اداریہ
چارسدہ میں مولانا محمد ادریس صاحب کی شہادت اور خیبر پختونخوا میں علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے تناظر میں۔ خاص تحریر
تحریر سید محمد شاہ غرشین
سی ای او السادات نیوز پاکستان
وارثانِ منبر کا لہو اور ریاست کی ذمہ داری
خیبر پختونخوا کی دھرتی ایک بار پھر لہو رنگ ہے۔
چارسدہ میں سابق رکنِ اسمبلی اور جید عالمِ دین مولانا محمد ادریس صاحب پر قاتلانہ حملہ اور ان کی شہادت محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ اس پورے نظریاتی حصار پر حملہ ہے جو پاکستان کو انتہا پسندی کے طوفان سے بچائے ہوئے ہے۔ گزشتہ ایک سال سے بالخصوص کے پی کے میں جس طرح چن چن کر علماء کرام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ کسی بڑے اور ہولناک اسکرپٹ کی نشاندہی کر رہا ہے۔
نظریاتی محاذ پر انتقامی کارروائی
اس خون ریزی کے اسباب و علل کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ قتل و غارت گری ان فتووں کا ردِ عمل ہے جنہوں نے دہشت گردوں سے ان کا مذہبی جواز چھین لیا۔ "پیغامِ پاکستان" جیسے تاریخی اعلامیے پر دستخط کر کے علماءِ دیوبند اور دیگر مکتبہ فکر کے قائدین نے ریاست کے بیانیے کو شرعی سند عطا کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خودکش حملے، تکفیر اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت "خروج" ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو داعش اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوا، اور آج وہی "وارثانِ منبر" اس جراتِ رندانہ کی قیمت اپنے خون سے چکا رہے ہیں۔
سیاسی بساط اور امن و امان کا سوال
موجودہ حالات کو سیاسی منظرنامے سے الگ کر کے دیکھنا ناممکن ہے۔ کے پی کے میں ایک ایسی جماعت کی حکومت ہے جو مرکز اور مقتدر حلقوں کے سامنے مزاحمتی موڈ میں ہے۔ اس کشمکش میں جب علماء کرام، جو کہ جمیعت علمائے اسلام جیسی بڑی سیاسی و مذہبی قوت کا حصہ ہیں، نشانہ بنتے ہیں تو شک کی انگلیاں ان قوتوں کی طرف بھی اٹھتی ہیں جو صوبے میں انتظامی ناکامی کا تاثر دے کر سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔ اگر ان حملوں کا مقصد پی ٹی آئی اور جے یو آئی کو دست و گریبان کرنا ہے، تو یہ ایک خطرناک کھیل ہے جس کی آگ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
افغانستان کا عنصر اور "خارجی" خطرہ
افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ سرحد پار سے خطرات کم ہوں گے، کیونکہ افغان حکومت پاکستانی علماء کی قدردان ہے۔ لیکن داعش جیسے "خوارج" گروہوں کا ابھرنا اور ان کا مخصوص نظریاتی ایجنڈا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن اب مساجد اور مدارس کے اندر سے قیادت کو ختم کر کے نظریاتی خلا پیدا کرنا چاہتا ہے۔
ریاست کے لیے لمحہ فکریہ
ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ علماء نے "پیغامِ پاکستان" کے ذریعے اپنا حصہ ڈال دیا، اب گیند ریاست کے لبادے میں ہے۔ اگر ریاست ان جید شخصیات کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے نظریاتی دفاع کی جنگ لڑی، تو عوام کا اعتماد اداروں سے اٹھ جائے گا۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا؛ اگر ساری توانائی سیاسی انجینئرنگ اور جوڑ توڑ پر خرچ ہوگی تو دہشت گردوں کے لیے میدان خالی رہے گا۔
نتیجہ:
پاکستان یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیت سکتا جب تک وہ اپنے ان سپاہیوں کو تحفظ نہ دے جو قلم اور ممبر کے ذریعے انتہا پسندی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ مولانا محمد ادریس کا خون ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا یہ ملک صرف طاقتوروں کے لیے ہے یا ان کے لیے بھی جنہوں نے اس کی بقا کی خاطر فتوے دیے اور جانیں نچھاور کیں؟ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی اور "نامعلوم" قاتلوں کو بے نقاب نہ کیا گیا، تو تاریخ لکھے گی کہ ریاست نے اپنے ہی محافظوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں