بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

اتوار، 27 ستمبر، 2026

ملک میں بد آمنی کے بنیادی اسباب کیا ہیں ؟

Al-Sadat News Pakistan 
 دنیا کا سب سے خطرناک ملک؟ ایک سوال، ایک الزام، اور ہماری  خاموشی؟




تحریر سید محمد شاہ غرشین
جب بھی کسی ملک نے ترقی کی ہے تو اس کی بنیاد کچھ سنہری اصولوں اور قوانین پر قائم ہوتی ہے 
 جمہوریت کی مکمل بحالی 1
آئین وقانون کی بالادستی 2 
سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی آزادی3  
تعلیم وترتیب کے ذریعہ اصلاح فرد کا نظام 4.
کرپشن کا خاتمہ میرٹ کی بحالی 5.
گڈ گورننس کے ذریعے عوامی خدمات6۔ 
اور مضبوط معیشت روزگار کی فراہمی 7.
وہ اصول ہیں جو کسی ملک کی ترقی کی بنیاد اور معیار ہوتی ہیں 
مگر بدقسمتی سے پاکستان میں یہ تمام نظام کتابوں میں تو موجود ہے مگر عملاً کہیں نظر نہیں آتا ہے جسکی  وجہ سے میرا ملک آج اس شرمندگی اور تنہائی بدنامی تک پہنچا ہے 

گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر وہ زخم کھول دیا ہے جسے ہماری حکومتیں برسوں سے پٹی باندھ کر چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اس عالمی جائزے کے مطابق پاکستان 8.574 کے انتہائی بلند اسکور کے ساتھ پوری دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار پایا ہے، یعنی نمبر ایک۔ برکینا فاسو، نائجر، نائجیریا اور مالی جیسے وہ افریقی ممالک جو خانہ جنگی اور ریاستی ناکامی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اس فہرست میں پاکستان کے بعد آتے ہیں۔ افغانستان، جسے ہم برسوں سے دنیا کے سامنے دہشت گردی کا مرکز اور اپنی تمام تر بدامنی کی جڑ قرار دیتے آئے ہیں، اس فہرست میں گیارہویں نمبر پر ہے، یعنی ہم سے دس درجے پیچھے۔

یہ محض ایک عدد یا ایک رپورٹ کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں وہ حقیقت دکھا رہا ہے جسے ہماری حکومتی مشینری، ہمارا میڈیا کا بڑا حصہ، اور ہمارے پالیسی ساز ادارے تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ رپورٹ درست ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ اگر ایک آزاد بین الاقوامی ادارہ مسلسل کئی برسوں سے ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ ہمارے ہاں تشدد بڑھ رہا ہے، تو ہماری ریاست نے اس کے جواب میں کیا کیا؟

ذمہ داری کا سوال:
کیا افغانستان ہی سب کچھ ہے؟

پاکستان کی سرکاری بیانیہ سازی کا محور ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے: افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی برآمد ہو رہی ہے، افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کو پناہ دے رہی ہے، اور ہمارا مسئلہ دراصل ہماری سرحد کے اس پار سے آتا ہے۔ اس بیانیے میں کچھ سچائی ضرور ہے، سرحد پار پناہ گاہوں کا وجود ایک حقیقت ہے جسے کوئی سنجیدہ تجزیہ کار مکمل طور پر رد نہیں کرتا۔ لیکن اگر یہی واحد وجہ ہوتی، تو منطقی طور پر افغانستان کو خود اس انڈیکس میں پاکستان سے کہیں زیادہ متاثرہ اور بدتر پوزیشن پر ہونا چاہیے تھا۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ افغانستان گیارہویں نمبر پر ہے وہاں امن ھم سے بہتر پوزیشن میں ھے اور پاکستان پہلے نمبر پر۔ یہ فرق اپنی جگہ ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف باہر سے درآمد شدہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ہمارے اپنے اندر، ہماری اپنی پالیسیوں، ہمارے اپنے فیصلوں اور ہماری اپنی تاریخی غلطیوں میں پیوست ہیں۔ دہائیوں تک بعض عسکریت پسند گروہوں کو "اسٹریٹجک اثاثے" سمجھنے کی پالیسی، بعض تنظیموں کے خلاف انتخابی کارروائی اور دوسروں کے خلاف نرمی، اور داخلی سیاست میں انتہاپسند بیانیوں کو گاہے بگاہے استعمال کرنے کی روش، یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس بحران کو پروان چڑھایا۔ آج جب ہم افغانستان کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بیج کو ہم نے دہائیوں پہلے بویا تھا، وہی درخت آج تناور ہو کر ہمیں سایہ دینے کے بجائے نگل رہا ہے۔

گورننس کا بحران:
سلامتی پالیسی کہاں کھڑی ہے؟

پچھلے کئی برسوں میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں بلاشبہ قابل احترام ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض فوجی کارروائیاں، آپریشنز، اور بارڈر مینجمنٹ کے اعلانات کافی ہیں؟ حکومت وقتاً فوقتاً بڑے آپریشنز کا اعلان کرتی ہے، پریس کانفرنسیں ہوتی ہیں، دعوے کیے جاتے ہیں کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، لیکن چند ماہ بعد ہی نئے حملے، نئی ہلاکتیں، اور نیا خوف سامنے آ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک شکست خوردہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے وقتی طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ جب حکومتیں اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہوں، جب اداروں کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی جاری ہو، اور جب پالیسی سازی کا تسلسل ہر چند ماہ بعد نئی حکومت یا نئے سیٹ اپ کی نذر ہو جائے، تو دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی، مربوط اور مستقل حکمت عملی بنانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، جسے 2014 میں بڑے جوش و خروش سے متعارف کرایا گیا تھا، آج کہاں کھڑا ہے؟ اس کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اتنی سست ہے کہ عام شہری کو یہ نام تک یاد نہیں رہا۔ مدارس کی رجسٹریشن، انتہاپسند لٹریچر پر پابندی، کالعدم تنظیموں کے دوبارہ نئے ناموں سے سرگرم ہونے کی روک تھام، یہ سب وہ شعبے ہیں جہاں حکومتی سنجیدگی کا فقدان واضح نظر آتا ہے۔

معیشت اور سلامتی کا باہمی تعلق
دہشت گردی کوئی الگ تھلگ مسئلہ نہیں، یہ معاشی بدحالی، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور سماجی ناانصافی کے ساتھ گہرا جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان اور سابقہ فاٹا کے علاقوں میں محرومی کا احساس، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور مقامی آبادی کو ترقیاتی عمل سے باہر رکھنے کا رویہ، یہ سب عناصر عسکریت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کے پاس روزگار نہیں، تعلیم کا معیار پست ہے، اور مستقبل تاریک نظر آتا ہے، تو انتہاپسند بیانیہ اسے ایک "مقصد" اور "شناخت" کا جھوٹا احساس دلاتا ہے۔

حکومت کا معاشی بحران، آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار، اور ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔ جب دفاعی اور سیاسی اخراجات میں کوئی کمی نہیں آتی لیکن تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے فنڈز کی کمی کا شکار رہتے ہیں، تو یہ ترجیحات کا وہی پرانا کھیل ہے جس کی قیمت آخرکار عام شہری اپنی جان سے چکاتا ہے۔

 بیانیے کی جنگ اور داخلی تضادات

ایک اور اہم پہلو ریاستی بیانیے کا تضاد ہے۔ ایک طرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دہشت گردی کے خلاف "مکمل اتفاق رائے" اور "صفر برداشت" کی پالیسی کا دعویٰ کرتے ہیں، دوسری طرف بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ مصلحت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب انتخابی سیاست یا اتحادی حکومت کی مجبوریاں درپیش ہوں۔ یہ دوہرا معیار عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ریاست واقعی اس جنگ میں سنجیدہ ہے یا یہ صرف بیرونی دنیا کو دکھانے کے لیے ایک بیانیہ ہے۔

مزید یہ کہ جب کبھی سویلین حکومت دہشت گردی کے حوالے سے پالیسی وضع کرنے کی کوشش کرتی ہے، تو سکیورٹی معاملات پر حتمی فیصلہ سازی کا اختیار اکثر عسکری قیادت کے پاس ہی مرتکز نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ جاتی عدم توازن جوابدہی کے پورے نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو سویلین حکومت پارلیمنٹ میں وضاحتیں دیتی ہے، لیکن پالیسی کے حقیقی خدوخال کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ اس صورتحال میں جمہوری جوابدہی کا تصور محض علامتی رہ جاتا ہے۔
بین الاقوامی ساکھ اور اس کی قیمت

پاکستان کا نمبر ایک پوزیشن پر آنا صرف اندرونی سلامتی کا معاملہ نہیں، اس کے دور رس سفارتی اور معاشی اثرات بھی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری، سیاحت، اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات ایک ایسے ملک کے لیے مشکل ہو جاتے ہیں جسے دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک قرار دیا جائے۔ چین جیسے قریبی اتحادی بھی سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے اپنے انجینئروں اور مزدوروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بار بار خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ جب کوئی بین الاقوامی کمپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتی ہے، تو ایسی رپورٹس اس کے فیصلے پر براہ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔

اس تناظر میں حکومت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف زبانی دعووں کی بجائے ٹھوس، قابل پیمائش، اور شفاف اقدامات کرے جن کا نتیجہ عالمی سطح پر نظر آئے۔ محض یہ کہہ دینا کہ "ہم قربانیاں دے رہے ہیں" یا "دنیا ہماری قربانیوں کو تسلیم نہیں کرتی"، ایک جذباتی بیانیہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ پالیسی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ قربانیاں دینا الگ بات ہے، اور مؤثر پالیسی کے ذریعے ان قربانیوں کو کم سے کم کرنا بالکل الگ بات ہے۔

عوامی اعتماد کا فقدان

شاید سب سے تشویشناک پہلو عوام کا حکومتی دعووں پر سے اعتماد اٹھ جانا ہے۔ جب بار بار "امن قائم ہو گیا" کے اعلانات کے بعد نئے حملے ہوتے ہیں، تو عام آدمی حکومتی بیانات کو سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اعتماد کا خلا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں، یہ پورے معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔ جب معاشرہ ہی ریاست کی نیت اور صلاحیت پر شک کرنے لگے، تو مقامی آبادی کی وہ حمایت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو انسدادِ دہشت گردی کی کسی بھی حکمت عملی کی بنیاد ہوتی ہے۔

خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مقامی آبادی نے حالیہ برسوں میں سڑکوں پر نکل کر امن مارچ کیے، دھرنے دیے، اور کھلے عام حکومت اور فوج دونوں سے سوال کیا کہ ان کے علاقوں کو دوبارہ عسکریت پسندی کی لپیٹ میں کیوں آنے دیا گیا۔ یہ آوازیں کسی سیاسی جماعت کی ایما پر نہیں اٹھیں، یہ ان خاندانوں کی چیخیں تھیں جنہوں نے ایک بار پھر اپنے پیاروں کو کھونا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کا ردعمل ان مظاہروں پر بھی وہی روایتی رہا: تسلی، یقین دہانی، اور پھر خاموشی۔

کیا راستہ ہونا چاہیے تھا؟

اس تمام صورتحال کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی حل موجود نہیں۔ سب سے پہلے، سلامتی پالیسی کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھتے ہوئے ایک قومی اتفاق رائے پر مبنی، طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر ہر آنے والی حکومت عمل درآمد کی پابند ہو۔ دوسرا، افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے بارڈر مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے، لیکن اسے واحد حل کے طور پر پیش کرنا خود فریبی ہو گی۔ تیسرا، جن علاقوں میں محرومی اور پسماندگی عسکریت پسندی کی بنیادی وجہ ہے، وہاں حقیقی ترقیاتی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، نہ کہ صرف فوجی موجودگی میں اضافہ۔ چوتھا، اداروں کے درمیان جوابدہی کا واضح نظام قائم کیا جانا چاہیے تاکہ سویلین حکومت اور عسکری قیادت دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا کھلے عام جواب دہ ہوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں ملک میں سیاسی انتشار
جمہوری روایات کی پامالی اور سیاسی وکٹمائزیشن ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی اور اقتدار کی ہوس
ملک پر قرضوں کا بوجھ جو اب جی ڈی پی کے برابر ہونے کو ہے
بے روزگاری ایسے اسباب ہیں جو اس عذاب کا بنیادی سبب ہیں جنکی وجہ سے حکومت امن قائم نہیں کر پارہی ہے

آخر میں، سب سے اہم چیز نیت کی سچائی ہے۔ جب تک ریاست کے مختلف ستون ایک ہی صفحے پر نہیں آتے، جب تک بیانیہ اور عمل کے درمیان فاصلہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک محض عالمی درجہ بندیوں پر ناراضگی کا اظہار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ گلوبل ٹیررازم انڈکس 2026 ہمیں ایک موقع دے رہا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، بجائے اس کے کہ صرف باہر کی طرف انگلی اٹھائیں۔

یہ کالم اس یقین پر لکھا گیا ہے کہ تنقید محبت کی ایک شکل ہوتی ہے، اور اپنے وطن کے زخموں کی نشاندہی کرنا اس سے محبت کا انکار نہیں بلکہ اس کے علاج کی خواہش ہے۔

 ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...