جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد مرنے لگے
تحریر: سید محمد شاہ غرشین
السادات نیوز پاکستان
کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے ٹینک، توپیں، میزائل، عدالتیں، پارلیمنٹ یا سرکاری عمارتیں نہیں ہوتیں۔ ریاست کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جائے گی، ان کے ووٹ کی عزت ہوگی، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہوگا اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا تو ریاست مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن جب یہ اعتماد کمزور ہونے لگے تو بظاہر مضبوط نظر آنے والی ریاستیں بھی اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
آج پاکستان کے گلی کوچوں، چائے خانوں، بازاروں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور گھروں میں بیٹھے لاکھوں لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: "ہم جائیں تو جائیں کہاں؟"
یہ سوال محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت صرف معاشی بحران کا شکار نہیں۔ پاکستان صرف سیاسی کشمکش کا شکار بھی نہیں۔ پاکستان دراصل ایک گہرے اعتماد کے بحران سے گزر رہا ہے۔ وہ اعتماد جو عوام اور ریاست کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کرتا ہے، آہستہ آہستہ کمزور ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔
ایک مزدور صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے۔ شام تک محنت کرتا ہے۔ لیکن مہنگائی اس کی پوری کمائی نگل جاتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی تنخواہ کا حساب لگاتا ہے تو مہینے کے آخری ہفتے سے پہلے ہی جیب خالی ہو جاتی ہے۔ ایک نوجوان ڈگری حاصل کرتا ہے لیکن نوکری نہیں ملتی۔ ایک باپ اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان رہتا ہے۔
جب معاشی مشکلات مسلسل بڑھتی رہیں تو عوام کی برداشت بھی امتحان میں پڑ جاتی ہے۔
لیکن صرف غربت قوموں کو نہیں توڑتی۔
دنیا میں ایسے ممالک بھی موجود ہیں جو پاکستان سے زیادہ غریب رہے مگر وہاں کے عوام کو یقین تھا کہ نظام ان کے ساتھ انصاف کرے گا۔ اس یقین نے انہیں مشکلات برداشت کرنے کا حوصلہ دیا۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ سیاسی بے یقینی بھی بڑھنے لگے۔
جب لوگ محسوس کریں کہ ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔
جب انہیں لگے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ اصول ہیں۔
جب انہیں محسوس ہو کہ قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے۔
جب ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو جائے کہ ان کی فریاد سننے والا کون ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے۔ ہر دور میں حکمرانوں نے خود کو درست اور مخالفین کو غلط قرار دیا۔ ہر دور میں طاقت اور اختیار کی جنگ جاری رہی۔ لیکن ان تمام سیاسی لڑائیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی نے اٹھایا۔
وہ آدمی جو کسی جماعت کا نظریاتی کارکن نہیں۔
وہ آدمی جو صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنا چاہتا ہے۔
وہ آدمی جو امن، روزگار اور عزت کی زندگی چاہتا ہے۔
بدقسمتی سے اکثر سیاسی بحرانوں میں اسی عام آدمی کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے۔
آج اگر آپ کسی بھی شہر کے بازار میں جائیں تو لوگ سیاست پر بحث کرتے نظر آئیں گے۔ لیکن ان بحثوں میں ایک چیز مشترک ہوگی: مایوسی۔
کسی کو معیشت سے شکایت ہے۔
کسی کو حکمرانوں سے۔
کسی کو اپوزیشن سے۔
کسی کو اداروں سے۔
اور کسی کو پورے نظام سے۔
یہ مایوسی خطرناک اس وقت بنتی ہے جب امید ختم ہونے لگے۔
کیونکہ امید زندہ ہو تو قومیں بڑے سے بڑا بحران برداشت کر لیتی ہیں۔
لیکن جب امید مرنے لگے تو غصہ جنم لیتا ہے۔
اور جب غصہ مسلسل بڑھتا رہے تو معاشرہ تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہا ہے۔ مختلف جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلاف رائے کی جگہ نفرت نے لے لی ہے۔ سیاسی وابستگی بعض اوقات خاندانی اور سماجی تعلقات سے بھی زیادہ اہم سمجھی جانے لگی ہے۔
یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔
کیونکہ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب اختلاف کے باوجود مکالمہ باقی رہے۔
جب لوگ ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہوں۔
جب مخالف کو دشمن نہیں بلکہ سیاسی حریف سمجھا جائے۔
بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول اس سمت میں کم اور محاذ آرائی کی سمت میں زیادہ بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ ذمہ داری ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
طاقت کا اصل امتحان مخالف کو دبانے میں نہیں بلکہ مخالف کی بات سننے میں ہوتا ہے۔
حکمرانی کا اصل کمال تنقید برداشت کرنے میں ہوتا ہے۔
جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ لوگ حکومت سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
اگر عوام سوال پوچھنا چھوڑ دیں تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے۔
پاکستان کو آج ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں عوام کو یقین دلایا جائے کہ ان کی جان، مال، عزت اور رائے محفوظ ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں قانون سب کے لیے برابر ہو۔
ایسا معاہدہ جس میں ادارے شخصیات سے نہیں بلکہ آئین اور قانون سے وفادار ہوں۔
ایسا معاہدہ جس میں میڈیا خوف کے بغیر سوال پوچھ سکے۔
ایسا معاہدہ جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
کیونکہ تاریخ کا ایک سبق بہت واضح ہے۔
طاقت وقتی ہوتی ہے۔
عہدے عارضی ہوتے ہیں۔
حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
لیکن قوموں کی یادداشت بہت طویل ہوتی ہے۔
لوگ شاید تقریریں بھول جائیں، نعرے بھول جائیں، سیاسی اتحاد بھول جائیں، لیکن وہ انصاف اور ناانصافی دونوں کو یاد رکھتے ہیں۔
پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف سیاسی جماعتیں نہیں کریں گی۔
اس کا فیصلہ وہ نوجوان کرے گا جو آج نوکری ڈھونڈ رہا ہے۔
وہ مزدور کرے گا جو مہنگائی سے لڑ رہا ہے۔
وہ کسان کرے گا جو اپنی فصل کے بہتر دام چاہتا ہے۔
وہ ماں کرے گی جو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔
اور وہ شہری کرے گا جو عزت اور انصاف کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔
ریاست اور عوام کا رشتہ خوف پر نہیں چل سکتا۔
یہ رشتہ اعتماد پر چلتا ہے۔
اگر اعتماد مضبوط ہو تو مشکلات بھی برداشت ہو جاتی ہیں۔
اگر اعتماد کمزور ہو جائے تو کامیابیاں بھی بے معنی لگنے لگتی ہیں۔
پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت معاشی پیکیج، سیاسی نعروں یا جذباتی تقریروں سے زیادہ اعتماد کی بحالی کی ہے۔
کیونکہ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ ان کی بات سنی جائے گی تو بحران کم ہونے لگتے ہیں۔
اور جب عوام کو یقین ہو جائے کہ کوئی ان کی فریاد سننے والا نہیں تو پھر مسائل صرف سیاسی نہیں رہتے، وہ قومی بحران بن جاتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست، سیاستدان، ادارے، میڈیا اور معاشرہ سب مل کر اس اعتماد کو بحال کریں۔
کیونکہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں۔
قومیں اعتماد، انصاف اور امید سے بنتی ہیں۔
اور جب امید زندہ ہو تو اندھیری راتیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں