بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

جمعرات، 8 اکتوبر، 2026

کیا پاکستان میں غربت ختم ہوگی ؟

السادات نیوز پاکستان 




تحریر سید محمد شاہ غرشین 

 CEO Al Sadat News Pakistan 

 ورلڈ بنک کی رپورٹ اور پاکستان کی معیشت


 کسی بھی شہر کے کسی بھی محلے میں شام کے وقت سبزی کی ریڑھی کے پاس کھڑی ماں کو دیکھ لیجیے۔ وہ ٹماٹر اٹھاتی ہے، بھاؤ سنتی ہے، پھر آہستہ سے واپس رکھ دیتی ہے۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے نہ کوئی نعرہ۔ بس ایک خاموش حساب ہوتا ہے، جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کتنے باقی ہیں۔ اسی لمحے اسلام آباد کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں کوئی پریزنٹیشن چل رہی ہوتی ہے جس میں ہمیں بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ معیشت "استحکام" کی طرف جا رہی ہے۔


میں اس کالم میں کسی سیاسی جماعت کی وکالت نہیں کر رہا۔ میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس استحکام کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، وہ آخر ہے کس کے لیے ہے ؟ یا صرف کاغذ پر معیشت کھڑی ہے یا اس ماں کی ہانڈی کے لئے کچھ ہے ؟


 آئیے سرکاری اور غیر سرکاری، دونوں طرح کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ سچ کہاں کھڑا ہے۔


پہلے سرکار کی بات سن لیں

انصاف کا تقاضا ہے کہ پہلے وہی سنا جائے جو حکومت کہتی ہے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے معیشت کی provisional شرحِ نمو 3.7 فیصد بتائی ہے۔ معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی 1,901 ڈالر بتائی گئی ہے۔ ترسیلاتِ زر کی مد میں گزشتہ مالی سال تقریباً 41.6 ارب ڈالر ملک میں آئے۔ آئی ایم ایف خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ مالی سال 2025 میں پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 1.3 فیصد رہا اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں گیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی اپریل میں اسٹیٹ بینک کے پاس 15 ارب ڈالر سے اوپر تھے۔

یہ سب باتیں غلط نہیں ہیں۔ ملک ڈیفالٹ کے کنارے سے پیچھے ہٹا، یہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی مریض کو وینٹی لیٹر سے اتار دینا اسے صحت مند قرار دینے کے لیے کافی ہے؟ 

ہم نے مریض کو بچا لیا، مگر اسے چلنے کے قابل نہیں بنایا۔ وہ آج بھی بستر پر پڑا ہے اور ڈاکٹر ہر دو ماہ بعد آ کر بتاتا ہے کہ نبض ٹھیک چل رہی ہے۔


 مہنگائی جو اعداد میں کم اور بازار میں زیادہ ہے

ادارۂ شماریات کے مطابق ستمبر 2026 میں سالانہ مہنگائی 10.26 فیصد رہی۔ ایک سال پہلے، ستمبر 2025 میں، یہی شرح 5.76 فیصد تھی۔ یعنی ایک سال میں تقریباً دگنی۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اوسط مہنگائی 10.20 فیصد رہی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 4.30 فیصد تھی۔ صرف ستمبر میں ایک مہینے کے اندر قیمتیں 1.27 فیصد بڑھ گئیں۔ اگست میں یہی شرح 11.1 فیصد کے لگ بھگ تھی اور دیہی علاقوں میں 12.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔
ذرا ٹھہر کر سوچیے۔ دیہات میں رہنے والا وہ کسان اور مزدور جو پہلے ہی کم کماتا ہے، اس کے لیے مہنگائی شہر والوں سے بھی زیادہ ہے۔ تھوک کی قیمتوں کا اشاریہ (WPI) ستمبر میں 13.3 فیصد بڑھا، جس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں دکان کے ریٹ مزید اوپر جانے کا دباؤ موجود ہے۔ بنیادی (core) مہنگائی بھی 8 فیصد سے اوپر ہے، یعنی یہ صرف تیل یا سبزی کا وقتی جھٹکا نہیں، قیمتوں کی بنیاد ہی اوپر چلی گئی ہے۔
اپریل 2026 میں ہفتہ وار حساس قیمتوں کا اشاریہ تقریباً 14 فیصد تک جا پہنچا تھا۔ آلو، روٹی، خوردنی تیل، انڈے، گھی، چکن، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے بغیر کسی غریب کا دسترخوان مکمل نہیں ہوتا، اور یہی چیزیں سب سے پہلے مہنگی ہوتی ہیں۔

یہاں حکومت کے دفاع میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے تیل اور سپلائی چین کو متاثر کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی جولائی میں اسی وجہ سے پاکستان کی شرحِ نمو کا اندازہ 4.5 فیصد سے گھٹا کر 3.7 فیصد کیا اور مہنگائی کا تخمینہ بڑھایا۔ بیرونی جھٹکا حقیقی ہے، میں اس سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن بیرونی جھٹکے کی ڈھال وہی ملک بناتے ہیں جنہوں نے برسوں پہلے اپنا گھر ٹھیک کر رکھا ہو۔ جس معیشت کی جڑیں کھوکھلی ہوں، اسے ہر ہوا گرا دیتی ہے، اور ہر بار قصور ہوا کا بتایا جاتا ہے۔

 قرض: وہ دلدل جس میں ہم ہر سال ایک قدم اور نیچے اتر جاتے ہیں۔
اب اس موضوع پر آتے ہیں جس پر بات کرتے ہوئے حکمرانوں کی زبان اکثر لڑکھڑا جاتی ہے۔ حکومتی اعداد کے مطابق مارچ 2026 تک ملک کا مجموعی سرکاری قرض 83.285 کھرب روپے تھا۔ جون 2026 تک سالانہ قرضہ پلان کی دستاویز کے مطابق یہ بڑھ کر 86.7 کھرب روپے ہو گیا، جس میں 59.4 کھرب اندرونی اور 27.3 کھرب بیرونی قرض ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کے 70 فیصد سے اوپر ہے۔
اب سب سے تکلیف دہ عدد دیکھیے۔ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا کل حجم 18.771 کھرب روپے ہے، اور اس میں سے 8.054 کھرب روپے، یعنی تقریباً 43 فیصد، صرف سود اور قرض کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اگر اس رقم کو دنوں پر تقسیم کریں تو تقریباً 22 ارب روپے روزانہ بنتے ہیں۔ آپ سو رہے ہوتے ہیں، آپ کا بچہ اسکول جا رہا ہوتا ہے، آپ بیمار ہوتے ہیں، اور اس دوران ملک روزانہ 22 ارب روپے قرض دینے والوں کو دے رہا ہوتا ہے۔
اب اس کے مقابلے میں دیکھیے۔ پورے بجٹ میں سماجی تحفظ کے لیے 857 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی اقتصادی کونسل نے 3.669 کھرب روپے کا دائرہ منظور کیا ہے۔ یعنی سود کی ادائیگی غریبوں کی سماجی امداد سے تقریباً نو گنا اور پورے ترقیاتی پروگرام سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ جو ملک اپنی آمدنی کا اتنا بڑا حصہ پرانے قرض پر لٹا دے، وہ نئے اسکول، اسپتال، سڑکیں اور کارخانے کیسے بنائے گا؟
اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ حکومت کی اپنی دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال میں مجموعی مالی ضروریات 28.6 کھرب روپے ہیں، جن میں سے 17 کھرب سے زیادہ صرف اصل رقم کی واپسی کے لیے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پرانا قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لینا پڑے گا، اور نئے قرض پر مزید سود لگے گا۔ یہ وہ چکر ہے جسے ہمارے ہاں "معاشی حکمتِ عملی" کا نام دے دیا گیا ہے، حالانکہ یہ حکمتِ عملی کم اور مجبوری زیادہ ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ قرض کی میعاد لمبی کی جا رہی ہے، سود کا خرچ کچھ کم ہوا ہے، اور قرض جی ڈی پی کے تناسب سے آہستہ آہستہ گھٹے گا۔ ہو سکتا ہے ایسا ہو۔ مگر آہستہ آہستہ کی قیمت وہ طبقہ ادا کرتا ہے جس کے پاس انتظار کی عیاشی نہیں۔ بھوک قسطوں میں انتظار نہیں کرتی۔

 آئی ایم ایف دوا بھی، شرائط بھی، اور ہمارا امتحان بھی
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام اور تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے تحت چل رہا ہے۔ ستمبر کے آخر میں آئی ایم ایف کا مشن چوتھے جائزے کے لیے پاکستان آیا، جس میں جون 2026 تک کی کارکردگی دیکھی جا رہی ہے۔ میں اس کالم کے لکھتے وقت اس جائزے کے نتیجے کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کیونکہ وہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

لیکن جائزے سے پہلے کی خبریں خود بہت کچھ بتاتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گورننس اصلاحات کے جو تین درجن سے زیادہ اہداف جنوری سے جون 2026 کے لیے طے ہوئے تھے، ان میں سے صرف چند پورے ہوئے۔ یہ اصلاحات آئی ایم ایف کی اس تشخیصی رپورٹ کے بعد طے کی گئی تھیں جس میں پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف کمزور اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پھر گندم اور چینی کے معاملات میں حکومتی مداخلت کا ذکر ہے، حالانکہ پروگرام کی شرط یہ تھی کہ ریاست اجناس کی منڈی سے دور رہے۔

یہاں مجھے ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ بجلی کا بل بھرو، پیٹرول پر لیوی دو، ٹیکس دو، کیونکہ آئی ایم ایف کی شرط ہے۔ مگر جب شرط حکومت کے اپنے اختیارات یا مفادات کو چھوئے، یعنی گورننس، بدعنوانی، منڈی میں مداخلت، سرکاری اداروں کی نجکاری، تو وہاں رفتار اچانک سست ہو جاتی ہے۔ بوجھ عام آدمی کے کندھے پر فوراً ڈال دیا جاتا ہے اور اصلاحات کا بوجھ ہمیشہ "اگلے جائزے" تک ٹل جاتا ہے۔

توانائی کا شعبہ اسی کہانی کی سب سے واضح مثال ہے۔ گردشی قرضے کا مسئلہ برسوں سے ہمارے ساتھ ہے۔ ہر حکومت اسے "حل" کرتی ہے، اور ہر بار وہ نئے نام کے ساتھ لوٹ آتا ہے۔ نقصان کا بوجھ اوور بلنگ، فکسڈ چارجز اور ٹیکسوں کی شکل میں اسی صارف پر منتقل ہوتا ہے جو بیچارہ پہلے ہی میٹر ریڈنگ سے ڈرتا ہے۔

    ورلڈ بینک کا آئینہ: غربت کی وہ تصویر جو بجٹ تقریر میں نہیں دکھائی جاتی

ورلڈ بینک کی رپورٹ "Reclaiming Momentum Towards Prosperity" ہماری معاشی کامیابی کے دعووں کو ایک ایسے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جس میں جھوٹ بولنا مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قومی غربت کی شرح 2001 میں 64.3 فیصد تھی اور 2018 تک گھٹ کر 21.9 فیصد رہ گئی۔ یہ کسی بھی ملک کے لیے قابلِ فخر کارنامہ تھا۔ مگر اس کے بعد رخ پلٹ گیا۔ کورونا، مہنگائی، سیلاب اور معاشی بحران، یہ سب مل کر ان کامیابیوں کو چاٹ گئے۔

ورلڈ بینک نے جون 2025 میں عالمی غربت کی لکیر کو تقریباً 4.20 ڈالر یومیہ تک بڑھایا، اور اس نئے پیمانے کے تحت پاکستان میں غربت 44.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ ملک کے اپنے ادارے سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (SPDC) کا مارچ 2026 کا اندازہ 43.5 فیصد ہے۔ جبکہ سرکاری اعداد میں یہ شرح 28.9 فیصد کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ آپ کو یہاں فرق دکھائی دے رہا ہے؟ سرکاری کاغذ پر ہر تین میں سے ایک سے کچھ کم غریب، اور بین الاقوامی اور آزاد پیمانے پر ہر دس میں سے تقریباً ساڑھے چار غریب۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہو، مگر وہ دروازے جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں، وہاں کوئی پیمانہ نہیں پوچھتا۔

ورلڈ بینک نے ایک اور بات کہی جو ہمارے پالیسی سازوں کے لیے بہت سخت ہے۔ بینک کے مطابق پاکستان کا موجودہ ترقی کا ماڈل، جو بنیادی طور پر کھپت پر کھڑا ہے، غربت اور عدم مساوات کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو چکا ہے اور نئے راستے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستان بالواسطہ ٹیکسوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتا ہے، اور یہ ٹیکس آمدنی کو کم کرتے اور غربت بڑھاتے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس کا مطلب سمجھتے ہیں؟ جو ٹیکس آپ ماچس سے لے کر آٹے، دوا اور پیٹرول تک ہر خریداری میں بغیر پوچھے ادا کرتے ہیں۔ اس ٹیکس کے سامنے رکشہ ڈرائیور اور کروڑ پتی برابر کھڑے ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی استطاعت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

یہ ہے وہ ناانصافی جو میزانیے کے ہندسوں میں چھپی رہتی ہے۔ جب ٹیکس کا ہدف پورا کرنا ہو (اس سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ہدف 15.26 کھرب روپے ہے) تو سب سے آسان راستہ وہی ہے جو پہلے سے ٹیکس دینے والوں اور بے زبان صارفین کی جیب سے گزرتا ہے۔ ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور بڑے زمینداروں کو حقیقی طور پر ٹیکس نیٹ میں لانا مشکل ہے، کیونکہ وہاں طاقت ہے۔ تنخواہ دار کی تنخواہ سے ٹیکس کٹ جاتا ہے، کیونکہ وہاں زور نہیں چلتا۔

پھر ناکامی کہاں ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ حکومت کی پالیسی میں اصل خرابی کیا ہے؟ میں چند نکات اختصار سے رکھتا ہوں۔

پہلا، استحکام کو منزل سمجھ لینا
 زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانا، روپے کو سنبھالنا اور خسارہ کم کرنا بلاشبہ ضروری ہیں۔ لیکن یہ ذرائع ہیں، منزل نہیں۔ منزل وہ روزگار ہے جو نوجوان کو مل سکے، وہ آمدنی ہے جو مہنگائی سے آگے چل سکے، وہ برآمدات ہیں جو قرض کے بغیر ڈالر لائیں۔ ہم نے ذریعے کو منزل بنا لیا، اور اب عالمی اداروں سے شاباشی لے کر عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ اصل کامیابی یہی ہے۔

   دوسرا، آمدنی بڑھانے کے بجائے آسان شکار تلاش کرنا۔ 
ٹیکس کا دائرہ حقیقی معنوں میں وسیع کرنے کی ہمت ہم میں کم ہے۔ نتیجہ یہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھتا ہے، کاروبار دباؤ میں آتا ہے، اور غیر رسمی معیشت اپنی جگہ مزے سے قائم رہتی ہے۔

  تیسرا، اصلاحات کا وعدہ اور تاخیر کی عادت۔
سرکاری اداروں کی نجکاری، توانائی کے نقصانات، گورننس کے اہداف، ہر محاذ پر وعدے ہیں، مگر عمل سست۔ جب آئی ایم ایف کی ایک پروگرام رپورٹ میں اہداف کی اکثریت پوری نہ ہوئی ہو تو یہ محض تکنیکی تاخیر نہیں، یہ ارادے کی کمزوری ہے۔

   چوتھا، اشرافیہ کی مراعات اور عوام کی قربانی کا غیر متوازن تناسب۔ 
جب قوم کو "مل کر قربانی" کا درس دیا جاتا ہے تو دیکھنا چاہیے کہ قربانی کون دے رہا ہے اور بچت کس کی ہو رہی ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو 7 فیصد اضافہ ملا، مگر جب مہنگائی دس فیصد کے آس پاس ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طبقے کی حقیقی آمدنی بھی گھٹ رہی ہے۔ اور نجی شعبے کے وہ کروڑوں مزدور جنہیں کوئی اضافہ ملا ہی نہیں، ان کی حالت کا اندازہ آپ خود لگا لیجیے۔

      پانچواں، انسان پر سرمایہ کاری سے گریز۔ 
جس ملک کی آبادی تقریباً 25 کروڑ ہو اور جہاں تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کا حصہ سود کی ادائیگی کے سامنے بونا دکھائی دے، وہاں مستقبل کی معاشی طاقت کیسے پیدا ہو گی؟
 آج جو بچہ بھوکا اسکول جاتا ہے یا اسکول سے باہر رہتا ہے، کل وہ ہماری پیداواری قوت بنے گا یا ہمارا بوجھ، اس کا فیصلہ آج کا بجٹ کر رہا ہے۔

 بجٹ ہندسوں کا کھیل نہیں، اخلاقی دستاویز ہوتا ہے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم اعداد و شمار سے اتنے مرعوب ہو گئے ہیں کہ انسان کو بھول بیٹھے ہیں۔ 
جی ڈی پی کی شرحِ نمو اوپر جاتی ہے تو اخبار سرخی لگاتا ہے، مگر کسی اخبار میں یہ سرخی نہیں چھپتی کہ آج کتنی ماؤں نے بچوں کو دودھ کی جگہ چائے پلائی، کتنے باپوں نے علاج مؤخر کر دیا، کتنے طلبہ نے فیس نہ بھرنے کے باعث تعلیم چھوڑ دی۔ یہ وہ اعداد ہیں جو کوئی ادارہ باقاعدگی سے جمع نہیں کرتا کیونکہ اگر جمع کرے گا تو شرمندگی ہو گی۔

بجٹ دراصل ایک اخلاقی دستاویز ہوتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ ریاست کس کو پہلے رکھتی ہے۔ جب بجٹ کا سب سے بڑا حصہ سود کھا جائے، اور سماجی تحفظ کے حصے میں اتنی رقم بچے کہ وہ سود کے نو دن کی قسط جتنی بھی نہ ہو، تو یہ فیصلہ ہم نے اپنی ترجیحات کے بارے میں خود کر دیا۔ اور یہ ترجیحات کسی آسمانی فیصلے کا نتیجہ نہیں، یہ ہمارے حکمرانوں کے انتخاب ہیں۔

    تو پھر راستہ کیا ہے؟
تنقید آسان ہے، اس لیے مجھے ذمہ داری سے کچھ تجاویز دینی ہیں 

     پہلی بات، ٹیکس کا نظام اوپر سے نیچے کی طرف انصاف پر کھڑا ہو۔ جو زیادہ کماتا ہے، جو زیادہ جائیداد رکھتا ہے، جو زیادہ بچاتا ہے، وہ زیادہ دے۔ بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کم ہو اور زراعت، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے شعبوں کو، جو برسوں سے سہولت یافتہ ہیں، ٹیکس کے حقیقی دائرے میں لایا جائے۔

     دوسری بات، توانائی کے شعبے میں سنجیدہ اور شفاف اصلاحات کی جائیں۔ گردشی قرضہ نئے ناموں سے نہیں، بجلی چوری، لائن لاسز اور غیر ضروری معاہدوں کی اصل اصلاح سے ختم ہو گا۔

       تیسری بات، سرکاری اداروں کے نقصانات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے ان کی نجکاری یا اصلاح کے وعدے وقت پر پورے کیے جائیں۔

    چوتھی بات، تعلیم، صحت اور ہنر مندی پر سرمایہ کاری کو ترجیح بنایا جائے۔ برآمدات اسی وقت بڑھتی ہیں جب ہاتھ ہنرمند ہوں اور ذہن پڑھے لکھے۔

    پانچویں بات، اعداد و شمار کی شفافیت۔ ورلڈ بینک نے خود ڈیٹا سسٹم بہتر بنانے کی بات کی ہے۔ جب غربت کے بارے میں ہمارے اندازے آپس میں اتنے مختلف ہوں تو پالیسی اندھیرے میں تیر چلانے کا نام بن جاتی ہے۔

چھٹی اور آخری بات

میں جانتا ہوں کہ ایسی تحریر پڑھ کر کچھ لوگ کہیں گے کہ مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ نہیں، مایوسی وہ ہے جو چولہے پر خالی دیگچی کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ میں تو صرف وہ بات لکھ رہا ہوں جو ہر گھر میں دبی آواز سے کہی جا رہی ہے۔

سرکار کے پاس تعریف کرنے والے بہت ہیں۔ اس ملک کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو حکمرانوں کے سامنے آئینہ رکھیں۔ اگر آئینہ توڑ دینے سے چہرہ خوبصورت ہو جاتا تو شاید ہم کب کے ایک خوبصورت ملک ہوتے۔
پاکستان کے لوگ غیر معمولی طور پر صابر ہیں۔ وہ قطاروں میں کھڑے ہو کر، بل بھر کر، سبزی کم خرید کر، بھی صابر ہیں 
کیا اس ماں کے لئیے حکومت نے کچھ کیا جس کے بچوں کو سلانے کے لیے دیگ  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...