کاغذی محل، آبلہ پا عوام اور اصلاحات کا سراب ؟
تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین
پاکستان کی تاریخ بھی عجب تاریخ ہے؛ یہاں مسائل کا حل کھوجنے کے لیے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے ہمیشہ کپڑا بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب جب ملک میں کوئی معاشی، سیاسی یا انتظامی بحران شدت اختیار کرتا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نابغے ایک نیا کاغذ، ایک نئی ترمیم اور ایک نیا "نجات دہندہ نظام" لے کر عوام کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔ آج کل بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کے سنجیدہ ایوانوں میں ایک نام نہاد "28ویں آئینی ترمیم" یا نويں انتظامی ڈھانچے کے مسودے کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک ایسا مسودہ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کر کے، صدارتی نظام لا کر، قومی اسمبلی کو ختم کر کے اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر تمام دردوں کی دوا کر دی جائے گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی قوم کی قسمت بدلنے کا کوئی الہامی پلان ہے، یا پھر ایک نچلے طبقے کے، مہنگائی کے تندور میں جلتے ہوئے، انصاف کی تلاش میں دربدر بھٹکتے ہوئے عام پاکستانی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا ایک اور سیاسی ناٹک؟
اگر اس تجویز کردہ مسودے کے خدوخال پر نظر ڈالی جائے تو اس کا احاطہ کچھ یوں کیا گیا ہے:
تجویز کردہ نظام کی ایک نظر میں جھلک
نیا انتظامی ڈھانچہ: ملک کو 20 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز ہیں؛ جن میں پنجاب کو 5 (شمالی، سنٹرل، جنوبی، پوٹھوہار، بہاولپور)، سندھ کو 5 (کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ)، خیبر پختونخوا کو 4 (پشاور، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈیرہ اسماعیل خان)، بلوچستان کو 4 (کوئٹہ، مکران، ژوب، قلات)،
جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو الگ وفاقی اکائیاں بنانے کا خاکہ ہے۔
صدارتی و حکومتی طرز:
قومی اسمبلی کے خاتمے، تمام تر طاقت کے مرکز کے طور پر ایک براہِ راست منتخب صدر، اور سینیٹ کو واحد ایوان بنانے کا دعویٰ ہے۔ وفاقی کابینہ میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شامل ہوں گے جو اپنے صوبے میں تو بااختیار ہوں گے مگر صدر کو جواب دہ ہوں گےہو سکتا ہے یہ صدر صاحب فوجی سربراہ ہو !!
عدلیہ و انتظامیہ:
ایک وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، گورنر کے ذریعے صوبائی وزرائے اعلیٰ کی معزولی کی گنجائش، اور اضلاع میں DC اور DPO کو براہِ راست عوام کے منتخب کردہ "ضلع ناظم" کے ماتحت کرنے کی نوید سنائی گئی ہے۔
کاغذ پر لکھا یہ ہر حرف دلکش لگتا ہے۔
سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بارہ سنگھے کو صحرا میں دور چمکتی ریت پانی کا چشمہ نظر آ رہی ہو۔ لیکن جب اس مسودے کو پاکستان کی کڑوی، تلخ اور خونچکاں حقیقتوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے، تو دل دہل جاتا ہے۔
کیا یہ نظام اس غریب دہقان کا پیٹ بھر سکے گا جس کی پوری فصل ایک وڈیرے کے پانی بند کرنے سے سوکھ جاتی ہے؟
کیا یہ 20 صوبے اس ماں کی گود میں اس کا لعل واپس لا سکیں گے جو تھانے کے باہر انصاف مانگتے مانگتے دم توڑ دیتی ہے؟
