ہفتہ، 9 مئی، 2026

پاکستان سے کرپشن اور لاقانونیت کیسے ختم کریں ؟

اداریہ: 

 نیا تعلیمی نصاب پاکستان کے محفوظ مستقبل کی آخری امید 


تحریر: ڈاکٹر محمد شاہ غرشین سی سی او السادات نیوز پاکستان



پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر طرف بے یقینی، مایوسی، بدعنوانی، ناانصافی اور اخلاقی زوال کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کی اصل ترقی انسان سازی سے ہوتی ہے۔ اگر ایک قوم کے نوجوان باشعور، باکردار اور قانون کا احترام کرنے والے ہوں تو وہ قوم دنیا کی ہر مشکل کو شکست دے سکتی ہے۔

 لیکن اگر نئی نسل کو صرف ڈگری لینے کی مشین بنا دیا جائے تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی تباہی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ آج پاکستان میں سب سے بڑا بحران صرف معاشی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی بحران ہے۔ ایک ایسا بحران جس نے اداروں سے لے کر عام انسان تک سب کو متاثر کیا ہے۔ رشوت، سفارش، جھوٹ، دھوکہ دہی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور قانون سے لاعلمی اب ہمارے معاشرے میں معمول بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس سب کی جڑ کیا ہے؟ اس کا جواب ہمارے تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہے۔

 بدقسمتی سے ہمارے موجودہ نصاب میں بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، زندگی گزارنے کی نہیں۔ انہیں ریاضی، سائنس اور دیگر مضامین تو پڑھائے جاتے ہیں مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ایک اچھا انسان کیسے بنتا ہے؟ ایک ذمہ دار شہری کے فرائض کیا ہوتے ہیں؟ قانون کیا ہے؟ عوامی فنڈز کیا ہوتے ہیں؟ حکومت کیسے کام کرتی ہے؟ اور ایک ووٹ کی اصل طاقت کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب یہی بچے بڑے ہو کر معاشرے میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے مگر قومی شعور نہیں ہوتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نصاب میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی جائیں۔ 

ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ قوم ساری کے لیے ہو۔ ایسا نصاب جو ایک نئی نسل کو ایماندار، باشعور اور خود احتسابی کرنے والا شہری بنائے۔ اخلاقیات ایک کھوئی ہوئی بنیاد کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی تربیت تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بچوں کو کامیابی تو سکھائی جا رہی ہے مگر دیانتداری نہیں۔ 

انہیں مقابلہ کرنا سکھایا جا رہا ہے مگر انسانیت نہیں۔ اگر اسکولوں میں ابتدائی جماعتوں سے ہی سچائی، امانت، احترامِ انسانیت، انصاف، صبر، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری جیسے موضوعات کو عملی انداز میں شامل کیا جائے تو آنے والی نسلوں میں وہ شعور پیدا ہو سکتا ہے جو کرپشن کے خلاف سب سے بڑی دیوار ثابت ہوگا۔ ایک بچہ جب یہ سیکھے گا کہ سرکاری مال دراصل عوام کی امانت ہے، جھوٹ ایک سماجی جرم ہے، اور رشوت صرف پیسے کا لین دین نہیں بلکہ قوم سے خیانت ہے، تو وہ مستقبل میں ایک مختلف انسان بنے گا۔ 

جمہوریت صرف ووٹ نہیں، شعور کا نام ہے پاکستان میں اکثر لوگ جمہوریت کو صرف انتخابات تک محدود سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقی جمہوریت عوامی شعور، مقامی اختیار اور جوابدہی کا نام ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت یہ بھی نہیں جانتی کہ یونین کونسل کیا ہوتی ہے؟ بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کیا ہوتے ہیں؟ اور مقامی حکومت عوامی مسائل کیسے حل کرتی ہے؟ اگر تعلیمی نصاب میں بلدیاتی نظام، شہری حقوق، پارلیمنٹ، آئین اور ریاستی اداروں کی بنیادی معلومات شامل کر دی جائیں تو عوام صرف جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں چلیں گے بلکہ باشعور فیصلے کریں گے۔

 ایک باشعور ووٹر ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد بنتا ہے۔ قانون سے لاعلمی ناانصافی کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں ہزاروں لوگ صرف اس لیے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے بنیادی حقوق کا علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک عام شہری اکثر نہیں جانتا کہ پولیس کے اختیارات کیا ہیں، اس کے آئینی حقوق کیا ہیں، شکایت کیسے درج کرانی ہے، یا کسی سرکاری ظلم کے خلاف قانونی راستہ کیا ہے۔ اگر بچوں کو ابتدائی سطح سے ہی بنیادی قانونی آگاہی دی جائے تو معاشرے میں خوف کی بجائے اعتماد پیدا ہوگا۔ لوگ قانون کا احترام بھی کریں گے اور اپنے حقوق کا دفاع بھی کر سکیں گے۔ قانون سے واقف شہری کبھی آسانی سے غلام نہیں بنتے۔

 شفافیت اور عوامی فنڈز کی سمجھ کیوں ضروری ہے؟ آج ملک میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، مگر عام عوام کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے علاقے کے لیے کتنے فنڈز آئے، کہاں خرچ ہوئے اور کام کا معیار کیا تھا۔ یہی لاعلمی کرپشن کو جنم دیتی ہے۔ اگر اسکول کی سطح پر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ سرکاری بجٹ کیا ہوتا ہے، ترقیاتی اسکیمیں کیسے بنتی ہیں، ٹیکس کیا ہوتا ہے، اور عوامی پیسے کا حساب لینا ہر شہری کا حق ہے، تو آنے والی نسلیں خاموش تماشائی نہیں رہیں گی۔ وہ سوال پوچھیں گی۔ وہ جواب مانگیں گی۔ اور یہی عمل حقیقی تبدیلی کی بنیاد بنے گا۔

 تعلیم صرف روزگار نہیں، قوم سازی کا ذریعہ ہے دنیا کی کامیاب قوموں نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ جاپان، فن لینڈ، سنگاپور اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے صرف سائنسی ترقی پر توجہ نہیں دی بلکہ اپنے شہریوں میں نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور اجتماعی شعور پیدا کیا۔ پاکستان میں بھی اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر تعلیمی انقلاب لانا ہوگا۔ 

ایک ایسا انقلاب جو کتابوں کے صفحات سے نکل کر کردار سازی تک پہنچے۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت، اساتذہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ اساتذہ، والدین، دانشوروں، میڈیا اور سماجی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ کیونکہ ایک قوم کی تربیت صرف کلاس روم میں نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ہوتی ہے۔ والدین اگر بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں گے، قانون توڑیں گے یا دوسروں کے حقوق پامال کریں گے تو کتابوں کی نصیحتیں بے اثر ہو جائیں گی۔ اسی طرح اگر معاشرے میں ایماندار انسان کو کمزور اور بدعنوان کو کامیاب سمجھا جائے گا تو نوجوانوں کے ذہن بھی اسی طرف مائل ہوں گے۔ 

لہٰذا تبدیلی صرف نصاب کی نہیں بلکہ سوچ کی بھی ہونی چاہیے۔ ایک فیصلہ جو پاکستان کا مستقبل بدل سکتا ہے آج اگر پاکستان نے اپنے تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا، اخلاقیات، قانون، جمہوری شعور اور شفافیت کو اس کا حصہ بنا دیا، تو شاید آنے والے بیس سال بعد ہمیں ایک مختلف پاکستان دیکھنے کو ملے۔ ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان نوکری مانگنے کے بجائے مسائل حل کرنے والے ہوں۔ 

جہاں عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہوں۔ جہاں سرکاری عہدہ خدمت سمجھا جائے، حکمرانی نہیں۔ اور جہاں کرپشن کو ذہانت نہیں بلکہ شرمندگی سمجھا جائے۔ قوموں کی تقدیر میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں میں لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسل کی صحیح تربیت کر دی تو آنے والا پاکستان یقیناً زیادہ روشن، زیادہ انصاف پر مبنی اور زیادہ مضبوط ہوگا۔ ورنہ ڈگریوں کے انبار کے باوجود ہم شعور سے محروم ایک ہجوم ہی رہ جائیں گے۔


اس کے علاؤہ پاکستان میں میرٹ کو ہر قیمت پر بحال کیا جائے 

عدلیہ کو ہر صورت آزاد رکھا جائے تاکہ عوام کو سستا انصاف ملے

اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کو نصاب میں شامل کیا جائے 

قوم کو ہنر مند بنانے کے لئیے تربیتی انسٹی ٹیوٹ فعال کیئے جائیں 

زرعی انقلاب کے لئیے سولر انرجی کو ٹیکس فری کیا جائے 

اور زمیندار کو سولر پینلز سسٹم ٹیوٹ ویل لگا کر دیئے جائیں تاکہ زراعت ترقی کرے 

زمیندار سے اس کی لاگت قسطوں میں وصول کی جائے مگر یہ بغیر سود ہو 

ملک کی ہر ڈسٹرکٹ میں فروٹ سبزی کو سٹور کرنے کے لیے کو لنگ  ہاؤس تعمیر کیئے جائیں جہاں مقامی فروٹ یا سبزی کو سٹور کیا جائے 

نہروں چشموں پر چھوٹے چھوٹے بجلی بنانے کے پلانٹ لگائے جائیں 

تاکہ مہنگی بجلی سے نجات ملے 

ملک میں زندگی بچانے والی ادویات بہت مہنگی ہیں ان ادویات کو ملکی سطح پر بنیان جائے اور ان کو پاس کرنے کے لیے ایک بورڈ قائم کیا جائے 


اس پر آپ اپنی رائے لازمی دیں دائیں کونے میں نیچے واٹس اپ بٹن پر کلک کریں آپ کی رائے ہمارے لئیے بہت مفید ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...