Al-Sadat News Pakistan
جب دلیل سچ ثابت ہو جائے
وارثانِ منبر کے خون کا اعتراف
تحریر: (Syed Mohammad Shah Gharshin CEO Al Sadat News Pakistan
کبھی کبھی کسی تجزیے کا درست ثابت ہونا خوشی نہیں بلکہ ایک گہرا دکھ اور کرب دے جاتا ہے۔ چند روز قبل جب چارسدہ کی فضا مولانا محمد ادریس صاحب کے خون سے لہو رنگ ہوئی تھی، تو ہم نے انہی کالموں میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آخر ان علماء کا قصور کیا ہے؟ اس وقت حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے ہم نے یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ یہ قتل محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی جنگ ہے، جس کا سرا "پیغامِ پاکستان" فتوے سے جڑا ہے۔ آج جب "داعش خراسان" نے باقاعدہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، تو ہماری وہ رائے ایک ہولناک حقیقت بن کر سامنے آ گئی ہےپہلے جب میں نے السادات نیوز پاکستان میں شائع کیا تھا کہ یہ قتل داعش نے کیا ہے تفصیل اس لنک پر کلک کریں
https://alsadatnewspk.blogspot.com/2026/05/Kpk-phir-dahshat-gardon-kwy-nishanay-par.html
نظریاتی انتقام کی آگ
داعش کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن کو سب سے زیادہ تکلیف ان فتووں سے ہے جنہوں نے دہشت گردی کے غبارے سے "مذہبی جواز" کی ہوا نکال دی تھی۔ مولانا محمد ادریس اور ان جیسے دیگر جید علماء کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے بندوق کے کلچر کے خلاف قلم اور ممبر کو ڈھال بنایا۔ داعش نے اپنے بیان میں جس نفرت آمیز زبان کا استعمال کیا، وہ واضح کرتا ہے کہ ان کے نزدیک وہ علماء سب سے بڑے دشمن ہیں جو ریاست کے ساتھ کھڑے ہو کر امن کی بات کرتے ہیں۔
تجزیہ درست، مگر ریاست کہاں ہے؟
ہم نے اس سے پہلے بھی بحث کی تھی کہ خیبر پختونخوا میں بدامنی کا یہ سیلاب ایک خاص ترتیب سے لایا جا رہا ہے۔ ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے اور دوسری طرف ان جید شخصیات کو چن چن کر ہدف بنایا جا رہا ہے جو معاشرے میں توازن برقرار رکھتی ہیں۔ اب جبکہ قاتل خود سامنے آ کر پکار رہا ہے کہ "ہاں، یہ میں نے کیا ہے"، تو ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروں کے پاس خاموشی کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ کیا علماء کرام کو صرف فتوے لینے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ کیا ان کی جانوں کی حفاظت ریاست کی ترجیح میں شامل نہیں؟
**ایک سلسلہ جو رکنے کا نام نہیں لے رہا**
یہ اعتراف اس بات کی تصدیق ہے کہ کے پی کے میں ہونے والی حالیہ ٹارگٹ کلنگ ایک منظم سلسلے کی کڑی ہے۔ داعش جیسی تنظیمیں ان علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ان لوگوں کو راستے سے ہٹا رہی ہیں جو نوجوانوں کو ان کے "خارجی نظریات" سے بچا سکتے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کا نقصان نہیں بلکہ پوری قوم کا نظریاتی خسارہ ہے۔
حاصلِ کلام
ہماری رائے درست ثابت ہوئی، لیکن اس درستی کی قیمت ایک عظیم عالمِ دین کی شہادت کی صورت میں چکانی پڑی۔ السادات نیوز پر شائع ہونے والے گزشتہ اداریے میں ہم نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ریاست نے وارثانِ منبر کو تحفظ نہ دیا تو یہ جنگ جیتنا ناممکن ہو جائے گا۔ آج داعش کا اعترافی بیان ایک چارج شیٹ ہے؛ نہ صرف ان قاتلوں کے خلاف بلکہ ان پالیسی سازوں کے خلاف بھی جو اب تک "نامعلوم" کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں اور اس فتنے کو کچلنے کے لیے وہی سنجیدگی دکھائی جائے جس کا مطالبہ کے پی کے کا ہر شہری کر رہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں