جمعرات، 6 اگست، 2026

اصلاح احوال کا آخری موقع

Al-Sadat News Pakistan 

جب عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے؟ پاکستان اور اصلاح کا آخری موقع

تحریر / تجزیہ: سید محمد شاہ غرشین

السادات نیوز پاکستان 



ریاستیں محض جغرافیائی سرحدوں، عسکری قوت یا انتظامی امور سے قائم نہیں رہتیں؛ ریاست کا حقیقی وجود اس کے شہریوں اور آئینی معاہدے کے درمیان پائے جانے والے غیر متزلزل اعتماد پر منحصر ہوتا ہے۔ جب وہ اعتماد درہم برہم ہوتا ہے تو عظیم الشان ساختیں بھی اندر سے کھوکھلی ہونے لگتی ہیں
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے حساس اور نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے گزرنے والی راہیں یا تو پائیدار قومی اصلاحات کی طرف جاتی ہیں یا پھر ایک ایسے بھیانک سیاسی و اجتماعی تصادم کی طرف جس کا تاوان پچھلی کئی دہائیوں سے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ یہ بحران محض کسی ایک حکومت کی آمد و رفت، اقتدار کی روایتی کشمکش یا چند سیاسی چہروں کی تبدیلی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے ریاستی ساخت، جمہوری اقدار اور سب سے بڑھ کر عام شہری کے اپنے ملک کے نظام پر اعتماد کا بحران ہے۔
۱. عوامی اعتماد کا زوال اور روایتی سیاست کی ناکامی
پاکستان میں دہائیوں سے اقتدار پر براجمان سیاسی جماعتیں — خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی — ملکی سیاست کے مرکز میں رہی ہیں۔ ان جماعتوں کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ انہوں نے مختلف ادوار میں ترقیاتی منصوبے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رکھا۔ تاہم، ایک سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ناقدین کے اعتراضات بے بنیاد نہیں ہیں۔ مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود یہ جماعتیں ملک کو ایک شفاف، بااصول اور بنیادی عوامی مسائل حل کرنے والا مستحکم نظام دینے میں ناکام رہیں۔
گورننس کی ابتری، تعلیمی و صحتی نظام کی زبوں حالی، عدالتوں میں التوا کا شکار انصاف اور معیشت کی دائمی ساختار کی خرابی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکل بنا دیا ہے۔ جب عوام یہ دیکھتے ہیں کہ ہر بار کی سیاسی تبدیلی محض حکمران اشرافیہ کی مراعات اور چہروں کے تبادلے تک محدود رہتی ہے، اور عام شہری کے بنیادی مسائل جیوں کے تیو رہتے ہیں، تو سیاسی عمل سے ان کا اعتماد آہستہ آہستہ اٹھنے لگتا ہے۔
۲. سول ملٹری تعلقات اور غیر منتخب اداروں کا کردار
اس تاریخی بحران کا دوسرا اہم پہلو پاکستان میں سول ملٹری تعامل اور غیر سیاسی یا غیر منتخب اداروں کا کردار ہے۔ پاکستان کے آئین نے ریاست کے ہر ستون — مقننہ، مجریہ، عدلیہ اور دفاعی اداروں — کی حدود واضح طور پر متعین کی ہیں۔ تاہم، ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی پروسیس میں غير سیاسی مداخلت، پسند و ناپسند کے فیصلوں اور انجنیئرڈ ماحول کے تاثر نے جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔
اگرچہ اس مؤقف سے اختلاف کرنے والے حلقے یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ بعض اوقات سیاسی جماعتوں کی اندرونی کمزوریاں، بدعنوانی اور باہمی کشمکش ریاستی اداروں کو خلا پر کرنے پر مجبور کرتی ہے، لیکن جمہوری منطق یہ بتاتی ہے کہ سیاست کے تمام تر نقائص کا علاج مزید شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ جمہوریت میں ہی مضمر ہے۔ اداروں کی غیر سیاسی حیثیت ہی ان کے احترام، وقار اور عوامی مقبولیت کی سب سے بڑی ضامن ہوتی ہے۔
۳. پرامن تبدیلی کے راستے بند ہونے کے خطرات
سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب عوام کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کے ووٹ کا پرچہ بے اثر ہو چکا ہے، اور آئینی و پرامن ذرائع سے تبدیلی کے راستے پر رکاوٹیں ہیں، تو معاشرے کے اندر گہری مایوسی جنم لیتی ہے۔ مایوسی کا یہی احساس بالآخر نراج، انتہا پسندی اور پرتشدد تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان جیسا ایٹمی طاقت اور ۲۴ کروڑ آبادی والا ملک کسی ایسے سیاسی یا معاشرتی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر نوجوان نسل کا یہ باور ہو جائے کہ ان کی رائے کی کوئی قیمت نہیں، تو وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر نظام کے خلاف شدید غصے اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بحران سے نکلنے کا روڈ میپ اور بنیادی تقاضے
آئین اور قانون کی واقعی بالادستی: آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ حتمی اور مقدس قومی معاہدہ تسلیم کیا جائے۔
اداریاتی حدود کی پاسداری: تمام ریاستی و دفاعی ادارے اپنے آئینی دائرہ اختیار کے اندر رہ کر ذمہ داریاں ادا کریں۔
آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد انتخابات: ایسے شفاف انتخابات کا انعقاد جس پر تمام سیاسی فریقین اور عوام کامل اعتماد کر سکیں، تاکہ عوامی مینڈیٹ کی اصل روح بحال ہو۔
عدلیہ اور احتساب کی غیر جانبداری: عدلیہ اور احتسابی اداروں کو سیاسی انتقام کے تاثر سے پاک کر کے بلاتفریق انصاف کا مظہر بنایا جائے۔
میثاقِ معیشت و میثاقِ جمہوریت: تمام سیاسی قیادت ذات اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے بنیادی معاشی اور جمہوری روڈ میپ پر متفق ہو۔
میرٹ اور شفافیت: سرکاری تقرریوں، معاشی فیصلوں اور عوامی پالیسیوں میں میرٹ اور جواب دہی کو بنیادی شرط بنایا جائے۔
تصادم یا اصلاح؟
پاکستان کے پاس اب مزید غلطیوں یا تجربات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ ملک کا مستقبل انتقام، نفرت، عددی زبردستی یا اداروں کے باہمی تصادم میں ہرگز نہیں ہے۔ پاکستان کی بقا اور ترقی صرف اور صرف انصاف، آئینی پاسداری، عوامی اعتماد اور مضبوط، خود مختار اداروں کی تشکیل میں مضمر ہے۔
حرفِ آخر: تاریخ ان قوموں کو معاف نہیں کرتی جو وقت پر اصلاح کا موقع گنوا دیتی ہیں۔ آج ہمارے اربابِ اختیار، سیاسی رہنماؤں اور تمام طاقتور حلقوں کے پاس اصلاح کا یہ موقع موجود ہے۔ اگر آج آئین اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا تو کل کا مورخ کسی ایک فریق کو نہیں بلکہ پوری قیادت کو اس تاریخی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

پاکستان میں الیکشن ٹرن آؤٹ مسائل اور حل

Al-Sadat News Pakistan  ووٹ کا تقدس اور پاکستان میں انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت تحریر/تجزیہ؛ سید محمد شاہ غرشین پاکستان ایک ایسا ملک ...