جمعرات، 25 جون، 2026

پر امن بلوچستان ایک امید

Al-Sadat News Pakistan 

کیا بلوچستان کبھی پر امن بلوچستان بنے گا ؟ مسائل کا حل کیا ہے ؟
تحریر: سید محمد شاہ غرشین  سی ای او السادا نیوز پاکستان

پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی خطے نے سب سے زیادہ سیاسی تنازعات، معاشی محرومیوں، انتظامی ناکامیوں اور سیکیورٹی بحرانوں کا سامنا کیا ہے تو وہ بلوچستان ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا تقریباً 44 فیصد حصہ رکھنے والا یہ صوبہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا لیکن قدرتی وسائل کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالا مال علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس سرزمین کے سینے میں گیس، سونا، تانبا، کوئلہ اور دیگر قیمتی معدنیات کے خزانے موجود ہوں، وہاں کے لوگ آج بھی پینے کے صاف پانی، بنیادی صحت، معیاری تعلیم اور روزگار جیسی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان کی سیاست کو متاثر کیا اور بالآخر بدامنی، مزاحمت اور دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی۔

بدقسمتی سے بلوچستان کے مسئلے کو اکثر دو انتہاؤں میں تقسیم کرکے دیکھا جاتا ہے۔ ایک طبقہ ہر مسئلے کو بیرونی سازش قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف وفاق اور ریاستی اداروں کو قرار دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔

بلوچستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احساس محرومی کا تصور کوئی نیا نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے صوبے میں یہ بحث جاری رہی کہ بلوچستان کے وسائل اور اختیارات کا اصل مالک کون ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا مؤقف رہا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومتوں کا مؤقف رہا کہ قومی وسائل پورے ملک کی ملکیت ہوتے ہیں۔

یہ اختلاف وقت کے ساتھ سیاسی کشیدگی میں تبدیل ہوتا گیا۔

سوئی گیس اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بلوچستان کے عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر گیس ان کے علاقے سے نکلی تو مقامی آبادی کو اس کا مکمل فائدہ کیوں نہ ملا؟ اگرچہ مختلف حکومتوں نے گیس رائلٹی اور ترقیاتی فنڈز کی صورت میں رقوم دینے کا دعویٰ کیا، لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس کا اثر محدود نظر آیا
آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق معدنیات اور گیس پر پہلا حق اس علاقے کا ہے کیا اس پر عمل درآمد ہوا ؟

یہاں ایک دوسرا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر وفاق نے اربوں روپے ترقیاتی منصوبوں، این ایف سی ایوارڈ، گیس رائلٹی اور خصوصی پیکجز کی صورت میں فراہم کیے تو وہ رقوم کہاں گئیں؟
کیا احتساب ہوا آڈٹ کا گورکھ دھندا آڈٹ پیرا سے نکل کر گرفت تک گیا تاکہ ادارہ جاتی کرپشن بوگس بلنگ کو روکا جا سکتا ؟
منسٹر حضرات نے فنڈز کہاں خرچ کئیے اپنی ترقی کے لئیے یا عوام کی فلاح وبہبود کے لیے زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ فنڈز صرف سردار نواب منسٹرز کی ذاتی زندگی اور ان کے چند حواریوں کے لئیے استعمال ہوئے عوام کو کچھ نہ ملا ؟
یہ سوال صرف اسلام آباد سے نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ، قبائلی سرداروں، وزراء، ارکان اسمبلی اور صوبائی حکومتوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔

بلوچستان میں کئی دہائیوں تک مختلف قبائلی اور سیاسی شخصیات اقتدار کا حصہ رہیں۔ بعض وفاقی کابینہ میں شامل رہیں، بعض گورنر اور وزیر اعلیٰ بنے، اور بعض نے صوبائی سیاست پر طویل عرصہ اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ اگر تمام اختیارات اسلام آباد کے پاس تھے تو اقتدار کے مزے کیوں لیے گئے؟ اور اگر اختیارات موجود تھے تو پھر عوام کی حالت کیوں نہ بدلی؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب بلوچستان کی تاریخ ابھی تک تلاش کر رہی ہے۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی خواتین میلوں دور سے پانی لاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں بنیادی مراکز صحت موجود نہیں۔ جہاں عمارتیں موجود ہیں وہاں ڈاکٹر نہیں، جہاں ڈاکٹر موجود ہیں وہاں ادویات نہیں۔ جہاں اسکول موجود ہیں وہاں اساتذہ نہیں اور جہاں اساتذہ موجود ہیں وہاں طلبہ نہیں۔
یہ صورتحال صرف ریاستی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی ہے
آج بھی حکومت بلوچستان نے پی پی ایچ آئی کے ذریعہ جو کونٹرکٹ پر بھرتیاں کی ہیں صحت کے شعبہ میں وہ نوے فیصد سیاسی بنیادوں پر یا پیسوں کے لین دین یا اقربا پروری کی بنیاد پر ہوئی ہیں جو لوگ منتخب ہوئے ہیں ان کو بی ایچ یو یا ڈسپنسری میں موجود دواؤں کا علم نہیں ہے
ان کو بی پی چیک کرنے کا طریقہ نہیں آتا ہے
نا اہل۔لوگ منتخب کئے گئے گئے ہیں اس کا نقصان یہ ہوا کہ عوام دواؤں کی موجود عملے کی موجودگی کے باوجود فوائد سے محروم رہی یہی حال اسکول کا ہے
آخر کب تک یہ چلے گا ؟

اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں قبائلی نظام بھی ایک اہم حقیقت ہے۔ قبائلی نظام نے بعض اوقات سماجی تحفظ فراہم کیا، لیکن جدید ریاستی ڈھانچے کے ساتھ اس کا ٹکراؤ بھی پیدا ہوا۔ بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ بعض سرداروں نے عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے تحفظ کو ترجیح دی۔ جبکہ سرداروں کے حامی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہوں نے وفاقی مداخلت کے خلاف بلوچ شناخت اور حقوق کا دفاع کیا۔

حقیقت شاید دونوں مؤقفوں کے درمیان موجود ہے۔
2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ ان کی موت کے بعد بلوچ نوجوانوں کے ایک طبقے میں غم و غصے میں اضافہ ہوا اور مسلح مزاحمت کو نئی توانائی ملی۔ جو لوگ پہلے سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے، ان میں سے بعض نے ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کر دی۔

دوسری طرف ریاستی اداروں کا مؤقف تھا کہ مسلح کارروائیاں، گیس تنصیبات پر حملے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول تھا اور ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کی پابند تھی۔
یہ تنازع آج تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔

بلوچستان میں بدامنی کی ایک اور بڑی وجہ نوجوانوں کی بے روزگاری ہے۔ جب تعلیم کم ہو، صنعت نہ ہو، روزگار محدود ہو اور مستقبل غیر یقینی نظر آئے تو نوجوان آسانی سے انتہا پسند یا علیحدگی پسند بیانیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جہاں معاشی مواقع کم ہوتے ہیں وہاں شدت پسندی کو جگہ ملتی ہے۔

اس کے ساتھ بیرونی عوامل کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بعض علیحدگی پسند گروہوں کو بیرونی حمایت حاصل رہی ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی تفصیلات پر سیاسی اختلاف موجود ہے، لیکن دنیا کی تقریباً ہر ریاست اپنے داخلی تنازعات میں بیرونی مداخلت کے خدشات سے دوچار رہتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ بیرونی طاقتیں کامیاب کب ہوتی ہیں ؟
وہ اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔
جہاں انصاف کمزور ہو، ترقی محدود ہو، نوجوان مایوس ہوں اور عوام کا اعتماد متزلزل ہو، وہاں بیرونی پروپیگنڈا زیادہ اثر دکھاتا ہے۔
لہٰذا بلوچستان کا حل صرف سیکیورٹی آپریشن نہیں ہو سکتا۔
اگر بندوق مسئلے کا مکمل حل ہوتی تو دنیا کے بیشتر تنازعات کئی دہائیاں پہلے ختم ہو چکے ہوتے۔
بلوچستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں ریاست، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتیں، قبائلی قیادت، نوجوان اور سول سوسائٹی سب شریک ہوں۔
اس مقصد کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، وسائل کی تقسیم کا شفاف نظام متعارف کرایا جائے اور ہر ضلع کو بتایا جائے کہ اس کے حصے میں کتنی رقم آئی اور کہاں خرچ ہوئی۔

دوم، صحت، تعلیم اور پانی کے منصوبوں کو قومی ترجیح قرار دیا جائے۔

سوم، نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم، سرکاری و نجی روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جائیں۔

چہارم، لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے معاملات کو مکمل قانونی شفافیت کے ساتھ حل کیا جائے بلوچ نوجوان دو طرفہ مشکلات میں ہے اگر وہ ریاست کا حامی ہے تو بی ایل اے اسے اٹھا کر غائب کر دیتی ہے
اگر وہ بی ایل کی حمایت کرتا ہے تو سرکار کے غیض غضب کا شکار ہو تا ہے
ایک طرف بھوک ہے بے روزگاری ہے بد امنی ہے
دوسری طرف رات دن خوف کا پہرہ ہے تو بلوچ خصوصی طور پر وہ بلوچ کو غیر جانبدار ہے کہاں جائے کیسے اس ماحول میں سروائیو کرے ؟

پنجم، سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت قائم کی جائے۔
ششم، بلوچستان میں آنے والے تمام ترقیاتی فنڈز کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان کے نام پر آنے والی رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔
ہفتم، صوبے کے تمام طبقات کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی شناخت، ثقافت اور سیاسی حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

بلوچستان کا مسئلہ محض بلوچستان کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، حکمرانی، انصاف اور قومی یکجہتی کا امتحان ہے۔
اگر ریاست عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔ لیکن اگر محرومیوں، بداعتمادی اور سیاسی غلطیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ بحران آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ طاقت علاقے فتح کر سکتی ہے، مگر دل صرف انصاف، احترام اور شراکت داری سے جیتے جاتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...