اہل بیت سے عقیدت، حکمرانوں کا خوف اور تاریخ کا المیہ: ایک تاریخی جائزہ
تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین
دینِ اسلام کی بنیاد جہاں توحید اور رسالت پر قائم ہے، وہیں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کو ایک مضبوط سہارا بھی عطا کیا، جسے "ثقلین" یعنی قرآن اور اہل بیت کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی آلِ پاک (اہل بیت اطہار) کی محبت اور ان کے احترام کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔
محبتِ اہل بیت: ایمان کا تقاضہ
امام جعفر الصادق علیہ السلام کا مقام سنیں یہاں کلک کریں
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہمیشہ امت کے لیے مشعلِ راہ رہا کہ "میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میرے اہل بیت۔" اہل بیت سے محبت محض جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ ان کی اطاعت، ان کے علوم کی پیروی اور ان کے کردار کو اپنانے کا نام ہے۔ تاریخِ اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں کی اکثریت نے اس محبت کو اپنے دلوں میں بسائے رکھا اور اسے اپنی نجات کا ذریعہ سمجھا۔
اہل اقتدار کا خوف اور تاریخ کا سبق
بدقسمتی سے تاریخ کے ہر دور میں ایک ایسی قوت بھی موجود رہی جو محبتِ اہل بیت کے اس سیلِ رواں سے خائف تھی۔ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی بہت سی حکومتوں میں حکمرانوں کو ہمیشہ یہ ڈر ستاتا رہا کہ کہیں عوام کی نظر میں اہل بیت کا تقدس ان کے ناجائز اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔
یہ اقتدار کی ہوس ہی تھی جس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی لکیر کھینچ دی جہاں محبتِ اہل بیت کو جرم بنا دیا گیا۔ حکمرانوں کا یہ خوفِ اقتدار اتنا گہرا تھا کہ انہوں نے رسولِ خدا ﷺ کے پیاروں کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا۔
کرب و بلااور یزید کے خوف کا بھیانک انجام
تاریخ کا سب سے المناک باب "کربِ بلا" ہے۔ یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا، بلکہ یہ اسی خوف کا نتیجہ تھا جو اہل بیت کے فکری اور روحانی اثر و رسوخ کے سامنے حکمرانوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے رفقاء کی شہادت دراصل اسی سیاسی خوف کی انتہا تھی، جس نے حق کو دبانے کے لیے ظلم کا سہارا لیا۔
منصور دوانیقی جیسے حکمرانوں کا دور ہو یا اس سے پہلے کے ادوار، ہر جگہ یہی دیکھنے میں آیا کہ جب جب اہل بیت کے چشمۂ فیض سے امت سیراب ہونے لگی، اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ اسی خوف نے امام جعفر صادق علیہ السلام جیسے عظیم علمی ستون کو زہرِ دغا کا شکار بنایا، کیونکہ آپ کی علمی اور فقہی مقبولیت حکمرانِ وقت کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی تھی۔
آج کا سبق
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اہل بیت کی محبت صرف نام لینے کا نام نہیں، بلکہ ان کی دی ہوئی تعلیمات اور ان کے سچائی کے راستے پر چلنے کا نام ہے۔ حکمرانوں کا وہ خوفِ اقتدار آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے، جو حق کی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔
"السادات نیوز" کے پلیٹ فارم سے ہمارا پیغام یہی ہے کہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ اقتدار عارضی ہے اور حق ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ اہل بیت کا دامنِ محبت تھامنا ہی اس دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ آئیے! ہم آج کے دن عہد کریں کہ ہم ان عظیم ہستیوں کی تعلیمات کو عام کریں گے، جو سچائی، عدل اور انسانیت کی معراج ہیں۔
*نوٹ: یہ آرٹیکل امام جعفر صادق علیہ السلام کے یومِ شہادت کے موقع پر ان کی علمی خدمات اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے شائع کیا گیا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں