جمعہ، 5 جون، 2026

ایران اسرائیل امریکہ جنگ کیوں ہوئی ؟

Al-Sadat News Pakistan 




ایران امریکہ جنگ نے سانس لی ہے، 
امن نہیں آیا ابھی ؟
السادات نیوز پاکستان 
تحریر وتجزیہ ؛
سید محمد شاہ غرشین 

دنیا میں دو قسم کی جنگیں ہوتی ہیں۔

پہلی وہ جو ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں، اور دوسری وہ جو نظریات، عقائد اور ارادوں سے لڑی جاتی ہیں۔

پہلی جنگ میں ٹینک، توپیں اور میزائل فیصلہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری جنگ میں قوموں کا حوصلہ، برداشت اور یقین فیصلہ کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میرے نزدیک دوسری قسم کی جنگ تھی۔

دنیا کے نقشے پر اگر صرف فوجی طاقت دیکھی جائے تو ایران اور اسرائیل کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا۔ اسرائیل کے پیچھے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت امریکہ کھڑا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، سیٹلائٹ نظام، فضائی برتری اور بے شمار وسائل اس کے پاس موجود ہیں۔

اس کے مقابلے میں ایران کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔

لیکن جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی۔

جنگ اس سوال سے بھی لڑی جاتی ہے کہ کون کتنی دیر تک کھڑا رہ سکتا ہے؟

کون کتنی قربانی دے سکتا ہے؟

اور کون اپنے مقصد کے لیے کتنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس جنگ کو صرف فوجی نقصان اور فوجی کامیابی کے پیمانے پر نہیں ناپا جا سکتا۔

اس جنگ نے ایک اور حقیقت بھی بے نقاب کی۔

عرب دنیا میں طویل عرصے سے یہ تاثر موجود تھا کہ امریکہ خطے میں استحکام، سلامتی اور اتحادی ممالک کے دفاع کے لیے موجود ہے، لیکن اس جنگ کے بعد لاکھوں عربوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا واقعی ایسا ہے؟

کیا خطے میں موجود فوجی اتحاد اور دفاعی نظام سب کے لیے یکساں ہیں یا ان کا اصل محور صرف اسرائیل ہے؟

یہ سوال پہلے بھی موجود تھا، لیکن اب زیادہ شدت سے پوچھا جا رہا ہے۔

امریکہ کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں۔

واشنگٹن کے پالیسی ساز شاید اس جنگ کو اپنے تزویراتی مفادات کی جنگ سمجھتے ہوں، لیکن عام امریکی شہری کی نظر میں سوال آج بھی وہی ہے:

ہم اس جنگ میں کیوں ہیں؟

ہم اس کی قیمت کیوں ادا کریں؟

اور ہمیں اس سے حاصل کیا ہوگا؟

تاریخ گواہ ہے کہ جب یہ سوال عوام کے ذہن میں گھر کر جائے تو دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں بھی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ویت نام اس کی مثال ہے۔

افغانستان اس کی مثال ہے۔

عراق اس کی مثال ہے۔

طاقت میدان جنگ میں شکست نہیں کھاتی، طاقت اس وقت کمزور پڑتی ہے جب اس کے اپنے لوگ اس کی جنگ کا مقصد سمجھنا چھوڑ دیں۔

مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاست اور مذہب کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔

یہاں سرحدیں بھی عقائد سے جڑی ہیں۔

یہاں ریاستیں بھی تاریخ کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔

یہاں ہر جنگ کے پیچھے صرف زمین نہیں، نظریات بھی موجود ہوتے ہیں۔

اسی لیے یہ تنازعہ صرف میزائلوں کا تنازعہ نہیں بلکہ شناخت، عقیدے، تاریخ اور مستقبل کا تنازعہ بھی ہے۔

میری رائے میں آج خطے کا سب سے بڑا خطرہ کوئی میزائل نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو طاقت کو انصاف کا متبادل سمجھتی ہے۔

طاقت خوف پیدا کر سکتی ہے۔

طاقت خاموشی پیدا کر سکتی ہے۔

طاقت وقتی فتح بھی دلا سکتی ہے۔

لیکن طاقت امن پیدا نہیں کر سکتی۔

امن صرف انصاف سے پیدا ہوتا ہے۔

جب تک فلسطینی مسئلے کا ایسا حل تلاش نہیں کیا جاتا جو خطے کے لوگوں کو قابلِ قبول ہو، جب تک قبضے، نفرت، انتقام اور مسلسل خونریزی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک جنگیں رک سکتی ہیں مگر تنازعات ختم نہیں ہوں گے۔

شاید اسی لیے آج جب جنگ بندی کی بات ہو رہی ہے تو میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے۔

کیا واقعی امن آ گیا ہے؟

یا صرف بندوقیں تھک گئی ہیں؟

کیا نفرت ختم ہو گئی ہے؟

یا صرف بارود کم پڑ گیا ہے؟

کیا مسئلہ حل ہو گیا ہے؟

یا صرف اگلی جنگ کی تاریخ مؤخر ہوئی ہے؟

میرا خیال ہے مشرقِ وسطیٰ میں ابھی امن نہیں آیا۔

جنگ نے صرف چند لمحوں کے لیے سانس لی ہے۔

اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب مسائل زندہ رہیں تو جنگیں بھی زندہ رہتی ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...