وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیے جانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا شدیدردعمل
مذاکرات میں ڈیڈ لاک کی وجوہات بیان کر دیں، ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار اور آئندہ مذاکرات کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کا اعلان کر دیا
گورنر راج کے نفاذ کے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی نے کہا کہ
گورنر راج آج لگانا ہے آج لگائیں، دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، سہیل آفریدی کا وفاق کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کی باتوں پر ردعمل کہا اس بار ان کا "once & for all عوام کرے گی
اور دہشت گردی سے متعلق وفاقی حکومت کی آپریشنز کے متعلق جو پالیسی ہے اس نسبت سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ
ہمارا مطالبہ ہے کہ کے پی کی صوبائی حکومت کو ان بورڈ لیا جائے کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں
پھر اور کے پی کی تمام سیاسی جماعتوں کو ان بورڈ لیا جائے پھر جو فیصلہ ہو ہم اس کی تائید کریں گے
مگر وفاقی حکومت اکیلے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں
اور زمہ داری بدنامی ہماری حکومت کے پلے میں ڈالنا چاہتے ہیں ایسا ہر گز نہیں ہوگا
یہ اگر میری جان بھی لے لیں میں دہشتگردی کے خلاف ان کی پالیسی نہیں مانوں گا ، ان کی پالیسی پختون دشمن، صوبہ دشمن اور ملک دشمن پالیسی ہے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں