تحریر تجزیہ سید محمد شاہ غرشین
CEO Al Sadat News Pakistan
عالمی بحری تجارت کا اہم مقام اب حوثی قبضے میں بیرریم جزی
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع تزویراتی لحاظ سے نہایت اہم جزیرے 'پیریم' پر اپنا کنٹرول جما لیا ہے، جس نے سعودی عرب سمیت پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
حوثی جنگجو تسلسل کے ساتھ یمن کے اُن ساحلی حصوں کی جانب بڑھ رہے ہیں جو سعودی سرحد اور دنیا کی مصروف ترین گزرگاہ 'باب المندب' سے قریب ہیں۔
اسی دوران وہ سعودی جہازوں اور تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پیریم پر ان کا تسلط امریکا اور سعودی عرب دونوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد پیریم کے گرد و نواح سے تیل اور دیگر تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی کُل بحری تجارت کا قریب ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ امریکی توانائی ادارے کے مطابق 2025 میں باب المندب سے یومیہ تقریباً 45 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی جو اب بڑھ کر 81 لاکھ بیرل روزانہ ہو چکی ہے۔
مقامی طور پر 'میّون' کے نام سے جانا جانے والا یہ جزیرہ محض پانچ مربع میل پر مشتمل ایک بنجر، آتش فشانی زمین ہے جو یمن کی حدود میں آتا ہے اور باب المندب کے عین قریب واقع ہے۔ اس کے ایک طرف یمن جبکہ دوسری جانب اریٹیریا اور جبوتی (ہارن آف افریقہ) موجود ہیں۔ یہاں بحیرہ احمر انتہائی تنگ ہو کر عرب اور افریقی سرزمین کے درمیان محض
بارہ میل کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
ماضی میں ایشیا اور یورپ کے مابین تجارتی جہازوں کو افریقہ کے گرد چکر لگانا پڑتا تھا، مگر نہرِ سوئز کی تعمیر نے بحیرہ احمر کے راستے ایک نیا راستہ کھول دیا جس کا اہم موڑ باب المندب ہے۔ عربی میں اس نام کا مطلب 'آنسوؤں کا دروازہ' لیا جاتا ہے، جو غالباً یہاں کی مشکل سمندری گزرگاہ، تیز دھاروں اور چٹانی خطرات کی نسبت سے رکھا گیا۔
آبنائے ملاکا اور ہرمز کے بعد یہ دنیا کا تیسرا مصروف ترین بحری چوک پوائنٹ شمار ہوتا ہے۔
پیریم کا محلِ وقوع اسے اس پورے راستے پر نگرانی اور تسلط کا موقع فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے یہ جزیرہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے — اور اب یہ حوثیوں کے ہاتھ میں ہے۔
عالمی میری ٹائم تنظیم کے مطابق دنیا کی تقریباً 10 سے 12 فیصد تجارت روزانہ اسی تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔
اس قبضے کے بعد حوثیوں کے پاس یہ صلاحیت آ گئی ہے کہ وہ جب چاہیں تیل کی عالمی ترسیل اور تجارت کو روک سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ یہ راستہ سعودی عرب کے سوا باقی تمام ممالک کے لیے کھلا رہے گا۔ سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، ایران سے جنگ سے قبل روزانہ قریب 2 کروڑ بیرل تیل برآمد کرتا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس نے متبادل کے طور پر زمینی پائپ لائن اور بندرگاہ 'ینبع' کا سہارا لیا، جہاں سے روزانہ 45 لاکھ بیرل میں سے قریباً 30 لاکھ بیرل باب المندب کے راستے برآمد ہوتا تھا۔
حوثی خطرات کے باعث اگست میں یہ مقدار گھٹ کر محض 4 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، اور اب مزید کمی واقع ہو چکی ہے۔ ماہرین اسے سعودی عرب اور عالمی تجارت کے لیے ایک سنگین معاشی اور تزویراتی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
اس جزیرے کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ 1798 میں نپولین کی مصر پر یلغار کے بعد برطانیہ کو خدشہ ہوا کہ فرانس ہندوستان کی طرف بڑھ سکتا ہے، چنانچہ 1799 میں برطانیہ نے پیریم پر قبضہ کر کے اسے فوجی چوکی بنانے کی کوشش کی، مگر توپوں کی محدود رینج اور میٹھے پانی کی عدم دستیابی کے باعث یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ 1857 میں، جب سوئز کینال کی تعمیر شروع ہوئی تو برطانیہ نے دوبارہ اس جزیرے پر قبضہ کر لیا۔
نہر کے کھلنے کے بعد بھاپ سے چلنے والے جہازوں کی تعداد بڑھی جنہیں کوئلے کی ضرورت تھی، اور چونکہ پیریم کا جنوبی ساحل عدن کے مقابلے میں زیادہ گہرا تھا، اس لیے 1881 میں یہاں ایک کوئلہ کمپنی قائم کی گئی، جس نے جزیرے کو کچھ عرصے کے لیے بحری سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ تاہم 1930 کی دہائی میں جب جہاز تیل پر منتقل ہوئے تو عدن نے خود کو ڈھال لیا مگر پیریم کی کوئلہ کمپنی 1935 میں دیوالیہ ہو گئی،
اور جزیرہ دوبارہ گمنامی میں چلا گیا۔ برطانوی تسلط 1967 تک قائم رہا، جس کے بعد یمنی آزادی کی تحریک کے نتیجے میں یہ جنوبی یمن کا حصہ بن گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں