بریکنگ نیوز
وفاقی حکومت کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی / گورنر راج نافذ کر دیا ہے   •   وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات زیر حراست ہیں   •   گورنر فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے   •   پی ٹی آئی، متحدہ اپوزیشن، جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے گورنر راج کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے   •   امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر راج کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے   •   گورنر راج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، لاکھوں لوگ سڑکوں پر

پیر، 12 اکتوبر، 2026

کے پی میں گورنر راج نافذ

Al-Sadat News Report

ملبوس آئین، عریاں آمریت؟

کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کا اعلان آمریت کا وار 



گیارہ اکتوبر کی تاریخ ہماری پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سیاہ حاشیے کا اضافہ بن گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے صدرِ مملکت کو بھیجی گئی ایڈوائس کے مطابق خیبر پختونخوا میں "آئینی مشینری کے ناکام ہونے" کا جواز بنا کر آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلامیہ جاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زبان آئینی ہے، مگر اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایک صوبے کے عوام کا منتخب کردہ نظام اسلام آباد کے حکم پر لپیٹا جا رہا ہے۔





جس صوبے میں عوام نے بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اپنی حکومت منتخب کی، وہاں "مشینری کی ناکامی" کا فیصلہ ووٹر نہیں، وفاق کر رہا ہے۔ اگر کوئی مشینری ناکام ہوئی ہے تو وہ امن و امان کی نہیں، اعتماد کی ہے، اور یہ ناکامی صوبے میں نہیں، وفاق کے رویّے میں ہے۔



ہم نے ابتدا ہی سے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا تھا۔ ہمارا موقف تھا کہ سیاسی تنازعات کا حل مکالمے میں ہے، طاقت میں نہیں۔ مگر یہ مشورہ یک طرفہ ثابت ہوا۔ ایک طرف احتجاج کرنے والے ہیں جو بنیادی مطالبات رکھتے ہیں: عمران خان کی طویل تنہائی ختم کی جائے، انہیں علاج معالجے تک رسائی ملے، اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل ہو۔ دوسری طرف ریاست ہے جس نے ان مطالبات کا جواب مذاکرات سے نہیں، رکاوٹوں اور اب ایمرجنسی جیسے اقدام سے دیا ہے۔


اہم بات یہ ہے کہ احتجاج کا مطالبہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد مانگنا آئین کی بالادستی مانگنا ہے۔ جو حکومت خود عدلیہ کے فیصلوں پر عمل نہ کرے، اسے آئین کی دفعات کا سہارا لے کر دوسروں کو آئینی ناکامی کا طعنہ دینے کا اخلاقی حق حاصل نہیں رہتا۔

اسی دن لانگ مارچ کا صوابی انٹرچینج پہنچنا اور حکومت کا "مکمل تیاری" کے ساتھ اس کا منتظر ہونا بھی اپنے اندر ایک پیغام رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تیاری کس کے خلاف ہے؟ اپنے ہی شہریوں کے خلاف؟ جمہوری ریاستیں احتجاج کے لیے راستے کھولتی ہیں، کنٹینر نہیں لگاتیں۔

ہم رسمی طور پر اسے مارشل لاء نہیں کہہ سکتے، کیونکہ اس کے لیے ایک الگ آئینی اور عملی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر منتخب حکومت کو ہٹانا، مینڈیٹ کو معطل کرنا اور احتجاج کو طاقت سے روکنا ایک ساتھ ہو جائیں، تو نام بدلنے سے مفہوم نہیں بدلتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بار پہلے "آئینی مجبوری" کا لفظ آتا ہے اور پھر برسوں کا پچھتاوا۔

آئین کے تحت ایسے اعلامیے کو پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہوتی ہے اور عدالتیں بھی اس کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ اب نظر ان اداروں پر ہے کہ وہ آئین کے محافظ بنتے ہیں یا محض مہر لگانے والے۔

حکومت کے حامی یقیناً یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان اور انتظامی صورتحال خراب تھی اور وفاق کو آئینی ذمہ داری نبھانا پڑی۔ ان کے نزدیک یہ اقدام آئین کے اندر رہ کر اٹھایا گیا ہے۔ یہ دلیل سنی جانی چاہیے، مگر اس کا فیصلہ شفاف عدالتی اور پارلیمانی جانچ ہی کر سکتی ہے، اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر آنے والے دنوں میں اس اقدام کو پرکھا جائے گا۔

آخر میں ایک ہی بات: ریاست طاقت سے وقتی خاموشی خرید سکتی ہے، قبولیت نہیں۔ اور جمہوریت میں قبولیت ہی اصل اقتدار ہے
اور خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے علاؤہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو غیر آئینی غیر جمہوری قرار دیا ہے اور اس کو واپس لینے کا مطالبہ کیاہے 
پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ دونوں نے جمہوری لباس پہن رکھا ہے مگر انہوں نے ہمیشہ آمریت کا ساتھ دیا ہےاور یہ 
کے پی کے میں ایمرجنسی گورنر راج کا نفاذ عوام قبول نہیں کریگی 
اب تک لاکھوں لوگ اس کے خلاف سڑکوں پر ہیں گورنر ہاؤس صوبائی اسمبلی اور ریڈ زون کے تمام راستے ایف سی پولیس نے بند کر دیئے ہیں 
انٹر نیٹ بند کردی گئی ہے یا جزوی طور پر کام کررہی ہے 
پورے ملک سے حکومت پر تنقید کی جارہی ہے ۔
اگر ہم تاریخ کے آئینے میں جھانک دیکھیں تو مجھے 12 اکتوبر 2013 یاد آتا ہے جب نواز شریف کی حکومت کے خلاف پرویز مشرف نے مارشل لگایا تھا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی اس وقت ن لیگ نے اس کو ناجائز غیر آئینی قرار دیا تھا آج اسی ن۔لیگ نے ایک تو تہائی اکثریت سے بنی عوامی حکومت کو گرا دیا اور گورنر راج نافذ کردیا یہ وقت کا ائنہ بھی عجیب ھے ہر شخص کو اس کے چہرے کی کالک دکھاتا ہے 



اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو سلامت رکھے اور امن قائم رہے 
حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

مذکرات کیو ناکام ہوئے ؟

Al-Sadat News Report مولانا صاحب نے مذکرات کی ناکامی کی زمہ داری حکومت پر ڈال دی  آج ایک طرف محسن نقوی اعظم نذیر تارڑ صاحب نے پریس کانفرنس ک...