واشنگٹن,وردی اور پاکستان: کیا پاکستان اپنی تقدیر خود لکھنے کے قابل ہے؟
پاکستان آج جن بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، وہ محض معاشی اعداد و شمار یا سیاسی جھگڑوں کا مسئلہ نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، کمزور معیشت، میڈیا پر دباؤ، سیاسی تقسیم اور عوامی بے یقینی — یہ سب ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں: آخر فیصلے کہاں ہوتے ہیں، اور کس کے مفاد میں ہوتے ہیں؟
پاکستانی سیاست کے ایک مضبوط بیانیے کے مطابق اس ملک میں جمہوریت اکثر ایک محدود دائرے میں چلائی گئی، جبکہ اصل طاقت کے مراکز کہیں اور رہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کے کردار پر بھی مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ دنیا میں جمہوریت، انسانی حقوق اور آئینی بالادستی کے دعوے ضرور کرتا ہے، مگر اس کی خارجہ پالیسی کا اصل پیمانہ اکثر اصول نہیں بلکہ مفادات ہوتے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے کئی مواقع ملتے ہیں جہاں واشنگٹن پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس نے منتخب حکومتوں کے بجائے اپنے اسٹریٹیجک مفادات کو ترجیح دی۔
پاکستان بھی اس بحث سے الگ نہیں۔
پاکستانی سیاسی حلقوں میں یہ مؤقف موجود ہے کہ ملک کے اندر طاقت کے توازن، حکومتوں کی تبدیلی، اور بعض اہم سیاسی فیصلوں میں بیرونی دباؤ یا سفارتی اثر و رسوخ کا عنصر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی خصوصاً “سائفر” معاملے کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور اسے بیرونی مداخلت اور داخلی طاقت کے مراکز کے اشتراک کی علامت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ مخالفین اور متعلقہ حکام اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے۔
مگر یہاں اصل سوال کسی ایک دستاویز یا ایک واقعے سے بڑا ہے۔
اگر ایک قوم کے لاکھوں شہری یہ محسوس کرنے لگیں کہ ان کے سیاسی فیصلوں پر اندرونی طاقت اور بیرونی مفادات سایہ فگن ہیں، تو پھر مسئلہ صرف سیاسی نہیں رہتا؛ وہ قومی اعتماد کا بحران بن جاتا ہے۔
امریکہ پر تنقید کرنے والے یہ سوال پوچھتے ہیں: اگر واقعی جمہوریت اتنی ہی اہم ہے تو پھر دنیا کے مختلف ممالک میں غیر منتخب طاقت کے مراکز کے ساتھ تعلقات کیوں برقرار رہتے ہیں؟ اگر عوامی مینڈیٹ بنیادی اصول ہے تو پھر عالمی سیاست میں اصولوں کے بجائے مفادات کیوں غالب نظر آتے ہیں؟
دوسری طرف پاکستان کے اندر بھی سوال کم نہیں۔
کیا ہم ہر ناکامی کا بوجھ صرف بیرونی طاقتوں پر ڈال کر اپنی داخلی کمزوریوں سے نظریں چرا سکتے ہیں؟
کیا کمزور ادارے، سیاسی عدم برداشت، کرپشن، ناقص گورننس اور مسلسل محاذ آرائی صرف بیرونی سازشوں کا نتیجہ ہیں؟
یا ہم نے خود بھی ایسے نظام کو پنپنے دیا جس میں طاقت، احتساب سے بڑی بن گئی؟
حقیقت شاید یہی ہے کہ بیرونی مداخلت تبھی اثر انداز ہوتی ہے جب داخلی نظام کمزور ہو۔
پاکستان کو اگر واقعی مضبوط، خودمختار اور مستحکم ریاست بننا ہے تو اسے نہ صرف بیرونی دباؤ سے نمٹنا ہوگا بلکہ داخلی طاقت کے ڈھانچے، آئینی توازن، سیاسی برداشت، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی اعتماد کو بھی ازسرِنو تعمیر کرنا ہوگا۔
کیونکہ ایک ملک کی آزادی صرف سرحدوں سے نہیں ناپی جاتی؛
وہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس کے فیصلے کہاں ہوتے ہیں — عوام کے ووٹ سے، یا طاقت اور مفاد کے بند کمروں میں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں