منگل، 21 اپریل، 2026

ایران اسرائیل جنگ اصل تنازعہ کیا ہے

Al-Sadat News 


   1. قبلہ اول کی دینی اور تاریخی اہمیت اور ایران اسرائیل امریکہ جنگ اصل حقائق کیا ہیں ؟








تحریر وتحقیق: سید محمد شاہ غرشین CEO

 Al Sadat News Pakistan


مسلمانوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ محض ایک جگہ نہیں بلکہ اس کی حیثیت درج ذیل ہے:

* **انبیاء کی سرزمین:** بیت المقدس انبیاءِ کرامؑ کا مرکز رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اسے "الذی بارکنا حولہ" (وہ سرزمین جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے) فرمایا ہے۔

* **اسراء و معراج:** نبی کریم ﷺ کا معراج کے سفر کے دوران مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ جانا اور وہاں تمام انبیاء کی امامت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کا تعلق اس مقدس مقام سے ابدی اور روحانی ہے۔

* **قبلہ اول:** رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے تقریباً 16-17 ماہ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ یہ مسلمانوں کی اولین عبادت گاہ تھی، جس سے مسلمانوں کا ایک جذباتی اور عقیدتی تعلق قائم ہو گیا۔


 2. قبلہ اول اور یہود و نصاریٰ کا دعویٰ

اسلامی نقطہ نظر سے یہ بحث غلط ہے کہ یہ صرف "ان کا" قبلہ ہے۔

* **توحید کا تسلسل:** اسلام خود کو پچھلے تمام انبیاء (حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ) کے دین کا تسلسل مانتا ہے۔ جب یہ انبیاء کرام مسلمان تھے، تو ان کی عبادت گاہیں بھی مسلمانوں کی میراث ہیں۔

* **عقیدے کا فرق:** مسلمان تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے وہ ان کی عبادت گاہوں کا احترام کرتے ہیں۔ جبکہ یہودی اور عیسائی اپنے مخصوص نظریات کے تحت اسے اپنا قبلہ مانتے ہیں۔ اسلام کے مطابق، انبیاء کی تعلیمات میں تحریف کے بعد اصل ورثہ وہی لوگ سنبھالتے ہیں جو اللہ کی آخری شریعت (اسلام) پر کاربند ہیں۔


 3. "حق" اور "دعویٰ" کا مفہوم

مسجدِ اقصیٰ پر مسلمانوں کا حق کسی علاقائی جنگ یا محض زمین کے ٹکڑے کا جھگڑا نہیں ہے، بلکہ یہ *امانتِ الٰہیہ* کی حفاظت کا نام ہے۔

* **امانت داری:** مسلمان اس جگہ کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں۔ شریعت کے مطابق، جہاں بھی اللہ کا نام بلند ہو رہا ہو، وہاں مسلمانوں کو حقِ ملکیت اور حقِ عبادت حاصل ہے۔

* **آزادیِ عبادت:** فلسطین اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا دعویٰ اس لیے ہے کہ وہاں تمام مذاہب کے ماننے والے سکون سے عبادت کر سکیں، جیسا کہ خلافتِ اسلامیہ کے دور میں رہا۔ جبکہ کسی خاص گروہ کے قبضے میں اس مقام کا تقدس خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

 4. جنگ یا جدوجہد کا مقصد

اسلامی شریعت میں بیت المقدس کے لیے جدو جہد کا مطلب محض ایک عمارت کا حصول نہیں، بلکہ:

* **مظلومین کی نصرت:** شریعتِ محمدی ﷺ کا حکم ہے کہ جہاں بھی مومنین پر ظلم ہو یا ان کے شعائر (مقدس مقامات) کی توہین ہو، وہاں ان کی مدد کرنا فرض ہے۔

* **ظلم کا خاتمہ:**

 مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کا مطالبہ دراصل اس زمین پر قائم ناانصافی اور قبضے کے خلاف ایک اخلاقی اور شرعی موقف ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

خانہ کعبہ مسلمانوں کا **

مستقل اور آخری قبلہ** ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا **پہلا قبلہ اور میراثِ انبیاء** ہے۔ مسلمانوں کا اس پر حق اس لیے ہے کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کے حقیقی پیروکار ہونے کے ناطے اس مقدس مقام کے امین ہیں۔ اس پر دعویٰ زمین کے کسی ٹکڑے کی ہوس نہیں بلکہ ایک ایمانی تقاضا ہے تاکہ اس مقام کو فساد اور ناانصافی سے بچایا جا سکے

اور میری دانست میں اسرائیل ایک مذہبی ریاست ہے اور وہ یہودی عقائد کو خطے پر مسلط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور قابل مذمت یہ ہے کہ اسرائیل کے اس گناہ میں امریکہ برابر کا شریک ہے

اسرائیلی عقائد یا مذہب کے مطابق وہ پوری انسانیت میں افضل ترین اور اللہ کے منتخب کردہ لوگ ہیں وہی اس زمین پر حق حاکمیت رکھتے ہیں

اسی سوچ کے تحت وہ توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں اور عرب کا بہت بڑا ایریا قبضہ کرکے اس پر گریٹر اسرائیل بنانے کا پروگرام ہے

اور یہی سوچ فساد کی جڑ ہے جو کبھی امن قائم ہونے دیگی

اسرائیل نے فلسطین پر نہ صرف قبضہ کیا بلکہ وہ نسل کشی میں مصروف ہے اسرائیل فوج سیاست قیادت جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے جسکی اس کو سزا ملی چاہیے

موجود مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہ ہونے کی بڑی وجہ امریکہ اسرائیل کی دھوکا دہی جھوٹ پروپیگنڈا اور واعدہ خلافی کی فطری عادت ہے جو امن قائم کرنے کی کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...