پیر، 29 جون، 2026

بلوچستان میں امن قائم کریں

Al-Sadat News Pakistan 

بلوچستان میں امن کب قائم ہوگا 
تحریر سید محمد شاہ غرشین 

 



بلوچستاں میں امن امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے 
بلوچ بیلٹ کی صورت حال اگر بیان کروں تو مختصر حالات یہ ہیں کہ خوف کا عالم ھے نہ بلوچ محفوظ ہیں نہ کوئی اور محفوظ ہے نہ لوکل نہ غیر لوکل  سرکاری ادارے محفوظ نہیں ہیں سیکیورٹی ادارے خود خوف میں مبتلا ہیں انہوں نے اپنے گرد آہنی حصار کھڑے کر لئیے ہیں رات دن چاروں طرف مورچہ زن ہیں  پہلے ایک وقت تھا سیکیورٹی ادارے عوام کے جان مال کے تحفظ کے لیے گشت کرتے تھے اب وہ اپنے تحفظ کے لئیے گشت کرتے ہیں  کبھی پولیس کی ایک گاڑی گشت پر نکلتی تھی جرائم پیشہ افراد راستہ بدل لیتے تھے اب ایف سی کی کانوائے پر دشمن حملے کررہا ہے پولیس کے جوان رات دن شہادت لیں دے رہے ہیں ایف سی کے جوان شہادت دے رہے ہیں 
پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا جارہا ہے پہلے رات کو جلاتے تھے سرکا نے رات کو ٹریفک بند کردی اب بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے دن دہاڑے پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے بالخصوص ان گاڑیوں کو جو گیس کرومائیٹ کوئلہ لے کر جاتی ہیں جس کی وجہ بلوچستان سے تاجر بھاگ رہے ہیں کاروبار تباہ کردیا گیا ہے 
کہتے ہیں نائی دیگ سے چند چاول نکال کر چیک کرتا ہے کہ دیگر پک گئی ہے یا نہیں 
میں نے آپ کے سامنے دیگ کے چند چاول رکھے ہیں اس سے دیگ کی صورتحال   کا آپ اندازہ لگائیں 
اس وقت بلوچستان کی حکومت بطور ریاست ڈیفینس پوزیشن پر ہے 

 فورسز کا مورال ڈاؤن ہے  دہشت گردوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ کویٹہ دارلحکومت پر ریڈ زون میں آکر سیکٹریٹ کے سامنے خودکش دھماکا کرتے ہیں دو تین سو افراد مسلحہ حالت میں کوئتہ شہر میں داخل ہوتے ہیں 
ابھی کل پرسوں سے سی ایم ریسٹ ہاؤس ہمہ ہڑک میں قبائل کے افراد اور ٹی ٹی پی کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی ہیں 
ساتھ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی چھاؤنی ہے دشمن چھاؤنی کے اتنا قریب موجود ہے اور تمہیں خبر نہیں آزاد ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ٹی ٹی پی کے لوگ اس ایریا میں موجود ہیں مقامی ابادی نے حکام بالا تک کو آگاہ کیا مگر کیوں کارروائی نہیں ہوتی پھر قوم کیسے مان لے کہ یہ سب آپ کی آنکھوں کے نیچے موجود ہیں اور آپ کو علم نہیں ہے کل تک ہنہ ہڑک چوک قبائل نے دھرنا دیکر بند کردیا ہے 
ان حالات میں دعویٰ ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں 
طاقت کے تناسب کو دیکھا جائے تو بین آرگنائز یشنز اور ریاست اداروں کے درمیان نوے فیصد کا فاصلہ ہے 
اتنی طاقت کے باوجود اگر آپ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں تو 
تو یہ حکومت کی نالائقی ہے بہرحال عوام کی جان مال کا تحفظ ریاست کی زمہ داری ہے ریاست یہ زمہ داری پوری کرے 

اس وقت ریاست کے اندر اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ کئی مرتبہ ریاست کے نمائندوں نے جو معاہدہ کئے ان کو توڑا گیا منافقت کی گئی اس وجہ سے اب آپ کے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہے  سب پہلے اعتماد بحال کیا جائے  طاقت کے استعمال کی جہاں ضرورت ہے وہ استعمال کریں جہاں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے وہاں بات چیت کریں 
یہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا نہ پاکستان کا سیاسی انتشار ختم ہوگا 
طاقت کا استعمال وقتی طور پر مسائل کو کنٹرول کرتا ہے مسائل ختم نہیں کرتا ہے 
اس ملک میں جب تک آئین کی بالادستی تسلیم نہ کی گئی قانون کی حکمرانی تسلیم نہیں کی جاتی 
ادارے شخصیت کی بجائے قانون کے ماتحت  نہیں ہو جاتے نہ پاکستان ترقی کرے گا نہ امن قائم ھوگا 
قوموں کا باہمی احترام اور اعتماد لازمی ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...