود دواؤں کا علم نہیں ہے
ان کو بی پی چیک کرنے کا طریقہ نہیں آتا ہے
نا اہل۔لوگ منتخب کئے گئے گئے ہیں اس کا نقصان یہ ہوا کہ عوام دواؤں کی موجود عملے کی موجودگی کے باوجود فوائد سے محروم رہی یہی حال اسکول کا ہے
آخر کب تک یہ چلے گا ؟
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں قبائلی نظام بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ قبائلی نظام نے بعض اوقات سماجی تحفظ فراہم کیا، لیکن جدید ریاستی ڈھانچے کے ساتھ اس کا ٹکراؤ بھی پیدا ہوا۔ بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ بعض سرداروں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے تحفظ کو ترجیح دی۔ جبکہ سرداروں کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہوں نے وفاقی مداخلت کے خلاف بلوچ شناخت اور حقوق کا دفاع کیا۔
حقیقت شاید دونوں مؤقفوں کے درمیان موجود ہے۔
2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی موت کے بعد بلوچ نوجوانوں کے ایک طبقے میں غم و غصے میں اضافہ ہوا اور مسلح مزاحمت کو نئی توانائی ملی۔ جو لوگ پہلے سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، ان میں سے بعض نے ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کر دی۔
دوسری طرف ریاستی اداروں کا مؤقف تھا کہ مسلح کارروائیاں، گیس تنصیبات پر حملے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول تھا اور ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کی پابند تھی۔
یہ تنازع آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔
بلوچستان میں بدامنی کی ایک اور بڑی وجہ نوجوانوں کی بے روزگاری ہے۔ جب تعلیم کم ہو، صنعت نہ ہو، روزگار محدود ہو اور مستقبل غیر یقینی نظر آئے تو نوجوان آسانی سے انتہا پسند یا علیحدگی پسند بیانیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جہاں معاشی مواقع کم ہوتے ہیں وہاں شدت پسندی کو جگہ ملتی ہے۔
اس کے ساتھ بیرونی عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بعض علیحدگی پسند گروہوں کو بیرونی حمایت حاصل رہی ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی تفصیلات پر سیاسی اختلاف موجود ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ہر ریاست اپنے داخلی تنازعات میں بیرونی مداخلت کے خدشات سے دوچار رہتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں کامیاب کب ہوتی ہیں ؟
وہ اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔
جہاں انصاف کمزور ہو، ترقی محدود ہو، نوجوان مایوس ہوں اور عوام کا اعتماد متزلزل ہو، وہاں بیرونی پروپیگنڈا زیادہ اثر دکھاتا ہے۔
لہٰذا بلوچستان کا حل صرف سیکیورٹی آپریشن نہیں ہو سکتا۔
اگر بندوق مسئلے کا مکمل حل ہوتی تو دنیا کے بیشتر تنازعات کئی دہائیاں پہلے ختم ہو چکے ہوتے۔
بلوچستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں ریاست، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتیں، قبائلی قیادت، نوجوان اور سول سوسائٹی سب شریک ہوں۔
اس مقصد کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، وسائل کی تقسیم کا شفاف نظام متعارف کرایا جائے اور ہر ضلع کو بتایا جائے کہ اس کے حصے میں کتنی رقم آئی اور کہاں خرچ ہوئی۔
دوم، صحت، تعلیم اور پانی کے منصوبوں کو قومی ترجیح قرار دیا جائے۔
سوم، نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم، سرکاری و نجی روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جائیں۔
چہارم، لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے معاملات کو مکمل قانونی شفافیت کے ساتھ حل کیا جائے بلوچ نوجوان دو طرفہ مشکلات میں ہے اگر وہ ریاست کا حامی ہے تو بی ایل اے اسے اٹھا کر غائب کر دیتی ہے
اگر وہ بی ایل کی حمایت کرتا ہے تو سرکار کے غیض غضب کا شکار ہو تا ہے
ایک طرف بھوک ہے بے روزگاری ہے بد امنی ہے
دوسری طرف رات دن خوف کا پہرہ ہے تو بلوچ خصوصی طور پر وہ بلوچ کو غیر جانبدار ہے کہاں جائے کیسے اس ماحول میں سروائیو کرے ؟
پنجم، سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت قائم کی جائے۔
ششم، بلوچستان میں آنے والے تمام ترقیاتی فنڈز کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے نام پر آنے والی رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔
ہفتم، صوبے کے تمام طبقات کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی شناخت، ثقافت اور سیاسی حقوق کا احترام کیا جائے گا۔
بلوچستان کا مسئلہ محض بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، حکمرانی، انصاف اور قومی یکجہتی کا امتحان ہے۔
اگر ریاست عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔ لیکن اگر محرومیوں، بداعتمادی اور سیاسی غلطیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت علاقے فتح کر سکتی ہے، مگر دل صرف انصاف، احترام اور شراکت داری سے جیتے جاتے ہیں۔
پیر، 22 جون، 2026
پاکستان میں انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران
انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران: ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
دنیا کی تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ کسی نے معیشت کو بنیاد قرار دیا، کسی نے فوجی طاقت کو، کسی نے تعلیم کو اور کسی نے جغرافیہ کو۔ لیکن جب ہم کامیاب اور ناکام ریاستوں کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کو اصل طاقت انصاف دیتا ہے اور ان کی کمزوری کا سب سے بڑا سبب ناانصافی بنتی ہے۔
عدل وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ جب عدل کمزور پڑ جائے تو آئین محض ایک کتاب، قانون محض چند دفعات اور ادارے محض عمارتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ملک نے جنگیں بھی دیکھیں، مارشل لا بھی دیکھے، جمہوری ادوار بھی دیکھے، معاشی ترقی بھی دیکھی اور بحران بھی۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی کارکن نہیں پوچھتا بلکہ ایک عام شہری بھی پوچھتا ہے۔ وہ کسان جو پٹواری کے دفتر کے چکر لگا رہا ہے، وہ مزدور جو تھانے کے باہر کھڑا ہے، وہ نوجوان جو ملازمت کے لیے دربدر ہے، اور وہ تاجر جو سرکاری محکموں میں فائلوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، سب کے ذہن میں یہی سوال گردش کرتا ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت قائم رہتا ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اگر ایک غریب شخص عدالت میں برسوں مقدمہ لڑے اور طاقتور شخص چند دنوں میں تمام رکاوٹیں عبور کر لے تو عوام کے دل میں قانون کے احترام کے بجائے قانون سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں احتساب کا تصور اکثر سیاسی تنازعات کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب ایک جماعت اقتدار میں آتی ہے تو احتساب کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اور جب اقتدار سے باہر جاتی ہے تو انہی اداروں پر جانبداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ احتساب انصاف کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن خود اس تاثر کا وجود بھی اداروں کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح بیڈ گورننس پاکستان کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ حکمرانی کا بنیادی مقصد عوام کو خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ صاف پانی، صحت، تعلیم، سڑکیں، روزگار اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ لیکن جب عوام کو یہ سہولیات نہ ملیں تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، بجٹ منظور ہوتے ہیں، اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، مگر عوامی زندگی میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس کی ایک وجہ کرپشن ہے، دوسری وجہ ناقص منصوبہ بندی، تیسری وجہ سیاسی مداخلت اور چوتھی وجہ جوابدہی کا فقدان۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی ضلع کے لیے اربوں روپے منظور ہوئے تو ان کا آڈٹ عوام کے سامنے کیوں نہیں آتا؟
اگر کسی ہسپتال کے لیے بجٹ جاری ہوا تو وہاں دوائیں کیوں نہیں پہنچیں؟
اگر کسی اسکول کی تعمیر کے لیے رقم مختص ہوئی تو وہاں اساتذہ کیوں نہیں پہنچے؟
یہ سوالات صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ پورے نظام سے متعلق ہیں۔
میرٹ کی تباہی بھی پاکستان کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ دنیا میں ترقی وہی معاشرے کرتے ہیں جہاں مواقع سفارش نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں۔ جب ایک محنتی نوجوان کو ملازمت نہ ملے اور اس کی جگہ کسی بااثر شخص کا عزیز تعینات ہو جائے تو صرف ایک فرد کا حق نہیں مارا جاتا بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، ڈگریاں لیتے ہیں، لیکن جب انہیں یہ محسوس ہو کہ کامیابی کا راستہ محنت کے بجائے سفارش اور تعلقات سے گزرتا ہے تو ان کے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
یہ مایوسی وقت کے ساتھ ریاستی نظام پر عدم اعتماد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں یہ احساس موجود ہے کہ ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں، کہیں بنیادی صحت کی سہولیات موجود نہیں، اور کہیں تعلیم کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ احساس محرومی اگر طویل عرصے تک برقرار رہے تو سیاسی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔
جمہوریت کا بنیادی اصول عوامی نمائندگی ہے۔ عوام ووٹ اس امید پر دیتے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کے مسائل حل کریں گے۔ لیکن جب انتخابات کے بعد بھی حالات میں بہتری نہ آئے تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں انتخابات کے بارے میں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کبھی ایک جماعت نتائج کو متنازع قرار دیتی ہے اور کبھی دوسری۔ اس صورتحال نے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
کسی بھی جمہوری نظام کی طاقت صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ ان انتخابات پر عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ دیانت داری سے شمار ہوا ہے تو سیاسی اختلافات کے باوجود نظام مستحکم رہتا ہے۔
میڈیا بھی ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کا کام صرف خبریں دینا نہیں بلکہ طاقتور سے سوال پوچھنا بھی ہے۔ جب میڈیا آزاد اور ذمہ دار ہو تو وہ عوام کے مسائل حکمرانوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب میڈیا دباؤ، مفادات یا وابستگیوں کا شکار ہو جائے تو اس کا بنیادی کردار متاثر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے ظہور نے اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ اب معلومات صرف چند اداروں کی اجارہ داری میں نہیں رہیں۔ عام شہری بھی اپنی رائے اور تجربات دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا مسئلہ موجود ہے، لیکن اس نے عوام کو اظہار کا ایک نیا پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کا سوال دراصل انصاف کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔
کیا طاقتور اور کمزور ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے؟
کیا احتساب سب کے لیے یکساں ہوگا؟
کیا ملازمتیں میرٹ پر ملیں گی؟
کیا عوام کے ٹیکس کا حساب عوام کو دیا جائے گا؟
کیا آئین کو تمام اداروں پر یکساں فوقیت حاصل ہوگی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
اصلاحات کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، عدالتی اصلاحات کے ذریعے فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جائے۔
دوم، احتساب کے تمام اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے۔
سوم، سرکاری بھرتیوں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
چہارم، ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
پنجم، بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں
اور ان بلدیاتی اداروں میں بھی کرپشن بوگس بلنگ بوگس سکیم کا رواج ہے جس کی وجہ سے مالی وسائل صوبائی منسٹر بلدیاتی ایڈمنسٹریٹر اور عمل ملکر ہڑپ کر جاتے ہیں
یوں یہ بلدیہ کا نظام بھی عوام کی خدمت اور حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے خزانے پر بیٹھا سانپ بن گیا ہے لہذا روایتی آڈٹ نہیں ایک الگ جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے جو تمام اداروں کے اندر مالی معاملات کی شفاف تقسیم اور اختیار کے ناجائز استعمال کے کی روک تھام کا زمہ دار ہو
ششم، پارلیمنٹ کو حقیقی قانون سازی اور نگرانی کا مرکز بنایا جائے۔
ہفتم، تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں۔
ہشتم، تعلیم، صحت اور روزگار کو قومی سلامتی کے برابر اہمیت دی جائے۔
پاکستان کے عوام کسی معجزے کے منتظر نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کا صلہ ملے، ووٹ کا احترام ہو، اور ریاست انہیں برابر کا شہری سمجھے۔
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں انصاف، اعتماد اور امید سے بنتی ہیں۔ جب ایک نوجوان کو یقین ہو کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوگی، جب ایک غریب کو یقین ہو کہ عدالت اس کی بھی سنے گی، جب ایک شہری کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ معنی رکھتا ہے، تب ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی اور نوجوان آبادی بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ آئین، قانون، میرٹ اور انصاف کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔
اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی مسائل برقرار رہے تو عدم اعتماد بڑھتا رہے گا، اور کوئی بھی ریاست مسلسل عدم اعتماد کے سہارے زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے حق میں نہیں ہوتا، تاریخ کا فیصلہ آخرکار انصاف کے حق میں ہوتا ہے۔
#PakistanPolitics #MeritCrisis #Governance #AlSadatNews #UrduEditorials
اتوار، 14 جون، 2026
کیا پاکستان قرضوں سے نجات حاصل کر لے گا
پیر، 8 جون، 2026
پاکستان کی عوام کا اب اداروں پر اعتماد نہیں رہا
جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مرنے لگے
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
السادات نیوز پاکستان
اتوار، 7 جون، 2026
کیا پاکستانی قوم کو آزادی ملی ؟
پاکستان کی جمہوریت، طاقت اور عوام کے درمیان گمشدہ رشتہ
تحریر سید محمد شاہ غرشین
پاکستان کی 80 سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے: کیا اس ملک میں واقعی عوام حکمران ہیں یا عوام صرف ایک ایسے نظام کا ایندھن ہیں جس کے اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں؟
قیامِ پاکستان کے بعد قوم کو یہ امید دی گئی تھی کہ اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلے گا، میرٹ کو فروغ ملے گا، ادارے مضبوط ہوں گے اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ اقتدار کے مراکز عوامی ووٹ سے زیادہ طاقتور ہیں۔
پاکستانی معاشرے کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی مسلک کے نام پر، کبھی زبان اور قومیت کے نام پر، اور کبھی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عوام مشترکہ قومی مفاد کے بجائے چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ گئے جبکہ طاقت کے اصل مراکز پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔
یہ صورتحال کسی فیکٹری کے مزدور اور مالک کے تعلق سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ مزدور کو تنخواہ، بونس اور مراعات تو مل سکتی ہیں، لیکن اسے ملکیت میں شراکت کا حق نہیں دیا جاتا۔ ناقدین کے مطابق پاکستانی عوام کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انہیں ووٹ کا حق تو ملا، لیکن پالیسی سازی اور قومی فیصلوں میں حقیقی شرکت محدود رہی۔ لیکن یہ حق ہمیشہ سازش کے ذریعہ ہمیشہ چرایا گیا قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا حقائق کبھی بند کمروں سے باہر نہیں آیا
پھر عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کی ایک تحریک کے ذریعہ گرائی گئی مگر اصل میں یہ سب امریکہ کے کہنے پر اور بدترین ہارس ٹریڈنگ کرکے ذریعے کیا گیا جو غیر جمہوری عمل تھا جس کو عمران خان نے مسترد کردیا اور اس کے خلاف آواز اٹھائی اس کے بعد 8 فروری 2024 کو ایک الیکشن ہوا جس میں پی ٹی کو بین کیا گیا ان کا انتخابی نشان چھین لیا گیا پی ٹی آئی کے سب امیدوار آزادانہ الیکشن لڑے اور جیت گئے جب طاقتور نے دیکھا کے قوم نے ان کی پوری پلاننگ کو زمین میں دفن کردیا ہے تو پولنگ اسٹیشن پر جاری فارم 45 کو رد کرکے اس کی جگہ دی سی صاحبان نے فارم 47 کے ذریعہ طاقتور کے نمائندوں کو کامیاب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا الیکشن کمیشن نے بھی اسی کی پیروی کی اور یوں عوامی مینڈیٹ چھین لیا گیا
اس قبل اور آج تک الیکٹرانک میڈیا کو سنسر کرکے یا خرید کر آج تک مسلسل پی ٹی آئی کی کردار کشی جاری ہے مگر عوام آج بھی کسی کی ماننے کو تیار نہیں ہیں اور یہی سب سے بڑی طاقتوروں کی پریشانی بن گئی ہے
پاکستان میں انتخابی نظام پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ووٹر ٹرن آؤٹ اکثر نصف سے بھی کم رہتا ہے جبکہ بعض حلقوں میں کامیاب امیدوار کل رجسٹرڈ ووٹوں کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے کی حمایت سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ انتخابی ڈھانچہ واقعی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے یا اصلاحات کی ضرورت ہے؟
ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سیاست میں سرمایہ دار، جاگیردار، بڑے کاروباری خاندان اور بااثر طبقات زیادہ آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں، جبکہ متوسط اور نچلے طبقے کے باصلاحیت افراد کے لیے راستہ دشوار رہتا ہے۔ نتیجتاً منتخب ایوانوں میں عوامی مسائل سے زیادہ طاقتور مفادات کی نمائندگی دکھائی دیتی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کرپشن کے خلاف بیانیہ دیا، میرٹ کی بات کی اور عوامی شعور بیدار کیا۔ ان کے ناقدین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ان کی سیاست نے پاکستانی نوجوانوں اور متوسط طبقے میں سیاسی دلچسپی کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔
پاکستان میں احتساب کے عمل پر بھی ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ہر دور میں مخالفین کے خلاف مقدمات بنتے رہے جبکہ حامیوں کو رعایت ملتی رہی۔ اسی وجہ سے عوام کا ایک بڑا طبقہ احتساب کو غیر جانبدار عمل کے بجائے سیاسی ہتھیار سمجھنے لگا ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ڈگریوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود مہارت، تحقیق، تنقیدی سوچ اور عملی قابلیت کے حوالے سے سنگین سوالات موجود ہیں۔ اگر کسی قوم کا تعلیمی نظام کمزور ہو جائے تو جمہوریت، معیشت اور ریاستی ادارے بھی بتدریج کمزور ہو جاتے ہیں۔
آج پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید نفرت، تقسیم اور محاذ آرائی نہیں بلکہ ایک ایسے قومی مکالمے کی ہے جس میں تمام سیاسی قوتیں، ادارے اور عوام اپنے اپنے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف طاقت سے نہیں چلتی۔ ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب قانون سب کے لیے برابر ہو، احتساب بلاامتیاز ہو، تعلیم معیاری ہو، معیشت خودمختار ہو اور عوام کو یہ احساس ہو کہ وہ صرف ووٹر نہیں بلکہ ریاست کے حقیقی مالک ہیں۔
پاکستان کا اصل سوال یہی ہے: کیا ہم عوام کو رعایا سمجھتے رہیں گے یا انہیں واقعی ریاست کا شریکِ اقتدار بنائیں گے؟
یہی سوال پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
اسرائیل ایران جنگ اسباب اور حل
جمعہ، 5 جون، 2026
ایران اسرائیل امریکہ جنگ کیوں ہوئی ؟
بدھ، 3 جون، 2026
میانمار میں ظلم نسل کشی میں اقوام عالم کی مجرمانہ غفلت
میں اکثر سوچتا ہوں کہ انسان نے جب غاروں سے نکل کر تہذیب کا سفر شروع کیا تھا، تو اس نے سوچا ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب بارود کی بو ختم ہو جائے گی، جب طاقتور کمزور کا خون نہیں بہائے گا، اور جب زمین پر بسنے والے تمام انسان ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے۔ لیکن افسوس! ہم نے پتھروں کے دور سے نکل کر مشینوں کا دور تو دیکھ لیا، مگر ہماری جبلت وہی غاروں والی رہی۔ ہم آج بھی اتنے ہی وحشی ہیں، جتنے ہزاروں سال پہلے تھے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اب ہماری وحشت کو بارود اور ٹیکنالوجی کے پر لگ چکے ہیں!
ایک صحافی اور میڈیا پلیٹ فارم کے ذمہ دار کی حیثیت سے، روزانہ سینکڑوں خبریں اور رپورٹس میری نظروں سے گزرتی ہیں، لیکن میرے سامنے اس وقت جو چند ڈیجیٹل اسکرین شاٹس اور بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے 'میانمار وٹنس' کی تازہ ترین رپورٹ پڑی ہے، اس نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ انسانیت کے منہ پر وہ طمانچے ہیں جو اس جدید دور کا سسکتا ہوا انسان ہمارے ضمیر پر مار رہا ہے۔ میانمار (برما) میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں کی اپنی ہی فوج، اپنی ہی فضائیہ (MAF) اپنے ہی بے گناہ لوگوں پر بارود برسا رہی ہے۔ وہ آسمان، جو کسی دور میں پرندوں کی پرواز اور امن کا استعارہ ہوتا تھا، آج وہاں سے موت برستی ہے۔
آپ ظلم کی انتہا دیکھیے۔ دنیا کا کوئی بھی قانون ہو، جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین (International Humanitarian Law) چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ جنگ کے دوران بھی مذہبی مقامات، اسکولوں اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن میانمار کی فوج نے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، اب تک خانقاہوں (Monasteries) اور چرچوں پر 312 فضائی حملے
کیے جا چکے ہیں۔ عبادت گاہیں، جہاں لوگ اپنے رب کے حضور امن اور سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں، وہاں آج صرف بارود کی بو ہے اور خون کے دھبے!
ذرا تصور کیجیے، تھینگیان (Thingyan) کا موقع تھا، میانمار کے لوگوں کے لیے نئے سال کا جشن اور خوشی کا دن۔ لوگ اپنے گھروں اور مانیٹرنگ سینٹرز میں موجود تھے کہ اچانک فضا گرجتی ہے اور 'مہاسی ساسن میڈیٹیشن سینٹر' پر بم گرا دیے جاتے ہیں۔
خوشیاں سیکنڈوں میں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔ ابھی پچھلے ماہ، 29 اور 30 اپریل کی درمیانی رات، کنپلیٹ کے علاقے میں ایک پل کو نشانہ بنایا گیا، اور نو (9) ہنستے کھیلتے عام شہری لقمہ اجل بن گئے۔ ٹیڈیم میں ایک چرچ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، اوکپھو میں معصوم بچوں کے اسکول کو مٹا دیا گیا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ وہ ڈیجیٹل ثبوت ہیں جنہیں جیو لوکیشن اور سیٹلائٹ کی مدد سے دنیا کے سامنے لایا گیا ہے تاکہ کل کو کوئی مکر نہ سکے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کہاں ہے؟ اقوامِ متحدہ کے بڑے بڑے ایوان، انسانی حقوق کے علمبردار، اور عالمی طاقتیں اس وقت کہاں سوئی ہوئی ہیں؟ کیا میانمار کے ان معصوم شہریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ عالمی ضمیر کو اس کی سرخی بھی نظر نہیں آتی؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات پر پہرے ہیں، جہاں سچ کو چھپانے کے لیے انٹرنیٹ اور مواصلات پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ لیکن السادات نیوز پاکستان ہمیشہ حق اور سچ کی آواز کو بلند کرتا رہے گا۔ آج جب یہ ڈیجیٹل ثبوت ہمارے سامنے آ چکے ہیں، تو خاموشی برقرار رکھنا بذاتِ خود اس ظلم میں برابر کا شریک ہونے کے مترادف ہے۔
کاش! ہم یہ سمجھ سکیں کہ جب کسی ایک جگہ بھی انسان کا ناحق خون بہتا ہے، تو پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے۔ اگر آج ہم میانمار، فلسطین یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے اس ظلم پر خاموش رہے، تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور وحشت کا یہ جن کل کو ہمارے دروازوں پر بھی دستک دے سکتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ دنیا جاگے، ورنہ تاریخ کی کتابوں میں ہمارا دور "سرد مہر اور اندھے انسانوں کا دور" کہلائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم انسان بنیں، صرف نظر آنے والے انسان نہیں، بلکہ احساس رکھنے والے انسان
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف امن انسانی حقوق پر یقین رکھتے والے لوگوں کو جتنا آج کے دور میں کام کرنے کی ضرورت ہے شاید انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھی
پاکستان کا المیہ جمہوریت ہے یا حکومت ؟
پیر، 1 جون، 2026
پاکستان میں جمہوریت کب بحال ہوگی
واشنگٹن,وردی اور پاکستان: کیا پاکستان اپنی تقدیر خود لکھنے کے قابل ہے؟
پاکستان آج جن بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، وہ محض معاشی اعداد و شمار یا سیاسی جھگڑوں کا مسئلہ نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، کمزور معیشت، میڈیا پر دباؤ، سیاسی تقسیم اور عوامی بے یقینی — یہ سب ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: آخر فیصلے کہاں ہوتے ہیں، اور کس کے مفاد میں ہوتے ہیں؟
پاکستانی سیاست کے ایک مضبوط بیانیے کے مطابق اس ملک میں جمہوریت اکثر ایک محدود دائرے میں چلائی گئی، جبکہ اصل طاقت کے مراکز کہیں اور رہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کے کردار پر بھی مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور آئینی بالادستی کے دعوے ضرور کرتا ہے، مگر اس کی خارجہ پالیسی کا اصل پیمانہ اکثر اصول نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے کئی مواقع ملتے ہیں جہاں واشنگٹن پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے منتخب حکومتوں کے بجائے اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو ترجیح دی۔
پاکستان بھی اس بحث سے الگ نہیں۔
پاکستانی سیاسی حلقوں میں یہ مؤقف موجود ہے کہ ملک کے اندر طاقت کے توازن، حکومتوں کی تبدیلی، اور بعض اہم سیاسی فیصلوں میں بیرونی دباؤ یا سفارتی اثر و رسوخ کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی خصوصاً “سائفر” معاملے کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور اسے بیرونی مداخلت اور داخلی طاقت کے مراکز کے اشتراک کی علامت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ مخالفین اور متعلقہ حکام اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے۔
مگر یہاں اصل سوال کسی ایک دستاویز یا ایک واقعے سے بڑا ہے۔
اگر ایک قوم کے لاکھوں شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے سیاسی فیصلوں پر اندرونی طاقت اور بیرونی مفادات سایہ فگن ہیں، تو پھر مسئلہ صرف سیاسی نہیں رہتا؛ وہ قومی اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔
امریکہ پر تنقید کرنے والے یہ سوال پوچھتے ہیں: اگر واقعی جمہوریت اتنی ہی اہم ہے تو پھر دنیا کے مختلف ممالک میں غیر منتخب طاقت کے مراکز کے ساتھ تعلقات کیوں برقرار رہتے ہیں؟ اگر عوامی مینڈیٹ بنیادی اصول ہے تو پھر عالمی سیاست میں اصولوں کے بجائے مفادات کیوں غالب نظر آتے ہیں؟
دوسری طرف پاکستان کے اندر بھی سوال کم نہیں۔
کیا ہم ہر ناکامی کا بوجھ صرف بیرونی طاقتوں پر ڈال کر اپنی داخلی کمزوریوں سے نظریں چرا سکتے ہیں؟
کیا کمزور ادارے، سیاسی عدم برداشت، کرپشن، ناقص گورننس اور مسلسل محاذ آرائی صرف بیرونی سازشوں کا نتیجہ ہیں؟
یا ہم نے خود بھی ایسے نظام کو پنپنے دیا جس میں طاقت، احتساب سے بڑی بن گئی؟
حقیقت شاید یہی ہے کہ بیرونی مداخلت تبھی اثر انداز ہوتی ہے جب داخلی نظام کمزور ہو۔
پاکستان کو اگر واقعی مضبوط، خودمختار اور مستحکم ریاست بننا ہے تو اسے نہ صرف بیرونی دباؤ سے نمٹنا ہوگا بلکہ داخلی طاقت کے ڈھانچے، آئینی توازن، سیاسی برداشت، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی اعتماد کو بھی ازسرِنو تعمیر کرنا ہوگا۔
کیونکہ ایک ملک کی آزادی صرف سرحدوں سے نہیں ناپی جاتی؛
وہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کے فیصلے کہاں ہوتے ہیں — عوام کے ووٹ سے، یا طاقت اور مفاد کے بند کمروں میں۔
Headliners
عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے
Al-Sadat News Pakistan کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین میں آفس میں بی...
-
Al-Sadat News Report وزیراعلیٰ پنجاب کا کسان دوست اقدام سراہا گیا: گرین ٹریکٹرز کی تقسیم کا خیر مقدم سید ابراہیم شاہ خوشاب السادات نیوز پاکس...
-
کیا آپ کو معلوم ہے کہ "ٹائپ ٹو شوگر" واقعی ایک بیماری ہے یا ہمارے طرزِ زندگی کا نتیجہ؟ تحریر : ڈاکٹر سید محمد شاہ غرشین ٹائپ...
-
Al-Sadat News اداریہ یومِ مزدور محنت کش کا پسینہ اور ریاست کی ذمہ داری ہر سال یکم مئی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ترقی، شہروں کی رونق،...









