بدھ، 3 جون، 2026

پاکستان کا المیہ جمہوریت ہے یا حکومت ؟

Al-Sadat News Pakistan 
قارئین کرام السلام علیکم ورحمۃ اللہ



پاکستان اپنی تاریخی جمہوری سفر میں اب تک 81 سال کا ہونے والا ہے ان  81 سالوں میں پاکستان میں اج تک دو نظام قائم یا مروجہ رہے ہیں
 ایک مارشل لا 
ایک جمہوریت 
اکثر و بیشتر پاکستان میں مارشل نافذ رہا اور کچھ قلیل مدت کے لیے جمہوریت بحال ہوئی میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں یہ جمہوریت کی بحالی جو برائے نام جمہوریت تھی لولی لنگڑی جمہوریت تھی کنٹرولڈ جمہوریت تھی اور کنٹرولڈ جمہوریت ہے اج بھی ہے  اور یہ لولی لنگڑی جمہوریت بھی 
 مغربی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے قائم رکھی گئی اگر بین الاقوامی ادارے انسانی حقوق کی تنظیمیں جمہوریت پسند ممالک نہ ہوتے تو شاید پاکستان میں اس لولی لنگڑی جمہوریت کو بھی پنپنے نہ دیا جاتا 

اپ دنیا کی تاریخ اٹھا کے دیکھ لیں بالخصوص امریکہ اور پاکستان کی ریلیشن شپ اور تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو پاکستان کے وسائل اس کی سرزمین اسکی افواج اس کے سیاست دان ہر ایک کو مغربی ممالک کے مفادات یا امریکن مفادات کے ماتحت رکھا گیا اور ان کے لیے استعمال کیا جائے جاتا رہا ہے 

پاکستان کی بدقسمتی یا پاکستانی قوم کی بدقسمتی کہ اس ملک میں جمہوری روایات کو تو پنپنے نہ دیا گیا مگر ازادانہ سوچ اور اعلی تعلیم کے اس سلیبس کو بھی یہاں نافذ کرنے نہ دیا گیا جو ترقی یافتہ ممالک میں نافذ ہے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس قوم کو بے شعور رکھا جائے تب ہی اس پہ حکومت کی جا سکتی ہے 
ایک پری پلاننگ منصوبے کے تحت اس قوم کو لسانی بنیادوں پہ علاقائی بنیادوں پہ مذہبی بنیادوں پہ سیاسی بنیادوں پہ تقسیم کیا جاتا رہا اور یہ تقسیم در تقسیم کا سلسلہ تا حال جاری ہے اور یہ قوم اب تک بھی اپنے رائٹس اپنے حقوق کو نہ سمجھ پائی 
پاکستان کی اکثریتی ابادی قانون سے ناواقف ہے ائین سے ناواقف ہے قانون اور ائین میں دیے گئے اپنے حقوق سے ناواقف ہے بلدیاتی نظام کس طرح کام کرتا ہے اور ان کے اندر ان کے کیا کیا رائٹس ہیں اور ان کے نمائندے کہاں اور کیسے جواب دہ ہیں اس پورے نظام سے پاکستانی عوام کو اندھیرے میں رکھا گیا اج تک بھی یہ اندھیرے میں سوئی ہوئی ہے 

یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت بحال نہ ہو سکی اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پاکستان میں ائندہ بھی جمہوریت کی بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں ارہا یہ جو جمہوریت جمہوریت کے نام پہ ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے یہ طاقتور کا کھیل ہے جس طرح جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر پھر انتخابات کروائے اور محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا اور چاروں صوبوں میں وزرائے اعلی بنائے اور خود صدارت کی کرسی سنبھال کے بیٹھے یہ موجودہ حکومت بھی اسی ماڈل کی ایک جدید شکل ہے جسے فارم 47 کے ذریعے عوام کی اکثریت کی رائے کے خلاف مسلط کیا گیا ہے 

السادات نیوز پاکستان اور میرا ذاتی منشور یا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مکمل طور بحال ہو 
آئین پاکستان مکمل طور پر بحال کیا جائے  ہم پاکستان فوج سے محبت کرتے ہیں یہ فوج اس ملک کے دفاع کی آخری لیکر ہے مگر ہم فوجی اقتدار کو تسلیم نہیں کرتے کیوں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فوجی کے لئیے گئے حلف کے خلاف ہے جو اس نے آئین قانون کی پاسداری کا کیا ہے 
ملک میں ادارے آزاد ہوں اور قانون کے ماتحت ہوں نہ کہ طاقتور کے ماتحت رہ۔کر کام کریں جیساکہ آجکل ہو رہا ہے 

عدلیہ مکمل آزاد ہو اور ہر ادارہ یا ہر شخص قانون اور عدلیہ کے زیر سایہ ہو 
ہر ادارے کے اندر احتساب کا سخت کڑا عمل ہو کہ ہر سرکاری ملازم اس احتساب سے ڈرے کہ اگر اس نے قانون کے خلاف کوئی کام کیا تو وہ اس احتساب سے نہیں بچ پائے گا 
قطع نظر اس بات کے کہ کہ حکومت کس کی ہے 
پی ٹی آئی کی ہے 
ن لیگ کی ہے  یا پیپلز پارٹی کی ہےیا کسی اور کی ہم ہمیشہ قانون آئین عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑے رہیں گے 
ہماری تنقید یا تائید اس نظریہ کے مطابق ہوگی جو شخص آزادانہ الیکشن کمیشن 
آزادانہ ادارہ جاتی قانونی کردار 
آزاد عدلیہ 
آزاد میڈیا 
کا مطالبہ رکھتا ہے یا موقف رکھتا ہے السادات نیوز پاکستان اس کی بلا شرط حمایت جاری رکھے گا 
ہم جب کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی نہیں تھی تو تاریخ اس بات کا تائید کرتی ہے 
ہم جب کہتے ہیں کہ عدلیہ آزاد نہیں ہے تو پاکستان کی حالیہ تاریخ اور اس بات کا ثبوت ہے 
ہم جب کہتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کبھی بحال نہیں ہوئی یا اس نے کبھی اپنی مرضی سے آئین کے ماتحت کام نہیں کیا تو تاریخ پاکستان اس بات کی گواہ ہے 
ہم جب کہتے ہیں کہ اس ملک میں عوام کے منتخب نمائندوں کو آزادی سے کام کرنے نہیں دیا گیا تو تاریخ اس بات پر گواہ ہے 
پاکستان میں موجودہ آئین ترامیم   26/27 اور اب متوقع 28 ترامیم کو یہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ ٹولہ کررہا ہے ان کو یہ ترامیم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے یہ اس آئین کو جو عوامی آئین تھا جرنیلی آئین بنا کر دم۔لیں گے کیونکہ یہ دونوں اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں 
اور اسٹیبلشمنٹ کو اپنی طاقت اور حکومت قائم۔کرنے کے لئیے 
اندرونی طور پر ایسے کھٹپتلی حکمران 
بیرونی طور پر امریکہ جیسی طاقت کی آشیر باد اور اندرونی طور پر اداروں کے اندر اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کے لئے ایسی بیوروکریسی چاہئے جو قانون پر نہیں ان کے احکامات پر عمل کرے 
اور یہ مقاصد اب تک وہ پاکستان میں حاصل کرنے کامیاب رہے ہیں اور کرتے رہیں گے 
جب تک کہ پاکستان میں حقیقی عوامی حکومت بحال نہیں ہو جاتی حقیقی جمہوریت بحال نہیں ہو جاتی حقیقی طور پر آئین بحال نہیں کردیا جاتا ہے  
اس وقت ایک ژندہ مثال گلگت بلتستان کے الیکشن ہیں جو 2024 کے الیکشن کے طرز پر برپا کئے جارہے ہیں 
جہاں نون لیگ کو مکمل الیکشن کمپین کی آزادی ہے 
 پیپلز پارٹی کو بھی مکمل آزادی حاصل ہے   وہاں نواز شریف صاحب اپنی سینئر قیادت کے ہمراہ اس مہم میں مصروف ہیں 


اور بلاول بھٹو زرداری آصفہ بھٹو زرداری بھی اسی طرح مصروف ہیں ان کے امیدوار اپنے اپنے معروف انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں  جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے  انتخابی نشانات بھی چھین لئیے گیئے ہیں 
اور ان کی قیادت کے نسلی جلوس الیکشن کمپین پر بھی پابندی عائد ہے اور ان کی سینئر قیادت کو کی بی میں داخلہ پر بھی پابندی عائد کردی گئی آگے 
جہاں کہیں وہ جلسہ کریں تو ان کے خلاف 144 کی خلاف ورزی کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں 


اب میرا ہر مہذب شخص سے ن۔لیگ پیپلز پارٹی اور دیگر سب سے سوال ہے کہ کیا یہ جمہوری روایات ہیں 
کیا اس کو آپ آزاد منصفانہ الیکشن کہیں گے 
کیا یہ عوام کی آواز کو اس وقت جی بی میں نوے فیصد پی ٹی آئی کے ساتھ ہے کی توہین نہیں ہے ؟

اگر یہ سب قانون کی بالادستی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اس ملک میں مارشل لا کا اعلان کیا جائے جو نافذ تو ہے مگر اس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت جرنیلوں کی سلیکٹڈ حکومت ہے

اور یہ صورتحال امریکہ اور یورپ کے لئے بھی شرم کا باعث ہونی چاہیے کہ کیا تم اس جمہوری روایات کے دعوے دار ہو ؟
کیا تم نے اپنے ملک میں بھی ایسا خوبصورت قانون نافذ کر رکھا ہے ؟
تاریخ ان سوالوں کو  دھرائے گی 
سقراط کو جب زہر دیا گیا تو اس نے کہا کہ تم مجھے تو مار دوگے 
مگر تاریخ کو کیسے ماروگے جو تم سے سوال کریگی ؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...