کیا ایک نیا صدارتی نظام اس نوجوان کو روزگار دے سکے گا جو ڈگری بغل میں دبائے کراچی سے کوئٹہ اور پشاور سے لاہور تک ایڑیاں رگڑ رہا ہے؟
کیا یہ نظام کسی غریب کو کسی طاقتور سے تحفظ فراہم کرے گا ؟
کیا عدلیہ بغیر کسی دباؤ کے کسی مظلوم کو انصاف دے گی جو کسی جاگیر دار کسی سیاسی شخصیت یا کسی بڑے بڑے بیوروکریسی کے آفیسرز یا کسی فوجی ڈکٹیٹر کے شر سے تحفظ فراہم کریں گی ؟
کیا یہ نظام بغیر قانون کے سرکاری نوکروں کے ذریعے اغوا کئیے گئے مظلوم کو رہا کر سکے گا ؟
کیا یہ نظام کسی آمر کو جابر کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر سکے گا ؟
کیا یہ نظام کسی ایس ایچ او کو قانون کے مطابق آزادی سے ایف آئی آر کرنے کا اختیار دیگا ؟
یا کبھی قانون کے مطابق کسی غیر قانونی حکم سے انکار کی آزادی اور جرئت دیگا ؟
جواب ہے
ہرگز نہیں! تو تبدیلی کیا ہوا ؟
اصل بیماری کیا ہے اور علاج کس چیز کا ہو رہا ہے؟
پاکستان کا بنیادی مسئلہ نظام کے ڈھانچے کی کمی کبھی نہیں رہا، بلکہ نظام کے اندر موجود نیت، انصاف اور آئینی حکمرانی کی عدم موجودگی رہا ہے۔
تصور کریں، ایک ایسا ملک جہاں آئین محض ایک کاغذی کتابچہ بن کر رہ گیا ہو، جہاں عدالتیں مظلوم کو انصاف دینے کے بجائے طاقتور کے اشاروں کی منتظر ہوں، جہاں الیکشن کمیشن محض ایک نام نہاد ادارہ ہو اور جہاں عوام کے ووٹ کی حرمت کو ہر بار بوٹوں تلے یا بند کمروں کے فیصلوں میں روند دیا جائے— وہاں آپ 20 صوبے بنا دیں یا 200، تبدیلی کیسے آئے گی؟
جب تک آئین اپنے اصل اور واقعی روح کے ساتھ بحال نہیں ہوتا، جب تک عدلیہ کو اپنے فیصلے ازخود اور بغیر کسی دباؤ کے کرنے کی آزادی نہیں ملتی، جب تک الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبدار اور خود مختار نہیں ہوتا، اور جب تک الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) یا شفاف ترین طریقہ کار سے سیاسی مداخلت کے بغیر انتخابات نہیں ہوتے ,
جب تک عوام کی رائے کو محترم نہیں بنایا جاتا
تب تک کسی بھی ترمیم کا نام "نجات" نہیں بلکہ "سیاسی انجنیئرنگ" ہی رہے گا۔
عوامی نمائندگی کا زوال اور میرٹ کی موت
ہم کس پارلیمنٹ یا سینیٹ سے خیر کی امید رکھیں؟ جب تک ایوانوں میں پہنچنے والے اراکین کے لیے کوئی اخلاقی، تعلیمی، یا سیاسی اہلیت کا معیار طے نہیں ہوگا، تب تک یہی کرپٹ، موروثی اور مفاد پرست طبقات نئے نظام پر بھی سانپ بن کر بیٹھ جائیں گے۔ اگر موجودہ سلیکٹڈ، نادیدہ ہاتھوں کی مرہونِ منت اور عوام کے حقیقی جیویں جیویں سے محروم حکمرانوں کے ذریعے یہ تمام ترامیم اور نظام نافذ کیا گیا، تو نتیجہ کیا نکلے گا؟
نتیجہ وہی نکلے گا جو پچھلے ستر سالوں سے نکلتا آیا ہے۔ اربوں روپے کی کاغذی محنت ضائع جائے گی۔
عوام کا پیسہ، جو ان کا خون پسینہ نچوڑ کر ٹیکس کی صورت میں اکٹھا کیا جاتا ہے، نئے صوبوں کے گورنر ہاؤسز، نئے وزرائے اعلیٰ کے پروٹوکول، نئے سینیٹرز کی مرعوب کن گاڑیوں اور نويں دفاتر کی تزئین و آرائش کی نذر ہو جائے گا۔ اور عام آدمی؟
وہ اسی طرح پستا رہے گا۔ اس کے لیے کرپشن کا بازار یوں ہی گرم رہے گا، ظلم کی چکی یوں ہی چلتی رہے گی۔
بلدیاتی نظام: ایک المیہ اور حقیقت
اس مسودے میں بلدیاتی نظام کو تمام تر اختیارات کا منبع اور عوام کی دہلیز پر حل کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ لیکن ذرا عملی میدان میں آ کر دیکھیے۔ موجودہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کا حشر کیا ہے؟
آج کا تلخ سچ یہ ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی ضلعی ناظم یا بلدیاتی چیئرمین منتخب ہو کر آتا ہے، تو اس کے پاس عوام کے کام کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں نہ بجٹ۔ نظام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ علاقے کا صوبائی منسٹر یا طاقتور اقتدار دھنی خود چل کر ضلعی حکومت کے سربراہ کے پاس آتا ہے اور کھلم کھلا کہتا ہے: "اس سال چار ارب کا فنڈ آیا ہے، اس میں سے ایک ارب تم رکھو، باقی کا چیک کاٹ کر میرے نام کر دو۔"
اور اس کھلی غنڈہ گردی اور ڈکیتی کے سامنے کیا کوئی مزاحمت ہوتی ہے؟
اگر کوئی باضمیر ناظم یا چیئرمین اپنے علاقے کے لوگوں کے حق کے لیے کھڑا ہونے کی جرات کر بھی لے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے؟
اس نظام کی پشت پناہی سے اس کے خلاف فوری طور پر "عدم اعتماد" کی تحریک لائی جاتی ہے، اراکین کی خرید و فروخت کی جاتی ہے، اور اس بدمعاش صوبائی وزیر یا طاقتور آقا کا اپنا پالتو بندہ اس کرسی پر بٹھا دیا جاتا ہے۔
جب تک اس نظام کے اندر احتساب کا کوئی ٹھوس، شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقہ کار موجود نہ ہو، جب تک طاقتور کو قانون کی زنجیروں میں نہ جکڑا جائے، اور جب تک اختیارات کو بیلنس کرنے کی واقعی ضمانت نہ ہو،
تب تک یہ طاقتور ناظمین اور بلدیاتی خاکے عوام کی خدمت کیا کریں گے؟ یہ نظام صرف اور صرف لوٹ مار کی نچلی سطح تک منتقلی (Decentralization of Corruption) کے سوا کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔
قوم سے سنگین مذاق اور آخری گزارش
ہمیں یہ بات بحیثیت قوم سمجھنی ہوگی کہ جب تک ملک میں حق اور سچ کا بول بالا نہیں ہوتا، جب تک عوام کو اپنا حکمران خود منتخب کرنے کا آزادانہ حق نہیں ملتا، اور جب تک قوم کی اہل، باصلاحیت، خوفِ خدا رکھنے والی اور دیانت دار قیادت آگے آ کر نظام کو درست کرنے کی باگ ڈور نہیں سنبھالتی,
تب تک کاغذی مسودے، 28ویں ترمیم ہو یا 50ویں، محض دل بہلانے کا سامان رہیں گی۔
یہ ملک کسی نئے نقشے کا طالب نہیں ہے، یہ ملک عدل کا طالب ہے۔
یہ ایک غیر جانبدار احتساب کا طالب ہے جہاں قانون کا نمائندہ یا کوئی سیاسی شخصیت یا کوئی فوجی آمر یا کوئی جاگیر دار قانون کو توڑنے کے تصور سے کامپ جائے
اور یہ اختیار کے توازن کو طالب ہے
یہ قوم نئے صوبوں کے ناموں کی پیاسی نہیں ہے، یہ قوم انصاف اور روٹی کی پیاسی ہے۔
اگر موجودہ ابتر ماحول میں، جہاں عدم استحکام، گرتی ہوئی معیشت، اور عوامی غیض و غضب عروج پر ہے، یہ ڈنگ ٹپاؤ اور لالی پاپ قسم کی تبدیلیاں مسلط کی گئیں، تو یہ محنت بھی تاریخ کے کوڑے دان میں جائے گی اور قوم کا وقت اور پیسہ ایک بار پھر ضائع ہوگا۔ ظالم وہی رہے گا، مظلوم وہی رہے گا، صرف ڈرامے کے کرداروں کے لباس بدل جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تجربوں کی لیبارٹری میں اس ملک کو مزید جھونکنے کے بجائے آئین کی اصل روح بحال کی جائے، اداروں کو ان کی حدود میں واپس لایا جائے، اور عوام کے ساتھ وہ سچا اور سچائی پر مبنی مکالمہ شروع کیا جائے جو اس ملک کو واقعی تباہی کے دہانے سے نکال کر عزت اور خودداری کی شاہراہ پر گامزن کر سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں