اتوار، 19 اپریل، 2026

پاکستان میں پولیو کیوں ختم نہیں ہوتی



پاکستان میں پولیو مہم
ایک تلخ مگر ضروری سچ
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک ایسا مرض جس کا علاج موجود ہے، جس کی ویکسین مفت دی جاتی ہے، وہ آج بھی پاکستان میں کیوں موجود ہے؟
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سفر 1994 میں شروع ہوا تھا۔ تب امید تھی کہ چند سالوں میں یہ بیماری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ مگر آج، تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی، ہم اسی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔
لیکن یہ کہانی صرف ایک بیماری کی نہیں ہے…
یہ کہانی قربانیوں، غلط فہمیوں، اور ہمارے نظام کی کمزوریوں کی ہے۔
قربانیوں کی وہ داستان جسے ہم بھول جاتے ہیں
جب بھی پولیو مہم شروع ہوتی ہے، ہم دروازے پر آنے والے ورکر کو ایک عام سرکاری ملازم سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتے ہیں۔
پچھلے کئی سالوں میں، دو سو سے زیادہ پولیو ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ ان میں سے کئی نوجوان تھے، کئی ایسے تھے جن کے اپنے بچے ان کے منتظر تھے… مگر وہ واپس نہیں آئے۔
یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے:
"کیا ایک بیماری کے خلاف جنگ میں اتنی انسانی جانوں کی قربانی درست ہے؟"
یہ سوال آسان نہیں، اور اس کا جواب بھی سیدھا نہیں۔
پیسہ بہت لگا، لیکن مسئلہ کیوں باقی ہے؟
دنیا بھر کے بڑے ادارے، حکومت پاکستان، اور بین الاقوامی تنظیمیں — سب مل کر اربوں روپے اس مہم پر خرچ کر چکے ہیں۔
ہر سال مہم چلتی ہے، اشتہارات بنتے ہیں، ٹیمیں نکلتی ہیں، لیکن پھر بھی کچھ بچے رہ جاتے ہیں… اور یہی "کچھ بچے" اس بیماری کو زندہ رکھتے ہیں۔
مسئلہ پیسے کی کمی نہیں، بلکہ اعتماد کی کمی ہے۔
اصل رکاوٹ: لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والا شک
پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی لوگ پولیو ویکسین پر شک کرتے ہیں۔
کوئی اسے سازش سمجھتا ہے،
کوئی اسے نقصان دہ مانتا ہے،
اور کوئی محض لاعلمی کی وجہ سے اپنے بچوں کو پلانے سے انکار کر دیتا ہے۔
جب عوام اور نظام کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے، تو پھر کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہوتی۔
دہشت گردی
ایک خاموش رکاوٹ
پولیو مہم صرف ایک طبی مہم نہیں رہی، بلکہ کئی جگہوں پر یہ سیکیورٹی آپریشن بن چکی ہے
ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ٹیمیں پولیس کے بغیر جا ہی نہیں سکتیں
جب گولی اور خوف کا ماحول ہو، تو ویکسین کا قطرہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایک اور حقیقت — جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا
پولیو ایک معمولی بیماری نہیں ہے۔
یہ ایک ایسا وائرس ہے جو ایک صحت مند بچے کو ہمیشہ کے لیے معذور بنا سکتا ہے۔ ایک لمحے میں زندگی بدل جاتی ہے۔
ایک طرف وہ بچے ہیں جو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں…
اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو انہیں بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتے ہیں۔
تو حل کیا ہے؟
یہ مسئلہ نہ صرف حکومت کا ہے، نہ صرف عوام کا — بلکہ ہم سب کا ہے۔
جب تک:
عوام کو صحیح آگاہی نہیں دی جائے گی
اعتماد بحال نہیں کیا جائے گا
نظام کو مضبوط نہیں کیا جائے گا
تب تک یہ مہم چلتی رہے گی… اور نتائج ادھورے رہیں گے۔
آخر میں ایک سوال آپ کے لیے
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا:
کیا ہم خوف اور شک کے ساتھ جینا چاہتے ہیں؟
یا ہم علم، اعتماد اور حقیقت کو قبول کریں گے؟
کیونکہ حقیقت یہ ہے:
پولیو کا خاتمہ ممکن ہے…
لیکن صرف ویکسین سے نہیں،
بلکہ سوچ کی تبدیلی سے
کرپشن کے خاتمے سے
ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیو ویکسین کے پروسس کو درست کیا جائے تاکہ اس سے نجات مل سکے
اس کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ اس مد میں موجود فنڈز ہیں
ہماری تجویز ہے کہ اگر حکومت تنخواہوں کے علاؤہ دیگر فنڈز بند کر دے تو اس کے خاتمے کا اعلان جلد ہوگا اور یہی ڈاکٹر حضرات کریں گے



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...