بدھ، 27 مئی، 2026

تمام اہل اسلام کو عید الاضحیٰ مبارک

Al-Sadat News Pakistan 

دیوار کے اُس پار بھی عید ہے؟ 

خوشیوں اور محرومیوں کے درمیان بٹا ہوا معاشرہ



تحریر برائے: سید محمد شاہ غرشین 
السادات نیوز پاکستان
اج پاکستان میں عید الاضحی 2026 کا پہلا دن ہے اور امت مسلمہ عید کی خوشیاں منا رہی ہیں اس نسبت سے السادات 
نیوز پاکستان کی طرف سے تمام دوستوں کو اہل وطن کو اہل اسلام کو ہماری طرف سے عید کی خوشیاں مبارک
اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی ایثار کا نام ہے اور ایثار کا مطلب یہ ہے کہ اگر اپ کو ضرورت ہو تب بھی اپنی ضرورت سے صرف نظر کرتے ہوئے اپ کسی دوسرے مسلمان بھائی کی حاجت روائی کریں قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اپنی قیمتی سے قیمتی چیز بھی قربان کر دے حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کو قربانی کے لیے پیش کیا
ہم نے اپنے اپ سے یہ سوال کرنا ہے کیا ہم اس سنت ابراہیمی پہ عمل کر رہے ہیں کیا ہمارے ہمسائے میں ہمارے عزیز و اقارب میں کوئی ایسے گھر انے موجود تو نہیں ہے جہاں عید قربان کا گوشت نہ پہنچا ہو یا ان کے بچے بھوکے بیٹھے ہیں 
قربانی کا مقصد یہی ہے کہ اپ اج کے دن ان کے گھر بھی گوشت پہنچائیں جو گوشت خریدنے کی توفیق نہیں رکھتے
ہماری اور اپ کی قربانی کی قبولیت کا دارومدار اس بات پہ ہے کہ ہم نے اخلاص سے نیت سے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ غربہ اور مساکین تک پہنچایا گیا دوسرا حصہ عزیز و اقارب کے غرباء مساکین تک پہنچائے ہو تیسرا 
حصہ اپ کا اور اپ کے اہل و عیال کا ہے قربانی کر کے فرج میں گوشت نہیں رکھنا بلکہ اس سے
حقداروں تک تقسیم کرنا ہے 

ایک ہی محلہ، ایک ہی فضا، ایک ہی دن 
مگر دو الگ دنیائیں۔

ایک طرف رونق ہے، قہقہے ہیں، گوشت کے تھال ہیں، مہمان ہیں، بچوں کے تحفے ہیں، خوشیوں کی چہل پہل ہے۔
اور دوسری طرف خاموشی ہے، خالی برتن ہیں، فکرمند چہرے ہیں، بھوک سے لڑتے معصوم بچے ہیں، اور ایک ماں کی بے بسی ہے جو اپنے بچوں کو تسلی تو دے سکتی ہے، مگر پیٹ بھر کھانا نہیں۔

یہ تصویر صرف ایک منظر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔

سوال یہ نہیں کہ خوشی منانا غلط ہے۔ اسلام نے عید، قربانی، مہمان نوازی اور رزق کی نعمت پر شکر ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خوشیوں کی دیوار کے اُس پار بیٹھا انسان بھی ہماری توجہ میں ہے؟

قربانی کا فلسفہ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تقویٰ، نیت اور انسانیت کا جذبہ پہنچتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت موجود ہے: دولت اور غربت کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے لاکھوں خاندانوں کے لئے بنیادی ضروریات تک مشکل بنا دی ہیں۔ پاکستان میں عید الاضحی ایک بڑی معاشی سرگرمی بھی سمجھی جاتی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ موقع ضرورت مندوں تک رزق پہنچانے اور معاشرتی یکجہتی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہونا چاہیے۔ 

بدقسمتی سے بعض اوقات ہم قربانی کے اصل پیغام سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جانور کی قیمت، جسامت، نمائش، سوشل میڈیا کی تصویریں اور دکھاوا اصل مقصد پر غالب آجاتے ہیں، جبکہ قربانی کا بنیادی سبق ایثار، عاجزی اور تقسیمِ نعمت ہے۔ 

یہ تصویر ہمیں ایک غیر آرام دہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے:

کیا ہماری دیواریں صرف اینٹوں کی ہیں، یا دلوں کی بھی؟

ہمارے اردگرد ایسے کتنے گھر ہیں جہاں بچے عید کے دن نئے کپڑوں سے زیادہ ایک وقت کے کھانے کے منتظر ہوتے ہیں؟
کتنی مائیں ہیں جو اپنی غربت کو پردے کے پیچھے چھپا کر بچوں کو امید کا سہارا دیتی ہیں؟
کتنے سفید پوش خاندان ہیں جو کسی سے مانگ نہیں سکتے، مگر ضرورت کی آگ میں جل رہے ہیں؟

اسلامی معاشرے کی خوبصورتی صرف عبادت گاہوں سے نہیں بنتی، بلکہ اس احساس سے بنتی ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی محروم تنہا نہ رہ جائے۔

اگر ہماری دسترخوان پر دس ڈشیں ہیں اور ہمارے پڑوس میں کوئی بچہ سوکھی روٹی پر گزارا کر رہا ہے، تو یہ صرف معاشی فرق نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا سوال بھی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید، قربانی اور خوشیوں کے مواقع کو محض رسم یا نمائش نہ بنائیں، بلکہ انہیں انسانیت، ہمدردی اور سماجی انصاف کے جذبے سے جوڑیں۔

شاید حقیقی خوشی تب مکمل ہوگی جب ہماری دیوار کے اُس پار بیٹھے بچوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آئے۔

کیونکہ عید صرف ہمارے گھر میں نہیں، (پورے معاشرے میں ہونی چاہیے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...