منگل، 14 جولائی، 2026

پاکستان نے افغان جنگوں سے کیا سیکھا

Al-Sadat News Pakistan 

اداریہ



گزشتہ شے پیوستہ

پاکستان افغانستان کی تاریخ بہت طویل تلخیوں سے بھری پڑی ہے دونوں ہمسایہ ملکوں کی قیادت ہمیشہ سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائی بھی کرتی رہی اور برادرانہ طور پر اچھے ہمسایہ بھی رہے ہیں 
افغانستان کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو یہاں کے حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان اور انڈیا کی سرزمینوں پر حملے کئیے اور حکومت بھی کرتے رہے اس وقت افغانستان غالب تھا طاقتور تھا انڈیا اور پاکستان میں اس وقت چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں 
پھر برطانیہ آیا اس نے انڈیا اور پاکستان کے ساتھ تقریباً آدھی دنیا سے زائد پر قبضہ کیا مگر افغانستان پر وہ بھی قابض نہ ہو سکا 
پھر برطانیہ کا اور 14 اگست 1947 کو غروب ھوا اس نے نہ صرف انڈیا پاکستان سے بلکہ فلسطین تک سے اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا 
افغانستان میں اب ہم طالبان دور حکومت پر بات کررہے ہیں مگر طالبان کا اسلامی تشخص اور اسلامی حکومت اور جہاد کی پالیسی اسرائیل کے خلاف واضح پالیسی اور چیچنیا داغستان میں روس کے خلاف لڑتے مسلمانوں کی حمایت اور جہاد میں شرکت نے مغرب کو بے چین کردیا تھا اور ان کو طالبان کی شکل میں ایک ان کو خلافت  عثمانیہ کے بعد ایک اور خلافت نظر آرہی تھی اس لئیے وہ بے چین تھے اب آگے پڑہیں 

افغانستان میں طالبان حکومت قائم ہو چکی تھی، لیکن ہر انقلاب اپنے ساتھ ایک نیا امتحان بھی لے کر آتا ہے۔
اقتدار حاصل کرنا ایک مرحلہ ہوتا ہے، جبکہ اقتدار کو انصاف، برداشت اور تدبر کے ساتھ چلانا اس سے کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔
طالبان نے کابل پر قبضے کے بعد اعلان کیا کہ اب افغانستان میں بدامنی کا دور ختم ہو جائے گا اور ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے واقعی سکون کا سانس لیا۔ برسوں بعد شاہراہوں پر سفر نسبتاً محفوظ ہوا، اغوا برائے تاوان اور مسلح گروہوں کی چیک پوسٹیں کم ہوئیں، اور ایک مرکزی نظم و ضبط قائم ہونے لگا۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان کے ایک بڑے طبقے نے، جو مسلسل خانہ جنگی سے تھک چکا تھا، طالبان کو ابتدا میں امن کی علامت سمجھا۔
لیکن ہر معاشرے کی طرح افغانستان بھی صرف ایک فکر رکھنے والوں کا ملک نہیں تھا۔
وہاں مختلف قومیتیں تھیں، مختلف مسالک تھے، مختلف سیاسی نظریات تھے اور مختلف تاریخی تجربات تھے۔
اسی لیے طالبان کی حکومت کو جتنا داخلی تعاون ملا، اتنی ہی مخالفت بھی سامنے آئی۔
شمالی افغانستان میں احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی، عبدالرشید دوستم اور دیگر رہنماؤں پر مشتمل اتحاد نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی اتحاد بعد میں "شمالی اتحاد" کے نام سے مشہور ہوا۔
پنج شیر کی وادی ایک مرتبہ پھر مزاحمت کی علامت بن گئی۔
افغانستان کی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس ملک میں پہاڑ صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ سیاست بھی بن جاتے ہیں۔
کبھی یہی پہاڑ برطانوی فوجوں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں، کبھی سوویت یونین کے لیے، کبھی امریکی افواج کے لیے، اور کبھی ایک افغان دھڑے کے مقابل دوسرے افغان دھڑے کے لیے۔
اسی لیے بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ افغانستان کو صرف نقشے پر دیکھنے والا اسے کبھی سمجھ نہیں سکتا۔
اسے سمجھنے کے لیے اس کی وادیوں، قبائل، زبانوں، روایات اور مذہبی حساسیت کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔
طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر بھی مکمل قبولیت حاصل نہ ہو سکی۔
پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا، جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے انتظار اور احتیاط کی پالیسی اختیار کی۔
اس کی کئی وجوہات تھیں۔
خواتین کی تعلیم کے بارے میں پالیسیاں، سیاسی مخالفین کے ساتھ رویہ، انسانی حقوق سے متعلق عالمی تحفظات، اور القاعدہ جیسے گروہوں کی افغانستان میں موجودگی عالمی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہی۔
یہ وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک اور سبق دیتی ہے۔
دنیا میں صرف طاقت کافی نہیں ہوتی۔
بین الاقوامی قبولیت بھی ریاست کی طاقت کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔
ایک حکومت اپنے عوام کی حمایت سے قائم رہ سکتی ہے، لیکن عالمی نظام میں تنہائی بھی ایک بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔
اسی دوران ایک اور نام دوبارہ عالمی خبروں میں نمایاں ہونے لگا۔
اسامہ بن لادن۔
سوویت جنگ کے زمانے میں عرب دنیا سے آنے والے رضاکاروں میں اسامہ بن لادن بھی شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے القاعدہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ سوڈان میں قیام کے بعد وہ دوبارہ افغانستان آئے، جہاں طالبان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
یہ فیصلہ بعد میں طالبان حکومت کے لیے عالمی سفارتی دباؤ کا ایک بڑا سبب بنا۔
امریکہ پہلے ہی مختلف دہشت گرد حملوں کے تناظر میں القاعدہ کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔
واشنگٹن مسلسل مطالبہ کرتا رہا کہ اسامہ بن لادن کو حوالے کیا جائے، جبکہ طالبان قیادت مختلف شرائط، مذہبی دلائل اور قانونی مؤقف پیش کرتی رہی۔
یہ اختلاف آہستہ آہستہ ایک بڑے تصادم کی بنیاد بنتا جا رہا تھا۔
مگر اس وقت شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ چند برس بعد یہی مسئلہ پوری دنیا کی سیاست کا رخ بدل دے گا۔
ادھر پاکستان بھی ایک مشکل صورتحال سے گزر رہا تھا۔
ایک طرف افغانستان میں طالبان حکومت تھی، جس کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات موجود تھے۔
دوسری طرف امریکہ پاکستان کا اہم اتحادی تھا۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک ایسے باریک پل پر چل رہی تھی جس کے ایک طرف علاقائی حقیقت تھی اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے تقاضے۔
یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں تھا۔
یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے۔
کیا کسی درمیانے درجے کی ریاست کو ہمیشہ بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے؟
یا کبھی ایسا بھی وقت آتا ہے جب اسے صرف اپنے قومی مفاد کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنا چاہیے؟
یہ سوال صرف پاکستان کا نہیں۔
ترکی، مصر، ایران، سعودی عرب اور دنیا کے کئی ممالک مختلف ادوار میں اسی آزمائش سے گزر چکے ہیں۔
ریاستیں اکثر جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے فیصلے کرتی ہیں۔
لیکن جب مفادات اور قومی وقار آمنے سامنے آ جائیں تو تاریخ کے مشکل ترین فیصلے جنم لیتے ہیں۔
نوّے کی دہائی کے اختتام تک افغانستان بظاہر ایک نئی حکومت کے زیرِ انتظام تھا، لیکن اس کے گرد عالمی دباؤ کا دائرہ مسلسل تنگ ہو رہا تھا۔
کابل کی فضا میں خاموشی تھی، مگر یہ وہ خاموشی تھی جس کے بعد آنے والے طوفان کی آہٹ سنائی دینے لگی تھی۔
دنیا اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔
نیویارک کی فلک بوس عمارتیں معمول کے مطابق آباد تھیں۔
واشنگٹن اپنی عالمی حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔
اسلام آباد اپنے داخلی اور خارجی توازن میں مصروف تھا۔
اور کابل کو شاید ابھی اندازہ بھی نہیں تھا کہ تاریخ اس کے لیے ایک ایسا باب لکھنے والی ہے جس کی بازگشت صرف افغانستان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔
11 ستمبر 2001ء ابھی طلوع نہیں ہوا تھا، لیکن تاریخ کے افق پر اس کے سائے نمودار ہونا شروع ہو چکے تھے۔
(جاری ہے...)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

پاکستان نے افغان جنگوں سے کیا سیکھا

Al-Sadat News Pakistan  اداریہ گزشتہ شے پیوستہ پاکستان افغانستان کی تاریخ بہت طویل تلخیوں سے بھری پڑی ہے دونوں ہمسایہ ملکوں کی قیادت ہمیشہ س...