بدھ، 6 مئی، 2026

ایران امریکہ کشیدگی اور امن کے لیے پاکستان کا کردار

Al-Sadat News Pakistan 
مہمان کالم نگار 
سید مطیع اللہ شاہ گیلانی 
03006014462



عالمی کشیدگی، علاقائی جنگی دباؤ، اور پاکستان کی قیادت
ایران، امریکہ، اسرائیل اور پاک فوج کا کردار

دنیا اس وقت ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں طاقت کے مختلف مراکز ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال محض علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سیاست کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ ہر فریق اپنے اسٹریٹجک مفادات کے حصول میں مصروف ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنی اسٹریٹجک گہرائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی حکمت عملی زیادہ تر غیر روایتی جنگ، سیاسی اثر و رسوخ اور پراکسی نیٹ ورکس پر مبنی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل جدید ٹیکنالوجی، فضائی برتری اور ایک مضبوط انٹیلیجنس نظام کے ذریعے اپنی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ اس توازن میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، نہ صرف اسرائیل کے کلیدی اتحادی کے طور پر بلکہ خطے کی طاقت کی ترتیب کو تشکیل دینے والی بڑی قوت کے طور پر بھی۔
ایسی نازک صورتحال میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی اہم ہو جاتی ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ اس لیے اس کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن اور احتیاط کی متقاضی رہی ہے۔ اس تناظر میں سیاسی قیادت اور عسکری ادارے دونوں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، بالخصوص عاصم منیر، نے ایسے وقت میں ذمہ داری سنبھالی ہے جب علاقائی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج کا کردار دفاعی حکمت عملی، اندرونی استحکام اور سرحدی تحفظ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کا عسکری نظریہ ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دینے پر مبنی رہا ہے، نہ کہ عالمی تنازعات میں براہِ راست فریق بننے پر۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک متحد حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ قومی استحکام کسی ایک ادارے کے ذریعے برقرار نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔
پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور عوامی توقعات میں اضافہ پالیسی سازی کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خارجہ پالیسی کا تسلسل اور اندرونی استحکام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
اگر ہم خطے کی بڑی طاقتوں کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کو ترجیح دے رہا ہے، جبکہ ایران علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے میں مصروف ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ “غیر جانبدار مگر فعال” رہے — یعنی نہ کسی بلاک کا حصہ بنے اور نہ ہی عالمی دباؤ کے تحت اپنے قومی مفادات سے سمجھوتہ کرے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا موجودہ عالمی حالات کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ صورتحال انتہائی حساس ہے، لیکن مکمل جنگ کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ معاشی پابندیوں، سائبر حملوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے تمام فریق محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی ذمہ داری دوہری ہے:
اندرونی استحکام کو برقرار رکھنا
بیرونی دباؤ کو حکمت اور توازن کے ساتھ سنبھالنا 
اگر پاکستان اپنی سفارتی پالیسی کو درست سمت میں لے جائے تو وہ خطے میں ایک “متوازن ریاست” کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ قیادت صرف سیاسی یا عسکری طاقت کا نام نہیں بلکہ قومی سوچ کے تسلسل کی عکاس ہوتی ہے۔ جب ریاستی ادارے ایک سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو قومیں بحرانوں سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھتی ہیں۔
پاکستان کے پاس وسائل، اسٹریٹجک جغرافیہ اور عسکری صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اصل ضرورت ایک واضح اور مستقل قومی حکمت عملی کی ہے۔
موجودہ عالمی منظرنامہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ سفارت کاری، معاشی قوت اور اتحادوں میں بھی ہوتی ہے۔ وہی ممالک ترقی کرتے ہیں جو ان عناصر کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہیں۔
آخر میں، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک عالمی حقیقت ہے، مگر پاکستان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اس تنازع سے دور رہتے ہوئے اپنے اندرونی استحکام کو برقرار رکھے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں قیادت، اداروں اور عوام کو ایک سمت میں متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔
محترم قارئین،
یہ تجزیاتی کالم آپ تک قومی، علاقائی اور عالمی حالات کو بروقت اور ذمہ داری کے ساتھ پہنچانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ آپ کی آراء، تجاویز اور تنقیدی رائے میرے لیے بے حد اہم ہیں۔ براہِ کرم اس کالم کے حوالے سے اپنی رائے ضرور دیں۔
آپ کی رہنمائی مستقبل کے کالمز کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی،

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...