پیر، 22 جون، 2026

پاکستان میں انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران

Al-Sadat News Pakistan 

انصاف، احتساب اور میرٹ کا بحران: ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج

تحریر: سید محمد شاہ غرشین 

دنیا کی تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ کسی نے معیشت کو بنیاد قرار دیا، کسی نے فوجی طاقت کو، کسی نے تعلیم کو اور کسی نے جغرافیہ کو۔ لیکن جب ہم کامیاب اور ناکام ریاستوں کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کو اصل طاقت انصاف دیتا ہے اور ان کی کمزوری کا سب سے بڑا سبب ناانصافی بنتی ہے۔
عدل وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ جب عدل کمزور پڑ جائے تو آئین محض ایک کتاب، قانون محض چند دفعات اور ادارے محض عمارتیں بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اس دوران ملک نے جنگیں بھی دیکھیں، مارشل لا بھی دیکھے، جمہوری ادوار بھی دیکھے، معاشی ترقی بھی دیکھی اور بحران بھی۔ لیکن ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: کیا پاکستان میں قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
یہ سوال صرف سیاسی کارکن نہیں پوچھتا بلکہ ایک عام شہری بھی پوچھتا ہے۔ وہ کسان جو پٹواری کے دفتر کے چکر لگا رہا ہے، وہ مزدور جو تھانے کے باہر کھڑا ہے، وہ نوجوان جو ملازمت کے لیے دربدر ہے، اور وہ تاجر جو سرکاری محکموں میں فائلوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، سب کے ذہن میں یہی سوال گردش کرتا ہے۔
ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت قائم رہتا ہے جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اگر ایک غریب شخص عدالت میں برسوں مقدمہ لڑے اور طاقتور شخص چند دنوں میں تمام رکاوٹیں عبور کر لے تو عوام کے دل میں قانون کے احترام کے بجائے قانون سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں احتساب کا تصور اکثر سیاسی تنازعات کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب ایک جماعت اقتدار میں آتی ہے تو احتساب کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اور جب اقتدار سے باہر جاتی ہے تو انہی اداروں پر جانبداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ احتساب انصاف کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن خود اس تاثر کا وجود بھی اداروں کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح بیڈ گورننس پاکستان کا ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ حکمرانی کا بنیادی مقصد عوام کو خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ صاف پانی، صحت، تعلیم، سڑکیں، روزگار اور تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ لیکن جب عوام کو یہ سہولیات نہ ملیں تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں، بجٹ منظور ہوتے ہیں، اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، مگر عوامی زندگی میں مطلوبہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اس کی ایک وجہ کرپشن ہے، دوسری وجہ ناقص منصوبہ بندی، تیسری وجہ سیاسی مداخلت اور چوتھی وجہ جوابدہی کا فقدان۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر کسی ضلع کے لیے اربوں روپے منظور ہوئے تو ان کا آڈٹ عوام کے سامنے کیوں نہیں آتا؟
اگر کسی ہسپتال کے لیے بجٹ جاری ہوا تو وہاں دوائیں کیوں نہیں پہنچیں؟
اگر کسی اسکول کی تعمیر کے لیے رقم مختص ہوئی تو وہاں اساتذہ کیوں نہیں پہنچے؟
یہ سوالات صرف حکومتوں سے نہیں بلکہ پورے نظام سے متعلق ہیں۔
میرٹ کی تباہی بھی پاکستان کے بڑے مسائل میں شامل ہے۔ دنیا میں ترقی وہی معاشرے کرتے ہیں جہاں مواقع سفارش نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں۔ جب ایک محنتی نوجوان کو ملازمت نہ ملے اور اس کی جگہ کسی بااثر شخص کا عزیز تعینات ہو جائے تو صرف ایک فرد کا حق نہیں مارا جاتا بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔
پاکستان میں لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، امتحانات دیتے ہیں، ڈگریاں لیتے ہیں، لیکن جب انہیں یہ محسوس ہو کہ کامیابی کا راستہ محنت کے بجائے سفارش اور تعلقات سے گزرتا ہے تو ان کے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
یہ مایوسی وقت کے ساتھ ریاستی نظام پر عدم اعتماد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی طرح وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں یہ احساس موجود ہے کہ ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے۔ کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں، کہیں بنیادی صحت کی سہولیات موجود نہیں، اور کہیں تعلیم کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ احساس محرومی اگر طویل عرصے تک برقرار رہے تو سیاسی اور سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔
جمہوریت کا بنیادی اصول عوامی نمائندگی ہے۔ عوام ووٹ اس امید پر دیتے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کے مسائل حل کریں گے۔ لیکن جب انتخابات کے بعد بھی حالات میں بہتری نہ آئے تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان میں انتخابات کے بارے میں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ کبھی ایک جماعت نتائج کو متنازع قرار دیتی ہے اور کبھی دوسری۔ اس صورتحال نے انتخابی عمل پر عوامی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
کسی بھی جمہوری نظام کی طاقت صرف انتخابات کے انعقاد میں نہیں بلکہ ان انتخابات پر عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ ان کا ووٹ دیانت داری سے شمار ہوا ہے تو سیاسی اختلافات کے باوجود نظام مستحکم رہتا ہے۔
میڈیا بھی ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا کا کام صرف خبریں دینا نہیں بلکہ طاقتور سے سوال پوچھنا بھی ہے۔ جب میڈیا آزاد اور ذمہ دار ہو تو وہ عوام کے مسائل حکمرانوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن جب میڈیا دباؤ، مفادات یا وابستگیوں کا شکار ہو جائے تو اس کا بنیادی کردار متاثر ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے ظہور نے اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ اب معلومات صرف چند اداروں کی اجارہ داری میں نہیں رہیں۔ عام شہری بھی اپنی رائے اور تجربات دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا مسئلہ موجود ہے، لیکن اس نے عوام کو اظہار کا ایک نیا پلیٹ فارم ضرور فراہم کیا ہے۔
پاکستان کے مستقبل کا سوال دراصل انصاف کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔
کیا طاقتور اور کمزور ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے؟
کیا احتساب سب کے لیے یکساں ہوگا؟
کیا ملازمتیں میرٹ پر ملیں گی؟
کیا عوام کے ٹیکس کا حساب عوام کو دیا جائے گا؟
کیا آئین کو تمام اداروں پر یکساں فوقیت حاصل ہوگی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
اصلاحات کے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں:
اول، عدالتی اصلاحات کے ذریعے فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جائے۔
دوم، احتساب کے تمام اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے۔
سوم، سرکاری بھرتیوں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
چہارم، ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
پنجم، بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں
اور ان بلدیاتی اداروں میں بھی کرپشن بوگس بلنگ بوگس سکیم کا رواج ہے جس کی وجہ سے مالی وسائل صوبائی منسٹر بلدیاتی ایڈمنسٹریٹر اور عمل ملکر ہڑپ کر جاتے ہیں
یوں یہ بلدیہ کا نظام بھی عوام کی خدمت اور حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے خزانے پر بیٹھا سانپ بن گیا ہے لہذا روایتی آڈٹ نہیں ایک الگ جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے جو تمام اداروں کے اندر مالی معاملات کی شفاف تقسیم اور اختیار کے ناجائز استعمال کے کی روک تھام کا زمہ دار ہو
ششم، پارلیمنٹ کو حقیقی قانون سازی اور نگرانی کا مرکز بنایا جائے۔
ہفتم، تمام ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں۔
ہشتم، تعلیم، صحت اور روزگار کو قومی سلامتی کے برابر اہمیت دی جائے۔
پاکستان کے عوام کسی معجزے کے منتظر نہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، محنت کا صلہ ملے، ووٹ کا احترام ہو، اور ریاست انہیں برابر کا شہری سمجھے۔
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں انصاف، اعتماد اور امید سے بنتی ہیں۔ جب ایک نوجوان کو یقین ہو کہ اس کی محنت ضائع نہیں ہوگی، جب ایک غریب کو یقین ہو کہ عدالت اس کی بھی سنے گی، جب ایک شہری کو یقین ہو کہ اس کا ووٹ معنی رکھتا ہے، تب ریاست مضبوط ہوتی ہے۔
پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، صلاحیت بھی اور نوجوان آبادی بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ آئین، قانون، میرٹ اور انصاف کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔
اگر ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج ختم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی مسائل برقرار رہے تو عدم اعتماد بڑھتا رہے گا، اور کوئی بھی ریاست مسلسل عدم اعتماد کے سہارے زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے حق میں نہیں ہوتا، تاریخ کا فیصلہ آخرکار انصاف کے حق میں ہوتا ہے۔

#PakistanPolitics #MeritCrisis #Governance #AlSadatNews #UrduEditorials


1 تبصرہ:

السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں

Headliners

عدل امن ترقی اور اتحاد کی علامت ہے

Al-Sadat News Pakistan  کیا ریاست صرف طاقتوروں کے تحفظ لیے ہے؟ بلوچستان جل رہا ہے، جواب کون دے گا؟ تحریر سید محمد شاہ غرشین  میں آفس میں بی...