جمعہ، 1 مئی، 2026

پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی قیمت اور حکمران

Al-Sadat News 
اداریہ 







پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمت 399.86 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جو پہلے کے 257 روپے کے مقابلے میں تقریباً 56 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں پیٹرول کی قیمت 94.72 روپے فی لیٹر پر برقرار ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں بھی قیمتیں تقریباً 130 ٹکا فی لیٹر کے آس پاس مستحکم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب خام تیل کی عالمی قیمت ایک ہی ہے، تو پھر پاکستان میں عوام پر اتنا بھاری بوجھ کیوں؟
یہ محض عالمی منڈی کا اثر نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو نئی دہلی، ڈھاکا اور اسلام آباد میں قیمتوں کا ردِعمل تقریباً یکساں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی قیمت ایک جیسی ہو سکتی ہے، مگر اس کے اثرات ہر ملک کی معاشی حکمتِ عملی، ٹیکس پالیسی، زرِ مبادلہ کے انتظام، اور حکومتی ترجیحات کے تابع ہوتے ہیں۔
بھارت نے اپنی معیشت کو نسبتاً مستحکم رکھا۔ اس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہیں، کرنسی دباؤ میں نہیں، اور حکومت توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اسی لیے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود وہاں عوام کو فوری جھٹکا نہیں دیا جاتا۔ بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان سے معاشی طور پر پیچھے سمجھا جاتا تھا، آج توانائی اور مالی نظم و ضبط میں زیادہ متوازن دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف تیل مہنگا ہونا نہیں؛ اصل مسئلہ ہماری معاشی کمزوری، پالیسیوں کا عدم تسلسل، اور بیرونی انحصار ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے درآمدی ایندھن کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔ اس پر پٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس، اور دیگر محصولات نے قیمت کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ یوں عالمی منڈی کا دباؤ کم اور اندرونی پالیسیوں کا بوجھ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہوتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ پیٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کی قیمت بڑھتے ہی ٹرانسپورٹ، خوراک، زرعی لاگت، صنعتی پیداوار، اور روزمرہ اشیاء سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ گویا ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ پوری معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر دوڑا دیتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم ہر بحران کو "عالمی حالات" کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بھارت اور بنگلہ دیش اسی عالمی منڈی میں رہتے ہوئے اپنے عوام کو نسبتاً تحفظ دے سکتے ہیں، تو پاکستان کیوں نہیں؟ جواب واضح ہے: کمزور معاشی ڈھانچہ، قلیل مدتی فیصلے، اور عوامی مفاد پر مالیاتی مجبوریوں کی ترجیح۔
یہ وقت محض قیمتوں پر افسوس کرنے کا نہیں، بلکہ اپنی معاشی ترجیحات پر نظرثانی کا ہے۔ جب تک پاکستان توانائی میں خود کفالت، ٹیکس نظام میں اصلاح، زرِ مبادلہ کے استحکام، اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی نہیں بناتا، ہر عالمی جھٹکا یہاں طوفان بن کر آئے گا۔
تیل کی قیمت عالمی ہو سکتی ہے، مگر اس کا درد واقعی مقامی پالیسیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور جب پالیسی کمزور ہو، تو قیمت صرف پیٹرول کی نہیں بڑھتی—عوام کے صبر، اعتماد اور معیارِ زندگی کی بھی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
x

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...