بجٹ، قرض اور قوم کا مستقبل
السادات نیوز پاکستان
Syed Mohammad Shah Gharshin
CEO Al Sadat News Pakistan
قارئین کرام
ہر سال جون کا مہینہ آتا ہے، پارلیمنٹ میں بجٹ پیش ہوتا ہے، حکومتی بینچوں سے میزیں بجتی ہیں، اپوزیشن شور مچاتی ہے، ٹی وی سکرینوں پر معاشی ترقی کے خواب دکھائے جاتے ہیں، اور عوام یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ آخر اس بجٹ میں ان کے لیے کیا ہے؟
یہ سوال آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دس سال پہلے تھا، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ آج پاکستان صرف مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے بحران سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک ایسے معاشی ڈھانچے میں پھنسا ہوا ہے جہاں قومی وسائل کا بڑا حصہ قوم پر خرچ ہونے کے بجائے قرضوں، سود، گردشی قرضوں، سبسڈیوں اور انتظامی اخراجات میں صرف ہو جاتا ہے۔
حکومت نے 2026-27 کا تقریباً 18.77 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ کاغذ پر یہ رقم بہت بڑی دکھائی دیتی ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ بجٹ کتنا بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں قوم کے لیے کتنا حصہ بچتا ہے؟
جب ہم بجٹ کے اعداد و شمار کو غور سے دیکھتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ پھر دفاعی اخراجات ہیں۔ پھر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن ہیں۔ پھر مختلف سبسڈیاں ہیں۔ پھر گردشی قرضے ہیں۔ ان سب اخراجات کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا بجٹ ایک ایسے خاندان کے بجٹ سے مشابہ نظر آتا ہے جو اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ پرانے قرضے اتارنے میں خرچ کر دیتا ہے جبکہ بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے اس کے پاس بہت کم وسائل بچتے ہیں۔
تعلیم کی مثال لے لیجیے۔
دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کو خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا۔ انہوں نے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ لگایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے نوجوان سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، محقق اور صنعت کار بنے۔
پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔
وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم 77 ارب سے 118 ارب روپے کے درمیان بتائی جا رہی ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
یہاں سوال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مخالفت نہیں۔ غریب آدمی کی مدد ہر ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سوال ترجیحات کا ہے۔
اگر ایک ملک اپنے شہریوں کو غربت سے نکالنے کے لیے مستقل روزگار، تعلیم اور ہنر فراہم کرنے کے بجائے مسلسل مالی امداد پر انحصار کرتا رہے تو کیا غربت ختم ہوگی یا غربت کا انتظام ہوتا رہے گا؟
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں خیرات سے نہیں بلکہ تعلیم، صنعت اور محنت سے ترقی کرتی ہیں۔
پاکستان میں لاکھوں بچے آج بھی سکول سے باہر ہیں۔ ہزاروں سکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اساتذہ کی کمی ہے۔ جدید لیبارٹریاں نہیں ہیں۔ تحقیق کا نظام کمزور ہے۔ یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا موجودہ وسائل سے پاکستان علمی انقلاب لا سکے گا؟
معاشی بحران کا ایک اور پہلو توانائی کا شعبہ ہے۔
آج پاکستان میں بجلی مہنگی ہے، صنعت متاثر ہے، کاروبار دباؤ کا شکار ہیں اور صارف پریشان ہے۔ عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اتنی مہنگی بجلی کے باوجود بجلی کے ادارے خسارے میں کیوں ہیں؟
اس کا جواب صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات میں پوشیدہ ہے۔
بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص انتظام، سیاسی مداخلت، گردشی قرضے اور بعض معاہدوں کی شرائط سب مل کر اس بحران کو جنم دیتے ہیں۔ اگر بجلی پیدا ہونے کے بعد اس کا بڑا حصہ چوری ہو جائے یا اس کی قیمت وصول نہ ہو سکے تو اس کا بوجھ بالآخر ایماندار صارف پر پڑتا ہے۔
بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے ایسے الزامات اور شکایات بارہا سامنے آتی رہی ہیں کہ غیر قانونی کنکشن، بااثر افراد کی رعایتیں اور بدعنوانی بجلی کے نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔ اگر ان شکایات میں حقیقت موجود ہے تو پھر اصلاحات کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
اسی طرح گیس کا شعبہ بھی انتظامی کمزوریوں اور نقصانات کا شکار رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ریاست اپنی پیدا کردہ بجلی اور گیس کی مکمل قیمت وصول نہیں کر سکتی تو وہ مالی طور پر مضبوط کیسے ہوگی؟
ایک اور بنیادی مسئلہ ٹیکس نظام ہے۔
پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی کاروبار ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ معیشت کا بڑا حصہ اب بھی مکمل طور پر دستاویزی نظام میں شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بار بار انہی لوگوں پر بوجھ ڈالتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہوتے ہیں۔
جب ٹیکس کا دائرہ محدود ہو، جب وسائل ضائع ہوں، جب ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت پر سوال اٹھیں، جب احتساب کمزور ہو، تو پھر بجٹ خواہ کتنا بھی بڑا ہو، اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔
پاکستان کی اصل ضرورت صرف نئے قرضے نہیں بلکہ نئے اصول ہیں۔
ایسے اصول جن میں: قانون سب کے لیے برابر ہو، بجلی چوری ناقابلِ برداشت جرم ہو، سرکاری منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ ہو، ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے، تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے، صنعت کو سستی توانائی فراہم کی جائے، اور احتساب سیاسی انتقام کے بجائے قومی پالیسی بنے۔
اگر ایسا نہ ہوا تو بجٹ کے اعداد و شمار ہر سال بدلتے رہیں گے مگر عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔
آج پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔
ایک راستہ وہ ہے جس پر ہم کئی دہائیوں سے چل رہے ہیں؛ قرض، خسارہ، مہنگائی، امداد اور وقتی سہارا۔
دوسرا راستہ اصلاحات، شفافیت، تعلیم، پیداوار اور خود انحصاری کا ہے۔
قوموں کی تقدیر بجٹ کی کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، بلکہ اس بات سے لکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے وسائل کہاں خرچ کرتی ہیں۔
اگر ہماری ترجیح قرضوں کی ادائیگی سے زیادہ انسان سازی نہ بنی، اگر سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور صنعتوں کو قومی سلامتی جتنی اہمیت نہ ملی، اگر احتساب صرف تقریروں تک محدود رہا، تو آنے والی نسلیں بھی وہی سوال پوچھیں گی جو آج پاکستان کا نوجوان پوچھ رہا ہے:
"آخر اس ملک کے وسائل کہاں جا رہے ہیں؟"
یہ سوال حکومت سے بھی ہے، بیوروکریسی سے بھی، سیاست دانوں سے بھی اور ہم سب سے بھی۔
کیونکہ قوموں کا زوال صرف حکمرانوں کی غلطیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب پورا نظام جواب دہی سے آزاد ہو جائے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی ہیں، صلاحیت بھی ہے اور موقع بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بجٹ کا مرکز کاغذی اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستانی عوام کا مستقبل بنے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں