ہفتہ، 22 اگست، 2026

جب قانون ساز ادارے قانون کے خلاف کام کریں ؟

Al-Sadat News Pakistan

جب قانون خود قانون کے راستے میں کھڑا ہو جائے

 تحریر تجزیہ : سید محمد شاہ غرشین

 CEO Al Sadat News Pakistan 



کبھی آپ نے سوچا ہے کہ رات کے کسی پہر دروازے پر دستک ہو، اور آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے خلاف ایک ایسا مقدمہ درج ہوچکا ہے جس کا آپ سے دور کا بھی تعلق نہیں؟
 کہ آپ کا "جرم" صرف یہ تھا کہ آپ نے سچ بولا، کسی کے ظلم پر آواز اٹھائی، یا محض کسی کی سیاسی مخالفت میں کھڑے رہے؟

یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں۔ یہ ہزاروں گھروں کی کہانی ہے جہاں ماں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے تھانے کے چکر کاٹتی ہے، بیوی اپنے شوہر کی ضمانت کے لیے وکیلوں کی فیسیں جمع کرنے کے لیے زیور بیچتی ہے، اور بچے یہ سوال کرتے ہیں کہ "بابا کب واپس آئیں گے؟" 
جبکہ بابا کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ تھے، یا کسی طاقتور کے سامنے سر جھکانے سے انکاری تھے۔
   
 قانون کیا کہتا ہے، اور عمل میں کیا ہوتا ہے

ہمارا آئین اور ہمارا قانون، پاکستان پینل کوڈ، اس ظلم کے خلاف واضح دفعات رکھتا ہے۔ دفعہ 182 اس شخص کو مجرم ٹھہراتی ہے جو جان بوجھ کر کسی سرکاری اہلکار کو جھوٹی اطلاع دے تاکہ کسی بےگناہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ دفعہ 211 اس سے بھی آگے جاتی ہے 
 یہ اس شخص کو سزا دیتی ہے جو جانتے بوجھتے کسی پر جھوٹا فوجداری الزام لگا کر اس کی زندگی، عزت اور آزادی کو داؤ پر لگا دے۔

اور جب یہی ظلم کوئی سرکاری ادارہ خود کرے تو دفعہ 166 اور 167 اس اہلکار کو کٹہرے میں لاتی ہیں جو اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قانون کے راستے سے ہٹ کر کسی کو نقصان پہنچائے۔ دفعہ 220 اس شخص کو مجرم قرار دیتی ہے جو جانتے ہوئے کہ کسی کی حراست غیر قانونی ہے، پھر بھی اسے قید میں رکھے۔

یہ الفاظ کتابوں میں خوبصورت لگتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زمین پر کہاں ہیں؟

 جب ادارے خاموش تماشائی بن جائیں

جب کوئی عام شہری کسی کے خلاف جھوٹی FIR درج کرواتا ہے، تو نظام کے پاس اسے روکنے کے راستے موجود ہیں 
 جسٹس آف پیس، ہائی کورٹ کی نگرانی، تفتیش کا عمل۔ مگر جب یہی کھیل کوئی طاقتور ادارہ سیاسی بنیادوں پر کھیلے، تو یہی راستے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ رات کی تاریخوں میں مقدمات درج ہوتے ہیں، ایک ہی واقعے پر درجنوں دفعائیں لگا دی جاتی ہیں، اور جس کا سیاسی نظریہ کسی کو ناپسند ہو، اسے راتوں رات "دہشت گرد" یا "غدار" بنا دیا جاتا ہے۔

یہ صرف اس ایک انسان کے ساتھ ظلم نہیں۔ یہ اس پورے معاشرے کے ساتھ دھوکہ ہے جو انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ کیونکہ جب قانون کا رکھوالا ہی قانون کو ہتھیار بنا کر استعمال کرے، تو عام آدمی کہاں جائے؟ کس کے دروازے پر دستک دے؟
    یہ خاموشی اب مزید نہیں چل سکتی

ہر وہ شخص جو آج کسی سیاسی وابستگی کی بنا پر جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے، وہ کل کوئی عام شہری بھی ہو سکتا ہے 

 کوئی صحافی جو سچ لکھے، کوئی وکیل جو مظلوم کا ساتھ دے، کوئی استاد جو سوال اٹھائے۔ یہ سلسلہ جہاں سے شروع ہوتا ہے، وہاں رکتا نہیں 
یہ پھیلتا جاتا ہے، جب تک کوئی اسے روکے نہ۔

قانون خاموش نہیں ہے۔ دفعہ 182، 211، 166، 167 اور 220 موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دفعات صرف کاغذ پر نہ رہیں — کہ عدالتیں، بار کونسلیں، میڈیا اور عوام مل کر یہ آواز بلند کریں کہ جس اہلکار نے اختیار کا ناجائز استعمال کیا، اسے بھی اسی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جس کٹہرے میں وہ بےگناہوں کو کھڑا کرتا ہے۔

انصاف کوئی مراعات یافتہ طبقے کی میراث نہیں۔ یہ ہر اُس ماں کا حق ہے جو اپنے بیٹے کی واپسی کی دعا مانگتی ہے، ہر اُس بچے کا حق ہے جو اپنے باپ کا انتظار کرتا ہے، اور ہر اُس شہری کا حق ہے جو صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کا ملک قانون کی حکمرانی میں چلے، خوف کی حکمرانی میں نہیں۔

خاموش رہنا اب انصاف کی توہین ہے۔ آواز اٹھانا اب ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan  ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین پاکستان ایک ایسا ملک ...