منگل، 26 مئی، 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کا ناسور

Al-Sadat News Pakistan 

منظر نامہ

سید محمد شاہ غرشین

CEO Al Sadat News Pakistan



میں پچھلے چوبیس گھنٹوں سے بستر پر لیٹا چھت کو گھور رہا ہوں اور میری آنکھوں کے سامنے کوئٹہ کے اس چمن پھاٹک کا منظر گھوم رہا ہے، جہاں چند گھنٹے پہلے خون کی ہولی کھیلی گئی۔
میں بار بار اپنے آپ سے ایک ہی سوال پوچھ رہا ہوں کہ یاخدایا! ہم کس موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں؟ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے جوانوں کی بہادری کی قسمیں دنیا کھاتی ہے؟
اور کیا یہ وہی دھرتی ہے جہاں ماؤں کے لختِ جگر صبح گھر سے وردی پہن کر نکلتے ہیں تو شام کو ان کے جنازے گھر پہنچتے ہیں

؟
کل کوئٹہ کینٹ کے مضافات میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک بم دھماکہ نہیں تھا، وہ 31 ماؤں کی گود اجڑنے کی داستان تھی، وہ 211 خاندانوں کے عمر بھر کے معذور ہونے کا نوحہ تھا اور وہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کے دل پر لگا ہوا ایک ایسا گہرا زخم تھا جس کا خون رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب 4 فرنٹئیر فورس، 10 بلوچ رجمنٹ اور ای ایم ای سینٹر کے وہ کڑیل جوان، وہ نئے بھرتی ہونے والے معصوم عسکری ریکروٹس، جن کی تفصیل دشمن جاری کی (وہ ان تک کیسے پہنچی)
جن کی آنکھوں میں اپنے ملک کی حفاظت کے خواب تھے، اس عسکری شٹل ٹرین میں سوار ہو رہے ہوں گے، تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اگلے چند منٹوں میں سیکیورٹی کا یہ دعویٰ ایک خونی ملبے میں تبدیل ہونے والا ہے۔ ہم کب تک اپنے جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے؟ ہم کب تک صرف مذمتی بیانات اور افسوس کے پیغامات کے سہارے جئیں گے؟ یہ ایک ایسا لمحہء فکریہ ہے جس پر اگر آج ہم نے خون کے آنسو نہ بہائے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔


لیکن آئیے، جذبات سے ہٹ کر ذرا اس تلخ حقیقت کا سامنا کریں جو اس حملے کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ اور ان کے انٹیلی جنس ونگ 'زراب' نے جو تفصیلات جاری کی ہیں، اگر ان کا صرف دس فیصد بھی سچ ہے، تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ یہ کوئی عام گوریلا حملہ نہیں تھا، یہ ایک انتہائی پیچیدہ، منظم اور گہری پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ دشمن کو یہ معلوم تھا کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور 9 نومبر کو شال ریلوے اسٹیشن کے دھماکے کے بعد پاک فوج نے اپنا سیکیورٹی پروٹوکول بدل دیا ہے۔ دشمن جانتا تھا کہ اب فوجیوں کو پبلک اسٹیشن کے بجائے رات کی تاریکی میں کینٹ کے ہائی سیکیورٹی زون کے اندر چار پانچ خصوصی بوگیوں میں سوار کیا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ جعفر ایکسپریس کی روانگی سے ٹھیک آدھا گھنٹہ پہلے ایک الگ انجن اس شٹل ٹرین کو لے کر نکلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کینٹ کے اندر کی یہ انتہائی خفیہ معلومات، یہ مخصوص اوقات، اور ان بوگیوں میں سوار ہونے والی رجمنٹس کے نام ایک دہشت گرد تنظیم تک کیسے پہنچے؟


یہیں پر آ کر سیکیورٹی فورسز کا وہ 'لیپس' اور کمزوری سامنے آتی ہے جس پر بات کرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ ہماری انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کی ایک ایسی سنگین ناکامی ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیکیورٹی کا بنیادی اصول ہے کہ جب آپ دشمن کے خوف سے اپنا پروٹوکول بدلتے ہیں، تو اس میں 'روٹین' (Routine) پیدا نہیں ہونے دیتے۔ اگر ہماری فورسز ہر روز ایک ہی طے شدہ وقت پر، ایک ہی طریقے سے اس شٹل ٹرین کو کینٹ سے نکال رہی تھیں، تو انہوں نے خود دشمن کو مشاہدے اور ریکی کا موقع دیا۔ ٹریک کے دونوں طرف بلند دیواریں بنانا یا چمن پھاٹک پر کیو آر ایف کو الرٹ کرنا اس وقت تک بے سود ہے جب تک آپ کے اپنے گھر کی معلومات باہر جا رہی ہوں۔ یہ مائی مائی کی لڑی (Information Leakage) کہاں سے جڑی ہے؟ کیا کینٹ یا ریلوے کے اندر کوئی کالی بھیڑ موجود ہے؟ یا پھر ہمارا مواصلاتی نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ دشمن اسے ہیک کر کے ہماری ایک ایک موومنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہے؟ جب تک ہم اس اندرونی سوراخ کو بند نہیں کریں گے، ہم باہر کتنی ہی دیواریں کیوں نہ کھڑی کر لیں، ہمارے جوان محفوظ نہیں ہو سکتے۔


اب سوال یہ ہے کہ آنے والے وقت میں اس آگ کو کیسے روکا جائے؟ اب روایتی دفاع کا وقت ختم ہو چکا۔ سیکیورٹی اداروں کو سب سے پہلے اپنی 'انفارمیشن سیکیورٹی' کا ایک سخت آڈٹ کرنا ہوگا۔ فوجیوں کی نقل و حرکت کے طریقے اور اوقات کو اس حد تک خفیہ اور غیر متوقع (Random) بنانا ہوگا کہ خود عملے کو بھی آخری لمحات تک معلوم نہ ہو کہ اگلا قدم کیا ہے۔ دوسرا بڑا اقدام، کینٹ اور حساس تنصیبات کے اندر کام کرنے والے نچلے درجے کے سویلین عملے، قلیوں اور عارضی ملازمین کی سخت ترین سکریننگ اور کاؤنٹر انٹیلی جنس نگرانی ہے۔ دشمن اب بندوق سے زیادہ معلومات کی جنگ لڑ رہا ہے، اور اس جنگ کو جیتنے کے لیے ہمیں سگنل انٹیلی جنس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جدید تھرمل کیمروں کا نیٹ ورک بنانا ہوگا جو کینٹ سے ریلوے اسٹیشن تک کے پورے ٹریک کی 24 گھنٹے فضائی اور زمینی نگرانی کر سکیں۔


ہم ایک ایسے نازک دور سے گزر رہے ہیں جہاں دشمن ہماری بقا پر وار کر رہا ہے۔ السادات نیوز پاکستان کے پلیٹ فارم سے میں اربابِ اختیار اور سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام سے التجا کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اب جاگ جائیے۔ ان ماؤں کے آنسوؤں کو دیکھیے جن کے لختِ جگر اس مٹی کا قرض چکاتے چکاتے منوں مٹی تلے سو گئے۔ اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں موجود کمزوریوں کا گہرائی سے تجزیہ نہ کیا، اگر آج ہم نے انٹیلی جنس کے اس سوراخ کو ہمیشہ کے لیے بند نہ کیا، تو خدانخواستہ اگلا کالم مجھے کسی اور ایسے ہی سانحے پر لکھنا پڑے گا، اور اس دن ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ اس ملک اور اس کے محافظوں کا حامی و ناصر ہو۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...