https://www.alsadatnewspk.com/
اداریہ
افغانستان عالمی قوتوں کی شطرنج کی گیم کا مرکز : کیا پاکستان نے تاریخ سے کچھ سیکھا ہے ؟
حصہ اول
ایک جنگ جو کبھی ختم نہیں ہوئی
تاریخ کبھی نہیں مرتی۔ وہ صرف لباس بدلتی ہے۔ کردار بدل جاتے ہیں، نام بدل جاتے ہیں، پرچم بدل جاتے ہیں، مگر طاقت، مفاد، خوف اور اقتدار کی خواہش ویسی ہی رہتی ہے کبھی اسے آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ، کبھی قومی سلامتی کا نام دیا جاتا ہے، اور کبھی مذہب کے مقدس جذبے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لیکن جب دھواں چھٹتا ہے تو سب سے پہلے جو چیز دکھائی دیتی ہے وہ قبرستان ہوتے ہیں، یتیم بچے ہوتے ہیں، اجڑے ہوئے شہر ہوتے ہیں اور ایسی مائیں ہوتی ہیں جو برسوں تک دروازے پر نظریں جمائے اپنے بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتی رہتی ہیں
افغانستان بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ ایک ایسی سرزمین جسے قدرت نے حسن دیا، مگر جغرافیے نے آزمائش۔ یہ ملک ایشیا کے دل میں واقع ہے، لیکن شاید اسی لیے صدیوں سے عالمی طاقتوں کی نگاہ بھی اسی پر رہی سکندر اعظم آیا، منگول آئے، برطانوی سلطنت آئی، سوویت یونین آیا، پھر امریکہ آیا۔ ہر طاقت نے سمجھا کہ وہ افغانستان کو اپنے نقشے کے مطابق ڈھال لے گی، مگر افغانستان ہر بار زخمی تو ہوا، جھکا نہیں
بدقسمتی یہ رہی کہ اس پوری داستان میں پاکستان بھی ایک اہم کردار بن گیا۔ یہ کردار ہمیشہ اپنی مرضی سے تھا یا حالات نے اسے مجبور کیا، اس پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی میں افغانستان میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کے اثرات پاکستان کے گھروں، بازاروں، معیشت، سیاست اور معاشرت تک پہنچے
یہ اداریہ کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ تاریخ کے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے کہ جو قومیں اپنی غلطیوں کا حساب نہیں کرتیں، تاریخ ان کا حساب ضرور کرتی ہے
1979ء کا سال صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ دسمبر 1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ وہ کابل کی کمیونسٹ حکومت کی مدد کے لیے آیا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی دنیا نے اسے سرد جنگ کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا
پاکستان اس وقت جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے زیرِ انتظام تھا۔ ایک طرف مشرق میں بھارت تھا، دوسری طرف مغرب میں افغانستان میں سوویت افواج کی موجودگی نے اسلام آباد میں شدید تشویش پیدا کی۔ اس دور میں پاکستان کی ریاستی پالیسی یہ بنی کہ افغان مزاحمت کی حمایت کی جائے۔ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی اس حکمت عملی کی بھرپور تائید کی
اسی دور میں "افغان جہاد" کا تصور عام ہوا لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ سرحدی علاقوں میں مہاجر کیمپ قائم ہوئے,مذہبی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مختلف ممالک سے مالی امداد آنے لگی۔ دنیا بھر سے نوجوان افغانستان کا رخ کرنے لگے
اس وقت پاکستان کے عوام کو یہی بتایا گیا کہ یہ صرف افغانستان کی جنگ نہیں بلکہ اسلام اور کمیونزم کے درمیان معرکہ ہے ہزاروں پاکستانی نوجوان بھی اس جذبے سے متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں نے اسے مذہبی فریضہ سمجھا، بہت سے اسے افغان بھائیوں کی مدد قرار دیتے تھے، جبکہ ریاست اسے اپنی قومی سلامتی کا تقاضا سمجھتی تھی
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے
کیا ریاستیں ہمیشہ نظریات کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، یا نظریات اکثر قومی مفادات کی زبان بن جاتے ہیں؟
یہ سوال صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی ہر بڑی طاقت کے لیے بھی ہے
امریکہ نے افغان مجاہدین کی حمایت اس لیے نہیں کی تھی کہ وہ ایک مذہبی ریاست قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کو کمزور کرنا تھا۔ اسی طرح پاکستان کے لیے بھی افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں صرف مذہبی مسئلہ نہیں تھیں بلکہ سلامتی، سرحد، خارجہ پالیسی اور علاقائی توازن کا معاملہ بھی تھیں
لیکن جنگوں کا ایک اصول ہوتا ہے
جنگ کبھی صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کی قیمت معاشرے بھی ادا کرتے ہیں
پاکستان نے بھی ادا کی
اس جنگ کے دوران لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے ان کے لیے اپنے دروازے کھولے، جو انسانی ہمدردی کا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اتنی بڑی آبادی کی آمد نے معاشی، سماجی اور انتظامی دباؤ بھی پیدا کیا۔ سرحدی علاقوں کی معیشت بدل گئی، آبادی کا تناسب تبدیل ہوا، اور کئی نئے مسائل نے جنم لیا
اسی زمانے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر کی اصطلاح عام ہوئی ، اسلحہ پہلے بھی موجود تھا، مگر اب خودکار ہتھیار عام لوگوں کی دسترس میں آنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا
متعدد تحقیقی رپورٹس اور تجزیہ نگار اس دور کو پاکستان میں ہیروئن کے پھیلاؤ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ اس مسئلے پر مختلف اوقات میں ریاستی اداروں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرحدی جرائم کے تعلق پر بھی سوالات اٹھتے رہے، اگرچہ ان میں سے ہر الزام ثابت نہیں ہوا
لیکن ایک حقیقت بہرحال سب کے سامنے تھی۔
پاکستان بدل رہا تھا
وہ پاکستان، جس کے دیہات میں رات گئے تک دروازے کھلے رہتے تھے، آہستہ آہستہ خوف کے سائے میں آنے لگا
وہ معاشرہ، جہاں بندوق صرف ریاست یا قبائلی روایات کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہاں بندوق طاقت، سیاست اور ذاتی تحفظ کی علامت بنتی گئی
یہ تبدیلی صرف اسلحے کی نہیں تھی، سوچ کی بھی تھی
جب ایک معاشرہ کئی برس تک جنگ کے ماحول میں سانس لیتا ہے تو جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، وہ ذہنوں میں بھی اتر جاتی ہے
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا المیہ تھا
افغانستان کی سرزمین پر سوویت ٹینک ابھی پوری طرح واپس بھی نہیں لوٹے تھے کہ ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا
جنگ جیتنے کے بعد حکومت کون کرے گا؟
یہ وہ سوال تھا جس کا جواب شاید کسی نے پہلے سے تیار نہیں کیا تھا
جنگ لڑنے والوں کے پاس بندوقیں تھیں، قربانیاں تھیں، جذبہ تھا، لیکن ایک متحد سیاسی منصوبہ نہیں تھابجب تک دشمن سامنے تھا، اختلافات پس منظر میں تھے جیسے ہی دشمن ہٹا، وہی اختلافات اقتدار کی جنگ میں بدلنے لگے
1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے نکل گئیں، لیکن کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت چند سال تک برقرار رہی۔ 1992ء میں وہ حکومت بھی گر گئی اور مجاہدین کابل میں داخل ہوئے۔ دنیا نے سمجھا کہ اب افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا، مگر تاریخ نے ایک اور موڑ لے لیا
کابل، جو برسوں سوویت بمباری کا شکار رہا تھا، اب افغان دھڑوں کی باہمی لڑائی کا میدان بن گیا
ایک طرف گلبدین حکمت یار تھے، دوسری طرف برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، عبدالرشید دوستم اور دیگر کمانڈر۔ سب نے سوویت یونین کے خلاف ایک ہی مورچے میں جنگ لڑی تھی، لیکن اقتدار کے سوال نے انہیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا
افغانستان کے عام شہری کے لیے شاید اس سے بڑا المیہ کوئی نہیں تھا
کل تک جو ایک ہی صف میں کھڑے تھے، آج ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے تھے
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ جیتنا آسان ہے، مگر امن جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے
کئی قومیں دشمن کو شکست دے دیتی ہیں، لیکن اپنے غرور، اختلاف اور اقتدار کی خواہش کے سامنے خود شکست کھا جاتی ہیں
افغانستان بھی اسی آزمائش سے گزر رہا تھا
کابل کی گلیاں ملبے میں بدل رہی تھیں
ہزاروں شہری مارے گئے
لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے
ریاست نام کی کوئی مؤثر قوت باقی نہ رہی
ہر علاقے میں الگ کمانڈر، الگ قانون اور الگ طاقت تھی
پاکستان اس سارے منظر کو خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا تھا
اس کے مغربی بارڈر پر ایک ایسا ملک موجود تھا جہاں حکومت تقریباً ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے اثرات پاکستان تک پہنچ رہے تھے۔ اسمگلنگ، اسلحہ، مہاجرین، غیر یقینی صورتحال اور سرحدی عدم استحکام پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنتے جا رہے تھے
اسی دوران وسط ایشیائی ریاستیں سوویت یونین سے آزاد ہو چکی تھیں۔ پاکستان کے بعض پالیسی سازوں کو محسوس ہوا کہ اگر افغانستان میں ایک مستحکم حکومت قائم ہو جائے تو پاکستان وسط ایشیا تک تجارت اور توانائی کے نئے راستے حاصل کر سکتا ہے۔
یہیں سے افغانستان کے بارے میں نئی سوچ نے جنم لیا
یہ سوچ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھی
ہر علاقائی طاقت افغانستان میں اپنے مفادات تلاش کر رہی تھی
ایران اپنے اثرورسوخ کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا
روس اپنی سابقہ شکست کے باوجود خطے سے مکمل لاتعلق نہیں ہونا چاہتا تھا
بھارت افغانستان میں اپنا سیاسی کردار بڑھانا چاہتا تھا
امریکہ، اگرچہ سوویت انخلا کے بعد نسبتاً پیچھے ہٹ گیا تھا، مگر اس کی نظریں بھی خطے پر موجود تھیں
یوں افغانستان ایک بار پھر افغانوں سے زیادہ دوسروں کی دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہا تھا
اسی پس منظر میں جنوبی افغانستان کے مدارس سے ایک نئی تحریک ابھری
یہ نوجوان زیادہ تر انہی برسوں کی جنگ کے ماحول میں پلے بڑھے تھے
ان کا نعرہ تھا:
بدامنی ختم کرو، اسلحہ بردار گروہوں کا خاتمہ کرو اور اسلامی نظام نافذ کرو۔
اسی تحریک کو دنیا نے بعد میں طالبان کے نام سے جانا
تحریک کے روحِ رواں ملا محمد عمر تھے
ان کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ وہ میڈیا سے دور رہتے تھے، عوامی اجتماعات میں کم نظر آتے تھے اور ان کی شخصیت کے گرد ایک پراسرار فضا قائم رہی۔ اسی وجہ سے ان کے بارے میں حقیقت اور روایت اکثر ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں
طالبان نے اپنی ابتدا قندھار سے کی
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلے چند مقامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی، جن پر عوام کے ساتھ ظلم اور بدامنی پھیلانے کے الزامات تھے۔ اس اقدام نے انہیں مقامی سطح پر مقبولیت دی
اس کے بعد ان کی پیش قدمی حیرت انگیز رفتار سے شروع ہوئی
بہت سے علاقوں میں انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن کئی مقامات پر مقامی کمانڈروں نے لڑائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی، جبکہ بعض ان کے ساتھ شامل بھی ہو گئے
چند ہی برسوں میں افغانستان کا بڑا حصہ طالبان کے زیرِ انتظام آ گیا
1996ء میں کابل پر طالبان کا قبضہ ہو گیا
دنیا حیران تھی
وہ قوتیں جو برسوں کی خانہ جنگی ختم نہ کر سکیں، ایک نئی تحریک نے مختصر عرصے میں ملک کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا
طالبان کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے افغانستان کو بدامنی، لوٹ مار اور جنگجو سرداروں سے نجات دلائی
ان کے ناقدین کہتے تھے کہ انہوں نے سخت طرزِ حکمرانی، خواتین کے حقوق پر پابندیوں اور سیاسی آزادیوں کی کمی کو فروغ دیا
یہ اختلاف آج بھی موجود ہے
لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں
طالبان کے ظہور نے نہ صرف افغانستان بلکہ
پورے خطے کی سیاست کا رخ بدل دیا
پاکستان نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے چند ممالک میں جگہ بنائی
اس فیصلے کو پاکستان نے اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں دیکھا، جبکہ ناقدین نے اسے ایک خطرناک سفارتی حکمت عملی قرار دیا
یہیں سے پاکستان اور افغانستان کی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہوئی، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے گئے
اور شاید یہیں سے ایک نئی عالمی کشمکش کے بیج بھی بوئے جا رہے تھے، جس کے آثار اس وقت بہت کم لوگوں کو دکھائی دے رہے تھے
لیکن تاریخ خاموشی سے اپنا اگلا باب لکھ رہی تھی۔
جاری ہے آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں
www.alsadatnewspk.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں