بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

بدھ، 6 مئی، 2026

داعش خراسان کا اعتراف جرم

Al-Sadat News Pakistan 


جب دلیل سچ ثابت ہو جائے  

وارثانِ منبر کے خون کا اعتراف

تحریر: (Syed Mohammad Shah Gharshin CEO Al Sadat News Pakistan

کبھی کبھی کسی تجزیے کا درست ثابت ہونا خوشی نہیں بلکہ ایک گہرا دکھ اور کرب دے جاتا ہے۔ چند روز قبل جب چارسدہ کی فضا مولانا محمد ادریس صاحب کے خون سے لہو رنگ ہوئی تھی، تو ہم نے انہی کالموں میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر ان علماء کا قصور کیا ہے؟ اس وقت حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہم نے یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ یہ قتل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی جنگ ہے، جس کا سرا "پیغامِ پاکستان" فتوے سے جڑا ہے۔ آج جب "داعش خراسان" نے باقاعدہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، تو ہماری وہ رائے ایک ہولناک حقیقت بن کر سامنے آ گئی ہے

پہلے جب میں نے السادات نیوز پاکستان میں شائع کیا تھا کہ یہ قتل داعش نے کیا ہے تفصیل اس لنک پر کلک کریں 


https://alsadatnewspk.blogspot.com/2026/05/Kpk-phir-dahshat-gardon-kwy-nishanay-par.html

نظریاتی انتقام کی آگ

داعش کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن کو سب سے زیادہ تکلیف ان فتووں سے ہے جنہوں نے دہشت گردی کے غبارے سے "مذہبی جواز" کی ہوا نکال دی تھی۔ مولانا محمد ادریس اور ان جیسے دیگر جید علماء کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بندوق کے کلچر کے خلاف قلم اور ممبر کو ڈھال بنایا۔ داعش نے اپنے بیان میں جس نفرت آمیز زبان کا استعمال کیا، وہ واضح کرتا ہے کہ ان کے نزدیک وہ علماء سب سے بڑے دشمن ہیں جو ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر امن کی بات کرتے ہیں۔
تجزیہ درست، مگر ریاست کہاں ہے؟
ہم نے اس سے پہلے بھی بحث کی تھی کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا یہ سیلاب ایک خاص ترتیب سے لایا جا رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے اور دوسری طرف ان جید شخصیات کو چن چن کر ہدف بنایا جا رہا ہے جو معاشرے میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔ اب جبکہ قاتل خود سامنے آ کر پکار رہا ہے کہ "ہاں، یہ میں نے کیا ہے"، تو ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروں کے پاس خاموشی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کیا علماء کرام کو صرف فتوے لینے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ کیا ان کی جانوں کی حفاظت ریاست کی ترجیح میں شامل نہیں؟
**ایک سلسلہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا**
یہ اعتراف اس بات کی تصدیق ہے کہ کے پی کے میں ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگ ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ داعش جیسی تنظیمیں ان علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ان لوگوں کو راستے سے ہٹا رہی ہیں جو نوجوانوں کو ان کے "خارجی نظریات" سے بچا سکتے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نظریاتی خسارہ ہے۔
حاصلِ کلام
ہماری رائے درست ثابت ہوئی، لیکن اس درستی کی قیمت ایک عظیم عالمِ دین کی شہادت کی صورت میں چکانی پڑی۔ السادات نیوز پر شائع ہونے والے گزشتہ اداریے میں ہم نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ریاست نے وارثانِ منبر کو تحفظ نہ دیا تو یہ جنگ جیتنا ناممکن ہو جائے گا۔ آج داعش کا اعترافی بیان ایک چارج شیٹ ہے؛ نہ صرف ان قاتلوں کے خلاف بلکہ ان پالیسی سازوں کے خلاف بھی جو اب تک "نامعلوم" کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں اور اس فتنے کو کچلنے کے لیے وہی سنجیدگی دکھائی جائے جس کا مطالبہ کے پی کے کا ہر شہری کر رہا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...