پاکستان کی جمہوریت، طاقت اور عوام کے درمیان گمشدہ رشتہ
تحریر سید محمد شاہ غرشین
پاکستان کی 80 سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بنیادی سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے: کیا اس ملک میں واقعی عوام حکمران ہیں یا عوام صرف ایک ایسے نظام کا ایندھن ہیں جس کے اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں؟
قیامِ پاکستان کے بعد قوم کو یہ امید دی گئی تھی کہ اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلے گا، میرٹ کو فروغ ملے گا، ادارے مضبوط ہوں گے اور ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ اقتدار کے مراکز عوامی ووٹ سے زیادہ طاقتور ہیں۔
پاکستانی معاشرے کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی مسلک کے نام پر، کبھی زبان اور قومیت کے نام پر، اور کبھی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عوام مشترکہ قومی مفاد کے بجائے چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ گئے جبکہ طاقت کے اصل مراکز پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتے گئے۔
یہ صورتحال کسی فیکٹری کے مزدور اور مالک کے تعلق سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ مزدور کو تنخواہ، بونس اور مراعات تو مل سکتی ہیں، لیکن اسے ملکیت میں شراکت کا حق نہیں دیا جاتا۔ ناقدین کے مطابق پاکستانی عوام کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ انہیں ووٹ کا حق تو ملا، لیکن پالیسی سازی اور قومی فیصلوں میں حقیقی شرکت محدود رہی۔ لیکن یہ حق ہمیشہ سازش کے ذریعہ ہمیشہ چرایا گیا قوم کو اندھیرے میں رکھا گیا حقائق کبھی بند کمروں سے باہر نہیں آیا
پھر عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کی ایک تحریک کے ذریعہ گرائی گئی مگر اصل میں یہ سب امریکہ کے کہنے پر اور بدترین ہارس ٹریڈنگ کرکے ذریعے کیا گیا جو غیر جمہوری عمل تھا جس کو عمران خان نے مسترد کردیا اور اس کے خلاف آواز اٹھائی اس کے بعد 8 فروری 2024 کو ایک الیکشن ہوا جس میں پی ٹی کو بین کیا گیا ان کا انتخابی نشان چھین لیا گیا پی ٹی آئی کے سب امیدوار آزادانہ الیکشن لڑے اور جیت گئے جب طاقتور نے دیکھا کے قوم نے ان کی پوری پلاننگ کو زمین میں دفن کردیا ہے تو پولنگ اسٹیشن پر جاری فارم 45 کو رد کرکے اس کی جگہ دی سی صاحبان نے فارم 47 کے ذریعہ طاقتور کے نمائندوں کو کامیاب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا الیکشن کمیشن نے بھی اسی کی پیروی کی اور یوں عوامی مینڈیٹ چھین لیا گیا
اس قبل اور آج تک الیکٹرانک میڈیا کو سنسر کرکے یا خرید کر آج تک مسلسل پی ٹی آئی کی کردار کشی جاری ہے مگر عوام آج بھی کسی کی ماننے کو تیار نہیں ہیں اور یہی سب سے بڑی طاقتوروں کی پریشانی بن گئی ہے
پاکستان میں انتخابی نظام پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ووٹر ٹرن آؤٹ اکثر نصف سے بھی کم رہتا ہے جبکہ بعض حلقوں میں کامیاب امیدوار کل رجسٹرڈ ووٹوں کے ایک نسبتاً چھوٹے حصے کی حمایت سے کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ انتخابی ڈھانچہ واقعی اکثریت کی نمائندگی کرتا ہے یا اصلاحات کی ضرورت ہے؟
ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ سیاست میں سرمایہ دار، جاگیردار، بڑے کاروباری خاندان اور بااثر طبقات زیادہ آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں، جبکہ متوسط اور نچلے طبقے کے باصلاحیت افراد کے لیے راستہ دشوار رہتا ہے۔ نتیجتاً منتخب ایوانوں میں عوامی مسائل سے زیادہ طاقتور مفادات کی نمائندگی دکھائی دیتی ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کرپشن کے خلاف بیانیہ دیا، میرٹ کی بات کی اور عوامی شعور بیدار کیا۔ ان کے ناقدین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ان کی سیاست نے پاکستانی نوجوانوں اور متوسط طبقے میں سیاسی دلچسپی کو غیر معمولی حد تک بڑھایا۔
پاکستان میں احتساب کے عمل پر بھی ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ہر دور میں مخالفین کے خلاف مقدمات بنتے رہے جبکہ حامیوں کو رعایت ملتی رہی۔ اسی وجہ سے عوام کا ایک بڑا طبقہ احتساب کو غیر جانبدار عمل کے بجائے سیاسی ہتھیار سمجھنے لگا ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ڈگریوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود مہارت، تحقیق، تنقیدی سوچ اور عملی قابلیت کے حوالے سے سنگین سوالات موجود ہیں۔ اگر کسی قوم کا تعلیمی نظام کمزور ہو جائے تو جمہوریت، معیشت اور ریاستی ادارے بھی بتدریج کمزور ہو جاتے ہیں۔
آج پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ مزید نفرت، تقسیم اور محاذ آرائی نہیں بلکہ ایک ایسے قومی مکالمے کی ہے جس میں تمام سیاسی قوتیں، ادارے اور عوام اپنے اپنے کردار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف طاقت سے نہیں چلتی۔ ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب قانون سب کے لیے برابر ہو، احتساب بلاامتیاز ہو، تعلیم معیاری ہو، معیشت خودمختار ہو اور عوام کو یہ احساس ہو کہ وہ صرف ووٹر نہیں بلکہ ریاست کے حقیقی مالک ہیں۔
پاکستان کا اصل سوال یہی ہے: کیا ہم عوام کو رعایا سمجھتے رہیں گے یا انہیں واقعی ریاست کا شریکِ اقتدار بنائیں گے؟
یہی سوال پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں