Al-Sadat News
اداریہ
Syed Mohammad Shah Gharshin
CEO Al Sadat News Pakistan
عالمی یومِ آزادیٔ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی مہذب، جمہوری اور باشعور معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ صرف خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام اور اقتدار کے درمیان ایک مضبوط پل، احتساب کا مؤثر ہتھیار، اور سچائی کی روشن شمع ہے۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں صحافت آج ایک نازک اور کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔
ایک طرف صحافت کا ایک حصہ زرد صحافت کی دلدل میں دھنس چکا ہے، جہاں سچائی، تحقیق اور قومی مفاد کے بجائے سنسنی، مفاد پرستی اور ذاتی ایجنڈے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس طرزِ صحافت نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو مجروح کیا ہے بلکہ صحافتی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب وہ صحافی اور ادارے جو دیانتداری، حق گوئی اور غیر جانبداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینا چاہتے ہیں، انہیں سنسرشپ، دباؤ اور مختلف پابندیوں کا سامنا ہے۔
آج پاکستان میں کئی صحافی صرف اس لیے مشکلات کا شکار ہیں کہ انہوں نے سچ بولنے، سوال اٹھانے اور طاقتور حلقوں کا احتساب کرنے کی جرات کی۔ بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، بعض کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، کچھ کو اپنی جان کے تحفظ کے لیے ملک چھوڑنا پڑا، جبکہ کئی صحافیوں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے بلکہ جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بھی منافی ہے۔
صحافت کو دبانے سے سچائی ختم نہیں ہوتی، بلکہ معاشرے میں بے یقینی، افواہوں اور عدم اعتماد کو فروغ ملتا ہے۔ ایک آزاد، ذمہ دار اور محفوظ صحافت ہی وہ قوت ہے جو عوام کو باخبر رکھتی، حکمرانوں کو جوابدہ بناتی اور جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں