بلوچستان میں امن کب قائم ہوگا
تحریر سید محمد شاہ غرشین
بلوچستاں میں امن امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے
بلوچ بیلٹ کی صورت حال اگر بیان کروں تو مختصر حالات یہ ہیں کہ خوف کا عالم ھے نہ بلوچ محفوظ ہیں نہ کوئی اور محفوظ ہے نہ لوکل نہ غیر لوکل سرکاری ادارے محفوظ نہیں ہیں سیکیورٹی ادارے خود خوف میں مبتلا ہیں انہوں نے اپنے گرد آہنی حصار کھڑے کر لئیے ہیں رات دن چاروں طرف مورچہ زن ہیں پہلے ایک وقت تھا سیکیورٹی ادارے عوام کے جان مال کے تحفظ کے لیے گشت کرتے تھے اب وہ اپنے تحفظ کے لئیے گشت کرتے ہیں کبھی پولیس کی ایک گاڑی گشت پر نکلتی تھی جرائم پیشہ افراد راستہ بدل لیتے تھے اب ایف سی کی کانوائے پر دشمن حملے کررہا ہے پولیس کے جوان رات دن شہادت لیں دے رہے ہیں ایف سی کے جوان شہادت دے رہے ہیں
پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا جارہا ہے پہلے رات کو جلاتے تھے سرکا نے رات کو ٹریفک بند کردی اب بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے دن دہاڑے پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے بالخصوص ان گاڑیوں کو جو گیس کرومائیٹ کوئلہ لے کر جاتی ہیں جس کی وجہ بلوچستان سے تاجر بھاگ رہے ہیں کاروبار تباہ کردیا گیا ہے
کہتے ہیں نائی دیگ سے چند چاول نکال کر چیک کرتا ہے کہ دیگر پک گئی ہے یا نہیں
میں نے آپ کے سامنے دیگ کے چند چاول رکھے ہیں اس سے دیگ کی صورتحال کا آپ اندازہ لگائیں
اس وقت بلوچستان کی حکومت بطور ریاست ڈیفینس پوزیشن پر ہے
فورسز کا مورال ڈاؤن ہے دہشت گردوں کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ وہ کویٹہ دارلحکومت پر ریڈ زون میں آکر سیکٹریٹ کے سامنے خودکش دھماکا کرتے ہیں دو تین سو افراد مسلحہ حالت میں کوئتہ شہر میں داخل ہوتے ہیں
ابھی کل پرسوں سے سی ایم ریسٹ ہاؤس ہمہ ہڑک میں قبائل کے افراد اور ٹی ٹی پی کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی ہیں
ساتھ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر فوجی چھاؤنی ہے دشمن چھاؤنی کے اتنا قریب موجود ہے اور تمہیں خبر نہیں آزاد ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ٹی ٹی پی کے لوگ اس ایریا میں موجود ہیں مقامی ابادی نے حکام بالا تک کو آگاہ کیا مگر کیوں کارروائی نہیں ہوتی پھر قوم کیسے مان لے کہ یہ سب آپ کی آنکھوں کے نیچے موجود ہیں اور آپ کو علم نہیں ہے کل تک ہنہ ہڑک چوک قبائل نے دھرنا دیکر بند کردیا ہے
ان حالات میں دعویٰ ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں
طاقت کے تناسب کو دیکھا جائے تو بین آرگنائز یشنز اور ریاست اداروں کے درمیان نوے فیصد کا فاصلہ ہے
اتنی طاقت کے باوجود اگر آپ حالات کو کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں تو
تو یہ حکومت کی نالائقی ہے بہرحال عوام کی جان مال کا تحفظ ریاست کی زمہ داری ہے ریاست یہ زمہ داری پوری کرے
اس وقت ریاست کے اندر اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ کئی مرتبہ ریاست کے نمائندوں نے جو معاہدہ کئے ان کو توڑا گیا منافقت کی گئی اس وجہ سے اب آپ کے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہے سب پہلے اعتماد بحال کیا جائے طاقت کے استعمال کی جہاں ضرورت ہے وہ استعمال کریں جہاں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے وہاں بات چیت کریں
یہ غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا نہ پاکستان کا سیاسی انتشار ختم ہوگا
طاقت کا استعمال وقتی طور پر مسائل کو کنٹرول کرتا ہے مسائل ختم نہیں کرتا ہے
اس ملک میں جب تک آئین کی بالادستی تسلیم نہ کی گئی قانون کی حکمرانی تسلیم نہیں کی جاتی
ادارے شخصیت کی بجائے قانون کے ماتحت نہیں ہو جاتے نہ پاکستان ترقی کرے گا نہ امن قائم ھوگا
قوموں کا باہمی احترام اور اعتماد لازمی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں