بدھ، 3 جون، 2026

میانمار میں ظلم نسل کشی میں اقوام عالم کی مجرمانہ غفلت

Al-Sadat News Pakistan 




انسانی تاریخ اس بات یا اس طرح کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے کہ انسان نے اپنی جہالت کم علمی ضد اور انا لالچ اور لذت کی وجہ سے انسانیت پہ اتنے ظلم ڈھائے ہیں کہ جس کی انتہا نہیں پرانے وقتوں میں جنگ عظیم اول یا جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا یا مہذب دنیا نے امن کا راستہ اختیار کیا اور اقوام متحدہ جیسے ادارے بنے عالمی عدالت انصاف جسے ادارے بنے انسانی حقوق کی تنظیمیں بنی اور دنیا میں امن کے لیے کام کیا گیا اور امن قائم کرنے کے لیے دنیا ایک پلیٹ فارم پہ یکجا ہونے لگی
 مگر افسوس کہ اسلحہ بیچنے والے کارخانے اسلحہ کا کاروبار کرنے والی مافیاز دنیا کے وسائل اور قبضہ کرنے والی قوتیں طاقت کے نشے میں چور انسانیت پر ظلم کرنے والے ممالک نے کچھ ایسا کردار ادا کیا جس سے انسانیت اج بھی اسی طرح شرما رہی ہے اور ظلم کی اس چکی میں پس رہی ہے اس کی زندگی مثال ہیں اسرائیل کے فلسطین میں ظلم نسل کشی 
ایرانی عوام کے خلاف ناحق امریکا اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں اب تک ہزاروں انسان جان کی بازی ہار گئے ہیں 
اسی طرح میانمار میں روہنگیا کے مسلمانو کے خلاف 
اور وہاں دیگر انسانوں پر معدنیات کی وجہ سے ظلم جاری ہے 
میانمار کی فوج کا اپنی قوم کے خلاف طاقت کا استعمال جس سے ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں انسان دنیا کے وسائل اور دولت شہرت کے لئیے انسانیت بھول جاتا ہے ظلم۔کرتا ہے مگر اس کی اپنی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ یہ کتنے دن ژندہ رہے گا ؟

میں اکثر سوچتا ہوں کہ انسان نے جب غاروں سے نکل کر تہذیب کا سفر شروع کیا تھا، تو اس نے سوچا ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب بارود کی بو ختم ہو جائے گی، جب طاقتور کمزور کا خون نہیں بہائے گا، اور جب زمین پر بسنے والے تمام انسان ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں گے۔ لیکن افسوس! ہم نے پتھروں کے دور سے نکل کر مشینوں کا دور تو دیکھ لیا، مگر ہماری جبلت وہی غاروں والی رہی۔ ہم آج بھی اتنے ہی وحشی ہیں، جتنے ہزاروں سال پہلے تھے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اب ہماری وحشت کو بارود اور ٹیکنالوجی کے پر لگ چکے ہیں!
ایک صحافی اور میڈیا پلیٹ فارم کے ذمہ دار کی حیثیت سے، روزانہ سینکڑوں خبریں اور رپورٹس میری نظروں سے گزرتی ہیں، لیکن میرے سامنے اس وقت جو چند ڈیجیٹل اسکرین شاٹس اور بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے 'میانمار وٹنس' کی تازہ ترین رپورٹ پڑی ہے، اس نے روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ انسانیت کے منہ پر وہ طمانچے ہیں جو اس جدید دور کا سسکتا ہوا انسان ہمارے ضمیر پر مار رہا ہے۔ میانمار (برما) میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں کی اپنی ہی فوج، اپنی ہی فضائیہ (MAF) اپنے ہی بے گناہ لوگوں پر بارود برسا رہی ہے۔ وہ آسمان، جو کسی دور میں پرندوں کی پرواز اور امن کا استعارہ ہوتا تھا، آج وہاں سے موت برستی ہے۔
آپ ظلم کی انتہا دیکھیے۔ دنیا کا کوئی بھی قانون ہو، جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین (International Humanitarian Law) چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ جنگ کے دوران بھی مذہبی مقامات، اسکولوں اور عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن میانمار کی فوج نے ان تمام قوانین کو پاؤں تلے روند دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق، اب تک خانقاہوں (Monasteries) اور چرچوں پر 312 فضائی حملے
کیے جا چکے ہیں۔ عبادت گاہیں، جہاں لوگ اپنے رب کے حضور امن اور سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں، وہاں آج صرف بارود کی بو ہے اور خون کے دھبے!
ذرا تصور کیجیے، تھینگیان (Thingyan) کا موقع تھا، میانمار کے لوگوں کے لیے نئے سال کا جشن اور خوشی کا دن۔ لوگ اپنے گھروں اور مانیٹرنگ سینٹرز میں موجود تھے کہ اچانک فضا گرجتی ہے اور 'مہاسی ساسن میڈیٹیشن سینٹر' پر بم گرا دیے جاتے ہیں۔

خوشیاں سیکنڈوں میں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔ ابھی پچھلے ماہ، 29 اور 30 اپریل کی درمیانی رات، کنپلیٹ کے علاقے میں ایک پل کو نشانہ بنایا گیا، اور نو (9) ہنستے کھیلتے عام شہری لقمہ اجل بن گئے۔ ٹیڈیم میں ایک چرچ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، اوکپھو میں معصوم بچوں کے اسکول کو مٹا دیا گیا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ وہ ڈیجیٹل ثبوت ہیں جنہیں جیو لوکیشن اور سیٹلائٹ کی مدد سے دنیا کے سامنے لایا گیا ہے تاکہ کل کو کوئی مکر نہ سکے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کہاں ہے؟ اقوامِ متحدہ کے بڑے بڑے ایوان، انسانی حقوق کے علمبردار، اور عالمی طاقتیں اس وقت کہاں سوئی ہوئی ہیں؟ کیا میانمار کے ان معصوم شہریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ عالمی ضمیر کو اس کی سرخی بھی نظر نہیں آتی؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات پر پہرے ہیں، جہاں سچ کو چھپانے کے لیے انٹرنیٹ اور مواصلات پر پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ لیکن السادات نیوز پاکستان ہمیشہ حق اور سچ کی آواز کو بلند کرتا رہے گا۔ آج جب یہ ڈیجیٹل ثبوت ہمارے سامنے آ چکے ہیں، تو خاموشی برقرار رکھنا بذاتِ خود اس ظلم میں برابر کا شریک ہونے کے مترادف ہے۔
کاش! ہم یہ سمجھ سکیں کہ جب کسی ایک جگہ بھی انسان کا ناحق خون بہتا ہے، تو پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے۔ اگر آج ہم میانمار، فلسطین یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے اس ظلم پر خاموش رہے، تو یاد رکھیے، تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور وحشت کا یہ جن کل کو ہمارے دروازوں پر بھی دستک دے سکتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ دنیا جاگے، ورنہ تاریخ کی کتابوں میں ہمارا دور "سرد مہر اور اندھے انسانوں کا دور" کہلائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم انسان بنیں، صرف نظر آنے والے انسان نہیں، بلکہ احساس رکھنے والے انسان
قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف امن انسانی حقوق پر یقین رکھتے والے لوگوں کو جتنا آج کے دور میں کام کرنے کی ضرورت ہے شاید انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہ تھی



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...