اداریہ: السادات نیوز پاکستان
تحریر سید محمد شاہ غرشین
سی ای او السادات نیوز
اس وقت پاکستان میں نئے صوبوں کا مجوزہ نقشہ زیر گردش ہے کیا اس نقشے پر تقسیم پر قومی اتفاق رائے موجود ہے ؟
آج کل سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پاکستان کی انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک نیا نقشہ زیرِ گردش ہے۔
اس مجوزہ منصوبے میں پاکستان کو متعدد نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے۔ السادات نیوز پاکستان سمجھتا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی بذاتِ خود ایک مثبت سوچ ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ ملکی حالات میں اس منصوبے کے عملی، معاشی اور سیاسی پہلوؤں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
عوامی مفاد اور انتظامی سہولت
اصولی طور پر دیکھا جائے تو چھوٹے صوبوں کا قیام عوامی مفاد کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جب دور دراز کے علاقوں، جیسے جنوبی پنجاب، ہزارہ، مکران یا دیگر پسماندہ اضلاع کو الگ صوبائی حیثیت ملتی ہے، تو گورننس کا نظام بہتر ہوتا ہے۔ عوام کو اپنے چھوٹے چھوٹے جائز کاموں اور عدالتوں کے چکر کاٹنے کے لیے سینکڑوں میل دور صوبائی دارالحکومتوں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔ ترقیاتی فنڈز براہِ راست مقامی سطح پر خرچ ہوتے ہیں جس سے محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ منصوبہ عوامی ریلیف کے لیے ایک بہترین خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
معاشی حقیقت:
کیا موجودہ حالات میں یہ ممکن ہے؟
خواب دیکھنا الگ بات ہے لیکن تلخ معاشی حقیقتوں سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں ملکی معیشت قرضوں کی ادائیگی اور شدید مالیاتی خسارے کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔
ایسے میں ایک درجن سے زائد نئے صوبے بنانے کا مطلب ہے: اربوں روپے کی لاگت سے نئے گورنر ہاؤسز، وزیراعلیٰ ہاؤسز، نئی صوبائی اسمبلیاں، ہائی کورٹس اور سیکرٹریٹ تعمیر کرنا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی ایک نئی اور بھاری بھرکم فوج (چیف سیکرٹریز، آئی جیز، سیکرٹریز اور سرکاری ملازمین) کی تنخواہوں اور پنشنز کا مستقل بوجھ ملکی خزانے پر پڑے گا۔ موجودہ معاشی حالت میں جب حکومت کے پاس بنیادی ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز نہیں ہیں، اتنے بڑے انتظامی اخراجات کا بوجھ اٹھانا ملکی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے مترادف ہوگا۔
سیاسی اتفاقِ رائے کی ناگزیریت اور انتشار کا خطرہ
نیا صوبہ بنانا محض کاغذ پر لکیر کھینچنے کا نام نہیں ہے، اس کے لیے آئین میں دو تہائی اکثریت سے ترمیم درکار ہوتی ہے۔ السادات نیوز پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر اس قسم کی بڑی جراحی تمام سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے **ملی یکجہتی اور وسیع تر اتفاقِ رائے** کے بغیر کی گئی، تو یہ ملک کو شدید ترین سیاسی انتشار کی طرف دھکیل دے گی۔
اگر صوبوں کی تقسیم انتظامی کے بجائے لسانی، نسلی یا عصبیت کی بنیاد پر محسوس ہوئی—خصوصاً سندھ یا بلوچستان جیسے حساس صوبوں میں—تو اس سے صوبائی منافرت اور اندرونی خلفشار کی ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جسے قابو کرنا ناممکن ہوگا۔ پہلے سے موجود سیاسی پولرائزیشن (تقسیم) کے ماحول میں یہ عمل وفاق کی اکائیوں کو کمزور کر سکتا ہے۔
السادات نیوز کی تجاویز:
کیا درست ہے اور کیا غلط؟
ہماری سنجیدہ رائے میں، اس منصوبے کو جوں کا توں نافذ کرنے کے بجائے درج ذیل حکمتِ عملی اپنائی جانی چاہیے:
| کیا کرنا غلط ہوگا؟ (منفی پہلو) |
کیا کرنا درست ہوگا؟ (مثبت تجاویز) |
| جلد بازی میں نفاذ:
معاشی بحران کے دوران راتوں رات نئے صوبوں کا قیام ملکی معیشت کے لیے خودکش ثابت ہوگا۔ | **مرحلہ وار عمل:** سب سے پہلے ان علاقوں کو ہدف بنایا جائے جہاں طویل عرصے سے شدید ترین عوامی مطالبہ موجود ہے (جیسے جنوبی پنجاب)۔
| لسانی تقسیم:
صوبوں کو لسانی یا نسلی بنیادوں پر بانٹنا ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ بنے گا۔
صرف انتظامی بنیاد:
صوبوں کی تقسیم کا واحد معیار صرف اور صرف انتظامی سہولت ہونا چاہیے، لسانیت نہیں۔
بیوروکریسی کا پھیلاؤ:
نئے صوبوں میں شاہانہ عمارات اور افسر شاہی پر پیسہ پانی کی طرح بہانا غلط ہوگا۔ | **لوکل گورنمنٹ سسٹم کی مضبوطی:** نئے صوبوں پر کھربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے **بلدیاتی نظام (Local Bodies)** کو فعال اور بااختیار بنایا جائے، جو کم خرچ میں عوامی مسائل حل کر سکتا ہے۔
حاصلِ کلام
السادات نیوز پاکستان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا نقشہ کاغذی حد تک جتنا بھی دلکش ہو، موجودہ معاشی ناتوانی اور سیاسی کھینچا تانی کے دور میں اس کا فوری نفاذ ممکن نہیں ہے۔ حکومت اور مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ پہلے ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی بحالی پر توجہ دیں۔ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملکی مفاد میں متفقہ فیصلہ نہیں کرتیں، تب تک ایسے کسی بھی منصوبے کو چھیڑنا فائدے کے بجائے نقصان اور نئے تنازعات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
نئے تجربات کرنے کی بجائے جہاں پہلے سے نئے صوبوں کا عوامی مطالبہ ہے اسے پورا کریں
اور جہاں اندرونی انتشار ہے وہاں نئے اضلاع بنائیں اور انتظامی گرفت مضبوط کریں
ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے
عوامی رائے کا احترام کیا جائے ورنہ نہ مسائل حل ہوں گے نہ ساکھ بحال ہوگی نہ معیشت سنبھل سکے گی
نہ امن قائم ہوگا پاکستان میں دہشت گردی خالص سیاسی مسئلہ ہے بالخصوص بلوچستان میں اس کو سیاسی بنیادوں پر حل کریں
مگر غرور تکبر طاقت کی زبان سے اپنی قوم کے ساتھ بات نہیں ہوگی
احترام اعتماد بحال کرنا چاہیے کچھ کو کچھ دو کی بنیاد پر مسئلہ حل ہوگا
پیر، 25 مئی، 2026
پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت اور 28 آئینی ترمیم
Al-Sadat News Pakistan
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Headliners
عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے
Al-Sadat News Pakistan کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین میں آفس میں بی...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں